16 دسمبر کے نہ بھرنے والے گھاؤ

98

آج آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے چھ سال پورے ہوگئے ہیں جس میں 150 کے قریب بچے نہایت سفاکی کے ساتھ شہید کردیے گئے تھے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ نقصان اُٹھایا اور اس عفریت نے ہزاروں شہریوں کی جانیں بھی نگلیں لیکن 2014ء کا حملہ ایسا سیاہ دن ہے جس کے گھاؤ کبھی مندمل نہیں ہوپائیں گے۔ یہ ملک کے ہر باسی کو گہرے دکھ کے احساس میں مبتلا رکھتا ہے اور ڈیڑھ سو خاندانوں پر ہر صبح سکول کا وقت ایک قیامت بن کر گزرتا ہے۔

اس سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نیا موڑ شروع ہوا، دہشت گردی کے حوالے سے سماج میں موجود تقسیم ختم ہوئی اور پوری قوم  اس کے خلاف متحد ہوئی۔ سکیورٹی و سول اداروں نے مل کر کچھ بڑے اقدامات اٹھائے جس کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی۔ اس کا خطرہ تو ختم نہیں ہوا لیکن اس عنصر کا دائرہ محدود کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں قدرے استحکام آیا۔

اے پی سی کا واقعہ ریاست پر اور ہم سب شہریوں پر بطور قوم ایک قرض رکھتا ہے۔ یہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ اس سرزمین سے تشدد کے تمام بیج ختم ہوں اور یہ امن کی مثال بنے۔ ملک سے مسلح دہشت گردی کا خطرہ تو محدود کردیا گیا ہے لیکن شدت پسندی کی فکر ابھی تک مضبوطی سے قائم ہے، اور سماج کے مختلف طبقات میں ایک دوسرے کے خلاف عدم برداشت بھی بڑھ رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح سکول سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف دوٹوک موقف اپنایا گیا اسی طرح تشدد کی ہر قسم کے خلاف صف آراء ہوا جائے۔

یہ سانحہ اس بات کا تقاضا بھی کرتا ہے کہ ریاست وہ غلطیاں دوبارہ نہ دہرائے جس کا انجام اس طرح کے سانحات کی صورت میں نکلتا ہے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بننے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے رواں سال اکتوبر میں حکومت کو آرمی پبلک سکول کی عدالتی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر لانے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس رپورٹ میں سکول کی کمزور سکیورٹی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ بینچ واقعے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کی شکایات پر ازخود نوٹس کی اساس پہ تشکیل دیا گیا تھا۔ ان والدین کا دعوی ہے کہ سانحے کے اصل مجرموں کا اب تک تعین نہیں کیا گیا ہے اور نہ انہیں سزا مل سکی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...