پارلیمانی یا صدارتی: پاکستان میں کون سا نظام بہتر ہے؟

364

آزادی کے 73سالوں کے بعد بھی پاکستان میں یہ بحث جاری ہے کہ ملک کے لئے پارلیمانی نظام موزوں ہے یا صدارتی نظام مناسب ہے۔بحث و مباحثہ تو بری بات نہیں لیکن جب یہ باتیں مقتدر حلقوں کی جانب سے آتی ہیں تو اپنی تمام تر خامیوں کے ساتھ اچھا خاصا چلتا اور رینگتا نظام تھم سا جاتا ہے، بے یقینی بڑھ جاتی ہے اور مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ پہلی یا آخری بار نہیں ہو رہا ہے اس سوال کو تاریخ میں کئی بار الجھایا اور سلجھایا گیاہے۔

اگرچہ میں ذاتی طور پر پارلیمانی نظام کو پاکستان کی کثیر القومی ہفت رنگی کے تناظر میں اہم سمجھتا ہوں تاہم یہ کہنا بجا نہ ہوگا کہ صدارتی یا پارلیمانی نظام،وفاقی یا وحدانی نظام مملکت کو اپنے حقائق،کلچر اور عوام کو رجحانات کے مطابق منظم کرنے کے اسلوب ہیں اور قوم جو بھی راستہ چنے اس پر پورے عزم اور خلوص کے ساتھ سفر کرے تبھی منزلوں کے سراغ ملیں گے۔ روز روز کی اکھاڑ بچھاڑ سے سفر دائروں میں بے معنی اچھل کود بن کر رہ جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے پارلیمانی نظام کا انتخاب کیوں کیا؟بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اپنی سیاسی زندگی میں 39 سال ایسے اداروں کے ممبر رہے۔بر صغیر میں پہلا پرائیویٹ ممبر بل بھی انہی کا تھا،اگرچہ نظام نو آبادیاتی تھا تاہم انھوں نے عوام کی تعلیم،صحت اور تحفظ کے حوالے سے حقوق پر معرکتہ الآراء تقاریر کیں جب رولٹ ایکٹ جیسا ظالمانہ قانون آیا تو بطور احتجاج استعفیٰ بھی دیا۔قیام پاکستان ہوا تو قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان دستور ساز اسمبلی کے پہلے صدر منتخب ہوئے اور آپ نے متعدد اجلاسوں کی صدارت فرمائی اور 11 اگست 1947 ء کی تاریخی تقریر میں پارلیمنٹ کو مقتدر ادارہ کہا۔اس تصور کی نفی ایگزیکٹو کی ایماء پر مولوی تمیزالدین کیس میں ہوئی اس کے بعد تاریخ بھی گواہ ہے کہ ایوب خان جمہوریت کو گرم دماغ خطہ کے لئے ناموزوں جبکہ مار ملت محترمہ فاطمہ جناح ، جن کی تربیت قائد اعظم نے کی تھی ، پارلیمانی نظام کی وکالت کرتی رہیں۔1973 ء کے دستور کی بنیاد پہ بننے والے دستوری معاہدے میں بھی یہی طے پایا کہ پاکستان وفاقی،پارلیمانی جمہوریت ہوگا۔ نظام کی یہ بحث دوبارہ ضیاالحق کے دور میں انصاری کمیشن رپورٹ نے چھیڑی لیکن نیم صدارتی نظام اور اسمبلیاں توڑنے والی شقیں (b(2)58)اہل سیاست نے موقع ملتے ہی ختم کردیں۔ گویا تمام سیاسی قوتوں کا اجماع ہے کہ یہاں پارلیمانی جمہوریت ہی ہوگی۔ الیکشن 2018 ء میں صدارتی نظام کا نعرہ لگا کر جسٹس افتخا ر محمد چوہدری کی جماعت نے حصہ لیا اور فقط 5 ہزار ووٹ پورے ملک  سے لئے ۔اگرعوام کی تائید کا عالم تو یہ ہے پھر بھی نجانے یہ آوازیں بار بار کیوں اٹھائی جاتی ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ پاکستان نے اپنی قومی زندگی کا زیادہ حصہ گورنر جنرل،صدارتی یا ہائبرڈ (صدارتی) نظام کے تحت گذارا ہے۔ 1947 سے لے کر 1956 تک صدارتی نظام کے 14 سال اور 1977 سے لے کر 1985ء تک ایک بار پھر صدارتی اقتدار، 1985 کے بعد سیاسی بندوبست میں ضیاالحق کے نیچے محمد خان جونیجو اور پرویز مشرف کے نیچے ظفراللہ خان جمالی اور شوکت عزیز کے ایک دہائی پر محیط تجربات ہیں۔ نیز ہماری قومی زندگی میں 29 فی صد وقت تو ایسا تھا کہ پارلیمنٹ اور وزیراعظم کے عہدے کا وجود تک نہ تھا۔پھر مسئلہ کیا ہے؟ ہماری سیاست کو گملے میں اگے سیاستدانوں نے تباہ و برباد کردیا ہے۔ الیکشن سے قبل مقتدروں کی تائید و حمایت کے ایسے مظاہر نظر آتے ہیں کہ ہجوم کا اختیار فقط ووٹ دینے تک محدود ہو چکا ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ سیاسی جماعتیں کمزور، خاندانی اور عوام سے کٹا ہو ا کمزار ادارہ بن چکی ہیں۔کسی سیاسی جماعت کا باقاعدہ دفتر تک نہیں ہے۔

پاکستان کی کل پارلیمانی آبادی 1195 (342 ایم این اے،104 سینیٹرز،371پنجاب کے ایم پی اے،168 سندھ کے ممبران،147 خیبر پختونخواہ کے ممبران اور 65 بلوچستان اسمبلی کے ارکان) پارلیمنٹیرین پر مشتمل ہے اور ملک کا چپہ چپہ نمائندگی اور آواز رکھتا ہے۔جبکہ صدر مملکت تو کسی ایک علاقے سے ہی ہو سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے حلقے کا الیکشن قانون میں طے شدہ خرچ کی حد 40 لاکھ برائے ایم این اے،20 لاکھ ایم پی اے اور 15 لاکھ برائے سینیٹر سے کہیں زیادہ خرچ کر کے لڑا جاتا ہے اور براہ راست صدارتی الیکشن تو 272 قومی اسمبلی کے حلقوں کے برابر علاقے پر لڑا جائے گا یعنی 1088 ملین روپے تو قانونی طور پر مہم کے لئے جائز ہوں گے ۔اتنی بڑی مہم ذاتی جہازوں پر ہی چلائی جا سکتی ہے۔

یہ شراکتی نظام قطعا نہیں ہوگا کہا جاتا ہے کہ کوئی الیکٹورل کالج بنالیں گے یہ تجربہ بھی 60 کی دہائی میں ہو چکا اس وقت تو ہماری آبادی 4کروڑ کے لگ بھگ تھی اور یہ نظام سب کی توقعات  پہ پورا نہیں اتر سکتا تھا آج تو ہم 23 کروڑ ہیں جس میں سے 112 ملین باقاعدہ ووٹر رجسٹرد ہیں۔ کیا ہم اتنی بڑی سیاسی بیگانگی برداشت کر سکیں گے؟ماضی میں صدارتی ریفرینڈم ایک امیدوار ہی کے ہوتے تھے اور جلسے جلوس بھی اکثر بلدیاتی ادارے ہی کروا دیتے تھے اگر ہم اوپن مقابلے کے صدارتی انتخاب کی طرف گئے تو یہ دولت کے سیاسی اظہار کی بھونڈی اولمپکس ہو گی۔اگر صدارتی نظام میں پارلیمانی اداروں کا کردار دیکھیں تو امریکہ کا طاقتور صدر بھی اس وقت تک ایک پائی بھی خرچ نہیں کر سکتا جب تک کہ کانگریس بجٹ منظور نہ کر دے۔کئی بار وہاں حکومت شٹ ڈاؤن  بھی ہوئی۔نیز کیا ہم ریگولر بیورو کریسی،سفیر،مشیر رکھ سکیں گے یا پھر پارلیمانی اداروں میں سب نامزدگیوں پر باقاعدہ سماعت ہوگی جیسا کہ خالص صدارتی نظام میں چیک اینڈ بیلنس کی خاطر ہوتا ہے۔ یا پھر ہم یہاں بھی کسی نا خالص صدارتی نظام کی بات کر رہے ہیں۔

میرے خیال میں پاکستان کے عوام کی دانش پر اعتماد کا وقت آگیا ہے۔ اسے پارلیمانی نظام کے ساتھ ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہو گا۔ تاہم اس نظام میں سیاسی جماعتوں کو جمہوری بننا ہو گا۔ الیکشن ایکٹ 2017 ء نے کم از کم دو چار اصلاحات کرائیں کہ یہ 5 فی صد ٹکٹ خواتین کو دیں گے، پار ٹی کے قیام کے لئے کم ازاکم 2000 اراکین کی شرط ہے،ان کی فنڈنگ کے حوالے سے رپورٹنگ بھی اہم ہے۔یہ تو ویسے بھی ضروری ہے کیونکہ ملک کی سیاسی دولت کا 28 فی صد (60 خواتین، 10 اقلیتیں ایم این اے،104 سینیٹر،132 خواتین ایم پی اے، اور 24 اقلیتی ایم پی اے) پارٹی لسٹوں اور ووٹوں پر ایوانوں میں آتے ہیں۔اپنے پارلیمانی نظام میں بہتری کے لئے ہم جرمنی کے نظام سے سیکھ سکتے ہیں جہاں براہ راست حلقوں کے ساتھ ساتھ آپ اپنی پسند کی سیاسی جماعت کو بھی باقاعدہ ووٹ دیتے ہیں اور پھر اس بنیا د ہر کئی ٹیکنو کریٹ اور کم وسائل والے طبقات ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں جو کہ حلقوں کی سیاست میں مہارتوں کی رہ جانے والی کمی کو پورا کر دیتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم پاکستان کو آئے رو ز سیاسی نظاموں کی تجربہ گاہ بنائے رکھنے کی بجائے اپنے نظام کو موقع دیں اور جہاں جہاں اسکی خامیاں نظر آئیں ان میں اصلاحات کریں کیونکہ کہتے ہیں کہ جمہوریت کی کمزوریوں کا علاج مزید جمہوریت میں ہے نہ کہ نت نئے تجربات ۔

ظفراللہ خان،کنوینیئرپارلیمانی ریسرچ گرو پ ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...