النہضہ ! ایک مثالی تبدیلی

465
تبدیلی ایک مستقل اور ناگزیر رجحان ہے۔علامہ اقبال مرحوم نے کہا تھا
 “سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں”
  ہر تہذیب کوعظمت و شہرت کی منزل پر پہنچنے کے بعد زوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس سلسلے میں مسلم تہذیب کو بھی استثناء حاصل نہیں، قومی ریاستوں کے آغاز کے ساتھ ہی مسلمانوں کا اتحاد ٹکڑوں میں بکھر گیا ، جس نے مسلم دنیا کی حالت کو مزید خراب کردیا۔ مایوسی اور کشمکش کے اس مرحلے میں ، کچھ اصلاح پسند پیدا ہوئے جنھوں نے مسلمانوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ان ہی میں سے ایک نام راشد الغنوشی کا ہے۔
غنوشی تیونس کے ایک سیاسی کارکن اور النہضہ تحریک کے بانی ہیں۔ غنوشی نے دمشق اور فرانس کی سوبورن  یونیورسٹی سے فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔انہوں نے تعمیر امن اور جمہوریت  کے لیے اپنا کردار ادا کیا اور اس سلسلہ میں اعزازات بھی حاصل کیے۔ان کی کاوشوں سے تیونس میں جمہوریت کو فروغ ملا۔ ابتداء میں اخوان المسلمون کے نظریہ سے متاثر ہوکر انہوں نے نظریہ اسلام کے مطابق Islamic Tendency Movement (آئی ٹی ایم) کی بنیاد رکھی۔ آئی ٹی ایم پرتیونس کے اس وقت کے صدر حبیب بورگوئبا نے پابندی عائد کی اور راشد الغنوشی کو چار سال قید کی سزا دی گئی۔
 غنوشی پر حکومت کے خلاف سازش کرنے اور تیونس میں خمینی طرز کے انقلاب کی کوششوں میں ملوث  ہونے کا الزام عائد کیا  گیا۔ انہیں ،ان کےاسلام پسند حامیوں سمیت سخت مشقت کی سزا سنائی گئی۔ نومبر 1987 میں ، زین العابدین بن علی نے بورگوئبا حکومت کا خاتمہ کردیا۔ مئی 1988 میں ، بن علی نے غنوشی اور تقریبا تین ہزار دیگر اسلام پسندوں کو معاف اور آزاد کر دیا۔ اس دوران ، غنوشی القاعدہ اور دیگر اسلامی تحریکوں سے متاثر ہوئے۔
1989 کے انتخابی عمل سے قبل ، آئی ٹی ایم کو النہضہ کا نام دیا گیا اور وہ 17 فیصد ووٹ حاصل کرکے ملک کی دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ یہ ایک بار پھر غنوشی کے لئے ایک امتحان تھا،کیونکہ ان کی انتخابی کامیابی کے پیش نظر بن علی نے النہضہ پر پابندی عائد کردی اور غنوشی کو 22 سال جلا وطنی کی زندگی گزارنا پڑی۔ جلاوطنی کے بعد جب غنوشی واپس آئے تو ان کے خیالات میں بہت زیادہ تبدیلی آ چکی تھی۔
جنوری 2011 میں ، بن علی کو ایک مقبول بغاوت ، جسے “انقلاب یاسمین”Jasmine revolution کا نام دیا گیا، نے اقتدار سے بے د خل کر دیا۔ احتجاج اور بن علی کے ملک بدر ہونے نے مصر ، یمن ، لیبیا اور شام میں بغاوتوں کے ایک سلسلہ کو جنم دیا ، جسےعرب بہار کے نام سے جانا جاتا ہے (جوکہ عرب خزاں کی شکل اختیار کرگیا), تیونس کاانقلاب ان تمام بغاوتوں میں ایک ایسا انقلاب سمجھا جاتا ہے جس نے ایک آمر حکومت کی جگہ ایک مستحکم جمہوری حکومت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
غنوشی نے اپنی پارٹی کو پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے پوزیشن دی لیکن وہ خود کسی عہدہ  کے لیےنہیں لڑ سکے۔ النہضہ نے ملک کے ووٹوں کی اکثریت حاصل کی اور وہ تعلیم ، خواتین کے حقوق اور مذہبی آزادی کو بہتر بنانے کے لئے انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے پرعزم رہے۔ غنوشی کے سیاسی افکار میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی ، جس نے النہضہ کو  اورتیونس کے سیاسی منظر نامے کو مکمل طور پر تبدیل کردیا۔
اپنے ایک انٹرویو میں غنوشی نے اپنے اس نظریے کو مسترد کردیا کہ ، ’’ اسلام کا، جمہوریت کے ساتھ کوئی تضاد نہیں تھا‘‘۔ انہوں نے سیاسی اسلام کے اس نظریہ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ ، یہ سیکولرائزیشن کے لیےنفرت پر مبنی رد عمل ہے۔النہضہ نے ایک ایسا آئین تیار کیا جو اسلامسٹ کے مطابق نہیں تھا۔ نتیجتا ، اسلام پسندوں کی طرف سے تنقید کی گئی۔ غنوشی نے کہا کہ مذہب اور ریاست ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، اور یہ کہ مسجد کو  نماز اور لوگوں میں اتحاد کے فروغ کے لئے ہونا  چاہئے۔
اپنے ایک انٹرویو میں ، انہوں نے اس بات پر زور دیا  کہ‘ لوگوں کو اسلام کی فہم میں اصلاح کی ضرورت ہے۔  تیونس کی سیاست کو سیکولر بنانے سے بہت ساری چیزوں میں تبدیلی آئی۔ مذہبی آزادی ، خواتین کے حقوق کا تحفظ ، اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر پزیرائی ملی۔ وہ  اب  استحکام کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کے سیاسی نقطہ نظر کی وجہ سے طاقت کی منتقلی اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ مذہب اور ریاست کی اختلاط سے بچاو جیسے اقدامات    نے تیونس کی سیاست کےمنظرنامےکو بدل کر رکھ  دیا ہے۔
النہضہ کو پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کے لئے ایک ماڈل ہونا چاہئے۔ جمہوریت کے بارے میں صحیح معلومات اور فہم کی کمی کے سبب ، پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں نے جمہوریت ، جمہوری اقدار اور  جمہوری نظریات کو پورے دل سے قبول نہیں کیا ۔ انہیں  پرتشدد رویوں پر   مبنی وقتی سیاست سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے،  جیسے کسی مندر یا چرچ کی تعمیر کے خلاف احتجاج کرنا۔ دوسرے لفظوں میں ، سیاست کی اصلاح و ترقی کی طرف توجہ دی جانی چاہئے۔پاکستانی مذہبی جماعتوں کو اب اپنے دساتیر سمیت طرز عمل، اور عملی جدوجہد کو تبدیل کرنا پڑیگا!  مثال کے طور پر ، جمہوری عمل میں خواتین کی فعال شرکت ، مذہبی آزادی ، معاشرتی ہم آہنگی ، انسانی حقوق ،شفاف انتخابات، صحت و تعلیم، سستا انصاف،  اور پائیدار ترقیاتی اہداف SDGs کے حوالے سے ایک مثبت اور معروضی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ ملیشیا ، انڈونیشیا اور خاص طور پر تیونس جیسے مسلم جمہوریہ کے اثر انگیز طرز سیاست و حکومت کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ خوشحال اور پرامن مستقبل کے لئے مسلم اکثریتی ممالک میں جہاں جمہوریت رائج ہے، پاکستان جیسے ممالک کو ان سے انسپائریشن لے کر جمہوریت کے صحیح راستے پر گامزن ہونا بہت ضروری ہے

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...