اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر مسلم ممالک میں مذہبی طبقات کا ردعمل

169

گزشتہ کچھ وقت سے اسرائیل اور بعض مسلم ممالک کے درمیان تعلقات میں سردمہری کے اختتام کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ حال ہی میں یکے بعد دیگرے عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی روابط قائم کرنے کا اعلان کیا، اور اسرائیلی حکام کے بقول اس فہرست میں مزید مسلم ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔

فلسطین تنازع مسلم ممالک کے لیے مجموعی طور پہ ایک دینی مسئلہ رہا ہے اور عربوں کے لیے یہ دینی کے ساتھ قومی نوعیت کا قضیہ بھی تھا تاہم ان کے ہاں اس کی مذہبی حیثیت زیادہ نمایاں رہی ہے۔ تنازع کی دینی حیثیت کی وجہ سے مسلم ممالک کی مذہبی جماعتوں کے لٹریچر اور خطبات میں ہمیشہ اس کا بہت زیادہ حوالہ دیا جاتا رہا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی استواری کی صورت میں مذہبی جماعتوں کے ردعمل کا خدشہ حکومتوں کے لیے ایک ممکنہ بڑے خطرے کے طور پہ موجود تھا، کیونکہ عوامی سطح پر ان جماعتوں کے رسوخ اور اثرات کے باعث شدید ردعمل ظاہر ہوسکتا تھا۔

حال ہی میں جن چار ممالک نے تعلقات کی استواری کا اعلان کیا ہے ان میں سے تین میں بادشاہت کا نظام قائم ہے، جہاں ان ممالک کے اندر مذہبی طبقات کی طرف سے یا ان کی آواز پہ عوامی سطح پر کسی پراثر احتجاج کے ہونے کا امکان موجود نہیں تھا۔ اگرچہ وہاں بعض حلقوں نے اس اقدام پر ناگواری کا اظہار تو کیا لیکن حکومت کے خلاف کھلے عام اکسانے یا اس پر فتوے بازی جیسے مسائل سامنے نہیں آئے۔

بلکہ مراکش کے معاملے میں تو صورت حال یوں رہی کہ اگرچہ وہاں اصل طاقت تو شاہی خاندان کے پاس ہے لیکن وزیراعظم ایک مذہبی جماعت کے رہنما ہیں جن کا نام سعدالدین العثمانی ہے۔ ان کی جماعت ’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی‘ فکری طور پہ اخوان المسلمون کے ساتھ وابستگی رکھتی ہے۔ جب مراکش کے وزیراعظم نے اسرائیلی نمائندگان کا خیرمقدم کیا تو عرب دنیا میں اس پر کافی لے دے ہوئی۔

مراکش میں اگرچہ اصل طاقت تو شاہی خاندان کے پاس ہے لیکن وزیراعظم ایک مذہبی جماعت کے رہنما ہیں

جب عرب امارات نے یہ اقدام کیا تھا تو ساری دنیا کے مسلم ممالک نے اس پر لعن طعن کیا، بالخصوص مذہبی جماعتوں نے بہت برا بھلا کہا۔ لیکن جب مراکش بھی اس فہرست میں شامل ہوا تو عرب دنیا میں اس پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔ مگر یہ بات دلچسپ رہی کہ ان کی مذہبی جماعتوں نے اس پر زیادہ بات کرنے سے گریز کیا اور اس حوالے سے وہ رویہ نہیں اپنایا جو عرب امارت اور بحرین وغیرہ کے اقدامات پر ظاہر کیا گیا تھا، جس پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حامی حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کا طرزعمل دوہرا کیوں ہے؟

اگرچہ مراکش کے تناظر میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات دیگر ملکوں کے مقابلے میں مختلف ہیں کیونکہ اسرائیل میں بسنے والے یہودی شہریوں میں سے تقریباََ 9 لاکھ ایسے ہیں جو مراکش سے ہجرت کرکے گئے ہیں اور ان کا مراکش کی حکومت کے ساتھ معاہدہ ہے کہ ان کی مراکشی شہریت منسوخ نہیں کی جائے گی، وہ اگر چاہیں تو واپس آسکتے ہیں، اس کے علاوہ مراکش میں اب بھی تین لاکھ کے قریب یہودی رہتے ہیں، اس لیے اسرئیل کے ساتھ اس ملک کا تعلق پہلے سے ہے اور اس کی نوعیت دیگر ریاستوں کے مقابل الگ بھی ہے۔ تاہم باضابطہ طور پہ سفارتی و تجارتی روابط کا اب آغاز ہوا ہے۔ اور اس نئی پیش رفت میں مذہبی حکومت کی تائید شامل ہے جس نے اپنے اقدام کے دفاع میں مذہبی تاویلات پیش کی ہیں۔ اس لیے یہ چیز لوگوں کے لیے محل نظر بنتی ہے۔

فلسطینی جماعت حماس نے بھی باقی ممالک کے اس اقدام پر تو کڑی تنقید کی لیکن مراکش کے حوالے سے وہ رویہ نہیں اپنایا۔ بالخصوص جب عرب امارات نے اعلان کیا تو حماس کے رہنما ابوومرزوق نے کہا کہ ’یہ صریح خیانت ہے اوراس سے مشرق وسطی میں بدامنی و شر پھیلیں گے‘۔ ابومرزوق استنبول میں قائم اپنی جماعت کے دفتر میں ہوتے ہیں۔ اس تنقید پر خلیجی ریاستوں کے بعض صحافیوں نے کہا کہ آپ کا دفتر استنبول میں اسرائیلی سفارت خانے سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ہے، کیا آپ ترکی کے بارے بھی یہی رائے رکھتے ہیں؟ اخبار ’انڈیپینڈنٹ عریبک‘ میں طارق دیلوانی نے اس کا حوالہ بھی دیا کہ حماس نے 2017ء میں جماعت کا جو نیا سیاسی منشور جاری کیا اس میں اگرچہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا گیا لیکن فلسطینینی ریاست کو 1967ء کی حدود تک تسلیم کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل اور بالخصوص جماعت کے 1987ء کے میثاق میں فلسطین کی حدود کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ نئے سیاسی منشور میں اسرائیل کے خلاف وہ لہجہ بھی استعمال نہیں کیا گیا ہے جو اس کے اولین مثیاق میں نظر آتا ہے۔ طارق دیلوانی نے سوال اٹھایا کہ کیا حماس کے اپنے موقف میں تبدیلی نہیں آئی ہے؟

مسلم ممالک کی دہشت گرد جماعتیں اسرائیل کے ساتھ ان ملکوں کے تعلقات سے ممکنہ طور پہ فائدہ اٹھائیں گی۔ وہ خود کو اب فلسطین کی حریت و سلامتی کا واحد نمائندہ ثابت کریں گی کہ دنیا میں فلسطین کے حق کے لیے اور اسرائیل کے خلاف کھڑے ہونے والا طبقہ صرف وہ ہیں۔ وہ وہ نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنے میں اس کا جذباتی استعمال کریں گی

سوڈان میں بادشاہت کا نظام نہیں ہے، اس لیے وہاں اس اقدام پر تھوڑے بہت مظاہرے ہوئے اور سخت تنقید کی گئی۔ لیکن اس حد تک نہیں کہ اس سے سیاسی عدم استحکام کا خطرہ ہوتا۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ اس سے قبل کچھ ملک اسرائیل سے تعلقات استوار کرچکے تھے اور ایک طرح سے مسلسل بات ہونے کی وجہ سے مسئلے کی حدت میں کمی موجود تھی۔ لہذا وہ ردعمل نہیں آیا جو متوقع سمجھا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اس وقت سوڈان کے اپنے اندرونی مسائل اتنے زیادہ ہیں اور پھر اسے خانہ جنگی سے نکلے بھی زیادہ وقت نہیں گزرا۔ اس لیے شاید عوام اس نئے اقدام کے خلاف کوئی تحریک چلانے کے لیے تیار نہیں تھے۔

سعودی عرب نے اب تک اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات کا انکار کیا ہے اور اس کے امکان کو بھی رد کیا ہے۔ لیکن آثار سے یہ چیز سب پر واضح ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ربط کے مسئلے میں ماضی کی پالیسی میں نرمی آئی ہے۔ اس کا سعودی عوام بھی بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔ اب مملکت کے اندر جمعہ کے خطبات میں تسلسل کے ساتھ بین المذاہب ہم آہنگی پر بات کی جارہی ہے۔ ستمبر کے پہلے جمعہ کے خطاب میں شیخ عبدالرحمن السدیس نے تقریر میں یہ الفاظ کہے تھے: ’غیرمسلموں کے ساتھ اچھے برتاؤ کا تعلق رکھنا ناجائز نہیں ہے۔ اس سے انہیں اسلام میں داخل ہونے کی ترغیب ملتی ہے۔ جب رسول اللہﷺ کی وفات ہوئی تو آپﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی تھی۔ مکالمہ اور باہمی انسانی افہام و تفہیم کو منقطع کرنے سے نفرت اور تشدد کو ہوا ملتی ہے‘۔ ان کے اس خطبے پر عرب دنیا میں کافی بات ہوئی تھی اور یہ کہا گیا تھا سعودی عرب کی پالیسی میں جلد کوئی تبدیلی کا امکان ہے۔ رواں ماہ محمد بن سلمان نے مجلس شوری میں علماء کی کچھ تبدیلیاں بھی کی ہیں جس کے تحت چند معتدل سمجھے جانے والے علماء کو لایا گیا ہے۔ اسی طرح شیخ عبدالعزیز بن باز کا ایک فتوی بھی دوبارہ منظرعام پر آیا ہے جو انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلق کے جواز میں دسمبر 1994ء میں دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ مسئلہ دینی نہیں بلکہ سیاسی ہے، اگر کوئی ملک یہ سمجھے کہ اس کا اسرائیل کے ساتھ تعلق میں فائدہ ہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔ یہ فتوی عبدالعزیز بن باز کی ویب سائٹ پر اب بھی موجود ہے۔ سعودی عرب ’صدی کی ڈیل‘ کی بھی واضح حمایت کرچکا ہے۔

سعودی عرب میں شیخ عبدالعزیز بن باز کا ایک فتوی بھی دوبارہ منظرعام پر آیا ہے جو انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلق کے جواز میں دسمبر 1994ء میں دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ مسئلہ دینی نہیں بلکہ سیاسی ہے

زیرگردش خبروں کے مطابق اگر بالفرض سعودی عرب بھی دیگر ممالک کی طرح اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرتا ہے تو مملکت کے اندر باقی خلیجی ممالک کی طرح مذہبی طبقات کی طرف سے کوئی چیلنج درپیش نہیں ہوگا انور نہ ہی وہاں احتجاج کی روایت ہے۔ صرف باہر سے مذہبی یا جہادی جماعتیں اس پر تنقید کرتی رہیں گی۔

جن ممالک نے اب تک اسرائل کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں وہاں مذہبی طبقات کو اہمیت تو حاصل ہے لیکن ان کی روایت ایسے ملکوں جیسی نہیں ہے جہاں فرقہ وارانہ اور تنظیمی ساخت مضبوط ہے، اور جہاں ریاستی گومگو کے باعث حکومتوں کے مقابل مذہبی عناصر کی جھولی میں کامیابی کے بہت زیادہ تجربات ہیں۔

تاہم مسلم ممالک کی دہشت گرد جماعتیں اسرائیل کے ساتھ ان ملکوں کے تعلقات سے ممکنہ طور پہ فائدہ اٹھائیں گی۔ وہ خود کو اب فلسطین کی حریت و سلامتی کا واحد نمائندہ ثابت کریں گی کہ دنیا میں فلسطین کے حق کے لیے اور اسرائیل کے خلاف کھڑے ہونے والا طبقہ صرف وہ ہیں۔ وہ وہ نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنے میں اس کا جذباتی استعمال کریں گی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...