مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کا خوش آئند فیصلہ

107

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں 2017ء کی مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کابینہ میں مردم شماری کے نتائج مشترکہ مفادات کونسل کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ صوبوں کے اتفاق رائے سے نتائج سامنے آسکیں۔ کابینہ کے نتائج جاری کرنے کے فیصلے پر ایم کیو ایم نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

عالمی قوانین کے مطابق مردم شماری مکمل ہونے کے بعد 30 دنوں میں نتائج کے آڈٹ کراکے انہیں منظرعام پر لانا ضروری ہوتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں مشترکہ مفادات کونسل سے آڈٹ کا عمل اب تک مکمل نہیں ہوپایا تھا۔ گزشتہ ماہ ستمبر میں سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو مردم شماری کے حتمی نتائج جاری کرنے کی تنبیہ کی تھی۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی وجہ سے نتائج رکے ہوئے ہیں، اگر نتائج جاری نہ کیے گئے تو عدالت دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنادے گی۔

اگست 2017ء کے آخر میں ملک کی کل آبادی، صوبوں کی علیحدہ علیحدہ آبادی اور اس کے بعد پاکستان کے دس بڑے شہروں کی مردم شماری کے نتائج کا مرحلہ وار اعلان کیا گیا تھا۔ لیکن ان نتائج پر سیاسی جماعتوں کے مابین اختلاف سامنے آیا تھا۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے کراچی کے نتائج کو مسترد کرنے کی بات بھی کی تھی۔ تاہم اکثر ماہرین نے وفاقی اعدادوشمار پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

پاکستان میں مردم شماری کے نتائج کا آنا ایک خوش آئند اقدام ہے، کیونکہ ترقی کے سفر میں اقتصادی پالیسیوں کی تشکیل اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...