مذہبی اقلیتوں کے خلاف منافرت پر مبنی رجحانات کی مقبولیت خطرناک ہے

201

گزشتہ روز صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کی تحصیل بانڈا داؤد شاہ کے گاؤں میں واقع ہندو برادری کی تاریخی سمادھی اور مندر کو مقامی افراد کے ایک ہجوم نے دھاوا بول کر منہدم کردیا۔ یہ اقدام مندر کی توسیع کے خلاف اٹھایا گیا جو پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کی جانب سے کرائی جا رہی تھی۔

پچھلے تین ماہ کے دورا ہندوؤں کی عبادتگاہوں پر حملہ کیے جانے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ضلع بدین کے علاقے کڑیو گھنور میں ایک مندر پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا اور مورتیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ یکم نومبر کو کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں واقع ہنندو آبادی اور ان کے مندروں پر دھاوا بولاگیا اور توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔

2020ء کے بحرانی سال کے دوران میں بھی پاکستان میں اقلیتی برادری کے خلاف جرائم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ توہین مذہب کے نام پر قتل کے کئی واقعات سامنے آئے اور جبراََ تبدلی مذہب کے عمل کو بھی نہیں روکا جاسکا، حال ہی میں کراچی کی نوعمر مسیحی لڑکی آرزو راجا اور کشمور کی ہندو لڑکی سونیا کماری کے جبری تبدیلی مذہب کے واقعات نے بھی ملک کی اقلیتی برادری کو مزید خوف میں مبتلا کردیا ہے۔

یوں تو حالیہ چند سالوں کے دوران ساری دنیا میں مختلف اقلیتوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے جس کی کئی وجوہات ہیں، پاپولسٹ سیاست، معاشی مشکلات اور دہشت گردی ان میں نمایاں اسباب ہیں۔ پاکستان میں حالت پہلے ہی دگرگوں تھی، عالمی سطح پر منافرت کی لہر نے یہاں اس کی شدت میں مزید اضافہ کردیا۔

پاکستان میں سماجی سطح پر اقلیتی برادری کے خلاف منافرت کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ملک کی فرقہ وارانہ جماعتوں کے بیانیے میں بھی یہ تبدیلی رونما ہوئی ہے کہ ان کی تقاریر میں دفاع اسلام اور عشق رسولﷺ جیسی مقدس اصطلاحات کا غلط استعمال زیادہ ہوا ہے۔ اس سے عوام کے اندر اپنے ملک کی اقلیتوں کے خلاف منافرت کے جذبات کو ہوا ملی ہے۔

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے جرائم یا دنیا میں اسلاموفوبیا کے رجحان کے اثرات ملک کی اپنی اقلیت پر نہیں پڑنے چاہیئں۔ پاکستان میں بین المذاہب کشیدگی کی حساسیت پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ ہم ریاستی سطح پر اسلاموفوبیا اور بھارتی مسلم عداوت کے خلاف مسلسل متحرک ہیں، تاہم اس کے ساتھ ریاست کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی عوام کے اندر مذاہب کے مابین تصادم کی فکر کو پروان نہ چڑھنے دے۔ متشدد مذہبی گروہوں پر قدغن عائد کرے کہ وہ عوام میں منافرت کے بیانیے کو مزید ہوا نہ دیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...