2021ء: اُمید کی کرن اور نئے چیلنجز

239

2020ء ساری دنیا کے انسانوں کے لیے ایک مشکل ترین سال رہا۔ اس برس میں خطرناک وائرس کے ظہور کے ساتھ ہی دنیا میں تیز رفتار تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں جن سے نبردآزما ہونے کے لیے ریاستیں اور معاشرے انتظامی وذہنی طور پہ تیار نہیں تھے۔ مگر بقاء کی جدوجہد میں انسانوں نے بہت سے نئے طرزعمل اپنائے اور مستقبل کے لیے کئی سبق سیکھے۔

اب جبکہ یہ برس بیت گیا ہے تو امید پیدا ہوئی ہے کہ زندگی اب رفتہ رفتہ معمول پر آجائے گی۔ دنیا کے لیے 2021ء میں سب سے حوصلہ افزا چیز کورونا وائرس کی ویکسین کی ایجاد اور اس کا مؤثر ثابت ہونا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ تاہم گزشتہ برس نے جو چیلنجز پیدا کیے ان کے اثرات سے باہر نکلنے میں کچھ وقت لگے گا۔ دی اکانومسٹ کے مطابق نئے سال میں سب بڑا مسئلہ تمام ممالک کے لیے ویکسین کی دستیابی کا ہوگا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ نئے سال میں اگرچہ معاشی نقصان کے حجم میں کمی آئے گی لیکن اقتصادی حالت پوری طرح معمول پر نہیں آسکے گی، خصوصاََ ترقی پذیر ممالک کے لیے۔ اور نئے سال میں نقصان کے حجم کا 28 فیصد ترقی پذیر ایشیائی ممالک کو اٹھانا پڑے گا۔

جب تک ویکسین کا حصول ممکن نہیں ہوتا پاکستان کو دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح نئے سال میں بھی وبا کو پھیلنے سے روکنے اور اس کی وجہ سے ممکنہ نقصانات میں اضافے کو روکنے کے لیے کوششیں کرنی ہوں گی۔ پچھلے سال ہم وائرس کی وجہ سے ہونے والی بڑی تباہ کاریوں اور اثرات سے محفوظ رہے لیکن اب پہلے سے زیادہ احتیاط اور معقول حکومتی پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ بڑے نقصانات سے بچا جاسکے۔ کیونکہ ویکسین کی ایجاد کے بعد ملکوں کے لیے یہ مسئلہ اب انتظامی صلاحیت اور معاشی حیثیت کا ہوگیا ہے۔ اب وائرس تمام ممالک کے لیے ایک جیسا نہیں رہا ہے، اس لیے پاکستان کو ویکسین کے حصول تک وائرس کی روک تھام اور اس کے ساتھ مستقل طور پہ ان تمام کمزوریوں کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی جو اس بحران سے کھل کر سامنے آئیں۔

تجزیات کے قارئین کو نئے سال کی بہت مبارک اور نیک تمنائیں۔  خدا کرے کہ نیا سال آپ سب کے لیے خوشیوں بھرا ہو۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...