گوادر شہر کے گرد باڑ کی تنصیب: کیا یہ خطرے کا حل ہے؟

418

اگر مجوزہ منصوبہ بندی کے مطابق گوادر کے اطراف میں  آہنی باڑ لگادی جاتی ہے تو یہ پاکستان میں سیکورٹی خدشات کی اساس پر پہلا ’حصاربند‘ شہر بن جائے گا۔ اس اقدام کے فوائد و نقصانات سے قطع نظر، اسی طرح عوامی ردعمل اور اپوزیشن کی تنقید کو بھی بالائے طاق رکھتے ہوئے اس منصوبے سے جو چیز نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹے کے لیے ریاست کے نقطہ نظر کا رُخ کیا ہے۔ عموماََ باڑ باندھنے کا اقدام سرحدوں پر سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے بطور آخری حربے کے اٹھایا جاتا ہے، اس لیے ملک کے اندر شہروں کے گرد باڑ لگانے کا فیصلہ زیادہ مضبوط جواز اور وجوہات کا متقاضی ہے۔

بلاشبہ گوادر کو درپیش خطرات حقیقی اور سنجیدہ ہیں۔ یہ شہر بلوچ قوم پرست باغیوں کے لیے ایک اہم ہدف ہے۔ انہوں نے ضلع میں پچھلے تین سالوں کے دوران کم ازکم پاتچ بڑے دہشت گردانہ حملے کیے ہیں جن میں سے ایک میں گوادر شہر کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ دیگر جیوانی، پسنی اور اورماڑہ کے مضافات میں کیے گئے تھے۔ ان واقعات میں 20 سکیورٹی اہلکار اور 20 عام شہری اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مئی 2019ء کو پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر ہونے والا حملہ ضلع میں ہونے والے ان حملوں میں سے مہلک ترین تھا۔ اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے والی جماعت بلوچ لبریشن آرمی نے دھماکہ خیز مواد اور راکٹ فائر کی مدد سے ہوٹل کی عمارت کو بری طرح نقصان پہنچایا تھا۔ اس کی چوتھی منزل تقریباََ مکمل طور پہ تباہ ہوگئی تھی۔ اسی طرح رواں سال ماہ اکتوبر کے دوران عسکریت پسندوں نے مکران کوسٹل ہائی وے پہ سکیورٹی فورسز کے اس دستے کو نشانہ بنایا جو تیل و گیس کی ایک کمپنی کے قافلے کے ہمراہ بغرض حفاظت گوادر سے کراچی جا رہا تھا۔ بلوچ باغی گروہوں کے براس (BRAS) نامی اتحاد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں سات فرنٹیئر کور کے اہلکاروں سمیت کم ازکم 14 افراد جاں بحق ہوئے۔

ان دہشت گردانہ حملوں نے بندرگاہ کی سکیورٹی اور سی پیک سے متعلقہ منصوبوں پر کام کرنے والی چینی افرادی قوت کی حفاظت کے حوالے سے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ تاہم بہت سارے ماہرین کی رائے ہے کہ شہر کو باڑ لگانے کا اقدام خطرے کی حقیقی حدت میں مبالغہ آرائی کرنے کے مترادف ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ مخصوص علاقوں کو حصاربند کرنے کا منصوبہ ’گوادر سٹی ماسٹر پلان‘ کا حصہ ہے۔ وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر اور تحفظ کی فراہمی کے عوامی مطالبے کی وجہ سے سیف سٹی منصوبے کے تحت کچھ علاقوں کو خاردار تاروں کے ذریعے اضافی سکیورٹی دی جارہی ہے۔ تاہم اس اقدام کے پس منظر کے حوالے سے گوادر کے مقامی حلقے حکومت سے مختلف نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔

تاریخی طور پہ مکران کے نام سے مشہور اس علاقے کے لیے ’جنوبی بلوچستان‘ کی نئی اصطلاح کا استعمال بھی مقامی لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے، انہیں یہ لگتا ہے کہ اس کا مقصد علاقے کو انتظامی طور پہ باقی بلوچستان سے الگ کرنے کی کوشش ہوسکتا ہے

زیادہ تر لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ اگرچہ حکومت نے پرانے شہر کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ازسر نو بحالی و تعمیر کا منصوبہ شروع کیا ہے، لیکن ابھی تک پانی اور بجلی کی فراہمی سے وابستہ دیرینہ مسائل کو حل نہیں کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے حال ہی میں بلوچستان کے 9 جنوبی اضلاع کے لیے ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 600 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔ تاہم گوادر کے مقامی باسیوں کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ اس فنڈ سے ان کے شہر کو کوئی حصہ ملے گا، یا یہ پیسے صحح طرح سے خرچ بھی ہوں گے۔ اسی طرح تاریخی طور پہ مکران کے نام سے مشہور اس علاقے کے لیے ’جنوبی بلوچستان‘ کی نئی اصطلاح کا استعمال بھی مقامی لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے، انہیں یہ لگتا ہے کہ اس کا مقصد علاقے کو انتظامی طور پہ باقی بلوچستان سے الگ کرنے کی کوشش ہوسکتا ہے۔

گوادر کے نئے منصوبے کے مطابق شہر کے اندر دو داخلی اور خارجی راستوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا، اس سے وہاں موجود چینی افرادی قوت اور غیربلوچ لوگوں کو یہ احساس و پیغام ملے گا کہ وہ محفوظ ہیں۔ لیکن ایک بڑا اور اہم سوال اپنی جگہ باقی ہے: کیا اس اقدام سے سکیورٹی سے جڑے خطرات واقعی کم ہوجائیں گے؟

یہ کہا جاسکتا ہے کہ پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کے لیے دہشت گردوں نے شہر کا راستہ استعمال کیا تھا، او اسی طرح یہ بھی کہ بلوچ شورش ایک سنجیدہ خطرے کے طور پہ موجود ہے۔ تاہم شہروں پر باڑ نصب کرنا اس مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا۔ اگر القاعدہ، داعش اور تحریک طالبان جیسے گروہوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو بلوچ عسکریت پسندوں میں ان گروہوں جیسی بڑے پیمانے پر اور مربوط حملے کرنے کی آپریشنل صلاحیت موجود نہیں ہے۔ بدترین صورتحال میں اگر بلوچ باغی کسی طور چند ایسے بڑے حملے کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو مستقل حیثیت میں ان کی اس نوع کے حملے کرنے کی صلاحیت پر سوالیہ نشان البتہ رہے گا۔

مزید برآں، ان خطرات سے نبردآزما ہونے کی ریاستی حکمت عملی پر بھی سوال اٹھائے جانے لگے ہیں۔ بعض لوگ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ آخر اس حوالے سے سکیورٹی اداروں کا طریقِ کار دفاعی نوعیت کا کیوں ہے؟ کیا اس سے باغیوں کے اندر ایک گونہ کامیابی اور اپنی مضبوط موجودگی کا احساس پیدا نہیں ہوگا؟

اہم تناظر یہ بھی ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بات چیت سمیت دیگر سیاسی نوعیت کے حل کا انتخاب کیوں نہیں کرتی ہے، جو نہ صرف یہ کہ موجودہ اقدامات کے مقابلے میں زیادہ آسان و مؤثر ہیں بلکہ صوبے میں دیرپا استحکام کے لیے بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ریاست نے ناچار چند سیاسی نوعیت کے اقدامات اٹھائے تو ہیں لیکن وہ کبھی مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔

کیا  ریاست کی جانب سے دفاعی نوعیت کے اقدامات کرنے سے باغیوں کے اندر ایک گونہ کامیابی اور اپنی مضبوط موجودگی کا احساس پیدا نہیں ہوگا؟

معاشی نمو کی خاطر محفوظ اور سازگار ماحول کی ضرورت ہوتی ہے، اور قومی ہم آہنگی اس طرح کا ماحول پیدا کرسکتی ہے۔ تاہم قومی ہم آہنگی کوئی مصنوعی چیز نہیں ہوتی اور نہ اسے زبردستی لاگو کیا جاسکتا ہے۔ اس کے حقیقی عملی مظاہر تب سامنے آتے ہیں جب تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین باہمی اعتماد کی فضا جنم لیتی ہے جس کا رسوخ صرف مکالمے کے فروغ اور عمرانی معاہدے کو مستحکم کرنے کے ساتھ ممکن ہوتا ہے۔

پہلے بھارت نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ باڑ نصب کی۔ اب افغانستان اور ایران کی سرحدوں پر باڑ کی تنصیب کا عمل مکمل ہوجانے کے ساتھ پاکستان پوری طرح ایک حصار بند ملک بن جائے گا۔ شاید اس بات کی قوی ضرورت ہے کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کی ترجیحات اور طریق کار کا ایک جامع جائزہ لے اور اس پہ نظرثانی کرے۔

اپنے آپ کو خاردار تاروں کے ساتھ ڈھانکنے کا عمل جو افغانستان کی سرحد سے شروع ہوا اور ایران کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ کی تنصیب پر منتج ہوا تھا، یہ عمل اب اپنے شہروں کو حصاربند کرنے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ باڑ لگانے سے اس بات کی ضمانت تو نہیں مل جاتی کہ دہشت گرد اپنی سرگرمیاں روک دیں گے۔ وہ متبادل تلاش کریں گے جیساکہ افغان سرحد پہ باڑ کی تنصیب کے باوجود صورت حال مخدوش ہے۔

ماضی میں حکومتیں نیشنل سکیورٹی پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کرتی رہی ہیں جس میں بہت زیادہ وقت صرف ہوا۔ قومی سلامتی کے لیے وزیراعظم کے موجودہ مشیر معید یوسف نے امید کی کرن پیدا کی ہے کہ 2021ء کے اوائل میں اس کا مسودہ تیار ہوجائے گا۔ اگرچہ اس کی جزئیات کے بارے میں کسی کو خاص معلومات نہیں ہیں، تاہم یہ کہا گیا ہے کہ اس میں سکیورٹی کے روایتی و غیرروایتی دونوں پہلوؤں کا لحاظ رکھا جائے گا، اور بالخصوص اس کے تحت انسانی سکیورٹی پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔

بہرحال، آنے والی نیشنل سکیورٹی پالیسی سے بہت زیادہ امیدوں کو وابستہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس کا خاکہ بیوروکریسی کے مخصوص مشاورتی عمل کے تحت ترتیب پایا ہے، اس کے نکات پر پارلیمنٹ اور دیگر عوامی فورمز پر کھلی بات چیت نہیں کرائی گئی۔ تاہم پھر بھی اگر اس میں قومی ہم آہنگی کی حکمت عملی کو سراہا جاتا ہے جس میں تمام فریقوں کے ساتھ مکالمے کی تائید ہوتی ہے تو یہ کئی حوالوں سے ممدگار ثابت ہوگی۔ کم ازکم اس کے ذریعے ملک کے پسماندہ طبقات و خطوں میں امید کی روشنی جاگزیں ہوجائے گی۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: روزنامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...