اکرام اللہ: حسابِ سود و زیاں سے بے نیاز ایک نابغہ ادیب

274

’’عزیزی میمن صاحب! میں کتاب پر مصنف کی تصویر چھپوانے کے حق میں نہیں ہوں، مشہور ادیبوں کے تاثرات سرِدست میسر نہیں ہیں اور میں ایسی تحریریں محفوظ نہیں رکھتا۔‘‘

اکرام اللہ صاحب نے عمر میمن مرحوم کو مندرجہ بالا جواب اس وقت دیا جب میمن صاحب نے انہیں بتایا کہ پینگوئن، ماڈرن کلاسکس کتابی سلسلے میں ان کے دو ناولٹ “پشیمانی”  اور ” آنکھ اوجھل” کے انگریزی تراجم چھاپ رہا ہے۔ جس کے لیے ان کی تصویر اور ان کے فن سے متعلق مشہور ادیبوں کی آرا درکار ہیں۔

ایسی بے نیازی اور استغنا صرف اسی فن کار کو نصیب ہوتا ہے جس کا بھیتر سیراب ہو۔ اندر سے خالی اور باہر سےجعلی، ادیب نما لکھاری تو بے جا غرور کے سرُور ہی سے باہر نہیں نکل پاتے اور ناحق تکبر و گھمنڈ کی پَنڈ سر پر اٹھائے پھرتے ہیں۔ اور اپنی “عظمت” کی فرمائشی گواہیاں بھی خود فریفتگی کے جزدانوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں۔ اکرام اللہ جیسے بڑے ادیبوں کا فن ہی ان کا تعارف، ان کی تخلیق ان کا حوالہ، اسلوب پہچان اور ان کا نقطہء نظر ان کی شناخت ہوتا ہے۔ تحسین و تنقید سے بے نیاز ایسے قلندروں کے دم ہی سے خانقاہِ ادب میں علم و عرفان کے چراغ جلتے ہیں۔

اکرام اللہ کا شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنھوں نے نہ صرف فکشن پر امکانات کے نئے در وا کیے بل کہ اپنے فکروفن کی پختگی اور غیر جانب دارانہ طرزِ سخن سے اردو ادب کو اعتبار بھی بخشا۔ انہوں نے اپنے آپ کو کسی تحریک یا ازم سے منسلک نہیں کیا ، محض اپنی فنی بصیرت، وسعتِ مطالعہ ،عمیق مشاہدے اور متنوع تجربات کے ذریعہ اپنے فن کی شناخت کروائی اور ادب کو تخلیقی اظہار کی نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔

وہ ایک کامل ادیب ہیں۔ ان کے پاس بھانت بھانت کے کردار ہیں۔ دل چسپ، اچھوتے اور انوکھے واقعات سے افسانہ بُننے کی غیر معمولی صلاحیت ہے، پُر تاثیر زبان اور عمدہ بیان ہے۔ اپنے گاڑھے افسانوی مواد، جزئیات اور تفصیلات کے فن کارانہ استعمال اور حقیقت پسندانہ تکنیک سے وہ ذہین سے ذہین قاری کا اعتبار حاصل کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ ان کا رویہ صحافتی یا مکتبی نہیں، تخلیقی اور جمالیاتی ہے۔ منشیانہ تصنیف و تدوین کی کوشش کا کہیں نام و نشان تک نہیں۔ اکرام اللہ کے افسانے بہ ظاہر بہت سادہ ہیں لیکن ان کے رگ و ریشے میں ایک انتہائی نکتہ سنج ذہن کی فکر، لہو بن کر دوڑتی ہے۔ ان کے افسانوی مجموعے،ناولٹ اور ناول اس دعوے کی حقانیت کی زندہ دلیلیں ہیں۔

بڑے ادیب کے پانوں اپنی زمین میں پیوست ہوتے ہیں۔ وہ اپنے گردوپیش کی فضاؤں کو اپنے حواس میں جذب کرتا ہے۔ کچے اور خام کار ادیبوں کی طرح اس کا وجود فضا میں معلق نہیں ہوتا۔ اکرام اللہ بھی اپنے سماج کی تہذیبی، نفسیاتی، اخلاقی اور مذہبی فضاؤں میں جینے والے آدمی ہیں۔ انہیں نہ صرف اپنی دھرتی کی رہتل اور معاشرت کا گہرا شعور ہے بل کہ ان سے جنمتے انسانی رویوں اور نفسیاتی ردِ عمل کا بھی کامل ادراک ہے۔ وہ اس گیان کا بیان آرٹ کی زبان سے کرتے ہیں اور اپنے تخیل کی لطافت کو صحافت کی کثافت سے بچا کر رکھتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں دھرتی کے رنگ ہی نہیں انسانی نفسیات اور اس کے المیوں کے انگ بھی نمایاں ہیں۔ اکرام اللہ کے فکشن کے موضوعات کا تنوع اور اس کی جہات ان کے زرخیز ذہن کی سوغات ہیں۔ “اُتّم چند” کا موضوع احساسِ کمتری اور جنسی گھٹن ہے۔ ” احتیاج” جنسی آگہی اور ” ایک دوپہر” مخصوص حالات میں بدلتے انسانی رویوں اور طور طریقوں کا بیان ہے۔ ” پُل اور نقلی چوکیدار انسانی تعلقات اور رشتوں ناتوں کی بے معنویت کا نوحہ ہے تو “جنگل” فرد کی تنہائی کا مرثیہ. ” سب راتوں جیسی رات میں” اکرام اللہ نے انسانی فطرت کے اندھیروں کا سراغ لگایا ہے تو “ماتا رانی” میں اسطور کو انسانی رویوں کی تفہیم کا ابلاغ بنایا ہے۔ ” ایک انوکھا” متحیر کرنے والا منظر ہے تو ” گرگِ شب” حساس دل میں اترتا ہوا خنجر۔ نفسانفسی، خود غرضی، لاتعلقی، رشتوں کی تقدیس کی بے وقعتی، پیار، نفرت اور دشمنی کے مختلف رنگ، نفسیات، رہتل اور جنس کے نئے نئے انگ، اجتماعی اور انفرادی سطح پر انسان کی تنہائی اور زات کے سفر میں شعور اور لاشعور کا کردار۔ غرض، زات سے کائینات تک کتنے ہی موضوع ہیں جو اکرام اللہ کے تخیل کی دھنک پہنے قاری کے ذہن پر اترتے ہیں اور اس کے شعور میں رنگینیاں بکھیر دیتے ہیں۔

منظر نگاری اکرام اللہ کے فن کا بڑا نمایاں وصف ہے۔ وہ ماحول اور موقع کی ایسی عکاسی کرتے ہیں کہ ہر جملے پر فصاحت اور بلاغت نثار ہوتی ہے، لفظ لفظ نظارے کی تصویر کھینچتا ہے۔ ان کے ایک ناولٹ ” کتنا پانی” میں ریلوے پلیٹ فارم کا یہ منظر ملاحظہ کیجئے:

” پلیٹ فارموں پر لوہے کی دھواں لگی سیاہ چادریں تھیں۔ آہنی پلوں کے ذریعے آپس میں ملائے گئے ان کھلے کھلے بہت سے پلیٹ فارموں پر بیک وقت چھ چھ قرمزی ڈبوں والی گاڑیاں دھواں اگلتے کالے بھجنگ انجنوں سے جُتی، نئی منزلوں کی کھوج میں نکلنے کے لیے تیار کھڑی ہوتیں۔ گو کہ وہاں میلوں کا سا بھیڑ بھڑکا نظر آتا ہے لیکن میلوں میں تو اس قدر افراتفری، بد نظمی اور گرتے پڑتے مسافروں کا نظارہ نہیں ہوتا۔ وہاں پر ایک طرف سے پنجاب میں بسنے والے مختلف مذہبی، معاشی اور سماجی گروہوں کے رہن سہن کی زندہ نمائش منعقد ہو رہی ہوتی۔ پگڑیوں والے، ڈانگیں سنبھالے، ایک دائرے میں بیٹھے، حقہ پیتے، اداس اداس اور لاہور کی ہما ہمی سے خوفزدہ کسان۔ سرخ رومی ٹوپیوں کے سیاہ پھندنے جھلاتے بے فکرے شہری مسلمان۔ سفید لانگڑی دھوتیوں میں موٹے موٹے سیٹھ۔ پتلونوں والے نوجوان، رنگین پگڑیوں اور کرپانوں والے سکھ۔ ہونٹو میں سگریٹ دبائے، سر پر ہیٹ لگائے، ایک اعتماد سے مٹکتے پھرتے اینگلو انڈین، سیدھی آسمان سے اتری ہوئی، سنہری بالوں والی مغرور میںمیں، کوہِ وقار بنے صاحب بہادران۔ ٹخنوں تک لمبے ٹوپی والے برقعوں میں بند گرتی پڑتی مسلمان عورتیں۔ ساڑھیوں میں بدن سنبھالتی ہندو عورتیں۔ رفع حاجت کرتے بچے، دھوتی پونچھتی مائیں۔ غراتے ہوئے بھنگی۔ آزادی سے تھوکتے پھرتے لوگ، چیختے چلاتے خوانچہ فروش۔ سرخ قمیضوں اور سرخ پگڑیوں والے، سامان تلے ہانپتے قلی۔ نیلی وردیوں میں ایک شان بے نیازی سے خراماں خراماں چلتا پھرتا ریلوے کا نچلا عملہ۔ یہ سب آپس میں یوں خلط ملط ہو رہے ہوتے جیسے ریلوے اسٹیشن کوئی بہت بڑی بَڑبَڑ ابلتی ہوئی دیگ ہو جس میں کوئی یہ سب اجزا ڈال کر، ایک بڑے کفگیر سے خوب زور زور سے ہلاتے ہوئے ان کا حلیم پکا رہا ہو، لیکن اس کے ذائقے کی ذمہ داری کسی کی نہ ہو۔”

ان کے ناولٹ ” آنکھ اوجھل” کی پہلی پانچ سطور دیکھیے:

” ماہ اگست کی ایک دوپہر تھی۔ سورج بارش سے دھلے آسمان کے وسط میں ٹِکا دنیا کو اپنی جلالی آنکھ جھپکے بغیر ایک تار دیکھے جا رہا تھا۔ سلطان پور قصبے کا بڑا بازار اس وقت تک بے رونق ہوتے ہوتے بالکل سنسان ہو چکا تھا۔ بازار کے درمیان میں بے سدھ پڑی کالی سیاہ سڑک پسینے میں شرابور ہوئی اور زیادہ کالی ہو گئی تھی۔ دکان دار دروازوں پر بانسوں کے سہارے سڑک تک پھیلائے ہوئے سائبانوں کے پیچھے دکانوں میں اندھیرا کیے گم صم بیٹھے تھے۔”

ان کے افسانے “ماتا رانی” کا یہ منظر بھی دیکھئے:

” پھیلا ہوا وسیع جوہڑ گاؤں کے باہر باہر بنے ہوئے کچے نیچے مکانوں سے پرے ہٹ کر گاؤں کی پوری لمبائی کے ساتھ ساتھ جو ایک کلو میٹر کے قریب ہوگی ہلکی سی قوس بناتا دوڑتا چلا گیا تھا۔ چھوٹے چھوٹے جگنوؤں جیسے پیلے پھول کیکر کے درختوں کی لمبی قطار سے برس برس کر جوہڑ کے کنارے پہ ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔ سیاہ کھردری کھال سے ڈھپنے بڑے بڑے تنوں والے کیکر برسات کے زمانے کے پرنم ہوا چاٹ چاٹ کر چمک دار سیاہ رنگ کے ہو رہے تھے اور جلتی ہوئی دھوپ ان میں سے ایک بوجھل سگندھ کشید کر رہی تھی جو پھولوں کی دھیمی مہک کے ساتھ مل کر گرم اور حبس زدہ ماحول میں کسی ٹھوس چیز کی طرح اٹکی کھڑی تھی۔” ( ماتا رانی)

اکرام اللہ کے افسانے ” اُتّم چند” کا یہ منظر بھی دیکھیں:

اتم چند اپنے گھٹنوں پر کہنیاں رکھیں دور تک پھیلے ہوئے ہرے بھرے کھیتوں اور ادھر اُدھر لگے ہوئے درختوں کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا جو آہستہ آہستہ چکر کھاتے اور پھر پیچھے رہ جاتے۔ کھمبوں اور تاروں پر بیٹھی ہوئی گہرے کاسنی رنگ کی اِکّا دُکّا چڑیاں اپنی سفیدی مائل گردن کو زرا گھماتیں، دُم کو ایک دو مرتبہ زور سے اوپر نیچے کرتیں اور پھر چائیں چائیں کرتے ہوتی ہوئیں کھیتوں کی طرف اُڑ جستیں۔ اتنے میں اسے دفعتاً نیلی نیلی دھند میں لپٹا ہوا دُور اپنا گاؤں دکھائی پڑا۔ آج اس نے اپنے گاؤں کو ایک نئے روپ میں دیکھا۔ چپ چپ کھڑا بہت تنہا لیکن مطمئن سا دکھائی دیتا۔ اتم نے سوچا اس خاموش اور ساکت گاؤں کی گلیوں میں بچے دھینگا مشتی اور گالم گلوچ کر رہے ہوں گے۔ جوگندر اور بخشیش کھیتوں کو روٹی لے کے وقت جاتی ہوئی الھڑ چندر ناروں سے ہنسی مخول کر رہے ہوں گے اور کبھی جو کسی بڑی بوڑھی سے سامنا ہو جاتا ہوگا تو بھیگی بلی کی طرح مسکین بن جاتے ہوں گے۔ اسی گاؤں کے ایک چھوٹے سے کچے گھر کے صحن میں اس کی ماں اور بہن بیٹھی ہوں گی۔ شاید بہن کپڑے دھو رہی ہو اور ماں گائے کے لئے دانا بھگو رہی ہو۔ شدت جذبات سے سانس اس کے سینے میں اٹک سی گئی۔ گاؤں دور تک چکر کھاتا گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگا جیسے اتم کے ساتھ جانے پر تُلا ہوا ہو، پھر لائن کے ساتھ لگے ہوئے آموں کے گھنے باغوں کے پیچھے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھپ گیا، اتم کی اداسی اور بھی گہری ہو گئی۔”

فکشن کے بنیادی مطالبوں میں سے ایک، زبان و بیان پر قدرت بھی ہے کہ فنی تجربے کے اظہار کا یہ واحد زریعہ ہے۔ لطیف سے لطیف احساس بھی کثیف زبان کے گدلے پانی میں پڑا رہے تو زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ تخیل کا پنچھی آسمان کی بلندیوں تک اڑان بھرنا چاہتا ہے لیکن زبان کے پر کٹے ہوں تو زمین ہی پر پھڑپھڑاتا رہتا ہے۔ لیکن اکرام اللہ ان خوش نصیب ادیبوں میں سے ہیں جن کے احساس کے پاس شبدوں کا لباس ہے۔ ان پر لفظوں کی صوتی کاینات کے نہفتہ راز آشکار ہیں۔ وہ صاف ستھری، بامعنی اور پر تاثیر زبان لکھتے ہیں۔ اکرام اللہ کے بلند تخیل کا تیر، عمدہ بیان کی کمان سے نکلتا ہے اور سیدھا قاری کے دل میں اتر جاتا ہے۔ وہ اپنے خیال کی آواز کو لفظوں کا ایسا ساز عطا کرتے ہیں کہ فن کی فضاؤں میں دل نواز نغمے بکھر جاتے ہیں۔ ان کے ناول ” گرگِ شب” میں ایک اِنسسٹ کے احساس کا بیان دیکھئے:

” اے شہر! ایک بار انگڑائی لے کر اٹھ اور اپنے آپ کو اپنے ہی ہنگاموں میں لپیٹ لے۔ تجھے مردہ دیکھ کر مجھے وحشت ہوتی ہے۔ موت اور خاموشی چاہے کتنی سچی ہیں، ان کے سچ کو ایک بار اپنے جھوٹ سے جھٹلا دے۔ تیرے شور و غوغا اور ہاؤ کے سامنے دِلوں میں پھیلے ہوئے غم سمٹ کر ایک نقطے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس میں ہر وقت ایک ہلکی سی ٹیس، ایک ہلکی سی جلن ابھرتی تو رہتی ہے لیکن جب زیادہ سر اٹھانے تو اس کو دبایا بھی جا سکتا ہے۔ ہم ہر وقت ایک دوسرے کی ہڈیاں نوچنے کی فکر میں رہیں تو اچھا ہے نہیں تو ہم اپنے آپ کو کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ تنہائی میں یوں سمجھئے کہ ہماری اپنی زات ہمارے لیے ایک دیوانے کتے کی صحبت کے مترادف ہوتی ہے جو ہر لمحہ اچھل اچھل کر ہم پر لپکتا ہے اور ہم بچاؤ کی ترکیبیں تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ہم جب تک دیوانے کتے کے احساس کو بھلائے رکھیں اچھا ہے۔ ہمیں اپنے ساتھ ہوتے ہوئے کبھی اپنے ساتھ ہونے کا احساس نہیں ہونا چاہئے۔ زندہ رہنے کے باوجود اپنے آپ سے خوف کھاتے ہوئے ہمیشہ اپنے آپ سے چھپے رہنا چاہیے۔ زندگی تو زندہ ہونے کے احساس کو ختم کرنے کی ایک مستقل کوشش ہے۔ انسانوں کی بستی کو ایک سچ زیب دیتا ہے کہ ان کی زندگی کا انحصار جھوٹ پر ہے۔”

” لے گئی پون اڑا” کا یہ بیان بھی ملاحظہ ہو:

” کناروں پر سکون سے کھڑے کھمبے سڑک کو غور سے تکتے ہوئے یکساں قسم کی روشنی ہے در پے پھیلائے جا رہے ہیں۔ روشنی کا یہ سیلاب سڑک کو منور کر کے پھر کہاں چلا جاتا ہے جو دوسری قسط بھیجنی لازم ہو جاتی ہے؟ سڑک کو روشن رکھنے کے لئے اجالے کا ایک تانتا باندھ دینا پڑتا ہے جونہی منبع نئی روشنی بھیجنی بند کر دے تو اندھیرا چھا جاتا ہے۔ استعمال شدہ روشنی کا کچھ بقایا نہیں بچتا ؟ سڑک روشنی منعکس کرتی ہے۔ کچھ فضا میں چلی جاتی ہے کچھ میری آنکھوں تک پہنچتی ہے جس سے مجھے سڑک سجھائی دیتی ہے۔ وہ کرنیں جو سڑک کا عکس مجھ تک پہنچاتی ہیں پھر کہاں چلی جاتی ہیں؟ میری آنکھوں میں گھس کے مر جاتی ہیں؟ تو گویا میری آنکھیں روشنی کا مدفن ہیں؟ ننھی کرنیں جنہیں سڑک فضا میں منعکس کر دیتی ہے وہ اندھیروں سے الجھتی اپنی راہیں بناتیں آگے چلتی رہتی ہیں۔ لیکن اندھیرے ۔۔۔۔۔۔ اندھیرے تو بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ بچاریاں آخر تھک ہار کر اندھیروں کے تاریک سینوں میں دم توڑ دیتی ہیں۔ میں تو سمجھتا تھا کہ اجالا لافانی ہے۔ یہ تو میری طرح کمزور، مضمحل اور مٹ جانے والا ہے۔ تو صرف اندھیرا اور موت امر ہیں۔”

” پل اور نقلی چوکیدار” انسان کی ازلی تنہائی کا یہ نوحہ بھی سنیے:

” کتنی عجیب بات ہے ہے کہ زندگی میں پہلی بار ہم کسی بات پر متفق تو ہوئے ہیں۔ افوہ میں کتنا تنہا ہوں۔ اتنا تنہا کہ میرے کانوں میں خاموشیاں شائیں شائیں کرتی ہیں۔ ہم اتنے تنہا کیوں نہ ہوں؟ ہم ایک دوسرے سے قطعی اجنبی کیوں نہ رہیں؟ جب کہ ہماری روحیں اور ہمارے جسم آپس میں اجنبی ہیں اور ایک دوسرے سے قطعی الگ الگ ہیں۔ ان کی ابتدا مختلف، ان کی انتہا مختلف، ہم سب ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں۔ ہم سب کیوں اپنے اپنے مٹکے نہیں اٹھا لیتے۔ اور کچھ نہیں تو کم از کم تنہائی کی چبھن تو زرا کند ہو جاتی ہے۔ آؤ ہم الگ الگ ہو جائیں۔ اگرچہ ہم دونوں کو اپنی بقایا عمروں کے لئے ایک ایک بازوسے محروم ہونا پڑے گا۔ لیکن قیمت کچھ ایسی زیادہ نہیں, زور لگاؤ۔”

سبک رفتار قاری اکرام اللہ کے فن سے عدل نہیں کر سکتا۔ ٹھیر ٹھیر کر غور سے پڑھنے والا ہی اس کے گنجینہء معنی کو دریافت کرسکتا ہے۔ ان کا افسانہ نفسیاتی گہرائی، فنی پہلوداری اور معنوی ابعاد کا حامل ہے جس کی ہر نئی قرآت حیرت، معنویت اور مسرت کے نئے جہان آشکار کرتی ہے۔

اکرام اللہ نے سہل زرائع سے اپنا دامن بچا کر مضبوط فنی اقدار پر اپنے فکشن کی بنیاد رکھی ہے۔ اردو کا نقاد انہیں کما حقہ دریافت نہیں کر پایا جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اکرام اللہ کی فنکارانہ عظمت جن نفسیاتی، تخلیقی، تخیلی اور فلسفیانہ عناصر سے متشکل ہوئی ہے ان کا تنقیدی شعور عام نہیں ہے۔ ان کے آرٹ کی معنوی اور تخیلی جہتوں کی گرہیں شاید نقادوں سے کُھل نہیں سکیں۔ ان کا فن جس بصیرت، اجتہاد اور ژرف نگاہی کا تقاضہ کرتا ہے، ہماری تنقید شاید اس کا مظاہرہ کرنے سے عمداً گریزاں ہے۔ ہمارے نقادوں کو اردو فکشن کے گنگو تیلیوں کو راجہ بھوج ثابت کرنے کی جہدِ رائیگاں سے فرصت ملے تو ان کا دھیان اس گوہرِ نایاب پر بھی پڑے۔ لیکن اکرام اللہ کہیں بھی شکائتیں یا فریادیں کرتے نظر نہیں آتے کہ ان کی صحیح معنوں میں قدر نہیں ہوئی۔ اور نہ ہی ان کے ہاں تعلی اور بڑبولے پن کا چلن ملتا ہے جو آج کے کئی پروموٹڈ، ” ایوارڈ یافتہ” ادیب نما حضرات کا ٹریڈ مارک ہے جو ہمہ وقت اپنی حاشیہ آرائی میں مصروف ہیں۔ ایوارڈ یافتہ سے ہدایت یافتہ ہونا بہ ہر حال بہتر ہے۔

کہانی کے ماحول اور کرداروں کے پس منظر سے مربوط اور فطری آہنگ کی سان پر چڑھے مکالمے اکرام اللہ کے فکشن کی وہ صفت ہے جو ان کے فن کو مزید اعتبار بخشتی ہے۔ ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح آب دار، معنی خیز، روزمرہ گفتگو اور حقیقت پسندی سے مملو مکالمے ان کی تحریروں کے زربفت پر موتی اور سلمہ ستارے کی طرح چمکتے ہیں:

” ہائے ہائے’ ساری عمر یہی کڑوا دھواں اور یہی بےبس آنکھیں ہونی ہیں۔ ابھی سے کیوں دکھ بھوگتی ہو۔”

“چاچی! ہم گڈی کے بیاہ پر بھت پکا رہی ہیں۔”

” مرو پکاؤ’ کسی کے کہے سے آج تک کوئی باز آیا ہے۔ جو میرے کہے سے تم باز آؤ گی۔” ( ماتا رانی)

” محتاج” کا اندھا بھکاری، بخشو اپنے کاسے میں سکہ گرنے کی آواز سنتا ہے۔ نُوراں نامی کردار سے اس کا مکالمہ ملاحظ ہو :

” کیوں ری! بتا تو سہی کیا تھا۔”

” دس پیسے تھے اور تیرا سر تھا۔”

” اچھا دس ہی پیسے تھے، آواز تو چونّی کی طرح سبک تھی۔”

” چونّی والے زمانے گئے۔ آج کل تو کوئی دس ہی پیسے دے دے تو بہت ہیں۔”

” احتیاج” میں بھینسیں چَرانے والے گانمن اور شرماں کا مکالمہ دیکھیے:

” اُلو کی پٹھی، حرامزادی، سُور کی بچی”

” تُو اُلو ک پٹھا، حرامزادہ، سُور کا بچہ”

” تُو اب میری بھینسوں کے گوبر کو ہاتھ لگا کے دیکھنا جو ہاتھ توڑ نہ دئیے تو کہنا”

” میں تیری بھینسوں کے گوبر پر تُھوکتی بھی نہیں۔ میری ٹوکری تو ان تین بھینسوں کے گوبر سے بھر جاتی ہے۔ تُو رکھ ان کے گوبر کو سنبھال کے۔”

” تُو اپنی بھینس یہاں سے پرے لے جا کر چَرا۔”

” کیوں لے جاؤں پرے، تجھے تکلیف ہے تو اپنی بھینس ہانک کر دوسری جگہ لے جا۔”

” کیوں بکواس کئے جاتی ہے۔”

” تُو کیوں بکواس کئے جاتا ہے۔”

اسی افسانے کے یہ مکالمے بھی ملاحظہ ہوں:

” تمہاری بھینس آس سے ہوگی؟”

” ہاں”

” کب سے”

” کل لگوائی تھی”

” یہ پھر بھی جایا کرتی ہیں، تمہاری بھینس تو ویسے بھی بوڑھی ہے، کسی سیانے کو دکھا لینا۔”

” ہاں! ماں کہتی تھی دو مہینے بعد چاچے جھنڈے کو دکھائیں گے۔”

” کہاں سے لگوائی تھی”

” نتھو تیلی کے ہاں سے”

” اس کا سنڈا برا زبردست ہے۔ کون گیا تھا لے کر۔”

” ماں گئی تھی”

” تم ساتھ نہیں گئی تھیں”

” ماں نے کہیں کام سے جانا تھا اس لیے بعد میں مجھے بلوایا تھا۔”

” تمہارے سامنے لگی تھی۔”

” ہاں”

” تمہاری بھینس تو بہت کمزور اور دُبلی ہے، اس نے اتنا بوجھ کیسے سنبھالا ہوگا۔”

شرماں آنکھیں نیچی کئے خموش بیٹھی روٹی سے کھیلتی رہی۔ گانمن نے نَروں کی صنف کا رعب اور بڑھانے کے لئے کہا ” بے چاری کی ٹانگیں لڑکھڑا گئی ہوں گی۔ اس کا تو دم نکال دیا ہوگا اس نے۔۔۔۔۔ خیر پھل اچھا دے گی۔”

اکرام اللہ کا ذہن فکشن کے حقائق اور شاعری کی تجریدیت کے درمیان جھولتا نظر نہیں آتا۔ وہ ایک کہنہ مشق فن کار کی طرح ان دونوں کو ایک کیمیاوی مرکب میں بدل کر پیش کرتے ہیں۔ وہ اپنی فکر کو شاعرانہ سریت میں گم نہیں ہونے دیتے بل کہ اپنے علم و فضل کو افسانوی مواد کا حصہ بناتے ہیں۔ مجال ہے جو ان کے افسانے اور ناول پر انشائیے یا مکتبی فلسفے کا سایہ تک بھی پڑتا ہو۔ واقعہ نگاری، فضا بندی، جزئیات کے بیان، پس منظر اور مکالمے سب کے ساتھ ان کا رویہ فکشن نگار کا ہے، مضمون نگار یا انشائیہ نویس کا نہیں۔ اور آرٹ کا ڈسپلن ایسا کہ ان کی خیال آرائی میں بھی مرکزی کہانی سے گریز نہیں ملتا۔

اردو کے اس نابغہ روزگار ادیب کے فن اور اس کے فکشن کی شعریات کا بیان ایک مضمون کی زبان سے نہیں ہوسکتا۔ اکرام اللہ کے فن کی ہر جہت ایک علاحدہ کتاب کی متقاضی ہے۔ یہ تحریر محض ایک حقیر مضمون نگار کا ایک عظیم فکشن نگار کو خراجِ تحسین ہے، اور کچھ بھی نہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...