خالد جاوید کا ناول ” موت کی کتاب”: ایذا رسانی کی کتاب

525

خالد جاوید کا ناول” موت کی کتاب” پڑھ کر امریکی ادیب سٹیفن کنگ کا یہ قول شدت سے یاد آتا ہے:
” بری تحریر، زبان و کلام کی خرابی اور مشاہدے کے عیوب ہی سے پیدا نہیں ہوتی؛ بری تحریر، عموماً ایسی کہانیاں سنانے سے کڑے انکار کا نتیجہ ہوتی ہے، جن میں اس زندگی کا تزکرہ ہو جو لوگ حقیقت میں گزارتے ہیں۔
بہ قول شمس الرحمن فاروقی صاحب: “یہ کوئی آسان کتاب نہیں ہے۔ اس کتاب کو برداشت کرنے کے لئے ہمیں ادب اور افسانے کے کئی مروجہ تصورات کو پسِ پشت ڈالنا ہوگا۔”
فاروقی صاحب کی پہلی بات سے تو اتفاق کرنا پڑے گا کہ یہ کوئی آسان کتاب نہیں ہے۔ واقعی یہ ناول نہایت ہلاکت خیر اور ایذا رساں ہے۔ دورانِ قرآت پہلا مرحلہ تو قاری کے لئے اپنے آپ کو جنونِ ہائج، مالیخولیا, ضعفِ جمیع قویٰ اور خفقانِ قلب سے محفوظ رکھنا ہے۔ اگر اس مقام سے قاری، شومئی قسمت سے، مامون و محفوظ گزر گیا تو اگلا مرحلہ شروع ہوگا جس میں اسے ان جاں گسل اور روح فرسا لمحات کی یاد کو فراموش کرنا ہے جو اس ناول کو پڑھتے ہوئے اس پر بیتے۔
ناول دقیق اور الجھا ہوا ہے لیکن اس کی پیچیدگی نہ تو کسی پیچیدہ تجربے کا اظہار ہے اور نہ ہی ادق علامتی نظام کا نتیجہ, یہ مشکل صرف و محض تکنیک کی شعبدہ بازی اور اسلوب کے ابہام کا انجام بلکہ اس کی سزا ہے۔ یہ نہیں کہ معنی رمز و کنایہ کے دبیز پردے میں مستور ہیں، المیہ تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ اپنی اصل ہی میں بے معنی اور لایعنی ہے۔
ناول نگار نے حقائق، ان کی منطقی ترتیب اور رسمی تفہیم کو تیاگ کر ایسی ماورائی اور علامتی فضا بنانے کی ناکام کوشش کی ہے جس میں اشیا کے اشارے سے معنی کے کنارے ابھر سکیں۔ لیکن علامتی تخیل کے ڈسپلن کی صریح خلاف ورزیوں کی وجہ سے نہ تحریر میں علامت کے ستارے ابھرتے ہیں، نہ حقیقت نگاری کا سورج تمتماتا ہے اور نہ ہی استعارے اور تمثیل کے شگوفے پھوٹتے ہیں۔ ناول میں ہمہ وقت ایک مریضانہ حبس کی کیفیت طاری رہتی ہے۔ تفہیم کی آنکھوں میں کالا موتیا اتر آتا ہے، کوئی منظر صاف دکھائی نہیں دیتا کہیں دھندلکا ہے تو کہیں جھٹپٹا۔ مصنف اس حقیقی جہان کو تج کے کسی دھیان کے مقام پر قبولیت کے لمحوں میں مسلسل دہائی دے رہا ہے:
‘ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی’
دعا فوراً قبول ہوتی ہے۔ مصنف کے سخن اور قدرت کے اذن سے قاری، نقاد حتی کہ ناول نگار خود بھی سمجھ نہیں پاتا کہ آخر یہ تحریر ہے کیا!
الجھاؤ کے ان لمحوں میں ایسی الم غلم اور مدقوق تحریروں کے ازلی وکیلِ صفائی، قبلہ! شمس الرحمن فاروقی صاحب بغل میں حوالہ جاتی کتابیں دابے حاضر ہوتے ہیں۔ جو کبھی اس ناول کو صحیفہء ایوب سے مشابہہ قرار دیتے ہیں اور کبھی اسے انسان کے دکھوں کا جدید بیان کہتے ہیں ( صفحہ نمبر 115) فاروقی صاحب کا تعریفی مضمون بھی ہمراہ ناول لف ہے جس میں دئیے گئے دلائل کی نوعیت ایسی ہے کہ عدالت میں وکیل ایسے دلائل دے تو اس کا لائیسنس معطل کر دیا جائے۔ قاری کو محض ناول ہی کے عذاب سے نہیں گذرنا، فاروقی صاحب کے مضمون کی قیامت بھی جھیلنی ہے۔ قارئین، ہوشیار باش۔
فاروقی صاحب کی دوسری بات کہ اس کتاب کو برداشت کرنے کے لئے ہمیں ادب اور افسانے کے کئی مروجہ تصورات کو پسِ پشت ڈالنا ہوگا، تو اس باب میں عرض ہے کہ محترمی و مکرمی، قبلہ، شمس الرحمن فاروقی صاحب نے جدیدیت کی قینچی سے اردو افسانے کو روایت سے کاٹنے کی ناکام کوشش کر چکنے کے بعد اب بھیس بدل کر وہی حملہ ناول کی صنف پر بھی کر دیا ہے۔
نئے لکھنے والوں کو ہئیت، تجرید، چشمہء شعور اور اسالیب کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر فاروقی صاحب خود ہمیشہ روایت اور حقیقت پسندانہ اسلوب کی بس میں بیٹھے ہیں۔ یہاں بیٹھے بھی وہ موہوم، مبہم، عناصرِ ترکیبی سے محروم اور فکر و نظر کے نظم سے عاری تحریروں کو ادبِ عالیہ ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ ابھی تک تو مشاہدے میں یہی آیا ہے کہ بغیر ٹکٹ بس میں سفر کرنے والے عموماً اس بس کی سیٹیں پھاڑنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ خیر ناول کی کہانی کی طرف بڑھتے ہیں۔
سیوکوگر یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے ماہر پروفیسر والٹر شیلر کو گرگٹہ تل ماس نامی شہر کے ایک پاگل خانے کے کھنڈرات کی تحقیقات کے دوران ایک مسودہ ملتا ہے جو دو سو سال سے بھی قدیم ہے۔ یہ قلمی نسخہ گزشتہ دو سو سالوں سے بھی زیادہ عرصہ پانی میں ڈوبا رہنے کے باوجود صحیح و سالم ہے اور اس کا ایک ورق تک نہیں گلتا۔ یہ مسودہ ایک معدوم و متروک زبان میں ہے جسے والٹر شیلر اپنے ایک دوست ہیوگو کو ترجمہ کرنے کے لئے بھیجتا ہے۔ ہیوگو کا شجرہء نسب مشہور محقق اور مستشرق گارساں ژاتاثی سے ملتا ہے۔ وہ اس مخطوطے کا ایک مشینی ترجمہ کر کے اسے والٹر کو ارسال کرتا ہے اور یہی ترجمہ یکم اپریل، 2211 میں شائع کیا جاتا ہے جو اصل میں اس ناول کی کہانی ہے۔
پروفیسر والٹر شیلر کے مطابق : ’اس کتاب کو شائع کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسے پڑھ کر شاید کسی کو اس زمانے کے انسانوں کے جذباتی، انفرادی یا اجتماعی مسائل اور ان کے دکھ سکھ کا کوئی سراغ حاصل ہو ورنہ یہ کتاب نہ تو گرگٹہ تل ماس کی کسی تاریخی جہت پر روشنی ڈالتی ہے اور نہ ہی ادبی نقطۂ نظر سے یہ کوئی قابلِ ذکر کتاب قرار دی جا سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ اسے Dutch writing کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے جو نشے کے زیر اثر لکھی جانے والی کسی تحریر کو کہتے ہیں۔ ( صفحہ نمبر17)
کہانی صیغہء واحد متکلم میں بیان ہوئی ہے جسے انیس اوراق ( ابواب) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسے شخص        ( متکلم) کے گرد گھومتی ہے جو آٹھ ماہ سے رحمِ مادر میں ہے جب اس کا باپ اس کی ماں کے ساتھ مباشرت کرتا ہے جس کے نتیجے میں اس کے سر میں چوٹ آتی ہے اور وہ ایک طرف سے پچک جاتا ہے۔ بعد از پیدائش وہ ہر وقت اپنے ماں باپ کو لڑتےجھگڑتے دیکھتا ہے جس سے اس کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کی ماں میراث اور باپ ایک زمین دار گھرانے کا معزز فرد ہے۔ باپ کو شک ہے یہ بیٹا اس کا نہیں بلکہ اس کی ماں کے ایک بھگوڑے فوجی کے ساتھ ناجائز تعلقات کا نتیجہ ہے۔ باپ کے سخت گیر رویے سے اس کے اندر نفرت اور منفیت پنپنے لگتی ہے۔ متکلم گھر کی چھت سے اپنے سے قدرے بڑی عمر کی لڑکی کو جنسی اشارے کرتا ہے جسے دیکھ کر اس کا باپ اسے پہلی مرتبہ سرِعام تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔
دونوں باپ بیٹا شدید نفرت کی زنجیر میں بندھے ہیں، بیٹا باپ کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ متکلم کی ماں ایک دن اس کے باپ سے جھگڑ کر گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ اس واقعے کے بعد مرکزی کردار کے باپ کا رویہ اس سے کچھ بہتر ہو جاتا ہے لیکن عمومی طور پر اس میں زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ اسی دوران متکلم مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے لیکن ان حالات میں اس کی بد فعلیاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ دوا دارو اور تعویز گنڈوں سے علاج میں ناکامی کے بعد بہ طور حل، اس کی شادی کر دی جاتی ہے لیکن متکلم کی حالت میں کوئی خاص بہتری نہیں آتی۔
شادی کے کچھ عرصے بعد وہ اپنی بیوی پر شک کرنا شروع کر دیتا ہے اور اسے جنسی عمل ہی سے کراہت آنے لگتی ہے۔ وہ مسلسل خودکشی کرنے کا سوچتا ہے لیکن بات کو قتل کرنے کی خواہش کی طرح اس معاملے میں بھی قوتِ عمل سے محروم رہتا ہے۔ بہ ہر حال وہ خودکشی کو اپنا ہم زاد سمجھتا ہے۔ متکلم کی حالت زیادہ خراب ہونے پر بالاخر اسے پاگل خانے میں داخل کروا دیا جاتا، جہاں اس کا بجلی کے جھٹکوں سے علاج کیا جاتا ہے۔ علاج کے دوران ہی اس پر پیدائش سے پہلے کا وہ منظر منکشف ہوتا ہے جب اسے ماں کی کوکھ میں آٹھواں مہینہ تھا اور اس کے باپ نے جبرًا اس کی ماں کے ساتھ جنسی عمل کیا تھا۔ کہانی کے اختتام پر بہ قول متکلم وہ پاگل خانے میں اکڑوں بیٹھا ہے اور اپنے جوتے میں رکھی، پانی میں تر بہ تر خودکشی کو تھپتھپاتا ہے۔
قارئین، خاطر نشان رہے کہ یہ کہانی ناول میں جا بہ جا بکھرے ہوئے خیالاتِ پریشاں سے بہ مشکل کشید کی گئی ہے۔ حقیقت پسندانہ اور عمدہ ادب پڑھنے والے شائد اس مشقت کو وقت کے زیاں سے محمول کریں اور بعد از قرآت، ابتدائی چند صفحات، اس تحریر کے حسبِ اوقات؛ کتاب ہذا کے رکھنے کو ایسی جگہ منتخب کریں کہ دوبارہ اس دشمنِ جاں پر نگاہ نہ پڑے۔
تاہم بور کتابیں پڑھنے کے شوقین حضرات کو دلی مبارک باد کہ اس ناول کا اسلوب اور تکنیک، بوریت اور بیزاری کا مکمل سامان لئے ہوئے ہے۔ بے محل تکرار، ژولیدہ بیانی، بے جا طول، اسدھ بلکہ اکتاہٹ پیدا کرنے والی خودکلامی، پریشان گوئی، پیچیدہ دست بیانیہ اور الجھی ہوئی زبان جیسے معائب کے بھرپور تعاون سے مصنف نے قارئین کو بیزار کرنے کا کامیاب اہتمام کیا ہے۔
کسی بھی تحریر کی اولین خوبی اس کا قابلِ مطالعہ ہونے کا گُن ہے۔ ” موت کی کتاب” اول و آخر اس خوبی سے محروم ہے۔ مشتاق احمد یوسفی مرحوم کا قول ہے کہ انسان کو نسل در نسل کسی کتاب سے متنفر کرنے کا آسان ترین طریقہ ہے کہ اسے نصاب میں شامل کر دیا جائے۔ میرا ایمان ہے کہ یہ ناول یوسفی صاحب، کی نگاہ سے نہیں گزرا ورنہ وہ ضرور اپنی رائے میں ترمیم کرتے کہ
‘ یہ لکھت بھی یا الٰہی اپنے خاکستر میں تھی’
مصنف نے اس ناول میں جو “مفید” زبان استعمال کی ہے اس کا مطلب چاہے کچھ نہ ہو، لیکن ظاہراً علمیت ضرور ٹپکتی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ناول کے آغاز سے قبل ژاں ژاک روسو اور والٹر بنجمن کے دو ایسے اقوال داغ دئیے گئے ہیں جن کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ کتاب کے بعید از فہم ہونے میں ناول نگار کے عجزِ بیان کا نہیں سراسر قاری کی کج فہمی، لاعلمی اور جہالت کا قصور ہوگا۔ پہلے روسو کا فرمانِ عالی شان دیکھئیے؛
“کوئی پھول، پتہ، یا پودا کتنا ہی نازک، کتنا ہی خوبصورت، حیرت انگیز اور مختلف کیوں نہ ہو، کسی اناڑی کی آنکھ کو وہ زیادہ دیر مسرت نہیں بخش سکتا۔ نباتات کی رنگارنگی سے حظ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی تھوڑی بہت سمجھ تو ہو، مختلف پودوں کے آپسی رشتوں، ان کی خصوصیات اور ان کی انفرادیت کا کچھ علم ضرور ہو اور سب سے زیادہ علم تو مٹی کا ہونا چاہئیے۔” ( صفحہ نمبر 9)
اب قبلہ! والٹر بنجمن کی بھی سنئے:
” کوئی نظم پڑھنے والے کے لئے نہیں ہوتی، کوئی تصویر دیکھنے والے کے لئے نہیں ہوتی اور کوئی موسیقی سننے والے کے لئے نہیں ہوتی۔” ( صفحہ نمبر 11)
محولہ بالا فرمودات کا کتاب کے آغاز میں عمداً زکر یقیناً مصنف کا نازیبا اور ناشائستہ عمل ہے لیکن اس نے ان کے زریعے جس “دور اندیشی” سے اپنے ناقابلِ فہم اور ہذیانی ناول پر قارئین کے یقینی و حقیقی اعتراضات کا دوامی بندوبست کیا ہے اس پر لارڈ کارنوالس کی روح بھی شرما رہی ہو گی۔ ناول کو خراب کہنے کا براہِ راست نتیجہ قارئین کی جہالت کی صورت میں نکلنے کے خدشے کے پیشِ نظر” ادبی” حلقوں میں ناول ہذا کو زبردست پزیرائی مل رہی ہے۔ آپ مصنف کی تصنیفی صلاحیتوں پر شک کر سکتے ہیں لیکن اردو قارئین کی نفسیات کی بابت اس کے علم اور اس کی حالیہ افادیت کا انکار کرنا مشکل ہے۔ مسلکی اعتبار سے مصنف نے خود کو فنونِ لطیفہ کی بجائے فنونِ مفیدہ کا پیروکار ثابت کیا ہے۔
محترم ناول نگار نے اس کتاب میں اپنے پریشان خیالات و افکار کچھ ایسی شان سے بیان کئے ہیں کہ پڑھنے والا ہلکان ہو کر بھی ان کی تفہیم کا اعلان نہیں کر سکتا۔ قاری کوشش کے باوجود ان سے کوئی مطلب اخذ نہیں کر سکتا، نتیجتاً اس کا ذہن معطل ہو جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنف بھی نہیں جانتا کہ وہ کہنا کیا چاہتا ہے۔ وہ محض تکنیک کے ساتھ کُشتی میں مصروف ہے۔ اپنی ساری انرجی یہیں کھپانے کے بعد وہ پیچیدہ بیانی میں خیال الجھاتا ہے اور نتیجتاً منھ کی کھاتا ہے۔ مصنف پورے ناول میں محض زبان کے چھلاوے کے پیچھے بھاگا ہے۔ بہ قول شخصے: فکشن کا آدھا کام تو زندگی اپنے سر لیتی ہے، لیکن ہئیت پسندوں کا سب سے بڑا مسئلہ بلکہ المیہ یہ ہے کہ وہ زندگی سے نظر چرا کرنگاہ فقط اسلوب پر جمائے رکھتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ تخلیقیت سے پہلو تہی کی سزا بے چارہ قاری کو بھگتتا ہے جسے ایسے ادب کی خواندنی میں قیامت سے گزرنا پڑتا ہے۔ پہلے تو وہ عجیب و غریب زبان پڑھ کر ٹھٹکتا ہے پھر اسلوب اور بیانیے کے الجھاؤ میں بھٹکتا ہے اور آخر کار ناول پڑھ کر اپنا سر پٹختا ہے۔ صفحہ نمبر 24 کا دوسرا اور تیسرا پیراگراف ملاحظہ کیجئے:
یہ آگہی تو دراصل مجھے ایک ٹھنڈے پسینے نے دی ہے( ناول پڑھ کر قاری کو بھی ٹھنڈے پسینے آتے ہیں)۔ یہ ٹھنڈا پسینہ میرے جسم کی لامحدود اور ناقابلِ یقین گہرائیوں سے آتا ہے۔ جسم کے مساموں میں پھیلی ہوئی اندھیری، باریک اور ریشے دار سرنگوں سے”۔
” وہ اس طرح آتا ہے کہ مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے میرا وجود اپنے تمام پوشیدہ ممکنات کے ساتھ کھال اور ہڈیوں کو توڑتا ہوا باہر آ رہا ہے یہ ایک قسم کی ہلاکت خیزی ہے، اس پسینے میں ایک خاص بو شامل ہوتی ہے، کچھ کچھ خون کی بو سے ملتی جلتی۔ اس ٹھنڈے پسینے کا کوئی وقت، کوئی موسم اور کوئی دن مقرر نہیں۔ یہ کڑکڑاتے جاڑے، برسات، حبس زدہ گرمی، کسی بھی موسم میں اچانک آ جاتا ہے۔ سخت سردی میں یونہی کھڑے کھڑے یہ محسوس ہوتا ہے، جیسے کوئی تیز گرم لو کا جھونکا آیا تھا جو سینے، بازو یا کندھے کو چھو کر گزر گیا۔ تب سوئیٹر کے نیچے، بہت نیچے ( بھائی صاحب، سوئیٹر کے آخر کتنا نیچے تک جایا جا سکتا ہے) کہیں اس ٹھنڈے پسینے کی موہوم آہٹ سنائی دیتی ہے ( پسینے کی آہٹ، میاں! خیریت تو ہے)۔ پسینہ کہیں سے آ رہا تھا مگر اچانک سردی کی بھول بھلیوں میں وہ اپنا راستہ بھول گیا۔ میں سیدھا ہاتھ سوئیٹر کے نیچے بنیان کے اندر ڈالتا ہوں۔ خاص دل کے پاس، بائیں طرف، اپنا افسردہ پسینہ پکڑنے کی کوشش کرتا ہوں وہ نہیں ملتا بس اس کا پھیکا رنگ ہی میری انگلی سے چپک جاتا ہے۔ تتلی کے کسی نادیدہ رنگ جیسا۔”
صفحہ نمبر 33 پر کنندہ یہ شاہ کار لائنیں بھی دیکھئے:
” میں اس گھر سے ہمیشہ کسی کتے کی طرح باہر نکلتا۔دم دبائے اور اپنے منھ میں اس کے میلے نیلے دوپٹے کی ایک دھجی کو محسوس کرتے ہوئے جسے میں کبھی زمین پر نہ گرنے دیتا۔ اگر کبھی غلطی سے وہ میرے منھ سے پھسل کر، زمین پر خاک یا کیچڑ میں پل بھر کو گر بھی جاتی تو دوبارہ میرے تنفس کے باعث فوراً میری تھوتھنی کے ساتھ چپک جاتی۔ ہر سانس اندر, پھر باہر, پھر اندر پھر باہر۔ محبت زمین پر گرتی ہے، پھر اٹھتی ہے۔ صرف کتے کی طرح چار ہاتھ پیر پر چلنے سے ہی میں ان مردہ نقابوں کو تا عمر سنبھال سکتا تھا۔”
اسی صفحے کی آخری سطر سے صفحہ نمبر 34 کی چوتھی لائن تک پھیلے یہ افکارِ عالیہ بھی پڑھنے کے لائق ہیں:
” مگر اس شام میں اس کے گھر سے دو پیروں پر چلتے ہوئے ایک ذلیل سوّر کی مانند باہر نکلا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دو سفید نکیلی ہڈیاں صاف دیکھ لی تھیں، اور یہ بھی کہ پسینے سے بھیگے اپنے سینے سے بائیں طرف، ٹھیک میرا دل ہی ان ہڈیوں کی زد پر تھا۔ ان ہڈیوں سے اپنے دل کو بچانا مشکل تھا۔ خوف کے مارے، ان سے بچنے کے لیے میں نے اپنی طوطا چشم آنکھوں پر سوّر کے دو تین بال لگا لیے جو ان مواقع کے لیے اکثر میری جیب میں پڑے رہتے ہیں۔”
صفحہ نمبر 35 کے چوتھے پیراگراف کی ان سطور کا مطالعہ متکلم( مصنف) کی ذہنی حالت مزید واضح کر دے گا:
” خودکشی کو میرا یہ رویہ عجیب لگا مگر وہ کچھ بولی نہیں بس خاموشی کے ساتھ ایک معصوم اور پالتو گلہری بن کر میری پتلون کی جیب میں بیٹھ گئی۔”
یہ سب کیا ہے۔ ان لغویات کے کیا معانی ہیں۔ کیا ناول نگار اور ان کے گرو فاروقی صاحب ان ہفوات کی کوئی شرح بیان کر سکتے ہیں۔ اس تعلی کے سوا کہ یہ ایک مشکل کتاب ہے۔ بہ ہرحال، قارئین کے اذہان کے لئے تو اس “گیان” سے سراسر نقصان ہی برآمد ہوا ہے۔
اس کتاب میں ایک بہت ہی رکیک اور بساندھ مارتی زندگی پیش کی گئی ہے۔ بیان بے حد مریضانہ اور کراہت انگیز ہے۔ اگر اس کی علامتی یا تمثیلی تعبیر کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ زندگی کی زبونی، فروماندگی، نکبت اور غلاظت کی علامت ہے۔ اس کی روشنی میں ہم ایک ہی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ زندگی اپنی اصل میں دکھ، گٹھن، گندگی، تکلیف، نا آسودگی، ملال اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں۔ جینے کا مطلب ہی دکھ اور عفونت میں جینا ہے۔ ناول اس کراہئیت کا اظہار کرتا ہے جو زندگی کے چہرے سے امید اور خوش فہمی کا غازہ اتر جانے کے بعد آدمی محسوس کرتا ہے۔ لیکن اس تعبیر میں مطلق سچائی نہیں۔ زندگی یکسر دکھ اور رنج و کلفت ہی کا نام نہیں بلکہ دکھ سکھ کی دھوپ چھاؤں سے عبارت ہے۔ غم و اندوہ، ہجرو فراق، نا امیدی و یاسیت کی اندھیری راتوں میں راحت و انبساط، وصل و ملاپ، امنگ و ترنگ اور نشاط و امید کے جگنو بھی چمکتے ہیں اور فکر کے اندھیروں میں ادھر ادھر روشنیاں بکھیرتے ہیں۔ صفحہ نمبر 130 کے دوسرے پیراگراف کی یہ لائنیں دیکھئے:
” میرا پورا سر کیچڑ، خون اور مادہ منویہ سے گیلا ہو گیا۔ بدبو اور تکلیف کی شدت سے میں سکتے میں آ گیا ہوں۔ مجھے چکر آ رہے ہیں، مگر اس دھمک کے صدمے سے میں ہل ڈل بھی نہیں سکتا۔ اب تو میں رو بھی نہیں سکتا۔ میں رو نہیں پا رہا ہوں۔ اپنا ہوش کھو رہا ہوں۔ میں مر رہا ہوں، نہیں میں یہیں اسی اندھے مقام سے ہوش سنبھال رہا ہوں۔ اپنی ہمزاد خودکشی کو میں نے اندھیرے کی اس دیوار سے دریافت کیا۔ اور اسی لمحے سے اسے اپنے شعور میں شامل کیا۔ اب میں واقعی مر جانا چاہتا ہوں۔ میں اس مہربان تاریک جنت میں دم توڑ دینا چاہتا ہوں۔ مجھے سخت پسینہ آ رہا ہے۔ خون سے لتھڑا ہوا پسینہ، خون کی بو پسینے کے ایک ایک قطرے میں شامل ہوگئی ہے۔ میں جینے کا ارادہ ترک کر رہا ہوں۔ میں اپنی صدیوں پرانی نا آسودہ خواہشات کا دامن چھوڑنا چاہتا ہوں، جن کی وجہ سے مجھے اس اندھیرے میں آنا پڑا۔ مگر اب میں اس سے باہر نہیں جانا چاہتا۔ میں واپس عدم میں لوٹ جانا چاہتا ہوں۔”
صفحہ نمبر 111 کا پہلا پیراگراف ملاحظہ فرمائیں:
” شدید سردی کے دن آرہے ہیں، زخموں سے پیپ کی دوری ختم ہوتی جارہی ہے۔ جلد ہی میں ایک قدِ آدم زخم کے اندر چلوں گا۔ مجھے صاف نظر آ رہا ہے کہ بس اب یہ ہونے ہی والا ہے۔ پَس، مواد اور خون سے لتھڑاا ہوا بجبجاتے ہوئے ایک کیڑے کی طرح، ہاں یقینا وہاں بہت بدبو ہوگی، مگر پھر بھی ایک نئی بدبو، آخر اس جنازے کو کب تک سنبھالے رہوں جس کے بوجھ سے میرے کندھے سڑ گئے۔ بدبو تو وہاں سے بھی آتی ہے اور بغل میں گیلا پن پر اتر آتا ہے بایاں کندھا بار بار اتر جاتا ہے۔ اس لیے اچھا ہی ہے کہ زخم سے پَس کی دوری ختم ہوئی میں نے اپنے چاقو کو دن بھر تیز کیا ہے۔ کئی روز ایسے گزر گئے کہ مجھے ٹھنڈے پسینے اور چکر نہیں آئے۔ آگہی کا راستہ کچھ کمینی اور بغض بھری دعاؤں نے مسدود کر رکھا ہے۔ خودکشی کم گو ہو گئی ہے مگر وہ ہر وقت میری پیٹھ پر اس طرح بیٹھی رہتی ہے جیسے گھاس کے میدان میں گھومتے اور چرتے ہوئے کسی چوپایے پر کوّا۔”
صفحہ نمبر 104 کی دسویں سے سولہویں سطر ملاحظہ ہو:
” ایک روز جب میں وہاں دیر تک بیٹھا رہا تو اچانک میری نظر ٹوائیلٹ کی سیٹ پر پڑ گئی۔ مجھے لگا جیسے میری بیوی نے سیٹ کو اپنی لپ اسٹک سے جگہ جگہ سے پوت ڈالا تھا۔ باہر ہوا چل رہی تھی کیونکہ کواڑ آہستہ آہستہ ہلنے لگے تھے۔ اندھیرا سا ہونے لگا۔ دونوں وقت مل رہے تھے۔ میں نے تاک میں رکھی ہوئی موم بتی روشن کی اور لپ اسٹک کو غور سے دیکھا۔ نہیں وہ گاڑھا گاڑھا خون تھا جو سفید پیلی سیٹ سے جگہ جگہ چپکا ہوا تھا۔ میرے پیر بری طرح کانپنے لگے۔ یہ خون میری آنتوں سے آیا تھا۔ یہ خون ان آنسوؤں سے تعمیر ہوا تھا جو پانچ سال کی عمر میں میری آنکھوں میں نہ آ کر، اس تاریک مقام پر بیٹھے بیٹھے میری آنکھوں میں اتر گئے تھے۔”
اس ناول میں جس زندگی کی تصویر ملتی ہے وہ دل کو افسردہ کرنے والی ہی نہیں بلکہ طبیعت کو منغض کرنے والی ہے۔ اس زندگی میں کوئی حسن ، زیبائی، لطف، خوشی، ولولہ، امید یا مسرت نہیں بلکہ جا بہ جا اعصابی گراوٹ، کوڑھ، جزام، برص، گندگی، غلاظت، نجاست،، تعفن، بول و براز، بدبو اور سڑاند ہے۔ سچے فن کار کے آرٹ کا جادو، تاریک ترین اور غم ناک ترین لمحات میں بھی قاری کو مغموم سے زیادہ مسحور اور متحیر کرتا ہے۔ اپنے مریضانہ افکار، انفعالیت، گندگی اور گھٹن سے قاری کو شرم سار ، بیزار اور منغض کرنا ادب نہیں بلکہ ادب پر غضب ڈھانا ہے۔ صفحہ نمبر 105 کے دوسرے اور تیسرے پیراگراف کی مندرجہ ذیل سطور دیکھیے:
” میں اپنی بڑھتی ہوئی داڑھی سے نہ صرف اپنے چہرے کو بلکہ پورے بدن کو ڈھک دینا چاہتا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرا جسم کسی کے پیٹ میں پہنچ کر ایک دن پیٹ کے کیڑے کی طرح فضلے میں لپٹا ہوا پانی کے ایک زبردستی ریلے کے ساتھ گندی نالی میں نہ بہ جائے، اس لیے میں نے اپنے ناتواں جسم کو غلیظ داڑھی، میل، غلاظت اور بدبو کے اندر احتیاط کے ساتھ چھپا کر رکھ دیا۔
ڈاکٹروں نے میری دعائیں بدل دیں۔ اب میں صرف نیلے رنگ کی گولیاں کھانے لگا جو میرا باپ اور میری بیوی مل کر بڑی مشکلوں کے ساتھ زبردستی میرے منھ میں ٹھونس دیتے تھے۔ گھر میری گندگی، کھانسی، بلغم، جوؤں اور بدبو سے پٹ کر رہ گیا۔”
صفحہ نمبر 104 کا آخری پیراگراف ملاحظہ کریں:
“میں نے جسم کا خیال رکھنا بالکل ہی چھوڑ دیا۔ میں گندا اور غلیظ رہنے لگا۔ میرا رنگ راکھ کی طرح سلیٹی مائل ہو گیا۔ میرے میل بھرے ناخن بڑھ کر دو دو انچ کے ہو گئے، جن سے میں اپنےجسم پر خراشیں ڈالنے لگا۔ میں اپنے پیلے اور کیڑے لگے سڑتے ہوئے دانتوں سے اپنی انگلیوں کی پوریں کاٹنے لگا۔ انگلیوں پر بدنما زخم بننے لگے، جو بھرتے نہ تھے۔ میں۔ان زخموں پر پیشاب کرنے لگا۔ جسم کے اندر اور باہر، جب دونوں ہی طرف اتنی گندگی تھی تو پیشاب میں انگلی ڈبونا اور دل کے لہو میں انگلی ڈبونا ایک ہی بات تھی۔”
صفحہ نمبر 105 کا پہلا پیراگراف کچھ یوں ہے:
” ٹوائیلٹ میں چیونٹے بڑھنے لگے۔ میرے پیشاب کی دھار گاڑھی اور سفید ہوتی گئی۔”
صفحہ نمبر 125 کے تیسرے پیراگراف کی مندرجہ ذیل سطور دیکھیے:
” یہ بہت شدید جھٹکے ہیں، میں زور زور سے چیخ رہا ہوں، مگر میرے ہونٹوں پر پلاسٹک کی چوڑی پٹی بندھی ہے۔ ان جھٹکوں سے میری آنتیں اچھل اچھل کر حلق میں آنے لگی ہیں۔ میرا پیشاب خطا ہو گیا ہے۔ میں ایک زلزلے کی زد میں ہوں۔”

صفحہ نمبر 128 کے دوسرے پیراگراف کی یہ لائنیں بھی ملاحظہ ہوں:
” اب میں خاموش کرسی سے اٹھ کر لڑکھڑاتا ہوا اپنی کوٹھڑی کی طرف بڑھ رہا ہوں۔ میرے سر پر نیند کا بھاری زنگ آلود صندوق ہے جس کے پیندے میں لگی ہوئی کیلیں میرے سر کے اس حصے پر چبھتی ہیں جہاں میری یادداشت دفن ہے۔ میں نیند میں پیشاب کر رہا ہوں۔ نیند میں کیا گیا پیشاب خواب میں کئے گئے پیشاب کی طرح ہوتا ہے۔ اس پیشاب کے ساتھ نیند کی کھراند بھی اندھیرے فرش پر پھیل جاتی ہے۔”

محولہ بالا پیشاب آور اقتباسات پڑھنے کے بعد یوں لگتا ہے جیسے یہ موت کی کتاب نہیں مُوت کی کتاب ہے۔
گلی سڑی لاشیں، غلاظت زدہ ماحول، کیفیات کا تشدد آمیز اور مریضانہ بیان آرٹ نہیں ہے۔ ان حقائق کو آرٹ کے حقائق میں بدلنے کے لئے لکھاری کو ایسا دستِ ہنر چاہیے جو مٹی کو چھو کر سونا بنا دیتا ہے۔ خالد جاوید صاحب کم از کم اس جوہر سے محروم نظر آتے ہیں، لیکن وہ فاروقی اینڈ ایسوسی ایٹس کے مؤکل ہیں جو ان کے ناول کی من چاہی اور من بھاتی تفسیر و تاویل اور معنی آفرینی کرنے میں مشغول ہیں۔ ان نقادوں کے پاس اتنا وقت کہاں کہ ناول کا محاکمہ بھی کریں اور اس کے حسن و قبح سے متعلق کوئی قدری فیصلہ بھی صادر فرمائیں۔ ہذیان کو عرفان ثابت کرنے والے، کسی تخلیق کا کیا اپنی تنقید کا دفاع بھی نہیں کر سکتے۔ ڈھٹائی پھر بھی دیکھنے لائق ہے کہ مجذوب کی بَڑ کو الہام تاویلنے میں غرق ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی صاحب نے ہمیشہ اپنے عہد سے نظریں چرائیں ہیں لہذا ہر وہ ادیب جو ان کی سنتِ مؤکدہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے عہد کی سچائیوں سے “پاک” ادب لکھتا ہے، موصوف لنگوٹ کس کر اپنے گرگوں کے نعروں میں، اس کے دفاع کے لئے اکھاڑے میں کود پڑتے ہیں۔ اور دنگل شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی ہئیت پرستی کا داؤ لگ رہا ہے تو کبھی محمل نظریات کی قینچی ماری جا رہی ہے۔ اور پھر فاروقی صاحب لگاتے ہیں معمے اور گنجلک اسلوب کا دھوبی پٹکا۔ لیجئے صاحب! ادب ہو گیا چاروں شانے چت اور فاروقی صاحب بن گئے رستمِ گماں معذرت رستمِ زماں۔

علامتی اور استعاراتی اسلوب یقیناً سیدھے سادے بیانیے سے زیادہ تخلیقی اور تخیلی جہتوں کا حامل ہے لیکن اس کا ڈسپلن حقیقت پسندانہ اسلوب کے مقابلے میں بہت سخت ہے جس میں معافی کی گنجائش نہیں۔ زرا سی آنچ ہلکی رہ جائے تو علامت آپ کی حجامت کرا دیتی ہے۔ استعارے کے غبارے سے ہوا نکلتے ہی چرخ پہ جھولتا مصنف منہ کے بَل زمین پر گرتا ہے۔ “موت کی کتاب” کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی واقعہ ہوا ہے لیکن فاروقی صاحب بہ ضد ہیں کہ اس زیرِ ہلاہل کو قند کہا جائے۔
” موت کی کتاب” متکلم کی زبان سے بیان ہوتی ہے۔ قاری اس بیزار کن کردار کے ایک جیسے آہنگ اور لہجے میں، اس کی اوٹ پٹانگ اور طولانی تقریریں سننے پر مجبور ہوتا ہے، لیکن اس بیزار کن خطابت، بے جا تکرار اور حرف و معنی کا کچومر نکال کے بھی مصنف اور نقاد شاکی ہیں کہ یہ زخیرہِ اوخاش قاری پر فاش ہونا مشکل ہے جیسے کوئی مورکھ آپ کا دماغ چاٹ کر بھی گلہ کرے کہ آپ میری بات نہیں سمجھے گویا اس کی یاوہ گوئی بھی کوئی فلسفہ ہے جس کی تفہیم کے بغیر دین و دنیا برباد ہونے کا زبردست خطرہ یے۔ محترم, مبہم تحریر بدترین لکھت ہوتی ہے کہ اپنے بنیادی عقیدے ابلاغ ہی کی منکر ہو جاتی ہے۔ کوئی بھی صنفِ سخن، پہلے اچھی تحریر کی صفات کا امتحان پاس کرے گی؛ ناول، افسانہ، داستان اور شعر کی صفات کی کسوٹی پر بعد میں پرکھی جائے گی۔ میاں! آپ تو کوالیفائنگ راؤنڈ ہی میں باہر ہوگئے اصل مقابلے میں آپ کا تذکرہ کیسا۔
ناول پر ہندوستان کے معروف شاعر، ادیب اور پٹنہ کے سہ ماہی شمارے ” آمد” کے اعزازی مدیر، خورشید اکبر صاحب نے بھی دل چسپ تبصرہ کیا ہے: ” مقدمے کے توسط سے خالد جاوید نے ‘ موت کی کتاب ‘ کے ’ غیر معمولی ‘ ہونے کا پورا نفسیاتی بندوبست کر ر کھا ہے لیکن ادب کا سنجیدہ قاری اس طرح کی اضافیات ور لغویات میں کب الجھنے والا ہے۔ میں ان کی اس بات سے متفق ہوں کہ ایسی ایذا رساں تحریر قلم بند کرنے اور اسے کتابی صورت میں چھپوا کر منظر عام پر لانے کی کیا ضرورت تھی، جتنے مشورے قاری کو دیے جا رہے ہیں کاش مصنف نے خود ہی ان پر عمل کر لیا ہوتا۔” (سہ ماہی آمد، شمارہ۔ 1)
خالد جاوید صاحب ” عرضِ مصنف” صفحہ نمبر 7 میں فرماتے ہیں:
“میں شمس الرحمن فاروقی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے باوجود اپنی مصروفیات کے میرے ناول میں نہ صرف دلچسپی لی بلکہ جگہ جگہ املا اور زبان کی غلطیاں ٹھیک کرنے کے ساتھ ساتھ ناول کی نوک پلک درست کرنے میں بھی مجھے اپنا حد درجہ تعاون بخشا۔
میری دانست میں فاروقی صاحب نے ناول منگوایا ضرور ہے، لیکن اس میں دل چسپی وغیرہ لینے کی زحمت نہیں کی۔ فاروقی صاحب کے تبصرے اور ان کی فکری دیانت داری لاکھ مشکوک سہی لیکن ان کی علمِ لغت اور املا میں مہارت لاریب ہے۔ اگر انھوں نے ناول کے املا اور اس کی نوک پلک سنوارنے میں کوئی دل چسپی لی ہوتی تو یہ کم از کم زبان و بیان کی اغلاط سے پاک ہوتا۔ اور اگر واقعی فاروقی صاحب نے اسے بہ غور دیکھا ہے تو پھر حسنِ ظن کا تقاضا ہے کہ املا کی اغلاط کو “شہرزاد کراچی” کے حسنِ طباعت کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔
صفحہ نمبر 23 میں توتا کو طوطا لکھا گیا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ مشتاق احمد یوسفی کے بہ قول ط سے طوطا لکھا جائے تو نہ صرف یہ کہ زیادہ ہرا لگتا ہے بلکہ ط کی وجہ سے اس کی چونچ بھی نظر آنے لگتی ہے۔ تفنن برطرف ، طوط کا یہ املا ط سے رائج ہوگیا ہے، لیکن اسے غلط العام ہی سمجھنا چاہیے ۔ درست املا توتا ہے۔
اسی طرح گھڑت کا املا گڑھت ( صفحہ نمبر 23)، صفحہ نمبر 39 پر صواب اور دیگر صفحات میں ثواب تحریر ہے۔ صفحہ نمبر 85 میں دھکیل، ڈھکیل بن گیا ہے اور صفحہ نمبر 91 میں گم صم ( ١٨١٨ء کو “کلیات انشاء” میں مستعمل ملتا ہے) ، گم سم کی صورت میں جلوہ افروز ہے۔ صفحہ نمبر 92 پر روغن کھرچ کو ملا کر روغنکھرچ لکھا گیا ہے، اسی طرح صفحہ نمبر 117 کے آخری پیراگراف میں کٹگھرے ( جوڑ کر) اور کٹ گھرے ( توڑ کر) دونوں طرح لکھا ہے۔ اس کے علاوہ کئی ایسے الفاظ جو توڑ کر لکھنا احسن ہیں انہیں جوڑ کر لکھا گیا ہے مثلاً دلچسپی، صحتمند وغیرہ۔ بہ قول ڈاکٹر فرمان فتح پوری، یہ غلط املا ہے ( بحوالہ اردو املا اور رسم الخط صفحہ نمبر 64 تا 65)
املا کی اغلاط کی ذمہ داری تو طباعت پر ڈالی جا سکتی ہے لیکن دیگر معائبِ بیان سے ناول نگار اور ان کے مداح نقاد کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خالد جاوید صاحب سے نوآموز لکھاریوں جیسی اغلاط کی توقع نہیں تھی۔ تکنیک، اسلوب اور موضوع کے ساتھ ساتھ انھوں نے زبان و بیان کے حوالے سے بھی بہت مایوس کیا ہے۔ صفحہ نمبر 33 کے پہلے پیراگراف پانچ سطور میں چھ مرتبہ محبت کے لفظ کی تکرار ہے۔
” محبت زمین پر گرتی ہے پھر اٹھتی ہے۔ صرف کتے کی طرح چار ہاتھ پیر چلنے سے ہی ان مردہ نقابوں کو تاعمر سکتا تھا۔ محبت کی ماہئیت ہی ایسی ہے۔ محبت ایک کائی لگے ہوئے تالاب کی کھر پتوار میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ محبت مٹی تو نہیں ہے مگر اب ایک داخلی غلط فہمی کا شکار ہو گئی۔ محبت ہمیشہ مغالطوں میں پھنسی رہتی ہے۔ اسے کبھی یہ پتہ ہی نہیں رہتا کہ اسے جانا کس سمت میں ہے۔ محبت کی لکیریں ہمیشہ بھنور بناتی ہیں۔”
صفحہ نمبر 63 کی دوسری سے تیسری لائن میں ماں کی گردان ہے:
” میری ماں کی ماں ایک میراثن تھی، مگر میری ماں نے تھوڑا بہت پڑھ لکھ لیا تھا اور اپنی ماں کا پیشہ نہیں اپنایا تھا۔”
اسی صفحے کے دوسرے پیراگراف میں سات مرتبہ ماں کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ صفحہ نمبر 75 کی تیرہویں سے سولہویں سطر میں مصنف پرچھائیں کا پہاڑا یاد کر رہا ہے:
” میں ایک مایوس کن پرچھائیں ہوں۔ اسٹیج پر کانپتی ہوئی یہ انسانی پرچھائیں نہیں، یہ کسی شے کی پرچھائیں بھی نہیں۔ یہ روشنی میں نظر آنے والی پرچھائیں نہیں ہے۔ یہ ہوا میں جھولتی ایک گندی گالی کی پرچھائیں ہے۔ اندھیرے میں بیٹھی شرمندہ ہوا کی پرچھائیں۔”
اسی طرح صفحہ نمبر 41 کے چوتھے پیراگراف میں جسم، صفحہ نمبر 45 کی ساتویں سے آٹھویں سطر میں حماقت، صفحہ نمبر 47 کے دوسرے پیراگراف میں اندھیرے، صفحہ نمبر 59 کی چھٹی سے آٹھویں سطر میں انکھیں اور اسی صفحے کے دوسرے پیراگراف میں نفرت، صفحہ نمبر 60 کے دوسرے پیراگراف میں رونے، صفحہ نمبر 85 کے دوسرے پیراگراف میں لکیریں، صفحہ نمبر 86 کی دوسری سے چوتھی سطر میں تمہارے، صفحہ نمبر 87 کے پہلے اور دوسرے پیراگراف میں روح، صفحہ نمبر 107 کے پہلے پیراگراف میں باٹ، صفحہ نمبر 115 کی آخری چار سطور میں کتے اور صفحہ نمبر 128 کے دوسرے پیراگراف میں پیشاب کی گردان, قاری کے اوسان اڑا دیتی ہے۔
مندرجہ بالا معائب کے باوجود ناول نگار، فاروقی صاحب کا شکر گزار ہے کہ انھوں نے اس کتاب کی نوک پلک سنوارنے اور املا کی اغلاط درست کرنے میں اس کے ساتھ حد درجہ تعاون کیا۔ ایسے تعاون سے تو طاعون کم ہلاکت خیز ہوتا ہے کہ بچت کا کوئی نہ کوئی امکان تو وہ بھی چھوڑ دیتا ہے۔ محترم! آپ کے لئے تو ناول کا موضوع ہی کچھ کم مہلک نہ تھا، اس پر ستم یہ کہ فاروقی صاحب کا تعاون مانگ لیا، بیڑا غرق تو ہونا ہی تھا، سو ہوا۔
خالد جاوید صاحب نے “عرض مصنف” صفحہ نمبر 7 میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ” لکھنا ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ لکھ کر آپ دوسروں کو ایذا پہنچاتے ہیں اور خود آپ کے اندر بھی ایک گہرا زخم اگ آتا ہے ۔میں نے بارہا ایمانداری کے ساتھ یہ سوچا ہے کہ مجھے لکھنا بند کر دینا چاہیے مگر میری بد مذاقیوں کے یہ سلسلے ختم ہی نہیں ہو پاتے۔”
مصنف کے اس بلیغ اعترافِ جرم سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خاصا حقیقت پسند ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بات بھی پایہِ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ یہ عمل اپنے خطرناک نتائج کو ذہن میں رکھتے ہوئے عمداً کیا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر ناول نگار اپنی بد مذاقیوں پر قابو پا لیتا اور فاروقی صاحب کی بجائے اپنے دل کی بات سن لیتا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...