بے بس سماج

296

گزشتہ شب اسلام آباد کے سیکٹر جی-10 میں انسداد دہشتگردی ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں نے ایک طالبعلم پر گولیاں چلائیں جس سے وہ جاں بحق ہوگیا۔ وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ’واقعے کا نوٹس لے لیا گیا ہے، پولیس میں کالی بھیڑوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔‘ جبکہ مقتول نوجوان کے والد نے مقدمے کی درخواست جمع کراتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ایک روز قبل اس کے بیٹے کا پولیس سے جھگڑا ہوا تھا تو انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اسے مزہ چکھائیں گے۔

یہ واقعہ بلاشبہ سفاکیت کی بدترین مثال ہے۔ ایک نوجوان جو سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے جا رہا ہے اس کے سامنے والے شیشے کی جانب سے 17 گولیاں چلادینا، اس اقدام سے سوائے اس کے کیا ثابت ہوتا ہے کہ عوام کی خدمت اور اس کے تحفظ کے لیے مامور ادارے نہ صرف یہ کہ عوام پر کھلے ظلم کے مرتکب ہیں بلکہ وہ خوفناک حد تک بے رحم ہوچکے ہیں۔ پے در پے ہونے والے اس نوع کے اقدامات سے لوگ سکتے اور انتہائی اذیت کے عالم میں ہیں۔ اگر پولیس کو حقیقت میں بھی علاقے کے اندر ڈاکوؤں کی موجودگی کا شبہ تھا تو تب بھی اس گھناؤنے جرم کے ارتکاب کا جواز کیسے بنتا ہے؟ اور بالفرض اگر اس کار کے اندر سچ میں ڈاکو ہوتے یا کوئی دہشت گرد بھی ہوتا جب تک کہ کوئی خطرناک فعل سامنے نہ آتا قانون انہیں پھر بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ چہ جائے کہ ایک بے گناہ عام نوجوان کو یوں بے دردی سے قتل کردیا جائے۔ اور اگر مقتول کے والد کی بات درست ثابت ہوتی ہے تو پولیس کی وردی میں ملبوس ہوتے ہوئے ایسے انتقامی بے رحم تشدد کرنے کے کیا معنی ہوسکتے ہیں اور اسے کن الفاظ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے؟

اس سے قبل سانحہ ساہیوال میں بھی چار شہریوں کو بھی سی ٹی ڈی پولیس نے بچوں کے سامنے گولیاں چلا کر مار دیا تھا، اور اس میں ملوث سمجھے جانے والے ملزمان کو محض 9 ماہ بعد شک کی بنیاد پر بری کردیا گیا تھا۔

ملک میں یکے بعد دیگرے سامنے آنے والے اس نوع کے واقعات ریاست اور سماج دونوں کی ساخت کے حوالے سے کئی چیزوں کو واضح کرتے ہیں۔ عمرانی معاہدہ جو ریاست اور شہریوں کے درمیان ہوتا ہے، اس جیسے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں یہ معاہدہ یکطرفہ ہے۔ ریاستی ادارے بے مہار ہیں اور سماج کو ان کے ہر اقدام پر سکوت اختیار کرنا ہے۔ ریاست نے اگر اپنے آپ کو ناانصاف ثابت کیا ہے تو کوئی ایسا متوازن سماجی ادارہ بھی موجود نہیں ہے جو ایسے واقعات میں انصاف کی فراہمی کے لیے اور ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو۔ شاید یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر جبر و تشدد کے واقعات ریاستی اداروں کی طرف سے ہوں تو معاشرے میں اس پر ناگواری کا اظہار تو ہوتا ہے مگر مختلف وجوہات کی بنا پر ان کے لیے ایک گونہ گومگو کا رویہ بھی موجود ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ ایسے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے.

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...