تشدد کی جائز شکلیں: ہم کہاں پہنچ گئے ہیں؟

278

پاکستان میں تشدد سے جڑی ہوئی خبریں ایک عرصہ سے معمول ہیں۔ تشدد کو مختلف حربوں سے دبانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن یہ ختم نہیں ہوا۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ یہ عفریت اب ہمارا پیچھا چھوڑ دے لیکن ایسا ہوتا نظر بھی کسی کو نہیں آرہا۔ اس کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ ہمارے ہاں ریاستی سطح پر بھی اور سماجی حیثیت میں بھی مجموعی طور پہ تشدد ایک مجاز عنصر کی حیثیت میں موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم اس کو حدود میں پابند بنانا چاہتے ہیں اور اس کے اصول طے کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، مگر تشدد کی فطرت یہ نہیں ہے، یہ من مانی حدود اور کسی بھی اصول کا پابند نہیں ہوتا۔ اس کا تجربہ پاکستانی سماج اور ریاست کو اچھی طرح ہے مگر تسلیم نہیں ہے۔

تشدد اپنی ابتدائی اور انتہائی دونوں شکلوں میں قانونی بھی گردانا جاسکتا ہے اور مقدس بھی۔ جدید عمرانی اصولوں کے تحت سماج کے برعکس ریاست کو طاقت کے قانونی استعمال کا حق حاصل ہوتا ہے۔ تاہم ریاست کو طاقت یا تشدد کے استعمال (Legitimate violence) کا یہ حق سول اتھارٹی کے ماتحت حاصل ہوتا ہے اور اس کے قواعدوضوابط ہوتے ہیں، اور اس کا ہدف جرائم کی روک تھام اور امن و امان کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن ریاست ہر جگہ فطری طور پہ سماج پر بالادستی کی خواہش کی حامل ہوتی ہے اور اس کشمکش میں اس کا ایک بڑا ہتھیار اسے طاقت اور جسمانی تشدد کے استعمال کا قانونی حق حاصل ہونا ہے جسے وہ بعض معاشروں میں قانونی حدود میں استعمال نہیں کرتی، مگر اسے غیرقانونی تسلیم نہیں کیا جاتا۔

ملک کے اندر ادارہ جاتی حیثیت میں طاقت کے استعمال کا دوسرا بڑا حق مذہبی طبقات کو حاصل ہے۔ یہ جہاد کے نام پر بھی ہے، توہین مذہب کی اساس پر بھی اور فرقہ وارانہ حیثیت میں بھی۔ اس تشدد کے دو درجے ہیں: ایک علامتی اور دوسرا جسمانی یا انتہائی۔ علامتی یا رمزی تشدد کسی طبقے کو تسلسل کے ساتھ کافر کہنا یا ان سے نفرت کا اظہار ہے۔ اس تشدد میں کم وبیش عوام کی اکثریت شامل ہے۔ ہر فکر کے مذہبی طبقے نے کسی نہ کسی کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ اس رمزی تشدد کے بعد جسمانی یا انتہائی تشدد کا مرحلہ آتا ہے جو پہلے کا اثر ہے جسے یقینی طور پہ ظاہر ہونا ہی تھا۔ اس کی کئی قسمیں ہیں، گھر مندر گرانے سے لے کر گلے کاٹنے تک۔ مگر اس دوسرے تشدد کو عوام کی اکثریت پسند نہیں کرتی۔ گویا وہ تشدد کو محدود رکھنا چاہتے ہیں اور اسے اصولوں کا پابند بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

علامتی یا رمزی تشدد کسی طبقے کو تسلسل کے ساتھ کافر کہنا یا ان سے نفرت کا اظہار ہے۔ اس تشدد میں کم وبیش عوام کی اکثریت شامل ہے۔ ہر فکر کے مذہبی طبقے نے کسی نہ کسی کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ تاہم اس سے اگلے مرحلے کے انتہائی تشدد کو عوام کی اکثریت پسند نہیں کرتی، گویا وہ تشدد کو محدود رکھنا چاہتے ہیں، مگر کیا یہ ممکن ہے؟

مگر ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ تشدد آگے کی جانب سفر کرتا ہے۔ یہ بد سے بدترین ہوتا جاتا ہے۔ مذہبی آئیڈیالوجی سے نکلا ہوا تشدد برسوں بعد رفتہ رفتہ اب داعش کی صورت ڈھل گیا ہے۔ یہ اب تنظیمی بھی نہیں رہا۔ مذہب کے نام پر جس کا جہاں بس چل رہا ہے تشدد کر رہا ہے۔ حتی کہ عدالت کے احاطوں اور تعلیمی اداروں کی چاردیواریوں میں بھی۔ چونکہ یہ ایک طرح سے مقدس ہے اور ردعمل میں بے ضرر ہے اس لیے اپنی ذاتی رنجش میں بھی مذہب کے نام پر جان لے لی جاتی ہے، جیساکہ خوشاب میں بینک مینیجر کے قتل کے معاملے میں۔ یا اور کئی ایسی توہین مذہب کی مثالوں میں ہوا۔

اسی طرح ریاستوں کا معاملہ ہے۔ ریاست کا تشدد اس وقت بھیانک ہوجاتا ہے جب وہ ادارہ جاتی حیثیت سے باہر نکل کر انفرادی بے باکی تک آجائے۔ سرفراز قتل کیس، حیات بلوچ قتل اور اسلام آباد میں طالب علم کا قتل اس کی مثالیں ہیں۔ جب ادارے کے متعلقہ افراد اپنے اپنے مقاصد اور سوچ کے مطابق مرضی سے کاروائیاں کرنے لگ جائیں اور یہ واضح نہ ہو کہ کون کہاں کیا کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے ادارہ جاتی حیثیت میں تشدد کا استعمال اتنا عام ہوا ہے کہ ہر فرد کا یہ خیال بن گیا ہے کہ ہر مسئلے کا حل تشدد ہی ہے۔ اس کے علاوہ ہم کچھ نہیں جانتے ہیں۔

مجموعی طور پہ یہ ایک سیاسی تشدد ہے چاہے وہ ریاست کے کسی بھی ادارے یا اتھارٹی کی جانب سے ہو رہا ہو۔ اس نے شہریوں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ اچھے شہری اور برے شہری۔ برے شہری کون ہوتے ہیں؟ اس کی کوئی جامع تعریف نہیں ہے۔ ریاست جب نہ صرف یہ کہ بالادست ہو بلکہ مقدس ہوچکی ہو جس سے نہ غلطی کا احتمال ہے نہ اس پر تنقید کی اجازت۔ ایسے میں برا شہری کوئی بھی گردانا جاسکتا ہے۔ قتل سے پہلے بھی اور حتی کہ قتل کے بعد بھی۔

ریاست کا تشدد اس وقت بھیانک ہوجاتا ہے جب وہ مجموعی ادارہ جاتی حیثیت سے باہر نکل کر انفرادی بے باکی تک آجائے۔ سرفراز قتل کیس، حیات بلوچ قتل اور اسلام آباد میں طالب علم کا قتل اس کی مثالیں ہیں

طاقت اور لامحدود بالادستی کی اس جنگ میں ہم سب کہیں نہ کہیں ملوث ہوتے ہیں۔ کوئی مذہبی حیثیت میں ہے تو کوئی سیاسی نظریات کی بنیاد پر۔ ایک طرف تکفیر، توہین مذہب اور فرقہ واریت کا علامتی تشدد ہے تو دوسری طرف ملکی سالمیت کی دشمنی یا خطرے کا علامتی تشدد ہے۔ ان میں سے کسی ایک نوع کے رمزی تشدد کو تسلیم کرتے ہیں تو اس سے اگلا تشدد بھی قانونی اور مقدس بن جاتا ہے جس میں انسانوں کا قتل ہوجاتا ہے۔

تشدد کی طے شدہ حدود نہیں بنائی جاسکتیں، نہ اس کی کسی ایک شکل پر کنٹرول رکھا جاسکتا ہے۔ جب تک معاشرے میں کسی بھی نوع کے تشدد کی قبولیت کے لیے جگہ باقی رہے گی تو تشدد کی انتہائی و بھیانک شکل بھی اپنی جگہ بنالے گی۔ اس عنصر کو بلاتفریق مکل طور پہ مسترد کرنا ہوگا۔

سماج پر سیاسی تشدد اور نظام عدل کی فرسودگی و شکستگی نے نیچے تک حقوق اور شہریت کے مفاہیم کو بے وقعت کیا ہے۔ ہر عام آدمی کے ذہن میں بھی یہ چیز راسخ ہوگئی ہے کہ سراوائو کرنے کے لیے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں کچھ بھی ایک نظام کے تحت نہیں ملتا ہے بلکہ چھیننا پڑتا ہے۔ یوں وہ ذہنی طور پہ تشدد کا شکار ہونے یا ایسا کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

اگر ہر فرد کو ممکنہ طور پہ تشدد کا شکار ہونے کے لیے بھی تیار رہنا ہے اور طوعاََ یا کرھاََ ایسا خود کرنے کے لیے بھی۔ تو اس کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ یہاں تشدد پورے نظام اور کلچر کے اندر سرایت کرگیا ہے کرگیا ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔

اگر ہر فرد کو ممکنہ طور پہ تشدد کا شکار ہونے کے لیے بھی تیار رہنا ہے اور طوعاََ یا کرھاََ ایسا خود کرنے کے لیے بھی۔ تو اس کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ یہاں تشدد پورے نظام اور کلچر کے اندر سرایت کرگیا ہے کرگیا ہے جس سے کسی کو مفر نہیں۔

تشدد اگر نظام کا حصہ بن جائے تو اسے نظام سے خاتمے ہی کی کوشش فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ انفرادی سطح پر یا جانبدارانہ طریقے سے تشدد کو ختم کرنے کی کوئی بھی سعی کارآمد نہیں ہوگی۔ نظام کے اندر اور تشدد کے کلچر میں سوائے تشدد کے کوئی اور راستے کم بچتے ہیں۔ نظام کے اندر ہر شہری ممکنہ طور پہ اس کا شکار ہوسکتا ہے، کرنے میں یا سہنے میں۔ کیونکہ اس میں چیزیں دھندلی ہوجاتی ہیں۔ سوچنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ اچھے برے میں فرق کا احساس نہیں ہوپاتا۔ یا پھر فرد اپنے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتا اس لیے طاقتور طبقات یا بیانیوں سے انسلاک رکھتا ہے، خصوصاََ ایسے معاشرے میں جہاں چھوٹی سی انفرادی رائے بھی مسائل پیدا کرسکتی ہو وہاں انفرادیت رکھنا جان جوکھوں کا کام ہے۔

اڈولف ایشمان نازی ہٹلر کا آلہ کار یہود دشمنی کے لیے شہرت رکھتا تھا، اس نے ہزاروں یہودیوں کا قتل کیا۔ 1945ء میں اسے اتحادی فوجیوں نے پکڑ لیا، 1950ء میں بھاگ کر ارجنٹائن چلاگیا۔ اسرائلی جاسوسوں نے اسے بالآخر گرفتار کرلیا اور اپنے ملک لے آئے جہاں اس پر مقدمہ چلایاگیا۔ حنہ ایرنٹ معروف مفکر گزری ہیں جو یہودی النسل تھیں، جرمنی میں مختصر وقت کے لیے نازیوں کی جیل میں رہیں، وہاں سے رہائی کے بعد ہٹلر کے فوجیوں کے تعاقب کے ڈر سے فرانس اور پھر امریکہ چلی گئیں۔ انہوں نے اپنے یہودی النسل ہونے کی وجہ سے کٹھن مراحل دیکھے تھے اس لیے سیاسی استبداد اور طاقت کی حرکیات پر انہوں نے بہت کچھ قلم بند کیا۔ جب اڈولف ایشمان کا اسرائیل میں مقدمہ چلاگیا گیا تو عدالتی کاروائیوں میں حنہ ایرنٹ بھی حاضر ہوتی رہیں۔ جب اسے موت کی سزا سنادی گئی تو ایرنٹ نے نیویارک آکر کتاب لکھی جس کا نام ہے ’ایشمان یروشلم میں‘۔ اس کتاب پر اسرائیل سمیت بہت لوگوں نے تنقید کی۔ ایرنٹ نے اس کتاب میں لکھا کہ ایشمان مسلسل عدالت میں جرم میں اپنے کردار سے انکار کرتا رہا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ محض ایک نظام کا حصہ تھا۔ ایرنٹ نے بھی اس کے انفرادی شر سے انکار نہیں کیا تاہم اس نے لکھا کہ وہ مطلق العنان اور آمرانہ نظام کا ایک آلہ کار تھا، ایسے نظاموں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کردی جاتی ہے یا پھر لوگ اپنے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کرنا چاہتے اس لیے وہ اس کی تابعداری کرتے ہیں۔ ایرنٹ نے کہا کہ کسی جرم میں ایک شخص کو سزا دینا کافی نہیں جس کا ارتکاب ایک پورا نظام کرتا ہے۔

یہ واقعہ محض ایک مخصوص حالت کی مثال ہے لیکن شاید بھی درست ہے کہ اگر ہم آس پاس نظر دوڑائیں تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نظام میں عدم تشدد کی کتنی جگہ باقی رہ گئی ہے۔ سماج ہو یا ریاست، نہ ان کا دوبدو کھڑا ہونا درست ہے اور نہ تشدد کے لیے جگہ رکھنا ٹھیک ہے۔ ایک پورا سسٹم جو اوپر سے نیچے تک انسانی حقوق اور شہریت کے اصولوں پر نہیں چل رہا اسی کو بدلنے میں ہی سب کی عافیت ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...