پاکستانیوں کی دو دعائیں

229

سبوخ سید پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے صحافت میں ماسٹر کیا اور رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی سے میڈیا اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ آپ جیو نیوز، ایکسپریس نیوز، روزنامہ جنگ، پاکستان ٹیلی ویژن سمیت کئی اداروں سے منسلک رہے۔ وہ میڈیا ٹریننگ اور ریسرچر کے ساتھ ساتھ ساتھ بطور میڈیا کنسلٹنٹ بھی اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں آج کل آن لائن صحافتی گروپ آئی بی سی اردو کے ایڈیٹر ہیں۔

ہم پاکستانی اکثر تھانے کچہری اور اسپتالوں سے بچنے کی دعا ہی مانگتے رہتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ  ہم لڑائی جھگڑوں سے بچنا چاہتے ہیں اور دوسری ہم  اس کے ساتھ ساتھ بیماریوں سے بھی بچنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں تھانے کچہری میں انصاف نہیں ملتا۔ کوئی شخص کسی کو بد دعا دینا چاہے تو وہ اسے یہی بد دعا دیتا ہے کہ خدا تمھیں تھانے کچہریوں کے چکر لگوائے۔ تھانے کچہری کے چکر لگانے کا سیدھا سا مطلب ہے کہ وقت، پیسہ اور صحت تینوں برباد ہو جائیں گے۔ تھانے کچہری کی طرح یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ اسپتالوں کا ماحول کیسا ہے۔ حکومت اور انتطامیہ کی کتنی توجہ صحت کے شعبے کی بحالی پر ہے؟ اسپتالوں میں ڈاکٹرز کتنے ہیں، عملے کی تربیت کا کیا اہتمام ہے اور بنیادی طبی سہولیات کیا ہیں اور کتنی ہیں؟

دوسری جانب ہمارے ہاں اسپتالوں میں جا کر اچھا خاصا صحت مند انسان بھی بیمار پڑ جاتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جو ضابطے اور آداب ہسپتالوں میں جانے کے لئے لازمی ہونے چاہئیں ہم ان کی پابندی نہیں کرتے، ایک مریض کے ساتھ ایک تیمار دار کافی ہے لیکن یہاں پورا محلہ اسپتال میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کا تعلق بھی مقامی سماجی روایات سے ہے۔ لوگ اسپتال میں جا کر ہی مریض کی عیادت کرنا فرض سمجھتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی محلے دار یا رشتہ دار عیادت کے لیے اسپتال نہ آئے تو باقاعدہ گلہ شکوہ کیا جاتا ہے۔ عیادت کرنے والوں کو اسپتال کا عملہ اکثر دھکے دیکر ہی باہر نکالتاہے۔ ہمیں یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ جب اسپتالوں میں زیادہ لوگ پہنچ جاتے ہیں تو اس کی وجہ سے سہولیات کم پڑ جاتی ہیں۔ واش روم، بیٹھنے کی جگہ، آرام کی جگہوں اور کیفے ٹیریاز میں رش بڑھ جاتا ہے جس سے اسپتال انتظامیہ اور مریضوں کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسپتالوں میں سہولیات محدود ہوتی ہیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ایک سے زیادہ تیمار دار کسی مریض کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہم واٹس ایپ پر ویڈیو یا آڈیو میسج کے زریعے بھی اپنے تہنیتی پیغامات بھی بھجوا سکتے ہیں۔

کورونا وبا کے دوران جو لوگ سر دھڑ کی بازی لگا کر کارِ مسیحائی میں مصروف تھے، ہم نے انہیں لمحوں میں ہیرو سے مجرم بنا دیا

دوسری اہم بات جب ہم ڈاکٹر کو چیک اپ کرواتے ہیں تو اس وقت بھی ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ڈاکٹر باقی سب مریضوں کو چھوڑ کر سب سے پہلے ہمارے مریض کا معائنہ کرے۔ ایک شخص کے بجائے دو تین لوگ ڈاکٹر کو مریض کا مسئلہ بتا رہے ہوتے ہیں۔ میڈیکل فائل بنانے کا ہمارے ہاں رواج بالکل نہیں کہ ڈاکٹر فائل دیکھ کر مریض کی تشخیص کر سکے۔ ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے اپنا مسئلہ اور بیماری ہی درست طریقے سے بیان کرنے کا سوچ لیا جائے تاکہ ڈاکٹر کو فی الفور بتایا جا سکے کہ مسئلہ ہے کیا؟۔  ڈاکٹر کا وقت قیمتی ہوتا ہے اور اسے ایک معین وقت میں کئی اور مریضوں کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔

بعض اوقات اسپتال کو ایک تفریح گاہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ کہیں موبائل پر اونچی آواز میں میوزک سنا جارہا ہے تو کہیں مریض کے عیادت مند اونچی آواز میں باتیں کر رہے ہوتے ہیں، قہقے لگا رہے ہوتے ہیں۔ اسپتالوں میں جو جگہ کھانے پینے کے لئے متعین ہوتی ہیں، اس کے بجائے اسپتال کے لان یا کوریڈور میں بیٹھ کر کھانا پینا شروع کر دیا جاتا ہے۔ مریضوں کے سامنے مرغن اور خوش ذائقہ غذائیں کھائی جاتی ہیں۔ کمال تو یہ کیا جاتا ہے کہ کھانا کھانے کے بعد کچرا کوڑا دان میں پھینکنا بھی اپنا فرض نہیں سمجھا جاتا۔ اسپتال کو ہی شہر کا سب سے بڑا کوڑا دان بنا دیا جاتا ہے۔ فروٹ کے چھلکے، جوسسز کے ڈبے، بسکٹس کے پیکٹس، پانی کی خالی بوتلیں وہیں پھینک دی جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کا جب اس سے بھی گزارا نہیں ہوتا تو وہ نسوار منہ سے نکال کر اسپتال کے واش بیس میں پھینک آتے ہیں۔ سگریٹ کے کش لگانے کے لیے اسپتال کا واش روم یا احاطہ  استعمال کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ سگریٹ کے فلٹرز ٹوائلٹ میں بہا کر گٹر لائن ہی بند کر دی جاتی ہے۔ پان کی پیک پھینکنے کے لیے اسپتال کی دیواریں سب سے مناسب مقام معلوم ہوتی ہیں۔ یہ جملہ ’’فرائض‘‘ سر انجام دینے کے بعد ہم اپنی جوانی کی ایک بھرپور انگڑائی لیتے ہیں اور ملکی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے حکومت اور اسپتال انتظامیہ کو پہلی قسط میں رگیدنا شروع کر دیتے ہیں۔

ہم پولیو کے قطرے پلانا سازش سمجھتے ہیں اور قطرے پلانے کے لیے آنے والوں  کو گھر کے دروازے سے بے عزت کر کے بھیج دیتے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ دس، دس ہزار روپے تنخواہ لیکر، آپ کے دروازوں پر دستک دیکر آپ کے بچوں کو پولیو سے بچانے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز کو کبھی وقت پر تنخواہ ہی نہیں ملتی۔ اپنی تنخواہ کے حصول کے لیے انہیں دو سال بعد پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے شدید سردی میں مظاہرے کرنے پڑتے ہیں۔ مظاہرے کریں تو پانچ پانچ دن ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی نہیں آتا۔ جب یہ لیڈی ہیلتھ ورکرز ہمارے دروازوں پر آتی ہیں تو ہم انہیں سازشی سمجھ کر گالم گلوچ کرتے ہیں۔ ان پر تشدد کرتے ہیں اور کسی کا ایمان جوش مارے تو قتل تک کر دیا جاتا ہے۔

ہم پولیو کے قطرے پلانا سازش سمجھتے ہیں اور قطرے پلانے کے لیے آنے والوں کو گھر کے دروازے سے بے عزت کر کے بھیج دیتے ہیں

آئے روز ینگ ڈاکٹرز اپنی تنخواہوں میں اضافے، ڈیوٹیوں کے دورانیے میں کمی، اسپتال میں طبی سہولیات کے لیے مظاہرے کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں صحت کو معاشرے کا سب سے حساس شعبہ سمجھا جاتا ہے۔ اس پر سب زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور خرچ کیا جاتا ہے۔ پاکستان اپنی آمدن کا صرف ایک فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کرتا ہے جبکہ عالمی ادارے اور تنظیمیں ہم سے کم از کم اپنی مجموعی آمدن کا چھ فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

کورونا وائرس کے دوران ہمارے ڈاکٹرز نے جس جرأت اور بہادری سے موت کے منہ میں کھڑے ہو کر کام کیا، وہ ہماری تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے۔ پچاس سے زائد ڈاکٹرز موت کا نوالہ بن گئے۔ اپنے گھروں سے دور رہے۔ عیدین اور دیگر تہواروں کے موقع پر بھی انہوں نے چھٹی نہیں کی لیکن عوامی سطح پر ان کے خلاف خوفناک پروپیگنڈا کیا گیا۔ کسی نے کہا کہ تین ہزار ڈالر لیکر لاشیں فروخت کی جارہی ہیں۔ کوئی بول پڑا کہ جو مریض کورونا کے نہیں ہیں، انہیں بھی کورونا میں ڈالا جا رہا ہے۔ کسی نے درفطنی چھوڑ دی کہ لاشوں میں سے اعضاء نکالے جا رہے ہیں۔ کوئی ایک جرم کہیں بھی ثابت نہ ہو سکا۔ جو لوگ سر دھڑ کی بازی لگا کر کار مسیحائی میں مصروف تھے، ہم نے انہیں لمحوں میں ہیرو سے مجرم بنا دیا۔

ڈاکٹرز سے بھی غفلت اور غلطی ہو سکتی ہے۔ کمی کوتاہی کہاں نہیں ہوتی لیکن کوئی ڈاکٹر جان بوجھ کر کسی کی جان تھوڑی ہی لیتا ہے۔ اسے آپ سے کیا دشمنی ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات اسپتال میں عملہ کم ہوتا ہے۔ سہولیات کم ہوتی ہیں۔ پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے ایک سلسلہ عام ہو گیا ہے کہ  اگر کسی کا کوئی عزیز ہسپتال میں وفات پا جاتا ہے تو وہ اپنے غصے، صدمے اور جذبات کا اظہار بعض اوقات ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ساتھ گالم گلوچ مار پیٹ اور تشدد کی صورت میں کرنے لگتاہے۔

اگر ہم اسپتالوں کے ضوابط کا احترام، ان کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں گے اور عملے کے ساتھ تعاون کریں گے تو ڈاکٹرز اور طبی عملہ بھی مکمل توجہ اور  خوشدلی سے کام کرے گا۔ ہمارے مریض بھی جلد صحتیاب ہوں گے

کسی حادثے یا ناخوشگوار واقعے کی صورت میں کیا اسپتال کو مچھلی منڈی بنا لینا چاہیے؟ کیا اسپتال میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ شروع کردینا چاہیے؟ کیا ڈاکٹرز اور طبی عملے کے گریبان پکڑ لینے چاہییں؟ خدانخواستہ اگر ایسا کوئی حادثہ ہو بھی جائے تو ہمیں لاقانونیت برپا کرنے کے بجائے قانون کا سپارہ پڑھنا چاہیے۔ ہمیں متعلقہ شعبے تک اپنی شکایت پہنچانی چاہیے۔ اس رجحان کی فی الفور حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

ہمیں اپنا غصہ اور جذبات پر قابو میں رکھنے چاہییں۔ اسپتال  کے تقدس کو برقرار رکھیں۔ پیش آنے والے صدمے کی صورت میں کسی بھی قانونی اور سماجی حد سے نہ گزریں۔ ہم ڈاکٹرز سے گلہ اور شکوہ تب کریں جب حکومت کی جانب سے ڈاکٹرز، طبی عملے اور اسپتالوں کو تمام سہولیات پہنچائی جائیں۔ شہری اسپتالوں میں تمام قواعد و ضوابط کا اہتمام کریں۔ اسپتالوں کا ماحول صاف ستھرا رکھیں۔ عملے کے ساتھ تعاون کریں۔ ہم اگر ایسا کریں گے تو ڈاکٹرز اور طبی عملہ بھی مکمل توجہ اور  خوشدلی سے کام کرے گا۔ ہمارے مریض بھی جلد صحتیاب ہوں گے۔ ہم ایسے ہی رویے تشکیل دیکر صحت مند معاشرہ اور قوم تشکیل دے سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو سلام پیش کریں۔ ہمیں ان کی قدر کرتے ہوئے ان پر اعتماد اور بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ مصیبت اور وباء کی مشکل ترین گھڑی میں اپنی حفاظت کے بجائے قوم کے محافظ بن کر سامنے آئے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...