پاکستان کے پارلیمانی بانیان

390

پاکستان کی تاریخ لکھنے والے مؤرخین اور پاکستان کے حوالے سے پولیٹیکل سائنس کے سکالرز نے ملک کی پارلیمانی تاریخ پر بہت کم دھیان دیا ہے۔ یہ دانستہ نظرانداز کرنے کی بات ہے یا پھر اقتدار کے تھیٹر کا باقی ماندہ سکرپٹ اتنا مزے دار تھا کہ پارلیمنٹ محض ایک مختصر تنقیدی حوالہ بن کہ رہ گئی۔ اس سارے شعوری یا غیر شعوری عمل کا نقصان یہ ہوا کہ عوام کے اذہان میں پارلیمانی اداروں میں بیٹھنے والے افراد اور ان کی کارکردگی کے حوالے سے ڈھیروں ابہام پائے جاتے ہیں۔ “بیانیہ “، عصر ِحاضر میں ایک محاورہ بن کے سامنے آیا ہے۔ میرے خیال میں بیانیہ یہ ہے کہ کس کی کہانی، کون کس لہجے اور کس محاورے میں سناتا ہے۔ چونکہ پارلیمان کی کہانی کسی نے سنائی نہیں تو اس کی حقیقت کے حوالے سے لہجے تلخ اور محاورے محدود ہیں۔

بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ “10اگست”  ہماری پارلیمنٹ کا جنم دن ہے۔ 10 اگست 1947 ء کو سندھ اسمبلی کی تاریخی عمارت میں صبح 10 بجے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس شروع ہوا تو نواب زاد ہ لیاقت علی خان اور خواجہ ناظم الدین نے دلت رہنما جوگندر ناتھ منڈل کا نام عبوری چیئرمین کے لئے تجویز کیا۔ یہ بہت بڑا علامتی پیغام تھا۔ پارلیمانی روایات کے مطابق 54 اراکین دستور ساز اسمبلی نے ممبران کے رجسٹر پر دستخط کئے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اس رجسٹر پر جوگندر ناتھ منڈل کے بعد دستخط کئے۔ اسمبلی نے اپنے اولین کام کرتے ہوئے اپنے لئے رولز اپنائے، اسمبلی سیکرٹریٹ کی تنظیم نو کے لئے “موشن “اپنائی اور مستقل صدر کے انتخاب کے قواعد کا اعلان کیا۔ 11 اگست 1947 ء کو قائد اعظم محمد علی جناح بلا مقابلہ صدر منتخب ہوئے اور اپنا تاریخی خطاب کیا جس کی اہمیت نوزائیدہ مملکت کیلئے ” میگنا کارٹا ” کی سی ہے۔اسی روز دستور ساز اسمبلی نے پاکستان کے قومی پرچم کی منظوری دی۔ 12 اگست 1947 ء کو دستور ساز اسمبلی نے”شہریوں کے بنیادی حقوق اور اقلیتوں”کے حوالے سے قائد اعظم کی سربراہی میں 16 رکنی کمیٹی بنائی۔اسی روز پینل آف چیئرمین کی روایت کا آغاز ہو ا جو کہ صدر کی عدم موجودگی میں اجلاس چلانے کے ذمہ دار تھے۔ اس تاریخی پہلے پینل میں مولوی تمیز الدین، ڈاکٹر عمر حیات ملک، سردار بہادر خان اور اپوزیشن کے کرن شنکر رائے شامل تھے۔اس طرح پارلیمانی اپوزیشن کی اہمیت کو بانیِ پاکستان نے تسلیم کیا۔ اس حوالے سے چوتھا تاریخی دن 14 اگست 1947 ء تھا ،جب صبح 9 بجے قائد اعظم محمد علی جناح لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ اسمبلی کے ڈائس پر جلوہ گر ہوئے اور قیام پاکستان کا اعلان ہوا۔مبارک بادکے پیغامات پڑھے گئے۔ اگرچہ فرمان آزادی 1947 ء جو کہ برطانوی پارلیمنٹ نے پاس کیا تھا دو نئی مملکتوں کا  قیام 14 اور15 اگست کی درمیانی رات 12 بجے ہو ا لیکن پاکستان میں اس حوالے سے تقریب 14 اگست1947 ء کو دستور ساز اسمبلی میں ہوئی۔ قائد اعظم نے گورنر جنرل کا حلف 15 اگست کو اٹھایا،کابینہ اور وزیراعظم بھی بنے۔یہ فیصلہ بھی بعد ازاں قائد اعظم محمد علی جناح کا تھا کہ 14 اگست کو یوم آزادی منایا جائے۔ اس طرح وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ ہماری آزادی کی شمع سب سے پہلے پارلیمانی اداروں میں جلی اور ہم اسی کو یوم آزادی کے طور پر مناتے ہیں۔

کتنے دکھ کی بات ہے کہ دستور ساز اسمبلی کے اراکین کا رجسٹر ہمارے قومی آ ر کائیوز سے غائب ہے۔ کہتے ہیں جب ڈھاکہ کو پارلیمانی دارلحکومت بنایا گیا تو انتہائی عجلت میں سارا ریکارڈ وہاں بھجوادیا گیا تھا۔ جناح پیپرز بھی شائع ہوئے لیکن بانی پاکستان جنہوں نے اپنے سیاسی زندگی کے 39 سال پارلیمانی اداروں میں گزارے، اس کا تذکرہ محدود ہے۔ بلکہ 1970 ء کی دہائی میں قائد اعظم بطور پارلیمنٹیرین کتاب اس وقت کے رکن اسمبلی ملک محمد جعفر اور انسانی حقوق کے معتبر ترین وکیل آئی اے رحمان نے مرتب کرکے شائع کی تو ضیاالحق کے دور میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔یہ دونوں باتیں علامتاََ   نشاندہی کرتی ہیں کہ ہم پاکستان کے پارلیمانی تشخص  کی ابتداءسے ہی خائف اور خوف زدہ ہیں۔

پاکستان کے پارلیمانی بانیان کی کہا نی ابتداء سے ہی آزمائش کا شکار رہی۔ دیگر کا تذکرہ تو بعد میں کریں گے لیکن بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 ء کو دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب ہونے کے بعد تاریخی خطاب کیا۔ 1615 الفاظ پر مشتمل اس تقریر کی کہانی اور متن آج بھی پاکستان میں فکری مباحث کا دلچسپ موضوع ہے۔ بعض اہل دانش اسے پاکستان کا ” میگنا کارٹا ” قرار دیتے ہیں۔ قائد اعظم کی سوانح حیات لکھنے والے ہیکڑ بالتھو لکھتے ہیں کہ اس تقریر پر قائد اعظم محمد علی جناح نے خوب محنت کی اور باقائدہ نوٹس تیار کئے۔ چونکہ پارلیمنٹ سو فیصد اپنی کاروائی کو ہینسرڈ کی صورت میں شائع کرتی ہے تو یہ تقریر مکمل طور پر ہمارے پارلیمانی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ تاہم ضمیر نیازی اپنی کتاب صحافت پابند سلاسل میں اس تقریر کو سینسرشپ کا شکار کرنے کی  کہانی بیان کرتے ہیں کہ کس طرح انڈین سول سروس کے چودھری محمد علی جو کہ نوزائیدہ ریاست کے سیکرٹری بنے، انہوں نے اس کے بعض حصوں کو حذف کرانے کی سعی کی۔ چودھری محمد علی بعد ازاں وزیر اعظم بھی رہے۔ اس کار خیر میں ان کا ساتھ اس وقت کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر کرنل مجید ملک نے نبھا یا۔ اس تقریر کا آڈیو ویڈیو ریکارڈ آج بھی غائب ہے۔ تاہم اس کا پورا متن اسلام آبا د میں 1989 ء سے پارلیمنٹ ہاؤس کی دیوار پر آویزاں ہے۔ 21 ویں صدی میں جب انتہا پسندی سے نجات کی کوششوں میں ایک بار پھر افکار قائد کو آواز دینے کی ضرورت پڑی تو آئی ایس پی آر نے 2019 ء میں ایک کتاب شائع کی ہے جسکا عنوان ہے ” تحریک پاکستان کے بنیادی خیالات ” اس کتاب کے صفحہ 98 پر اس تاریخی تقریر کا مکمل متن شائع کیا گیا ہے۔ تاریخ کی ان بھول بھلیوں کے علاوہ اس تقریر کے حامیوں نے بھی اس کے فقط مذہبی آزادیوں کے ایک ٹکڑے کو اٹھا یا ہے۔ جس کے جواب میں اسی دستور ساز اسمبلی میں قائد اعظم محمد علی جناح کے 14 اگست 1947 ء کے خطاب کو پیش کیا جاتا ہے جس کا محاورہ خالصتا ََاسلامی تاریخ ہے۔

11اگست کی تاریخی  تقریر  میں  پارلیمنٹ  کی  حاکمیت  کی  بات  بہت  کم دہرائی  جاتی  ہے ۔  قیام  پاکستان  کو  قائداعظم نے  برصغیر  کے  آ ئینی  بحران کا  بہترین  حل قرار دیا  جس  کے  بارے میں  انھوں نے  بجا  طور  پر کہا  کہ  کون  غلط تھا کون ٹھیک تاریخ فیصلہ کرے گی۔ ہندو توا کی لہر میں شہریت کے فاشسٹ قوانین گواہی دے رہے ہیں کہ تقسیم شاید اس وقت واحد دستیاب حل تھا ،اسی طرح بانی پاکستان نے اپنے خطاب میں اقرباء پروری، ذخیرہ اندوزی، کرپشن اور اس جیسی دیگر سماجی دیمکوں کا ذکر کیا تھا۔ یہ گھٹی کے مسائل آج بھی ہماری قومی زندگی میں خوفناک روپ اختیار کر کے زندہ ہیں۔سوچنے کی بات تو یہ ہونی چاہیئے کہ یہ بیماریاں دائمی کیوں بن گئیں؟کیا کبھی ان کا علاج ممکن بھی ہوگا؟

اسی طرح قائد اعظم نے واشگاف الفاظ میں ریاست کی ذمہ داریوں کے طور پر شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اولین فرض قرار دیا تھا۔ کیا 73 سالوں  بعد ہم یہ حاصل کر پائے؟۔سو چنا تو یہ چاہیئے ایسا کیوں ہوا؟قائد اعظم کی اس  وکٹری تقریر کی  تفہیم کے لئے لازمی ہے کہ ہم سمجھیں کہ ان کا تصور پاکستان کیا تھا۔ کچھ عرصہ سے ہم 11 اگست کو اقلیتوں کے قومی دن کے طور پر مناتے ہیں۔ شاید یہ اچھی بات ہو لیکن اس دن اور تقریر کی اصل روح تو ”مساویانہ شہریت“ ہے جو کہ ابھی بھی ایک خواب ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...