ہزارہ کی دادرسی نہ کرنے سے دہشت گردوں کو مزید تقویت ملے گی

277

دو دن قبل بلوچستان کے علاقے مچھ میں ایک کوئلے کی کان میں ہزار برادری سے تعلق رکھنے والے 10 افراد کو بے دردی قتل کردیا گیا تھا۔ مقتولین کے ورثاء میتوں کے ساتھ سڑک پر احتجاج کر رہے ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم ان کے پاس آکر ان سے بات کریں اور ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ہزارہ برادری کے دس جنازے ایک بار پھر سڑک پر پڑے ہیں اور وہ سخت تکلیف میں ہیں۔ ہزارہ اپنی جان کے تحفظ کی یقین دہانی اور اس کے لیے عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ ان کی دادرسی میں تاخیر سے نہ صرف یہ کہ متأثرین کی اذیت میں اضافہ ہوگا بلکہ اس عمل سے دہشت گردوں کو بھی پیغام ملتا ہے کہ ہزارہ لاوارث ہیں۔ کیا اس سے دہشت گردوں کو مزید تقویت نہیں ملے گی؟ شاید اس خاموشی سے خود ریاست کا کمزور ہونا بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہزارہ کو دینے کے لیے سوائے مذمتی بیانات کے عملاََ اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔ مسائل سے صرف نظر یا ضروری اقدامات میں تاخیر سے اقلیتوں کے اعتماد کو مزید ٹھیس پہنچتی ہے اور ملک کی شبیہ بھی مزید متأثر ہوتی ہے۔

ہزارہ برادری دہشت گردوں کا سالوں سے ہدف بنی ہوئی ہے۔  اگر ہزارہ سے تعلق کا مطلب یہ بن گیا ہو کہ ان کی جان کو خطرہ ہے تو یہ انہیں اس طرح بھی متأثر کرتی ہے کہ دوسرے لوگ خوف کی وجہ سے ان سے ربط نہیں رکھیں گے، اپنے ساتھ کام کرنے دینے سے بھی انہیں ڈر محسوس ہوگا۔ اس نوع کے مسلسل واقعات انہیں زیادہ تنہا اور کمزور کر رہے ہیں۔ ایسے میں ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انہیں ہر طرح سے اعتماد دے۔

اس برادری نے کبھی بھی اپنے لیے ملازمت، صحت یا تعلیم جیسے مسائل کے لیے احتجاج نہیں کیا، وہ اپنی جان کے تحفظ کی یقین دہانی کے لیے باہر نکلتے ہیں۔ اس دوران بھی وہ ریاست سے التجا و فریاد کر رہے ہوتے ہیں کہ متعلقہ شخصیات ان کے پاس آئیں اور انہیں بتائیں کہ وہ زندہ رہنے کا حق رکھتے ہیں اور انہیں محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...