مذہب قومی شناخت کی تشکیل کی بجائے تقسیم پیدا کرتا ہے

خالد احمد

158

فرانسس فوکویاما معروف امریکی ماہر سیاسیات لکھتے ہیں کہ کوئی ریاست اس وقت مضبوط قرار پاتی ہےجب اس کے باشندے قومی شناخت حاصل کرلیتے ہیں۔ تاہم مذہب اجتماعی شناخت کے حصول کے مرحلے میں کوئی معاونت نہیں کرتا ۔ اگر مسلم دنیا کا جائزہ لیا جائے تو تشکیل ِ قوم کے مرحلے کے دوران مذہب کی جانب سے یہ رستہ دھندلا کئے جانے کی مثالیں نظرآتی  ہیں۔ تاہم اکثر سیاسی رہنما اس امرپہ زور دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ مذہب کی مدد سے قومیت کے تصور کو متنوع آبادی میں راسخ کیا جاسکتا ہے۔اگر بھارت نے یہ مشاہد ہ کیا ہوتا کہ مذہب نے پاکستان کو کس طرح قومی شناخت سے محروم کردیا ہے تو اس نے مذہب کی صلاحیت کے متعلق مختلف اندازہ لگایا ہوتا۔

پاکستان نےتصور کیا تھا کہ وہ ’’ایک قومی زبان ‘‘ کو اپنا کر ’’ایک‘‘ بن سکتا ہے لیکن جب اردو کو قومی زبان کے لئے پیش کیا گیا تو مشرقی پاکستان کے لوگ جوکہ اپنی بنگالی زبان کی میراث پہ ناز کرتے تھے ، اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ قومی شناخت کے حصول کی بجائے لوگ تقسیم کا شکار ہوگئے اور بالآخر 1971میں جدا ہوگئے ۔

1949 میں پاکستان نے ایک اسلامی ریاست بننے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنے لوگوں کو ایک قومی شناخت دے سکے جس کے سبب وہ ایک دوسرے میں مدغم ہوں اور ریاست کو تقویت ملے۔ اس کے فوری بعد یہ ہوا کہ اس کی غیر مسلم برادریوں کو اپنا آپ ’’غیر‘‘ لگنے لگا۔  1951 کی مردم شماری کے دوران پاکستان کی حدود میں رہنے والے 25 فیصد لوگ غیر مسلم تھے۔ تاہم 1996کی  مردم شماری کے دوران یہ تعداد گھٹ کر محض 3اعشاریہ 6فیصد رہ گئی تھی۔ ایک ’’قومی شناخت‘‘ کے حصول کی بجائے پاکستانی مقتدر طبقے نے اپنے ہی ملک میں ایسی پالیسیاں اختیار کیں کہ اپنی سرزمین کو غیر مسلموں سے تقریباََ پاک کرلیا۔

فوکویاما کی رائے میں ایک ریاست کو جو چیز تقویت دیتی ہے وہ اس کی مضبوط قومی شناخت ہے۔ مگر وہ مذہب نہیں ہے جوکہ اس شناخت کی تشکیل کرے بلکہ دراصل وہ اس کو تباہ کرتا ہے۔عالمی نشریاتی اداروں کے مطابق پاکستان میں اقلیتی ہندو یا مسیحی یا تو نقل مکانی کرگئے ہیں یا انہیں امتیازی سماجی رویوں کا سامنا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کے مسلمان جوکہ بظاہر ملک کی اکثریت ہیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ کسی سانجھی قومی شناخت میں پیار محبت سے جڑے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان جو کہ امر قومی شناخت کے یکسر مخالف ہے وہ شیعہ سنی دشمنی ہے۔ پاکستان کی شیعہ آبادی ، جوکہ ایک تحقیق کے مطابق  ملک کی مجموعی آبادی کا لگ بھگ 10 سے 15فیصدہے، اس کے غم و غصے میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے کیونکہ ان کے مطابق مذہب کی تنگ نظر تشریحات نے انہیں قومی زندگی میں ایک جانب دھکیل دیا ہے۔ وہ  یہ سمجھتے ہیں کہ ان سُنی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں قتل ہورہے ہیں جنہیں پاکستانی اشرافیہ  ہمسایہ ممالک میں جنگوں کے لئے پروان چڑھاتی رہی ہے۔

سخت گیر مذہبی شناخت نے کسی قومی شناخت کی تشکیل کی بجائے مختلف  مذہبی  تشریحات کے قائل لوگوں کو عمومی مذہبی  شناخت سے بھی محروم کردیا ہے۔پاکستان میں  آئینی طور پر احمدیوں کو ریاستی قومیت سے خارج کیا گیا ہے۔ وہ پاکستان میں مسلمان نہیں ہیں۔ اگرچہ وہ بھارت میں داخل ہوتے ہی مسلم سمجھے جاتے ہیں کیونکہ وہاں ان کے ارتداد کا کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا۔ پاکستان میں ممکنہ طور پر کچھ دیگر برادریاں بھی ارتداد کے خوف کا شکار ہیں مثال کے طور پر آغا خانی اسماعیلی اور بوہرہ برادریاں، جو کہ ان مذہبی عسکریت پسندوں کا شکار بن سکتی ہیں جو خود کو ریاستی شناخت کی تشکیل کے لئے مضبوط فیصلہ ساز سمجھتے ہیں۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ پاکستان ایک سُنی ریاست ہے جہاں صرف سُنی امن سے رہ سکتے ہیں ؟بدقسمتی سے سُنیوں کے درمیان بریلوی اور دیوبندی کی تقسیم ہے جوکہ ایک دوسرے کے سخت خلاف ہوسکتی ہے۔ اور ایک اور گروہ وہابی اہل حدیث کا ہے جسے اگر موقع ملے تو وہ ان دونوں کومذہبی تشریحات سے  خارج قراردیدے۔

کوئٹہ اور گلگت بلتستان کے شیعوں کے معاملے میں یہ ہے کہ پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی کے فروغ کے سبب انہیں اگر بقا کے لئے نہیں تو کم ازکم امداد کے لئے ضرور ایران کی جانب دیکھنا پڑرہا ہے۔ افغان طالبان شوریٰ جسےمحققین کی ایک رائے کے مطابق  پاکستان نے کوئٹہ میں پناہ دی تھی اور دولت اسلامیہ ، ہزارہ شیعوں کو قتل کرتی رہی  ہے۔پاکستان میں اس سے زیادہ کچھ تکلیف دہ نہیں ہوگا کہ پنجاب جتنی دوری سے بلوچستان میں ہزارہ شیعہ مسلمانوں کا اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں قتل عام دیکھا جائے۔

اگر مذہب ایک مستقل قومی شناخت مہیا نہیں کرسکتا تو ایک ریاست کو اپنی بقا کے لئے کیا کرنا چاہیئے ؟عرب بہار کی تباہ کاریوں سے پہلے کے مشرق وسطیٰ کی طرف  دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ صرف مطلق العنانیت ہی مذہب کو ریاستی امور سے ایک محفوظ فاصلے پہ رکھ سکتی ہے۔ مصر میں جمہوریت کے تصور کے منظر عام پہ آنے سےپہلے مذہب ایک مستحکم صورت میں تھااسی لئے مذہب پسندوں نے یہ خیال کیا کہ جمہوریت کو ایک موقع دینا چاہیئے۔ لیکن جب سخت گیر اخوان المسلمون نے وہاں انتخاب جیتا تو مصر کی تقسیم شروع ہونے لگی ۔ فوج پردباوبڑھا کہ وہ آگے بڑھ کر اقتدار پر قبضہ کرے اور ملک میں بسنے والے قطبی مسیحیوں کے لئے سماج تنگ نہ ہونے دے۔

آج مطلق العنانیت کا شکار خلیجی عرب ممالک مستحکم ہیں جبکہ جمہوری عرب دنیا تیونس ، عراق، لیبیااور شام اپنے ہی ہاتھوں تباہی کا شکار ہیں۔ مطلق العنان عرب آمروں نے اپنے اپنے ممالک کو مستحکم رکھا ہوا ہے اور وہ خطے میں دیگر شاہی خاندانوں کے لئےزیادہ  خطرہ نہیں  بنتے  ۔عرب بہار کی ناکامی بلکہ خون آشامی کے بعد عرب  بادشاہوں نےخطے کی  آمریتوں کی مدد کی کہ وہ خطے میں استحکام کو برقرار رکھیں ۔جبکہ دیگر ممالک مثلاََ تیل کی دولت سے مالامال عراق اور متنوع النسل شام ، میں رہنا خطرناک بن چکا ہے کیونکہ وہاں کوئی قومی شناخت موجود نہیں ہے۔ ایران میں جہاں مذہبی ملائیت کی مطلق العنان حکومت باوجود بیرونی خطرات کے اپنا وجود باقی رکھےہوئے ہے ،وہاں امن قائم رکھنے کے لئے جمہوری اپوزیشن کو ریاستی جبر کے ذریعے مٹایاگیا ہے۔

مستحکم ریاستیں بہت سی قومی شناختیں رکھتی ہیں مگر یہ مذہب نہیں ہے جو قومی شناخت کو تقویت دے ۔ پاکستان کی مانند، ترکی بھی بلاواسطہ سیکولر آمریت کو مٹا کر  مذہب پسندی کی جانب مائل ہے  اور وہاں موجود اقلیتیں اس کی تپش محسوس کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لیبیا میں انیسویں صدی کے عرب ترک تنازع کے احیا ءمیں بھی کردار نبھا رہا ہے جہاں اس کے دشمن امتحدہ عرب امارات اور مصر ایک آمریت کے نفاذ کی کوششیں کررہے ہیں تاکہ وہ اسے ’’جمہوریت‘‘ سے ’’محفوظ‘‘ رکھ سکیں یعنی اسے خود ساختہ تباہی کی جانب جانے نہ دیں۔

فوکویاما لکھتے ہیں: ’’موجودہ زمانے میں ، تنوع  چاہے وہ نسل کی بنیادپر، قومیت کی بنیاد پر، مذہب کی بنیاد پر، صنف  کی بنیاد پریا  جنسی رویوں کی بنیاد پر  ہو ، زندگی کی حقیقت اور ایک قدر کے طور موجود سچائی ہے۔ بہت سی وجوہات کی بنا پر یہ سماجوں کے لئے بہت مفید ہے۔  مختلف افکار سے آگہی تخلیقیت، جدت اور کاروبار کے نت نئے خیالات  کی کامیابی کا باعث بنتی ہے۔ تنوع مفادات کے حصول کا پرجوش ذریعہ ہوسکتا ہے۔

 

بشکریہ : دی انڈین ایکسپریس

مترجم : شوذب عسکری

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...