عہدِ فراعنہ سے نسبت رکھنے والی مسلم برادری جو اپنی قدیم روایات اب تک نہیں بھولی

263

’نیوبیا‘ (Nubia) یا ’صحرائے نیوبیا‘ کے نام سے پہچان رکھنے والا خطہ جو دریائے نیل کے کنارے کنارے جنوبِ مصر سے سوڈان کے شمالی حصے تک پھیلاہوا ہے، کئی قدیم سلطنتوں اور تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔ مصر پر حکومت کرنے والے فراعنہ کا پچیسواں خاندان نیوبیائی تھا جس نے مصر پہ 744 قبل مسیح سے 656 قبل مسیح تک حکومت کی تھی۔

نوبیائی خطہ ماضی میں کبھی موجودہ مصر و سوڈان کے زیرنگین یا ان کا حصہ رہا اور کبھی یہ ان سے علیحدہ ایک الگ سلطنت کے طور پہ قائم رہا۔ اس خطے میں متعدد قدیم تہذیبیں پھلتی پھولتی رہیں۔ یہاں اسلام سے پہلے مسیحیت نے بھی دیر تک عروج دیکھا۔ نیوبیائی برادری سات جولائی کو ’نیوبیا تہذیب کا عالمی دن‘ مناتی ہے جس کا مقصد اپنی ماضی کی عظیم تاریخ کو یاد کرنا اور اس کا جشن منانا ہوتا ہے۔ موجودہ حالت میں اس بکھرے ہوئے اور غیرآسودہ زندگی گزارنے پر مجبور اس طبقے کی کل تعداد کا حتمی تعین تو نہیں کیا گیا لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ برادری دنیا میں لگ بھگ پچیس لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔

جب حضرت عمرو بن العاصؓ نے مصر کو فتح کیا تو ان کے لشکر نے بعدازاں نوبیا کی طرف بھی پیش قدمی کی تھی، لیکن وہ اسے فتح نہ کرسکے۔ اس کے بعد دس سال تک مسلسل کئی حملے کیے گئے مگر کامیابی نہ ہوئی۔ جب حضرت عثمانؓ کے عہد میں دوبارہ جنگ ہوئی تو اس دوران نوبیائی گروہ مسیحیت ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے اور فریقین کے مابین جزیہ دینے کا معاہدہ ہوا۔ 14 ویں صدی عیسوی میں جب نوبیا کے بادشاہ نے اسلام قبول کیا تو اس کے بعد رفتہ رفتہ اس خطے کے سارے لوگ مسلمان ہوگئے۔

اسلام قبول کرنے کے باوجود بھی انہوں نے اپنی قدیم تہذیب اور مسیحیت کی روایات کو مکمل طور پہ ترک نہیں کیا، اگرچہ ان کے ساتھ کچھ مسلم ثقافت کا امتزاج بھی پیدا کردیا۔ ان روایات میں سے ’سبوع‘ کی رسم بھی ہے۔ یہ فراعنہ کے دور کی رسم ہے۔ یہ عقیقہ کی طرح بچے کی پیدائش کے ساتویں دن ادا کی جاتی ہے۔ اس میں گھر والے نومولود بچے کو لے کر دریائے نیل کی جانب جاتے ہیں۔ ساتھ ایک برتن میں گندم اور میٹھے سے بنی چُوری یا اس قسم کا کوئی اور پکوان تھال میں لے جاتے ہیں۔ دریا کے کنارے گھر کی سربراہ بوڑھی عورت پکوان میں سے مٹھیاں بھر کے دریائے نیل میں پھینکتی ہے اور نیل کے فرشتوں کا تبرک حاصل کرنے کے لیے کلمات ادا کرتی ہے۔ پھر بچے کا منہ دریا کے پانی سے دھویا جاتا ہے۔ اس کے بعد گھر کے مرد کھلونے کی طرح کی چھوٹی سی کشتی کے سِرے پہ آگ جلاتے ہیں اور اسے نیل میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس دوران بچے کی لمبی عمر کے لیے دعا کی جاتی ہے۔

اسی طرح خوشی کے مواقع پر نیوبیائی برادری کے لوگ ایک خاص گیت گاتے ہیں، اس گیت کو ’مارنتینو‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اصل میں حضرت عیسی علیہ السلام کی مدح سرائی میں تھا۔ جب انہوں نے مسیحی مذہب اختیار کیا تو اس قت اپنی زبان میں لکھا تھا جو ان کے لیے ایک قومی گیت کی حیثیت رکھتا تھا۔ پھر جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو اس گیت کو نہیں چھوڑا بلکہ اس کے ساتھ حضرت محمدﷺ کی مدح میں بھی کچھ جملے شامل کردیے۔ اب اس گیت میں دونوں ادیان کے پیغمبروں کی ایک ساتھ توصیف کی جاتی ہے اور اس دوران رقص بھی کیا جاتا ہے۔

نیوبیا خطے میں بہت سارے چھوٹے بڑے اہرام بھی نظر آتے ہیں اور قدیم معبد بھی اب تک قائم ہیں جن میں سے ایک ’ابوسمبل‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ درائے نیل کے عین کتارے پر واقع ہے اور اس کا شمار نیوبیائی تہذیب کے سب سے بڑے معبدوں میں ہوتا ہے۔ اس کے داخلی حصے کا بیرونی منظر انتہائی وجیہہ اور حیرت انگیز ہے۔

معبد ابوسمبل

نیوبیائی لوگ رنگوں کے دلدادہ ہیں۔ وہ اپنے گھروں، دکانوں اور کشتیوں پر ایسے نقش و نگار کرتے ہیں کہ دیکھنے میں مصوری کا شاہکار محسوس ہوتے ہیں۔

نیبوبیا بستی

ایک اور گھر کی تصویر ملاحظہ کیجیے

نیوبیائی زبان میں اس پر ’اشرینکیل‘ لکھا ہے جس کا مطلب ہے خوبصورت
گھر کے دروازے اور کھڑکی کو نیل کے کے رنگ میں رنگتے ہوئے

مگر ایک وقت میں مصر جیسی عظیم ترین سلطنت پر حکمرانی کرنے والے، رومیوں اور آشوریوں سے ٹکر لینے والے اور کئی قدیم تہذیبوں کے امین نیبوبیائی اب اپنی شناخت کے تحفظ اور بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے پر مجبور ہیں۔ جنوب مصر میں نیل کی پٹی پر رہنے والی اس برادری کی ایک بڑی تعداد کو ان کی زمینوں سے بے دخل کردیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ 1902ء میں عباس حلمی الثانی کی حکومت میں شروع ہوا تھا، جب وہاں پہلی بار ایک ڈیم تعمیر کیا گیا، کچھ وقت بعد جب اس کا پانی انتہائی حد سے باہر نکل کے سیلابی ریلے کی صورت میں آیا تو نیبوبیائی افراد کی دس بستیاں اس کی لپیٹ میں آگئیں۔ تب انہیں وہاں سے منتقل کردیا گیا۔ اس کے بعد ڈیموں کی تعمیر اور سیلاب کے خطرے کے باعث چار مرتبہ انہیں وہاں سے حکومتوں نے ہجرت کا حکم دیا۔ آخری اور سب سے بڑی بے دخلی جمال عبدالناصر کے دور میں ہوئی جب اسوان ڈیم کی تعمیر شروع ہونے لگی۔ جمال عبدالناصر نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ یہ انتقال عارضی ہے، انہیں کچھ عرصے بعد واپس اپنی زمینوں پر آنے کی اجازت ہوگی۔ لیکن یہ وعدہ اب تک ایفا نہیں ہوپایا۔

نیوبیائیوں کی کچھ بستیاں اسوان اور جنوبِ مصر میں اب بھی ہیں مگر ایک بہت بڑی تعداد کو مصر کے شمالی حصے کی جانب منتقل کردیا گیا اور انہیں اب تک واپسی کی اجازت نہیں ملی۔ وہ اس کے لیے مسلسل آواز اٹھاتے رہتے ہیں مگر ان کی شنوائی نہیں ہوتی۔

نیوبیائی برادری کا ایک بڑا حصہ اپنے ملک میں اب مہاجرت کی زندگی گزارتا ہے۔ پچھلے پجاس سالوں کی دربدری سے ان میں ناراضی اور اجنبیت کا احساس پختہ ہوگیا ہے۔ ان کی شاعری اور ادب میں دریائے نیل کی یاد، اپنی زمین سے لگاؤ اور بے چینی کے عناصر نمایاں ہیں۔ ان کے مطابق ان کی ثقافت اور جیون کا ہر لحظہ نیل کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے، انہیں نیل سے دور رکھنے کا مطلب ان کی شناخت چھیننے کے مترادف ہے۔

مہاجرت کے بعد شمال مصر میں بنایا گیا ایک بے رنگ نیوبیائی گھر جس پر لکھا ہے: براہ کرم میرے گھر سے دور رہیں

سوڈان کے شمالی حصے میں نیل کنارے رہنے والے نوبیائیوں کو بھی آہستہ آہستہ بے دخل کیا جا رہا ہے۔ وہاں بھی حکومت ڈیم بنانے اور سیلابی خطرات کے نام پہ انہیں ہجرت پر مجبور کر رہی ہے۔ اب تک وہاں پچاس ہزار نیوبیائیوں کو بے دخل کیا جا چکا ہے اور مزید کی تیاریاں جاری ہیں۔

ترجمہ وتلخیص: شفیق منصور، بشکریہ: الجزیرہ

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...