مسلم دنیا میں تبدیلیاں

254

بہت سی مسلم اکثریتی اقوام ایک بار پھر نہ ختم ہونے والے “مسلم امہ کی سیاست”کے عہد میں داخل ہیں۔ تاہم اپنے ہاں کی داخلی مشکلات پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے وہ اپنی جیو پولیٹیکل ترجیحات کو بھی اپنی معاشی و سیاسی حقیقتوں کے پیش نظر نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں ۔ مسلم امہ کا تصور مذہبی اتحاد کے طور پرہمیشہ سے ہی مسلم دنیا کےمرکز میں موجود رہا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ اس تصور میں تعمیرِ نو بھی ہوتی رہی ہے جس دوران ریاستی و غیر ریاستی عناصر نے اس میں نئی توجیہات تراشی ہیں۔

حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات میں ہوئی دو طرفہ تعلقات کے قیام کی ڈیل ہو یا  سعودی عرب اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی ناچاقی، یہ مسلم دنیا میں آئے ہوئے سیاسی بھونچال کی محض چند مثالیں ہیں۔بظاہرایسا معلوم ہوتا ہے کہ خلیجی ریاستیں خاص طور پر سعودی عرب نے پہلے ہی سے ایسے سخت فیصلے کرلئے ہیں  جو ان کی جیواسٹرٹیجک ترجیحات کی مطابقت رکھتے ہیں اور وہ مسلم امہ کی قیادت   کے منصب سے سبکدوش ہوسکتا ہے۔ بہت سے ماہرین یہ کہتے ہیں کہ خطے میں تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی جیوپولیٹیکل حقیقتیں ، معاشی اتار چڑھاؤ، سماجی و سیاسی سطح پہ بڑھتا ہوا عدم استحکام  اور نوجوان نسل کے روز افزوں بڑھتے ہوئے تحفظات نے خلیجی رہنماؤں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنی جیو اسٹریٹیجک اور سیاسی ترجیحات کو تبدیل کریں۔

تاحال یہ یقین کرنا محال ہے کہ سعودی عرب اور اس کی حلیف خلیجی ریاستوں نے مسلم امہ کے تصور اور سیاست کو یکسر پس پشت ڈال دیا ہو۔مسلم امہ کی قیادت خطے اور عالمی سیاست میں بہت بڑی تزویراتی قدر کی حامل ہے جس کے سبب ان ممالک کے لئے یہ بہت مشکل ہوگا کہ وہ امہ کی قیادت کے دعویٰ سے دستبردار ہوجائیں ۔ بلکہ وہ تو امہ کے قائدانہ کردار کے دیگر امیدواران مثلاََ مسلم ممالک کے متبادل بلاک جس کی قیادت ترکی ، ایران، قطر اور کسی قدر ملائشیاء کررہے ہیں، سے وحشت زدہ ہیں۔

تاہم  مسلم دنیا کے عمومی مسلمانوں میں مذہبی اداروں اور ملاؤں نےدنیا کا  ایک بالکل یکسر مختلف نقطہ نظر  پروان چڑھایا ہے جو کہ ممکن ہے کہ ان کی ریاستوں کی پالیسیوں میں شامل نہ ہو لیکن  وہ نکتہ نظر متشدد یا غیر متشدد غیر ریاستی عناصر کے بیانیوں میں ضرور جھلکتا ہے۔

مسلم امہ ایک مذہبی تصور ہے جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی مسلم دنیا کی وضاحت کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔  مسلم احیائے نو اور اخوان المسلمون کے تصورات کی حامل تحریکوں نے اس تصور کے گرد اپنا سیاسی تشخص تعمیر کیا ہے اور مسلم معاشرے و ریاستیں کئی دہائیوں سے اس تصور میں کھوئے ہوئے ہیں۔ اس تصور کی عملی صورت کے لئے انہوں نے مسلم ممالک کی ایک برادری بھی تشکیل دی ہے جسے “تنظیم برائے مسلم تعاون” یا “او۔آئی ۔سی کا نام دیا گیا ہے۔اس تصور کے لئے موثر کوششیں خلیجی ریاستوں نے کی اور انہوں نے عرب قوم پرستی کے جذبات کی آمیزش سے 1960 کی دہائی سے لے کر آج تک تبدیل ہوتے ہوئے سماج میں اس  خیال کو پنپنے دیا۔بہت سی خلیجی  ریاستوں نے سعودی قیادت میں مسلم امہ کے تصور کو مختصر کرکے وہابی اسلام  میں بدل دیا اور اس میں وسیع سرمایہ کاری کرکے اسے دیگر مسلم ممالک اور تارکین وطن میں شہرت دی اور اپنی سیاسی قیادت کو برقرار رکھنے کے لئے سیاسی حمایت پائی۔

سعودی  قیادت مسلم امہ کے تصور کو غیر فعال نہیں ہونے دے گی کیونکہ ان کے لئے اس کا مطلب عالمی سفارتکاری کے میدان میں انہیں  حاصل  خاص مقام کا ضیاع ہوگا۔ مسلم امہ کی قیادت کی صورت انہیں جو ایک خاص مقام حاصل ہے وہ انہیں عالمی سطح پہ ایک  اہم کھلاڑی بناتا ہے اور امریکہ سے خصوصی تعلقات انہیں مسلم ممالک میں قوی بناتے ہیں۔اس  دو رُخی طاقت کو مزید تقویت دینے کے لئے سعودی عرب نے 40 مسلم ممالک کا ایک فوجی اتحاد بھی تشکیل دیا ہے جس کانام  اسلامی ممالک کی سپاہ برائے انسداد دہشتگردی (اسلامک ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن )ہے۔  بہت سے ماہرین کے مطابق سعودی قیادت میں تشکیل پانے والے اس  فوجی اتحاد کا سعودی مقصد یہ تھا کہ وہ یمن  میں زمینی دستوں کو بھیجنے کے لئے افواج اکٹھی کرسکیں اور خطے میں ایران کے عسکری مقابلے کے لئے اپنی تیاری بڑھا سکیں ۔ سچ یہی  ہے کہ سعودی قیادت کا یہ فیصلہ کسی مذہبی فریضے کی تکمیل کے لئے نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے یہ اقدام مسلم امہ کی اجتماعی بہتری کے لئے اٹھایا تھا تاہم بہت سے چھوٹے مسلم ممالک نے “سعودی نیٹو” میں شمولیت اس لئے اختیار کی کہ انہیں اس کے بدلے اپنے لئے معاشی فوائد نظر آرہے تھے۔  یہ اتحاد اپنے قیام کے وقت سے ناکامی سے دوچار نظر آرہا تھا کیونکہ اس کی توجہ بہت ہی تنگ نظر نکتے پر مرکوز تھی اور اس کا دارومدار محض ایک ہی ریاست کے مفادات پر مرتکز تھا۔

ایک عمومی مسلمان کے لئے سیاسی عوامل کو مذہب سے جُدا کرکے دیکھنا ایک مشکل معاملہ ہے : مسلم احیائے نو اور اخوان المسلمون جیسی تحریکوں نے بہت سے مسلم سماجوں میں دنیا کے متعلق عوامی نکتہ نظر کو بدل دیا ہے۔ تعلیمی نظام کو نشانہ بنا کر ان تحریکوں نے مسلم سماج کے سیاسی نکتہ نظر کو اس قدر تبدیل کیا ہے کہ اب مسلم امہ کی کھوئی ہوئی مذہبی اقدار کو دوبارہ دریافت کرنے میں بہت وقت درکار ہوگا۔

فلسطین کا مسئلہ اب بھی او۔آئی۔سی کے ایجنڈے پر سر فہرست ہے ۔ خلیجی ریاستوں نے اگرچہ اپنی ہمدردیاں فلسطینیوں کے ساتھ رکھی ہیں ، غیر ریاستہ عناصر نے اپنے بیانئے فلسطینی –اسرائیلی تنازعے اور اپنے ہاں کی مبینہ طور پر کرپٹ قیادت کے گرد قائم کئے ہیں ، جو کہ ان کے نزدیک اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں دیکھتیں۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اس “کرپٹ قیادت” والے بیانئے کو قبول کرتی ہے جوکہ غیر ریاستی عناصر اور ان کے ہمنوا مذہبی رہنماؤں نے ترتیب دیا ہے لیکن ان ممالک میں پڑھے لکھے طبقے نے ایسے متبادل ریاستی نظام کے تصور کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے جس میں جمہوریت اور اس سے وابستہ آزادیوں کی  گنجائش کم ہو۔

مشرق وسطیٰ کی عرب ریاستوں  کے غیر ریاستی عناصر عرب بہار  کی احتجاجی لہر  کے بعد بھی اپنا  متبادل ریاستی بیانیہ مقبول کروانے میں ناکام رہے ہیں۔ تاہم وہ اب بھی ان سماجوں کی سیاسی و مذہبی ابحاث کا ایک نمایاں حصہ ہیں۔

یہ غیر ریاستی عناصر ابھرتے ہوئے سیاسی رجحانات کو اپنے فوائد کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔  بڑے متشدد گروہ مثلاََ القاعدہ یا نام نہاد دولت اسلامیہ نے ابھی تک متحدہ عرب امارات اور اسرائیل  کے مابین معاہدے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ دونوں ہی دہشتگرد گروہ بری طرح کمزور ہوچکے ہیں اور شائد یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فی الفور کوئی بڑی دہشتگرد کاروائی کرسکیں لیکن وہ اس سیاسی پیش رفت کو ” اسرائیل اور عرب قیادت  کے خلاف ترتیب دیئے گئےاپنے بیانئے” کی مضبوطی کے لئے ایک دلیل کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔

“اسرائیل اور مسلم دنیا میں حکمرانی پہ فائزمرتد قیادت کی تباہی ” ابھی بھی القاعدہ کے ایجنڈے پہ سرفہرست ہیں۔ اگرچہ القاعدہ اور نام نہاد دولت اسلامیہ جنگی حربوں اور تزویراتی مقاصد میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں لیکن ان دونوں کے سیاسی مقاصد بہت حد تک ایک ہی جیسے ہیں۔  یہ دونوں ہی اپنی واپسی کے لئے بہت اکسائے ہوئے ہیں لیکن ان کی سیاسی مجبوریوں نے انہیں کمزور کررکھا ہے۔ مثال کے طور پر افغانستان میں القاعدہ اس لئے اپاہج ہوئی  پڑی ہے کہ اس کے اتحادی افغان طالبان نے امریکہ سے کامیاب ڈیل کے بعد افغان حکومت اور سول سوسائٹی سے مذاکرات شروع کررکھے ہیں۔ افغانستان میں یہ سیاسی صورتحال اس وقت تک رہے گی جب تک القاعدہ طالبان سے رستے جدا نہیں کرلیتی۔

تاہم دیگر غیر متشدد مذہبی گروہوں اور رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں ہوئی حالیہ سیاسی پیش رفت پہ کھلے عام تنقید کی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان جیسے مسلم ممالک کے لئے خطرناک پیش رفت ہے کیونکہ یہاں کی آبادی متنوع سماجی و فرقہ وارانہ رجحانات رکھتی ہے۔ سعودی عرب اور ایران ، دونوں ہی نے اپنے اپنے ہم نوا مسالک میں فرقہ وارانہ حساسیت کی حامل بھاری سرمایہ کاری کررکھی ہے اور اس سرمایہ کاری سے عملی نتائج اخذ کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔  سعودی عرب کے ہم نوا مذہبی رہنمااس وقت شدید شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ اپنے عرب ناصحین کا ساتھ نبھاتے ہوئے وہ کس طرح یہود مخالف بیانئے پہ قائم رہیں۔

بشکریہ: ڈان

مترجم : شوذب عسکری

 

 

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...