بخدمت حکامِ بالا: تحصیل بحرین سوات کی ترقیاتی عرضداشت

352

تحصیل بحرین جسے اپنے مخصوص جغرافیے اور ثقافتوں کی وجہ سے سواتِ کوہستان یا کوہستانِ سوات بھی کہا جاتا ہے، یہ خیبر پختونخوا  کے مشہور و معروف ضلع سوات کا خوب صورت ترین علاقہ ہے جو رقبے کے لحاظ سے پورے ضلعے کا 60  فی صد بنتا ہے۔ اپنے ثقافتی تنوّع کے اعتبار سے یہ حصہ شمالی پاکستان  کے دوسرے کثیرالثقافتی (multicultural)  علاقوں کی طرح ممتاز ہے۔ یہاں  توروالی، پشتون، گاؤری اور گوجر جیسی قومیں آباد ہیں جبکہ اوشوجو، کھو اور انڈس کوہستان سے ہجرت کرکے آئے ہوئے بھی کافی لوگ یہاں آباد ہیں۔

انتظامی لحاظ سے یہ پورا علاقہ اب سوات کی ساتویں تحصیل/سب ڈویژن ہے جس کی آبادی تقریباً 300،000 نفوس کے لگ بھگ ہے۔ یہ صوبائی اسمبلی کی نشست پی -کے (PK-2) : 2 اور قومی اسمبلی کی نشست این-اے(NA-2) :2 کا حصّہ ہے۔

یہ دراصل ایک بڑی وادی پر مشتمل ہے جو دریائے سوات کے ساتھ ساتھ واقع ہے۔ اس مرکزی وادی کے ساتھ یہاں کئی ذیلی مگر خوب صورت دیگر وادیاں بھی ہیں۔ علاقے میں تین قصبے: بحرین، کالام اور مدین مشہور ہیں۔ بحرین اس تحصیل کا انتظامی ہیڈکوارٹر ہے اور مرکزی قصبہ کہلاتا ہے جبکہ مدین تجارت اور صحت کی سہولیات رکھتا ہے۔ کالام نہ صرف اس علاقے کا بلکہ پورے ملک کا ایک اہم سیاحتی علاقہ ہے جو قدرتی حسن میں اپنی مثال آپ ہے۔

تحصیل بحرین 8 یونین کاؤنسلز پر مشتمل ہے۔ مدین اور بحرین تین تین یونین کاؤنسلز کے لوگوں کے تجارتی مراکز ہیں، جبکہ کالام پر دو یونین کاؤنسلز کا تجارتی انحصار ہے۔

ہر یونین کاؤنسل اور ذیلی وادی کے اپنے منفرد مسائل اور وسائل ہیں۔ چند ایک مرکزی یونین کاؤنسلز ترقی کے لحاظ سے دیگر یونین کاؤنسلوں سے بہتر ہیں۔ تاہم اس علاقے کو مجموعی طور پر جن مسائل کا سامنا ہے ان میں غربت، تعلیم کی کمی، انسانی حقوق کی پامالی،  ناقص انتظامی امور، صحت کی بہتر سہولیات کا فقدان، ذیلی وادیوں میں ناقص مواصلاتی نظام، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات، سخت سردیاں، زمین اور جنگلات پر برادریوں، قوموں، قبیلوں اور گاؤوں کے مابین تنازعات سر فہرست ہیں۔

ویسے تو اس افراتفری، بد انتظامی، غفلت اور مفادات کی جنگ کے ہوتے ہوئے پاکستان میں تعمیر وترقی کی خواہشات کا پالنا حماقت لگتا ہے لیکن  زندگی ہمیں ایک ہی سبق دیتی ہے: ناامید نہیں  ہونا۔ اس لیے بقول شاعر ہم

ایک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک

ایک عرضِ تمنّا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

کے مصداق اپنی تمنّائیں ان سرد مہر  درباروں میں پیش کرتے رہیں گے، کیوں کہ کسی نے کہا ہے:

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصّے کی کوئی شمع جلائے جاتے

اس علاقے سے متعلق کچھ تمنّائیں نیچے درج کیے دیتے ہیں، اس امید  کے ساتھ کہ کبھی تو اس طرف ارباب اختیار کی نظر پڑے گی۔ یہ ناممکن نہیں ہیں۔ بس اوپر سے سیاسی شعوری عزم   (Political Will)  چاہے اور نیچے عوام  کی طرف سے بیداری و حرکت۔

مطالبات/تمنّائیں

1۔ تحصیل بحرین میں جتنے پرائمری سکولز ہیں ان کی  کل تعداد  کے 50 فی صد کو مڈل کا درجہ دیا جائے۔ تمام مڈل سکولوں کو ہائی، ہائی سکولوں کو ہائیر سیکنڈری، ہائر سیکنڈری سکولز کو ڈگری کالجز اور ڈگری کالج کو سوات یونیورسٹی کے ذیلی کیمپس کا درجہ دیا جائے۔

2۔ کالام میں سول اسپتال کو مکمل فعال بنایا جائے، مانکیال اور بحرین میں دیہی مراکز صحت (Rural Health Units)  کا قیام عمل میں لایا جائے، اور بالاکوٹ، رامیٹ اور بشیگرام میں بی ایچ یو (BHUs) قائم کیے جائیں۔

3۔ علاقے میں ہونے والے خودکشی جیسے واقعات میں ریاست پولیس اور عدالت کے ذریعے خود مدعی بنے اور ایسے کیسوں کی شفاف تفتیش  ریاست کے یہ ادارے خود کریں۔ اس کے ساتھ یہاں قانونِ وراثت کو ہر صور ت میں  نافذ کیا جانا چاہے اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی کی جائے۔

4۔ تحصیل بحرین میں ماحول دوست سیّاحت کو فروغ دیا جائے۔ ذیلی وادیوں کی سڑکیں بنانی چاہیں، مگر اس کے ساتھ جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو ہر صورت میں یقینی بنانا چاہے۔ جنگلات کے تحفظ  کو مقامی لوگوں کی شراکت داری سے یقینی  کیا جائے۔ علاقے سے ٹمبر کی سمگلنگ کو روکا جائے۔

5۔ تحصیل بحرین کے نوجوانوں کو سیاحت کے انتظام، انصرام اور فروغ کے لیے بین الاقوامی اور پاکستانی اداروں سے تربیت دلائی جائے۔ سیّاحت سے منسلک نئے کاروباری پیشوں  (Entrepreneurship) کو نوجوانوں میں فروغ دیا جائے۔ اس کے لیے انکوبیٹر سینٹرز علاقے میں ہی قائم کیے جائے۔

6۔ دریائے سوات پر یا اس کے ذیلی دریاؤں پر جتنے بھی پن بجلی منصوبے بن رہے ہیں ان  کو اس طرح ڈیزائن کیا جائے کہ مقامی لوگوں اور  ان دریاؤں کو نقصان نہ ہو۔ ان پن بجلی منصوبوں سے تحصیل بحرین اور پورے ضلع سوات کو مفت یا سستی بجلی فراہم کی جائے تاکہ کالام، بحرین، مدین اور ذیلی وادیوں میں جنگلات پر ایندھن لکڑی کا بوجھ ختم کیا جاسکے۔ ان منصوبوں کی ملازمتوں میں مقامی آبادی کو پہلی ترجیح دی جائے۔ صرف درکار پیشہ ورانہ تربیت نہ ہونے کی صورت  میں ان ملازمتوں کو دوسرے علاقوں کے لیے کھولا جائے۔

7۔ سوات یونیورسٹی میں ایک الگ شعبہ یا سکول  ’’مطالعاتِ سوات Swat Studies ‘‘ کے نام سے قائم کیا جائے جس میں سوات کی قدیم اور موجودہ ثقافتوں، سوات کی تاریخ، معاشروں، سیاسیات اور زبانوں پر تحقیق ممکن ہو۔

8۔  تحصیل بحرین میں پیش آنے والے باہمی تنازعات میں فریقین میں سے کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ان تنازعات کا تصفیہ عدالتیں ہی کریں اور  قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عدالتی فیصلوں پر عمل در آمد یقینی بنائیں۔

9۔ تحصیل بحرین میں ایسی کسی دقیانوسی سماجی  روایت، سرگرمی  اور رویّے کی حوصلہ شکنی کی جائے جو انسانی حقوق کی پامالی کا سبب بنے۔

10۔ اس علاقے کو بذریعہ سڑک  ضلع دیر بالا کے علاقے کمراٹ، ضلع چترال اور گلگت بلتستان کے ضلع غزر سے ملایا جائے ۔ یہ علاقہ پورے شمالی پاکستان کے جنوب میں اور اس کے دامن میں واقع ہے، لہذا پورے شمالی پاکستان کی سیاحت کے فروغ میں تحصیل بحرین  بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔

زبیر تورولی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...