پاکستان میں تشدد پسندی کا بدلتا ہوا منظرنامہ

156

کچھ ایسےاقدامات ہیں جو ممکنہ طور پر حالیہ دنوں میں بڑھنے والی متشدد دہشتگردانہ کاروائیوں کی وضاحت کرسکتے ہیں۔

حالیہ کچھ دنوں میں ہونےوالے واقعات ایسے ہیں کہ جن کے سبب پاکستان میں تشدد پسندی کا منظرنامہ خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔  تحریک طالبان پاکستان سے علیحدہ ہوجانے والے دو متحارب گروہوں نے ایک بار پھر اس تنظیم سے اتحاد کرلیا ہے۔ خطے میں سرگرم نام نہاد دولت اسلامیہ نے اپنے نئے سربراہ کا اعلان کیا ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں برسرپیکار قوم پرست عناصر ایک بار پھر سندھ میں سرگرم ہوئے ہیں۔ امکانی طور پر بلوچ اور سندھی قوم پرستوں میں کوئی اتحاد ہوتا ہوا نظرآرہا ہے۔ دریں اثناء حکومت کی جانب سے متشدد تنظیموں پر پابندیاں لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ سال 2020 کے دوران پانچ تنظیموں کو کالعدم قرارد یا جاچکا ہے۔

یہ تمام واقعات ملک میں بڑھتی ہوئی متشدد دہشتگردی کے واقعات کی بھی کسی طور وضاحت کرتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دہشتگرد عناصر اپنی ان کاروائیوں کو مسلسل جاری رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔

پچھلے چند سالوں میں خاص طور پر سال 2015 کے بعد پاکستان میں سرگرم متشدد گروہوں کے لئے اپنی دہشتگرد کاروائیوں کی منصوبہ بندی اور انجام دہی مشکل ہوچکی ہے۔ یہ اندازہ ہوجانے کے بعد کہ آپسی گروہ بندیاں دہشتگردی کی عملی کاروائیوں  کے لئے مشکلات کا باعث ہیں پاکستانی طالبان کے علیحدہ ہونے والے گروہ دوبارہ سے اپنے داخلی اختلافات ختم کرکے  متحد ہورہے ہیں۔

مفتی نور ولی محسود کی قیادت میں تحریک طالبان پاکستان کے القاعدہ اور افغان طالبان سے گہرے تعلقات ہیں تاہم اس کا مطمع نظر صرف پاکستان کے اندر “جہاد” کا قیام ہے۔  اس گروہ نے بظاہر اپنے آپ سے جدا ہونے والے دو گروہوں حزب الاحرار اور جماعت الاحرار اور چند دیگر ناراض کمانڈرز کو اپنے ساتھ اتحاد پر رضامند کرلیا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے اپنے آپ کو پاکستان کے پس منظر میں ایک اہل گروہ ثابت کیا ہے جبکہ اس کے جد اہونے والے گروہ حزب الاحرار اور جماعت الاحرار اپنی داخلی سطحوں ، تنظیمی صلاحیتوں اور آپریشنل اہلیت  میں ناکامیوں کا شکار ہوئے ہیں ۔

ولی محسود نے بظاہر اس اتحاد کو اس طرح تیزی سے انجام دیا ہے کہ وہ تحریک طالبان کے ناراض عناصر کو واپس تنظیمی چھتری تلے جمع کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس پیش رفت کے پاکستان کی داخلی سلامتی پر اثرات ہوں گے۔ ایک تو یہ ، کہ اس کے نتیجے میں تحریک طالبان کےوہ عناصر جو افغانستان میں روپوش ہیں وہ سرحد عبور کرکے اپنی تنظیم  میں شامل ہونے کے لئے پاکستان میں آنا چاہیں گے۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کام کرنے والے”یو این انالیٹیکل اینڈ سینکشن مانیٹرنگ ٹیم” نے اپنے اعداد وشمار میں کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے اندازاََ 6000 لڑاکے افغانستان میں روپوش ہیں۔ اگر تحریک طالبان پاکستان اپنے زیر اثر تمام افرادی قوت کو یکجا کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اس کی تعداد 10000 سے زائد ہوسکتی ہے جو کہ  پاکستان کی داخلی سلامتی کے لئے ایک پریشان کن منظر نامہ ثابت ہوگا۔

اقوام متحدہ کے اسی ادارے کے مطابق دولت اسلامیہ خراسان کے پاس اندازاََ2200 لڑاکے ہیں جو کہ مشرقی افغانستان میں موجود ہیں۔ اس کے نئے سربراہ شہاب المہاجر کی قومیت تاحال متنازع ہے جبکہ زیادہ تر بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اسے عراقی بیان کیا ہے تاہم زیادہ تر ماہرین اس خیال سےمتفق نہیں ہیں۔ اس کی قومیت کچھ بھی ہو، یہ حقیقت ہےکہ حالیہ کچھ عرصے میں دولت اسلامیہ خراسان نے افغانستان میں بہت سا خون بہایا ہے اور یہ خیال کیا جارہا ہے کہ المہاجر کو اس تنظیم کی باگ ڈور اس لئے دی گئی ہے کہ وہ اس کو خطے میں سرگرم کرے۔ پاکستان اس حالیہ اقدام کو نظر انداز نہیں کرسکتا ۔تاہم اس کے امکانات بہت کم ہیں کہ دولت اسلامیہ اور تحریک طالبان کے مابین کوئی اتحاد ہوگا کیونکہ دونوں کے مسلکی اور نظریاتی مقاصد بہت حد تک مختلف ہیں کیونکہ تحریک طالبان پاکستان نظریاتی طور پر القاعدہ سے متاثر ہے۔ اگرچہ یواین کے اس ادارے نے اپنی رپورٹ میں دولت اسلامیہ خراسان اور تحریک طالبان پاکستان کو ایک ہی سکے کے دو رخ کہا ہے تاہم اس دعویٰ کے فوری بعد تحریک طالبان پاکستان نے اس کو مسترد کرتے ہوئے دولت اسلامیہ خراسان کو پاکستان اور امریکہ کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔

150 تا 200 کے لگ بھگ ارکان کے ساتھ القاعدہ برصغیر بھی خطے میں موجود ہے۔ یہ تمام گروہ اس قدر طاقتور ہیں کہ پاکستان میں  دہشتگردی کی کاروائیوں کے لئے اپنی تنظیمی صلاحیتیں بڑھا سکیں مگر اب ان کے لئے حالات پہلے کی طرح مکمل سازگار نہیں جب یہ پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقے میں مضبوطی سے  موجود تھے۔

تحریک طالبان پاکستان کی تنظیم نو پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے کچھ اضلاع میں دہشتگرد کاروائیوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے کیونکہ اس تنظیم نے پہلے ہی ان علاقوں میں اپنا ایک نیٹ ورک بنا رکھا ہے۔ باجوڑ میں گزشتہ مہینے دہشتگردی کے چار واقعات ہوئے۔ باجوڑ سرحد پر افغانستان کے نورستان اور کنڑ صوبے سے ملحقہ ہے جہاں پر تحریک طالبان پاکستان  ، القاعدہ برصغیر اور دولت اسلامیہ خراسان کے وہ عناصر چھپے ہوئے ہیں جن کے آبائی تعلق باجوڑ، خیبر اور اورکزئی کے اضلاع سے ہیں۔ شمالی وزیرستان اور اس کے ملحقہ علاقوں میں تشدد پسندی کا منظر نامہ تبدیل ہورہا ہے۔اس کی وجہ سے پاکستانی سلامتی پر مامور اداروں کے اہلکاروں پر حملے بڑھ رہے ہیں اور پاکستان مخالف لڑاکے اس علاقے میں اپنی موجودگی کو بڑھا رہے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کا داخلی اتحاد اور دولت اسلامیہ خراسان میں زور پکڑتی ہوئی عسکری صلاحیتیں پاکستان میں واقع کرم، ہنگو اور اورکزئی کے اضلاع میں فرقہ واریت کو بھی ہوا دے سکتے ہیں۔  فرقہ وارانہ عسکریت پسند کراچی میں بھی سرگرم ہورہے ہیں جہاں فرقہ وارانہ تشدد ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے۔ ریاست اور ریاستی اداروں کو ملک میں انتہاء پسندی اور عسکریت پسندی میں بڑھتے ہوئے اضافے پر مزید باخبر ہونا ہوگا۔

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے مزید 5 تنظیموں کو کالعدم قرار دیا ہے۔ ان میں سے 3 صوبہ سندھ میں سرگرم قوم پرست گروہ ہیں جنہوں نے حالیہ چند سالوں میں دہشتگرد نوعیت کی ریاست مخالف کاروائیاں سرانجام دی ہیں ۔ ایک ضلع کرم میں متحرک شیعہ گروہ ہے جس کے متعلق یہ کہا گیا ہے وہ شام میں برسرپیکار شیعہ لڑاکوں کے گروہ  زینبیون کے لئے پاکستان سے بھرتی کرنے میں ملوث ہےجبکہ آخری گروہ غازی فورس ہے جو کہ سال 2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد آپریشن کے بعد بنایا گیا تھا جس کےبعد ملک میں خود کش حملوں کی ایک طویل لہر آئی تھی۔یہ اطلاعات ہیں کہ موخر الذکر گروہ ایک بار پھر منظم ہورہا ہے اس لئے قومی سلامتی کے اداروں کو اس خطرے کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔

کالعدم گروہوں کی فہرست میں ان 5 گروہوں کی شمولیت کے بعد ملک میں کالعدم تنظیموں کی تعداد 78 ہوگئی ہے۔ اس کے لئے علاوہ 6 تنظیمیں ایسی ہیں جو نگرانی کی فہرست میں شامل ہیں جو کہ یو این سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں ہیں۔ تاہم اس فہرست پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ نام بدل کے کام کرنے والی تنظیموں کی نشاندہی ہوسکے۔ بہت سی تنظیمیں  کالعدم ہوجانے کے بعد نئے ناموں کے ساتھ سرگرم ہیں ۔ تنظیمی گروہ بندیاں /دھڑے بندیاں متشدد تنظیموں میں ایک عمومی رویہ ہے۔ جیسا کہ ٹی ٹی پی۔ جو کہ اب 4 گروہوں کو اپنی تنظیمی چھتری تلے لے آئی ہے۔  ان عوامل کو دیکھا جائے تو ملک میں کالعدم تنظیمیں 56 ہیں  جس میں 6 بین الاقوامی نوعیت کی تنظیمیں ہیں مثلاََ، القاعدہ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اوردولت اسلامیہ۔ پاک ترک انٹرنیشنل ایجوکیشن  فاؤنڈیشن کو بھی دہشتگرد قراردیا گیا ہے جس کے ظاہری عوامل سیاسی ہیں۔ ان 56 میں سے 42 تنظیمیں مذہبی نوعیت کی ہیں جبکہ 14 کی نوعیت متشدد طرز کی قوم پرستی ہے۔ ان 56 میں سے بھی عملی طور پر سرگرم تنظیموں کی تعداد 30 سے زیادہ نہیں ہے۔

یہ قابل فہم ہے کہ تمام متشدد تنظیموں کی فہرست سازی داخلی سطح کی قانونی کاروائی اور عالمی معاہدوں کی پابندی کے لئے لازم ہے خاص طور پر جبکہ یواین سیکورٹی کونسل کی قراردادیں موجود ہوں ۔ لیکن قومی سلامتی کے اداروں کو چاہیئے کہ ان متشدد عناصرکا ایک جامع ڈیٹا بیس ترتیب  دیں جس میں عملی طور پر سرگرم عناصر اور ان کی بدلتی ہوئی حرکیات پہ خاص توجہ مرکوز ہو۔

بشکریہ : روزنامہ ڈان

مترجم: شوذب عسکری

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...