برگد کے نیچے پھول

261

پاکستانی سیاست کولگے فکری سمجھوتوں کے کینسر سے لڑتے ہوئے ، میر حاصل خان بزنجو نے ہمیشہ حوصلوں کو بڑھایا لیکن جسمانی کینسر نے ان کی فانی زندگی مختصر کر دی۔ نال (خضدار) کی مٹی کی خوشبو بن جانے کے بعد بھی میر حاصل خان بزنجو کی ہمت اور جرات اہل سیاست کو وہ راہ دکھاتی رہے گی جس میں میں جہد مسلسل بھی ہے، مکالمہ کی لچک بھی ہے اور اصولوں کی پاسداری بھی۔ وفاقیت کی لڑی میں پروئی ہوئی اکائیاں بھی ہیں اور ان کے حقوق کی بھرپور وکالت بھی،سمجھوتوں کے نگر میں محروموں اور مظلوموں کے لیے بھرپور آواز بھی۔

میرحاصل خان بزنجو!بابائے مذاکرات اور 1973ء کے دستور کی تشکیل میں منفرد کردار ادا کرنے والے معتبر سیاستدان میرغوث بخش بزنجو کے صاحبزادے تھے ۔ تاہم ان کی سیاسی زندگی اس بات کی گواہی ہے کہ انہوں نے کبھی وراثت کی سیاست نہیں کی۔بلکہ میراث کی سیاست کی ۔  وفاقیت کی میراث ، دستور پاکستان کے ذریعہ بلوچستان کے حقوق کی سیاست، ملک بھر کے مظلوموں اور مجبوروں کی آواز۔ کہتے ہیں برگد  کے نیچے کچھ نہیں اگتا، لیکن میر حاصل خان بزنجو نے اپنی سیاسی جدوجہد،مقام اور مرتبہ سے ثابت کیا کہ برگد کے نیچے گلابوں کی مہک پیدا ہوسکتی ہے۔ بلوچستان کی سرداری نظام سے عبارت سیاست کے خارزار اس میں عام آدمی کی کامیاب سیاست کر کے دکھائی۔

طلبہ سیاست کی فکری یادوں سے ہٹ کر ، میری میرحاصل خان بزنجو سے دوستی اس وقت شروع ہوئی جب وہ پہلی بارکن اسمبلی بن کر90 کی دہائی میں اسلام آباد آئے اور میں روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ سے وابستہ تھا۔ اس وقت اراکین اسمبلی گورنمنٹ ہاسٹل (ایم این اے ہاسٹل) میں رہتے تھے اور پکے مکانوں کے پھیلتے ہوئےگاؤں (اسلام آباد) میں زینوں اور صوفی ریسٹورنٹ میلوڈی مارکیٹ میں پسندیدہ ترین ہوتے تھے۔ میری خوش قسمتی کہ میرا دفتر ان کے درمیان تھا۔ ملاقاتیں، بحثیں، مشترکہ حکمت عملی کے لیے تجاویز، یہ سفر پھر عمر بھر جاری رہا۔ آخری ملاقات آج بھی نہیں بھولتی۔ مارکس،لینن،ہوچی من اورچی گویرا کی تصویر کے نیچے بیٹھے میر خان بزنجونے سینٹ میں عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے ”ممکنہ دھوکہ ” دینے والوں کے بارے میں اطلاعات ملنے پرفقط اتنا ہی کہا کہ ”اگر سیاستدان ہی جمہوریت کے گورکن بننے پر آمادہ ہیں توہم کیا کریں ہم تو اپنا اصولی موقف نہیں چھوڑسکتے،”

میری ذاتی یادوں کی فہرست طویل ہے ۔ میر صاحب جب ڈی ویلیوئشن کمیٹی کی چیئرمین بنے تو سینٹررضا ربانی صاحب کی قیادت میں وفاقیت کی راہوں پر پھیلائے گئے اسپیڈ بریکر ہٹانے کی اکٹھے کوشش کی۔  حسن اتفاق دیکھئے میر حاصل خان بزنجو جس دن وفاقی وزیر بنے اسی دن میں نے پاکستان انسٹیٹیوٹ برائے پارلیمانی خدمات جوائن کیا ۔ اس روزہمیں لنچ پر ملنا تھا  میرے دفتر والوں نے کہا میر صاحب کی تو آج حلف برداری ہے حلف  کے بعد ہماری ملاقات ہوئی تو میر صاحب نے کہا ہم دونوں کونوکری ایک ہی دن ملی ہے ۔ ذاتی یادیں امانت ہوتی ہیں اور میرے پاس ان کا ذ خیرہ ہے۔ شکریہ میر حاصل خان بزنجو صاحب اگرچہ آپ نے جانے میں کچھ جلدی کر دی۔ منقسم سماج جس پر زور آوروں کے گہرے سائے بھی ہوں وہاں معتدل سیاست ایک کٹھن کام ہے لیکن میر حاصل خان بزنجو نے یہ کر کے دکھایا اور کبھی کسی مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہوئے۔ بلوچستان کے تلخ حالات  میں ناراض بلوچوں سے ڈایئلاگ کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر اسحاق بلوچ ،ڈاکٹر قیصر بنگالی نے صوبے کی ترقی کا خاکہ بنایا اور ڈایئلاگ پر مقتدر قوتوں کو آمادہ کرنا اور اس بارے میں عملی پیش رفت ان کی قیادت میں ان کے کامریڈوں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ، سینیٹرمیر کبیر شاہی اور دیگر نے کر کے بھی دکھائی  لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ طاقتورادارے بھی فیصلہ کر کے  ان کو عملی جامہ پہنانے سےگریزاں رہتے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے بلوچستان کا حقوق دلانے کا فیصلہ بھی ایک بڑا فیصلہ تھا۔ اس پر عمل درآمد نہ کر کے مسائل کی نئی کھیپ سامنے آرہی ہے۔  میر حاصل خان بزنجو قلم کی طاقت، کتاب کی اہمیت ،افکار کے نمو کے لیے گفتگو اور مکالمہ کے قائل تھے۔ ان کی ترقی پسند سوچ آج بھی مستقبل کی راہیں سمجھاتی ہیے۔ آزادی موہوم کو  بامعنی بنانے کی جدوجہد میں میر حاصل خان بزنجو ہمیشہ ایک ترغیب کا حوالہ بن کرزندہ رہیں گے ۔شکریہ میر حاصل خان بزنجو! آپ نے ہماری قومی سیاسی زندگی میں جو رنگ بھرے اور جو راستے دکھائے لیکن میر حاصل خان بزنجو کے دوستو! چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...