شمالی پاکستان کی زبانیں اور حرفی تحریر کا نظام

519

زبان کی تحریر کا قدیم نظام تقریباً 5500 سال پہلے خطہ زرخیز ہلال (Fertile Crescent) جو مشرق وسطی میں جدید عراق، شام، لبنان، اسرائیل، جنوبی ترکی اور مغربی ایران پر مشتمل ہے ، میں تصویری لکھائی (Hieroglyph) کی صورت میں وجود میں ایا۔ یہ تصویری تحریر کسی شے کے بارے پ تحریر ی ابلاغ کے لیے اس کی تصویری شکل کو استعمال کرتی تھی لیکن اس میں کئی علامات آواذوں کو بھی ظاہر کرتی تھیں۔ تحریر کے اسی نظام کی جدید صورت تصویری رسم الخط (logographs) ہے جس کی جدید واضح مثال مینڈیرین یعنی چائنیز زبان کی لکھائی ہے۔
اسی طرح اسی ہیروگیلپھس یعنی تصویری تحریر سے لکھائی کا ”حرفی نظام“ (Alphabetical) نظام بھی وجود میں ایا جس میں اب دنیا کی جدید زبانوں کی اکثریت کو لکھا جاتا ہے۔ عربی، انگریزی، فارسی، یورپی زبانیں، عبرانی وغیرہ اسی نظام میں لکھی جاتی ہیں۔ تصویری لکھائی سے حرفی نظام میں ارتقاء ایک دلچسپ سفر کو پیش کرتا ہے۔ اس پر غور کیا جائے تو انگریزی اور عربی کے تحریر کے نظام کی بنیاد ایک ہی ہے۔ مثال کے طور پر عربی کے ”ا“ اور انگریزی کے ”A” کی جڑ ایک ہی ہے۔ تاہم بعد میں یہ نظام ایک دوسرے دے دور ہوتے گئے اور ان کے بیچ وقت کے ساتھ کافی تغیّر آ گیا۔ انگریزی کے برعکس عربی زبان کا رسم الخط بیشتر طور پر کانسونینٹس (Consonants) پر مبنی ہے اور واویل (Vowel) کو الف اور اعراب (Diacritics)سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ رسم الخط کا ایک اور نظام بھی مستعمل ہے جسے سلیبری (syllabary) کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں حروف ایک آواز کو نہیں بلکہ ایک سے ذیادہ آوازوں کی گروہ کو ظاہر کرتے ہیں جو صرف آواذوں کی بجائے معانی فراہم کرتے ہیں۔ اس نظام میں کسی زبان میں خواندگی حاصل کرنے کے لیے کئی سو یا کئی ہزار سیلبریز کو یاد کرنا پڑتا ہے۔
کسی بھی زبان خصوصاً ان زبانوں کے لیے جن میں تحریر کا نظام موجود نہیں یا قدرے نیا اور ابتدائی ہے، کے لیے رسم الخط اور ارتھوگرافی”Orthography“ (املا اور ہیجوں کا نظام) وضع کرتے وقت چار اُصولوں کا خیال رکھنا مناسب سمجھا جاتا ہے۔ یہ چار اصول حرفی تحریر (Alphabetical)، زبان میں جلد سیکھنے کی صلاحیت (Learnability)، قبولیت (Acceptability) اور شفافیت (Transparency) ہیں۔
1۔حرفی تحریر کا نظام (Alphabetical Writing System): یہ کہ تحریر کا نطام ”حرفی“ ہو۔ ذیادہ تر لوگ ”حرفی یعنی Alphabetical رسم الخط کو تحریر کے دوسرے نظاموں کے مقابلے میں ذیادہ موزون سمجھتے ہیں کیوں کہ اس میں زبان کی آواذوں کو ظاہر کرنے کے لیے بنیادی علامات کی تعداد کم ہوتی ہیں اور یوں سیکھنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔
2۔زبان کے اندر سیکھنے کی صلاحیت (Learnability): تحریر کا ایسا نظام ہو جس سے اس زبان کی خواندگی سیکھنے میں آسانی ہو۔ مطلب اس نظام کے ذریعے زبان کی لیٹریسی سیکھنے میں آسانی ہو۔ دیگر الفاظ میں اس میں learnability پائی جاتی ہو۔ اسی لیے رسم الخط اور ارتھوگرافی کو جس قدر سہل بنایا جائے یہ اس زبان کی خواندگی کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ انگریزی زبان کی ارتھو گرافی کو وقت کے ساتھ ساتھ آسان بنایا گیا۔ یہی اردو زبان کے ساتھ بھی ہوا۔ جب کسی زبان میں تحریر کی روایت ابتدائی ہو تو شروع میں اعراب (diacritics)کا استعمال کیا جاتا ہے جن کو لکھنے کی اس وقت ضرورت نہیں رہتی جب اس زبان کی خواندگی کافی پکی ہوجائے۔ مثلاً اردو میں خواندہ افراد اِدھر، اُدھر، اِس، اُس کو لکھیں گے تو اعراب لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیوں کہ یہ اس لفظ کے اگے پیچھے ماحول (کانٹیکس) سے بھی ظاہر ہوتے ہیں اور ان کو سمجھنے کا انحصار اس زبان کی لیٹریسی کی وسعت پر بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح اردو الفاظ ”ایرے غیرے“ کو لوگ ایرے غیرے ہی پڑھیں گے اگر چہ یہ ”ایِرے غیِرے“ بھی ہوسکتے ہیں۔ اردو میں اب لفظ کے آخر والے مختصر واول”ہ“ ، اگر وہ لفظ فارسی کا نہ ہو ،کو ”ا“ سے لکھا جاتا ہے جیسے جگہ اور جگا۔ قرآن پاک جو ہم غیرعرب لوگوں کے لیے چھپتا ہے اس میں اعراب کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے ورنہ عرب ملکوں میں اہل زبان کے لیے بغیر اعراب کے چھاپا جاتا ہے۔
3۔ قبولیت (Acceptability): اس کا مطلب ہے کہ تحریر کا کوئی ایسا نظام وضع کیا جائے جسے لوگوں میں قبولیت حاصل ہو۔ یعنی اس کی (Acceptability) ہو۔ اس سے مراد ہے کہ زبان کی تحریر کے اس نظام کی قبولیت لوگوں میں سماجی، نفسیاتی، سیاسی اور تعلیمی طور پر پائی جائے۔ سماجی قبولیت سے مراد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس زبان کے بولنے والوں کا سماج کیسا ہے، ان کا کس مذہب سے تعلق ہے اور کس شدّت سے ہے۔ سیاسی حالات سے مراد ہےکہ یہ لوگ کس ملکی سیاسی نظام میں رہتے ہیں؛ وہاں کا سیاسی نظریہ کیا ہے اور سیاسی تعلق کس نوعیت کا ہے اور اس ملک میں کونسا سیاسی نطام کارفرما ہے۔ مزید برآں اس ملک میں عمومی تعلیمی پالیسیاں کیا ہیں اور تعلیم کے لیے کونسی زبانوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ نیز اس ملک کی سیاست میں سماجی اور مذہبی اداروں و گرہوں کا کردار کیا ہوتا ہے۔ تعلیمی لحاظ سے اس ملک میں کونسا نظام متحرک ہے؛ وہاں کن زبانوں کو کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ سارے عوامل مل کر اس زبان بولنے والوں کے انفرادی اور اجتماعی نفسیاتی رویّے تشکیل دیتے ہیں جن کا خیال رکھنا لازمی ہوتا ہے۔
ہمارے شمالی پاکستان میں کم جاننے والی زبانوں کے بولنے والوں میں کئی افراد کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنی زبانوں کے تحریری نظام کو رومن(Roman/Latin) رسم الخط پر استوار کیا جائے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ رومن رسم الخط ان کی زبانوں میں مخصوص آواذوں کو آسانی سے ظاہر کرسکتا ہے۔ اسی طرح ان کے خیال میں رومن رسم الخط جدید کمپوٹر ٹیکنالوجی میں آسانی سے استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے رومن رسم الخط کی وجہ سے ان کی زبانوں کے لیے اس کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی میں زبانوں سے ذیادہ سائنسی، علمی اور معاشی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ اگر اردو اور عربی بولنے والے اس طرح ترقی کرسکے تو ان زبانوں کے لیے اس کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو مفید بنانا مشکل نہیں ہوگا۔ ہمارے سامنے یورپی، جاپانی اور چائنیز زبانوں کی مثالیں موجود ہیں جن کے لیے اس کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو خوب استعمال کیا جاتا ہے۔
ہماری زبانوں کے لیے رومن رسم الخط کو استعمال کرنے میں حائل روکاٹوں میں ہمارے ہاں ”زبان ، مذہب اور سیاست“ کا تعلق بھی ہے۔ ہمارے ملک میں چونکہ بالادست نظریات شدّت سے سیاسی، قوم پرستانہ اور مذہبی ہیں اس لیے ان زبانوں کے بولنے والوں کی اکثیرت اور ملک میں سیاست و انصرام پر براجمان لوگ رومن رسم الخط کو پسند نہیں کریں گے۔
ایک اور اہم وجہ ہمیں سماجی و تعلیمی طور پر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ ہمارے لوگ کس طرح کے رسم الخط سے پہلے مانوس ہوچکے ہیں۔ ہمارے سماج میں ہر آن پڑھ اور پڑھا لکھا بندہ قرآن پاک سے مانوس ہوتا ہے۔ مطلب لوگ عربی رسم الخط سے مانوس ہیں۔ اسی طرح ہمارا خواندگی کا وسیع ماحول (قومی زبان اور دیگر علاقائی زبانیں) عربی رسم الخط کا ہے اس لیے ہمیں اپنی زبانوں کے لیے اس رسم الخط کو اپنانا مناسب لگتا ہے۔
4۔ شفافیت (Transparency): آخری اصول شفافیت یعنی (transparency) کا ہے۔ اس کی بیشتر باتیں تو پچھلے پیرا میں ہوگئیں ہیں۔ اس سے مراد جس زبان کا رسم الخط اور ارتھوگرافی وضع کیا جانا مقصود ہو وہاں یہ دیکھنا بہتر ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس کی ”وسیع رابطے کی زبان“ کی رسم الخط، املا اور ہیجوں کے ساتھ ہم اہنگی اور مماثلت پیدا کی جائے۔ مثلاً توروالی کے رسم الخط، املا اور ہیجوں کو جہاں ممکن ہو اردو سے ہم اہنگ کیا جائے۔
آج سے پندرہ سال قبل توروالی زبان میں ارتھوگرافی مرتّب کرتے وقت ہم نے ان اُصولوں کا خیال رکھنے کی کوشش کی ہے۔ توروالی میں تحریر کا یہ نظام ابھی تک کم عمر ہے اس لیے اس میں ارتقاء ہوگا اور بتدریج سارے توروالیوں کو توروالی لکھنے اور پڑھنے میں آسانی ہوگی۔ توروالی زبان کے رسم الخط اور ارتھوگرافی پر مندرجہ بالا اصولوں کے تناظر میں ایک نظر بطور مثال ڈالتے ہیں۔
بولی (زبان کی زبانی اور بنیادی صورت) اور اس زبان کی ”تحریری صورت“ میں فرق ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ کسی زبان کے بولنے کو پوری طرح تحریر میں اگر لانا مقصود ہو تو اس کے لیے ماہرین سائنسدانوں یعنی ماہرین لسانیات کی ضرورت ہوگی۔ صرف یہ ماہرین ہی کسی زبان کی ساری آواذوں، ہیجوں اور ایکسنٹ ‘Accent’(بولنے میں زبان کی ادائیگی کا اتار چھڑاؤ) کو تحریر میں لاسکتے ہیں جس کے لیے لسانیات کی سائنس میں اب ایک عالم گیر تحریر کا نظام جسے (International Phonetics Alphabets) کہا جاتا ہے ،کو وجود میں لایا جاچکا ہے۔ یہ کام صرف مخصوص ماہرین کا ہوتا ہے اور بہت پیچیدہ ہوتا ہے۔ اس کو سمجھنا یا استعمال کرنا عوام اور عام پڑھے لکھے لوگوں کی پہنچ سے دور ہوتا ہے۔
عوام اور وسیع لکھت پڑھت کے لیے جو تحریری نطام وضع کیے جاتے ہیں ان میں حرفی نظام مقبول عام ہے۔ کوئی بھی رسم الخط پوری طرح کسی زبان کی ساری آواذوں اور ہیجوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔ انگریزی جیسے ترقی یافتہ زبان میں یہ سقم موجود ہے۔ اردو میں یہ کمی عام ہے۔ عربی میں بھی ایسا ہے۔ رسم الخط اور ہیجوں کے نظام (orthography) میں کسی زبان کی ساری آواذوں، ایکسنٹ، تان (Tone) اور بولتے وقت انفرادی فرق کو ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی حرف کہیں کانسونینٹ بن جاتا ہے تو کہیں یہی حرف واویل بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر توروالی اور اردو کا حرف ”ی“ لیں۔اردو لفظ ”یہاں“ میں ”ی“ کانسونینٹ ہے مگر اردو لفظ ”کسی“ میں ”ی“ واویل ہے۔اسی طرح توروالی لفظ ”یاب“ میں ”ی“ کانسونینٹ ہے مگر ”تیمی“ میں دونوں ”ی“ واویل ہے۔ یہی حال انگریزی کا بھی ہے۔ مثلاً انگریزی کے الفاظ ”Yard“ اور ” Poverty“ ۔ پہلے لفظ میں ”Y“ کانسونینٹ ہے جبکہ دوسرے لفظ ”poverty“ میں ”Y“ واویل آواذ پیدا کرتی ہے۔
رسم الخط اور ہیجوں میں یہ تغیّر وقت کے ساتھ ارتقاء سے بھی گزرتا ہے۔ مثال کے طور پر انگریزی کے بدنام زمانہ ہیجے (-ough) قدیم انگریزی کی میراث ہیں جو الفاظ جیسے Though, though, plough وغیرہ میں مستعمل ہیں مگر امریکی انگریزی نے اب ان سے جان چھڑائی ہے۔
کئی پیچیدگیاں ہر زبان میں پائی جاتی ہیں۔ ایک اہم مظہر زبانوں میں ”تان” اور الفاظ کی ادائیگی میں تان اور ”سختی و نرمی” یعنی Tone اور Accent کا ہے۔ ان دونوں کو عوامی خواندگی میں لکھا نہیں جاتا۔ یہ انگریزی میں بھی عام ہے۔ مثلاً لفظ Objective کو اگر پہلے حرف کی آواذ پر زور دیکر پڑھا جائے تو اس کے معانی ”مقصد“ کے ہوجاتے ہیں لیکن اگر نرم پڑھا جائے تو اس کے معانی ”معروضی“ کے ہوجاتے ہیں۔ توروالی میں ”تان“ عام ہے۔ کئی الفاظ ایک جیسے لکھے جاتے ہیں لیکن بولنے میں مختلف طریقے سے ادا ہوتے ہیں۔ مثلاً ڙاد (صبح)، ڙاد (خون)، ماݜ (ایک آدمی)، ماݜ (ایک سے ذیادہ آدمی)، ڇھی (دودھ)، ڇھی (عورت، بیوی)۔ تان اور ایکسِنٹ کو صرف اہل زبان یعنی وہ لوگ جو کسی زبان کو پہلی زبان کے طور پر سیکھتے ہیں، ہی ادا کرسکتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے لیے اس پر عبورحاصل کرنا قریباً ناممکن ہوتا ہے۔
یہی صورت ایک اورفونیاتی /صوتی (Phenetic) مظہر ایلوفون (Allophones) کی ہے جس سے مراد ہے کہ جب ایک ہی حرف/علامت مختلف جگہوں پر مختلف آواذیں پیدا کرے۔ ان صورتوں میں حرف یعنی علامت ایک ہی ہوگی۔ انگریزی میں اس کی مثالیں Stop, Top. Tip, Hit, Little وغیرہ ہیں۔ تینوں الفاظ میں حرف “t” مختلف آواذیں دیتا ہے مثلاً Top میں یا لفظ Tip میں “t” سانسیلا ہوجاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ”ھ“ کی آواذ آجاتی ہے۔ اس کے برعکس لفظ ”Stop“ میں آواز ”t“ اسی طرح ہی رہتا ہے۔ تینوں میں “t” ایک ہی صوتی علامت یعنی فونیم ”Phoneme“ ہے۔ توروالی زبان میں آواذ ”ڙ“ اور اس سے ملتی جلتی آواذ جس کے لیے کچھ لوگ ایک حرف کا استعمال( حرف ”ح“ کے اوپر ایک چھوٹی سی حرف ”ط“ لگا کر ) کرتے ہیں ایلوفونز ہیں۔ ان دونوں کو ایک ہی فونیم کا الوفونز کہا جا سکتا ہے۔ گاؤری زبان پر کام کرنے والے ماہر لسانیات ڈاکٹر یوآن باٹ کے ساتھی اورمعروف و مشہور ماہر لسانیات ڈاکٹر ہینریک لیلجیگرین (Dr Henrik Liljegren) جن کو ان کی وسیع لسانی تحقیق کی وجہ سے موجودہ زمانے کے اینڈو آرئین”Indo-Aryan“ زبانوں کاجارج مورگین سٹیئرن (Georg Morgenstierne) کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، اور توروالی زبان پر براہ راست کام کرنے والے ماہر لسانیات ڈاکٹر وئین لنسفرڈ(Dr Wayne Lunsford) دونوں ان بظاہر ان دو مختلف آواذوں کو ایک ہی آواذ کی بگڑتی صورتیں یعنی ایلوفونز مانتے ہیں۔ جب راقم نے 2005ء میں پہلی بار ان ماہرین کی توجہ اس طرف دلائی تو انہوں نے تحقیق کرکے میری بات مان لی اور دونوں کے لیے ایک ہی حرف ”ڙ“ کے استعمال کو مناسب سمجھا۔ اس وقت راقم توروالی حروف تہجی کی کتاب پر ان دو ماہرین کی زیر تربیت کام کرتا تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ توروالی کے ایک لہجے (Dialect) ”چیل لہجہ“ یعنی وادی چیل کی توروالی میں یہ دوسری آواذ نہیں پائی جاتی اور جو الفاظ بحرین لہجے میں بظاہر الگ لگتے ہیں چیل لہجے میں بھی وہ”ڙ“ کی آواز دیتے ہیں۔ واضح کرتا چلوں کہ میری تحقیق کے مطابق توروالی کا ”چیل لہجہ“ کئی لحاظ سے اپنی اصل صورت میں موجود ہے جس میں انٹر وکولر ویکنینگ (Inter-vocular weakening) نہیں پائی جاتی جس کو توروالی زبان پر 1925ء میں لکھی گئی کتاب ”Torwali: An account of a Dardic Language of Swat-Kohistan“ کے مصنف جارج گریئرسن(George Grierson) اکلژن Occlusion کہتے ہیں۔ توروالی کے ”بحرین لہجے/سینکأن لہجے“ میں انٹر وکولر ویکنینگ کثرت سے پائی جاتی ہے۔ آئیےاس فرق کو سمجھنے کے لیے توروالی کے چیل اور بحرین لہجوں کی چند مثالوں پر غور کرتے ہیں:
1۔ کُویُو (کتا) توروالی کا بحرین لہجہ۔ جبکہ کُوجُو/کُوچُو توروالی کا چیل لہجہ۔
2۔ ہُووو (سونا) توروالی کا بحرین لہجہ۔ ہُوبُو (سونا) توروالی کا چیل لہجہ
3۔ کاگا تھامے وا ”باڑے“ دیدُو۔ (توروالی بحرین لہجہ)۔ کاگا تھامے وا ”باٹے“ دیدُو۔ (توروالی چیل لہجہ)
ان مثالوں کُویُو/کُوجُو، ہُووو/ہُوبُو، باڑے/باٹے میں توروالی کے بحرین لہجے میں دو واویل ملکر بیچ والے کانسونینٹ کو نرم کرجاتے ہیں اور ہیجوں کا مسئلہ پیدا کرتے ہیں جبکہ توروالی چیل لہجے میں ایسا نہیں ہوتا۔ مثلاً لفظ کُویُو بحرین لہجے میں کانسونینٹ آواذ ”ج“ کو اگے اور پیچھے والی واویل آواذیں ”اُو“ نرم کرکے واویل آواذ ”ی“ میں بدل دیتی ہیں اور یوں ہیجوں میں فرق پیدا کرتے ہیں جبکہ توروالی چیل لہجے میں آواذ ”ج“ اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ یہی صورت ”ہُووو“ اور ”ہُوبُو“ کی ہے جہاں توروالی کے بحرین لہجے میں آواذ ”ب“ اگے پیچھے واویل کی وجہ سے نرم ہو کانسونینٹ سے واویل ”وو“ بن جاتا ہے۔ تیسری مثال ایک جملہ ہے۔ جہاں لفظ ”باٹ“ میں توروالی بحرین لہجے میں ”ٹ“ اگے پیچھے واویل کی وجہ سے نرم ہوکر ”ڑ“ بن جاتا ہے جبکہ توروالی چیل لہجے میں یہی آواذ ”ٹ” اپنی اصل صورت میں ”باٹے“ میں قائم رہتا ہے۔
ایک اور وجہ توروالی بحرین لہجے میں حرف (”ح“ کے اوپر چھوٹی ”ط” ) استعمال نہ کرنے کی یہی ہے کہ اس آواذسے صرف چند الفاظ یہاں توروالی کے صرف بحرین لہجے میں مستعمل ہیں اور ان سب کے مفہوم کا تعلق ”لمبائی/لمبا یا کھینچنا“سے ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یہ سارے الفاظ ایک ہی بنیادی لفظ سے مشتق ہیں۔ رسم الخط اور ارتھوگرافی ترتیب دیتے وقت کئی باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس میں ایک اہم بات الفاظ اور آواذوں کا کم یا ذیادہ استعمال کی شرح (frequency) ہے۔ دوسری بات جس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ کوئی آواذ اور اس کی علامت تین جگہوں یعنی لفظ کے شروع میں، درمیان میں اور اخر میں آجائے۔ یہ (”ح“ اوپر چھوٹی ”ط“ ) والا حرف صرف شروع میں اتا ہے۔ بعض لوگ درمیان والا استعمال جیسے ”ڙیکڙیِگال“ کی نشاندہی کرتے ہیں مگر یہ لفظ اصل میں ایک طرح کے لفظ ”ڙیک“ کو دو جگہ استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح پن چکی کو صاف کرنے والے جھاڑو کی مثال دی جاتی ہے کہ ایک مرکب (دو یا دو زیادہ الفاظ کے ملاپ سے جب ایک لفط بنتا ہے) لفظ ”ڙنڙھن“ میں دونوں آواذیں آجاتی ہیں۔یہ ایک اہم مثال ہے۔ اسی سے پتہ چلتا ہے کہ ایک آواذ میں توروالی بحرین لہجے نے فرق پیدا کردی ہے کیوں کہ دونوں جگہ اس قریب سے ایک آواذ پیدا کرنا مشکل ہوتا تھا اور ایلوفون ہونے کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ایک ہی آواذ اپنی ہیت اپنی مخصوص پوزیشن اور صوتی ماحول (Phonetic environment) کی وجہ سے بدل دیتی ہے۔
بعض لوگ ہر کام اور رائے میں کافی سخت گیری دیکھاتے ہیں اور کسی ایک بات پر اٹک جاتے ہیں گویا دنیا میں ارتقاء بس تھم گیا ہے۔ زبان ایک ارتقائی مظہر ہے اور اسی وجہ سے اس کی تحریر کا عمل بھی بغیر ارتقاء کے نہیں ہوسکتا۔ اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ (”ح“ کے اوپر چھوٹی ”ط“والا حرف ) توروالی کی تحریر کے لیے ناگزیر ہے تو کیا ضروری ہے اسے دو مختلف حروف ”ح“ کے اوپر چھوٹی ”ط“ لکھ کر لکھا جائے؟ راقم اس آواذ کے لیے کسی الگ حرف کے حق میں نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی سمجھتا ہوں اگر بعض لوگ لکھنا چاہتے ہیں تو کیوں نا اسے ”د“ کے اوپر چار نقطے لگا کر لکھا جائے۔ اگر اس کو ایک الگ فونیم مان بھی لیا جائے تو یہ آواذ ”ج“ سے ذیادہ ”ڙ“ کے قریب تر ہے ۔ اس کو دونوں آواذوں کی تجوید کرکے منہ میں زبان اور تالو کے باہم ٹکراؤ سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔
ہمارا یقین ہے کہ کسی کو اپنی رائے حرف آ خر بنا کر لوگوں پر ٹھونسنا نہیں چاہے۔ اگر کوئی اب بھی اس آواذ کو اسی طرح ”ح“ کے اوپر ”ط“ لگا کر لکھنے پر مصر ہے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہے۔ تاہم ہمارا بنیادی مقصد توروالی کی خواندگی بڑھانا ہے اور لوگوں کےلیے اسے سیکھنے میں آسانی پیدا کرنی ہے۔
زبان کسی ایک فرد کی میراث نہیں ہوتی۔ یہ پوری قوم کا بلکہ بنی نوع انسان کا اہم ترین مشترک ورثہ ہوتی ہے۔ اس لیے میں تو یہی ضروری سمجھتا ہوں کہ زبان کی تحریر کو آسان سے آسان بنایا جائے تاکہ انسانوں کے لیے آسانی ہو۔ پشتو ارتھوگرافی میں ایک جیسے کئی حروف کی مثال دی جاتی ہے ۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پشتو کی تحریر اہل زبان کے لیے آسان ہے؟ کیا کئی پشتون اس کو آسان بنانے کا نہیں سوچ رہے؟ کیا پشتو اکیڈیمی پشاور، پشتو ادبی ٹولنہ کابل؛ پشتو اکیڈیمی کوئٹہ اور پشتو اکیڈیمی ہزارہ یونیورسٹی اس کی تحریر کو آسان بنانے کی خاطر کوشش نہیں کر رہے؟ پشتو کے کئی لہجے ہیں اور ان کو آسان بنانے کی خاطر پشتون اہل علم و تحقیق سرگرم عمل ہیں۔ پشاور اور کابل میں باربار پشتو کی تحریر پر کانفرنسیں اور مباحثے ہوتے ہیں۔
جیسا اوپر کہا گیا زبان انسانوں کی مشترکہ میراث ہوتی ہے۔ اگر کسی نے اسد اللّہ خان غالب کا یا علامہ اقبال کا کوئی شعر لکھا تو کیا کوئی دوسرا یہ شعر لکھ نہیں سکتا؟ اسی طرح فرض کریں اگر کسی نے توروالی کہانیاں یا شاعری کسی سے سن کر لکھیں تو کیا کوئی دوسرا شخص اس طرح دوسروں سے سن کر نہیں لکھ سکتا؟ اہل زبان کو اپنی زبان پر دسترس حاصل ہوتی ہے لہذا کسی ایک زبان کی تدوینی مواد مختلف مؤلّفین کے ہاں ایک جیسے ہوسکتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو زبان کے ذخائر اور ادب کے وسیلوں کو ایک طرح سے رسائی حاصل ہو تی ہے۔
شمالی پاکستان میں معدومی کے خطرے سے نبردازما (Endangered) زبانوں کی تحقیق پر کام 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں تیزی سے شروع ہوا۔ اس تحقیقی کام کی بنیاد پر ان زبانوں کی احیاء کی سرگرمیوں میں تیزی 2000ء کے بعد اگئی۔ مقامی لوگوں کی اپنی زبانوں کے بارے فکرمندی بڑھ گئی اور انہوں نے انفرادی اور تنظیمی شکل میں اپنی زبانوں کی بقاء پر کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس کام کو دو دیہائوں سے بھی کم عرصہ ہوا۔ اس دوران ان زبانوں کے بولنے والوں نے مختلف بین الاقوامی تنظیموں اور ماہرین کی مدد سے اپنی زبانوں کی تدوین، ترویج اور فروغ پر کام شروع کیا۔ ان زبانوں کے لیے تحریر کے نظام وضع کیے گئے جو کہ ذیادہ تر عربی رسم الخط کی بنیاد پر بنائے گئے۔
ان زبانوں میں تحریر کے یہ نظام اب بھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور ان میں وقت کے ساتھ ارتقاء فطری اور ضروری ہے۔ تحریر کے ان نظاموں میں کئی کوتاہیاں ہوسکتی ہیں جو کہ ناگزیر بھی ہیں لیکن یہ کمیاں وقت کے ساتھ ساتھ ان زبانوں کی خواندگی میں وسعت اور استعمال سے کم ہوتی جائیں گی۔
شمالی پاکستان میں زبانوں کی اکثریت ہند آریائی زبانوں کی”داردی“ (Dardic) گروہ سے تعلق رکھتی ہے۔ اس گروہ کی زبانوں میں کئی مخصوص آواذیں ایک جیسی ہیں۔ اسی طرح ان زبانوں کی پڑوسی زبانوں مثلاً بروشسکی اور وخی میں بھی اس طرح کی مخصوص آواذیں پائی جاتی ہیں۔ ایک خواہیش کہ جہاں ان زبانوں میں ایک جیسی مخصوص آواذیں پائی جاتی ہوں ان کے لیے سب زبانوں میں ایک طرح کی علامات/حروف ہوتے تو باہمی تفہیم تیز ہوتی اور یوں ان زبانوں کے بولنے والوں میں پہلے سے موجود کثیر لسانیت (multilingualism) کوتحریری طور پر بھی فروغ ملتا اور ساتھ ان لوگوں میں ہم اہنگی مزید بڑھ جاتی۔ لیکن چونکہ تنوع بھی اہم ہوتا ہے اس لیے جن لوگوں نے اپنی زبانوں کی مخصوص آواذوں کے لیے مختلف علامات وضع کی ہیں تو ان پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا البتہ ایسی کسی کوشش کی استدعا کی جاسکتی ہے۔
زبانوں کے لیے وضع کردہ تحریر کا نظام ہمہ وقت ارتقاء پذیر ہونا چاہے۔ شمالی پاکستان میں ان زبانوں کے لیے تحریر کے یہ نظام نئے ہیں لہذا ان میں مسلسل بہتری انی چاہے لیکن تحریر کے نظام کو وضع کرتے وقت یا اس کو ترقی دیتے وقت ہمیں مذکورہ بالا چار اصولوں یعنی زبان میں سیکھنے کی صلاحیت اور آسانی (Learnability)، حرفی تحریری نظام (Alphabetical writing)، قبولیت (Acceptability) اور شفافیت (Transparency) کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...