آئینِ جہاں بدل رہا ہے

286

قانونِ فطرت کے مطابق ہر شب کا اختتام سحر پر ہونا یقینی ہے۔ رات کی تیرگی کا حد سے بڑھ جانا اور ستاروں کی تنک تابی اس بات کی دلیل ہے کہ صبح روشن کی آمد آمد ہے۔  یوں بھی ہوتا ہے کہ شب تاریک کے بعد جب    مستطیل پھیلتی ہوئی صبح  کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں اور  طلوع سحر کا جلوہ دیکھنے کے لیے بے تاب سکھ کا سانس لیتے ہیں کہ تھوڑی ہی دیر میں وہ روشنی  پھر سےتاریکی میں گم ہو جاتی ہے، کیونکہ جسے دیکھنے والوں نے صبح کا گمان کر لیا تھا وہ صبح کاذب تھی۔ مگر اب مایوس ہونے کی چنداں ضرورت نہیں صبح کاذب اور صبح صادق میں تھوڑی دیر کا ہی فاصلہ ہوتا ہے۔ ستر سالوں سے ارض وطن پر چھائی تاریکی کے بعد  صبح کا اجالا دیکھنے کی آرزومندقوم “تبدیلی ” کی صبح کو دیکھ کر  چہک اٹھی تھی  کہ :

دیر لگی آنے میں تم کو،  شکر ہے پھر بھی آئے تو

آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا، ویسے ہم گھبرائے تو

تبدیلی نے اگرچہ آتے ہی  سب سے پہلے یہ کہہ دیا تھا کہ “آپ نے گھبرانا نہیں ہے”  لیکن انتظار کرنے والوں نے گھبرائے ہوئے دل سے ہی استقبال کیا تھا۔ اور ابھی  آمد کا اچھی طرح جشن بھی نہیں منایا تھا کہ تاریکی کا نقاب پھر سے سرکتا ہوا دکھائی دینے لگا ۔ اس داغ داغ اجالے اور شب گزیدہ سحر کو دیکھ کر  جب دیکھنے والوں کو یقین ہو چلا کہ یہ تو صبح کاذب ہے تو پکار اٹھے:

یہ داغ داغ اجالا،  یہ شب گزیدہ سحر

یہ وہ سحر تو نہیں،  جس کا  انتظار  تھا

دوسری طرف یہ بھی فطرت کا ہی قانون ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا قوم  کے دن کبھی نہیں پھرتے۔  زندگی حرکت کا نام ہے، یہاں پر انہیں قوموں کو دوام ملتا ہے جو کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتی ہیں۔  جو قومیں وقت کے ساتھ خود کو اپڈیٹ  کرتی ہیں وقت بھی انہیں کے ہاتھ میں اپنی بھاگ  تھما  دیتا ہے اور پھر  زمانے میں انہیں کا ڈنکا بجتا ہے۔ سالہا سال سے  حکام بالا اور خود ساختہ زعمائے قوم سے امیدیں لگائے رکھنے والوں کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے زور بازو پر انحصار کریں۔ دوسروں سے گلہ شکوہ کرنے کی بجائے   خود تقدیر الہی بن جائیں:

عبث ہے  شکوہ ِ تقدیر ِ یزداں

تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے؟

یہ امر خوش آئند ہے کہ تاخیر سے ہی سہی لیکن  جابجا  بیداری کے آثار نظر آ رہے ہیں اور جس طرح میاں صاحب کو سول بالادستی کا چیمپین سمجھنے والوں نے “سجدہ سہو ” کر لیا ہے اسی طرح خاں صاحب کے پہلو میں تبدیلی کا خواب دیکھنے والے بھی اب بیدار ہو رہے ہیں۔اسی بیداری کی ایک جھلک 12 جولائی کو مری کے مقام چٹہ موڑ میں دکھائی دی جہاں  نوجوانوں نے تبدیلی سے مایوس ہو کر اپنی مدد آپ کے تحت “مری ڈیویلپمنٹ فورم” کے نام سے  ایک تحریک کا آغاز کیا ہے جس  نے عوام کی کثیر تعداد کے سامنے اپنا  ہمہ جہت منشور رکھا۔ فورم کے منشور میں درج ذیل  پانچ نکات شامل ہیں:

۱۔ معاشی ترقی کے لیے سیاحت، زراعت اور لائیو سٹاک کو بطور انڈسٹری از سر نو قائم کرنا، گھریلو صنعت یا کاٹیج انڈسٹری کو رائج کرنا اور بڑھانا۔ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے  سیاحوں کو facilitate  کرنا اور ان کی شکایات کا ازالہ کرنا۔

۲۔ شعبہ تعلیم و تربیت: سکولز کی حالت کو سنوارنا اور کالجز اور یونیورسٹی کی قیام کے لیے کوششیں کرنا۔ لارنس کالج کو مری کے مقامی طلباء کے لیے قابل رسائی بنانا۔ غیر نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کی ترویج،گرلز کالج کو صحیح مقام پہ منتقل کرنا، ٹیلنٹ ہنٹ اور مستحق طلبا کی معاونت، کیریئر کاونسلنگ، سکول کونسلز کی فعالی اور تنظیم نو۔ آئی ٹی انفراسٹرکچر کا قیام اور ڈیٹا فلٹریشن۔

۳۔صحت: بی ایچ یوز میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنانا، دواؤں کی جانچ پڑتال، نئے ہسپتالوں کے قیام کی تحریک اور سپیشلٹی ہاسپٹلز اور لیبارٹریز کا قیام۔

۴۔ماحولیات: جنگلات کا تحفظ اور آتشزدگی کا انسداد، صفائی مہم اور ویسٹ مینجمنٹ کے لیے اقدامات، شجرکاری۔

۵۔ظلم کا انسداد: سیاحوں اور مقامی افراد کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا سدباب کرنا اور ہر مظلوم کے لیے بلا تفریق علاقہ و برادری آواز اٹھانا۔انتظامیہ کو صحیح سمت پہ رہنے کے لیے مشاورت اور تجاویز دینا، اور  بوقت ضرورت تحریکی عمل کو رائج کرنا۔

اس تحریک نے جوانوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے اور  امید ہے کہ ملک کے طول وعرض میں  اس طرح کی مقامی تحریکیں ہی اب  ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گی۔ ناصر کاظمی کہہ گئے تھے:

مایوس نہ ہو اداس راہی
پھر آۓ گا دورِ صبح گاہی
اے منتظرِ طلوعِ فردا
بدلے گا جہانِ مرغ و ماہی
پھر خاک نشیں اُٹھائیں گے سر
مٹنے کو ہے نازِ کج کلاہی
انصاف کا دن قریب تر ہے
پھر داد طلب ہے بے گناہی
پھر اہلِ وفا کا دور ہوگا
ٹوٹے گا طلسمِ جم نگاہی
آئینِ جہاں بدل رہا ہے
بدلیں گے اوامر و نواہی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...