نیا یکساں قومی نصاب مکمل تیار، صوبوں کو کتابیں شائع کرنے کی ہدایت

152

گزشتہ روز وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تحریک انصاف حکومت کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا نیا یکساں قومی نصاب کا منصوبہ تیاری کے تمام مراحل سے گزر کے مکمل ہوچکا ہے اور اب صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق کتابیں شائع کرنا شروع کرے۔ وفاقی وزیرتعلیم نے اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا۔

واضح رہے کہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی ملک میں تعلیمی اصلاحات کے لیے عزم کا اظہار کیا تھا، ان اصلاحات میں سے ایک ’یکساں قومی نصاب‘ کو لانا بھی شامل تھا۔ وفاقی وزارت تعلیم کی ویب سائٹ پر درج کیے گئے اس منصوبے کے محرکات میں کئی امور کا ذکر کیا گیا ہے جن میں ملک کے تمام بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے حصول کی خاطر یکساں مواقع کی فراہمی۔ متنوع نظام ہائے تعلیم کے مابین تفاوت کا خاتمہ، بدلتے عالمی رجحانات کے تناظر میں ذہنی نشوونما اور سماجی ہم آہنگی کا فروغ جیسے مقاصد بھی شامل ہیں۔

تاہم نئی پالیسی کے ردعمل میں سندھ حکومت نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اگرچہ حتمی فیصلے سے قبل اس پر ایک مرتبہ پھر نظرثانی ضرور کرے گی، لیکن وہ وقت کے ساتھ صوبے کے نصاب تعلیم کو اپڈیٹ کرتے رہے ہیں اس لیے وہ اس میں تبدیلی کے خواہاں نہیں ہیں۔

نئے یکساں قومی نصاب کے بارے میں ابتداء سے ہی ماہرین مختلف آراء کا اظہار کرتے آئے ہیں جن میں سے کچھ اس کے حق میں جبکہ بعض اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ماہرتعلیم ڈاکٹر اے ایچ نیر کا کہنا ہے کہ تعلیمی اصلاحات کے یہ مقاصد حوصلہ افزا ہیں لیکن انہیں عملی جامہ پہننانے کے لیے یکساں قومی نصاب کا راستہ کافی نہیں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے اہم مسئلہ نصاب کا بھی ہے تاہم اس کے ساتھ تعلیمی نظم میں بھی بہت بڑا خلا ہے، یہ نظام ابتری کا شکار ہے اور جس کی وجہ سے ملک کے ہر بچے کے لیے یکساں تعلیمی مواقع اور یکساں معیاری تعلیمی کا حصول مشکل ہو رہا ہے، اور اس کے تحت سماجی تناظر میں ان کی وہ فکری نشوونما بھی ممکن نہیں ہوتی جو ایک تعلیمی شعبے کا خاصہ ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ دنیا میں تعلیم کے شعبے میں خرچ کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 164 واں نمبر ہے جبکہ معیارِ تعلیم کے معاملے میں اس کا درجہ 94 ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...