پاکستان میں قانون کی مبہم راہیں

398

ٓٓآج کل بات بات پر قانون کی حکمرانی کے خواب بنے جاتے ہیں۔ پھر یہ خواب خواہشوں کی گرداب میں کہیں کھو جاتے ہیں۔ قدیم سماج میں قبائلی سرداروں کے احکامات، بادشاہوں کے فرمودات اور مذہبی رہنماؤں کے فتوے حرف آخر ٹھہرتے تھے۔ جدید ریاستوں کی تشکیل کے ساتھ قوانین اور ضابطے کے باقائدہ ادارے بن گئے۔ ارتقاء کے اس سفر میں پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل ہوا کہ یہاں بحث و مبا حثہ کے بعد قوانین بنائے جائیں، وقت و حالات کے مطابق ان میں ترامیم کی جائے اور جن قوانین کی ضرورت باقی نہ رہے انھیں ختم کردیا جائے۔ گویا یہ ایک مسلسل عمل ٹھہرا۔ شائد یہی ایک وجہ ہے کہ جدید قوانین حمورابی کے آئین یا اشوکا کی تختیوں کی طرح پتھر پر کنندہ نہیں ہوئے۔ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا خواب کیوں ادھورا ہے؟ اس مضمون میں پاکستان میں قانون سازی اور اس سے بندھی مشکلات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
جدید ریاست میں قانون کے حوالے سے بنیادی طور پر دو تصورات پائے جاتے ہیں۔ اول،قوانین کو سماجی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے سماج کو ریگولیٹ کرنا ہوتا ہے۔
دوسرا نقطۂ نظر قانون کو ایک ایسے تازیانہ کے طور پر استعمال کرنا ہے جس سے حکمران طبقہ کی خواہشات کے مطابق سماج بنایا جاسکے۔ قانون اور سیاست کےعلم یہ بات زیر بحث رہتی ہے کہ قانون کو منطقی(Logical) ہونا چاہیئے۔ نیز قانون کی حیثیت طے شدہ (Legitimate) ہو۔ یہ پہلو اس لئے اہم ترین ہیں کہ تہذیبی ارتقاء نے دیکھا ہے کہ نسلی امتیاز (Apartheid) ،جداگانہ نسلی سماج (Segregation) اور نو آبادیات (Colonialism) بھی قوانین کے ذریعے کئی معاشروں اور ملکوں پر تھوپے گئے تھے۔ اس طرح کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ آج ہندوستان میں شہریت کا متنازعہ قانون آگ لگائے ہوئے ہے۔
قانون کے حوالے سے مباحث کو سمجھنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ملک میں قانون سازی کی اسکیم واضح ہو۔ کم و بیش تمام ممالک میں دستور کو پورے سماج پر چھتری کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ دستور شہری اور ریاست کے مابین عمرانی معاہدہ کا درجہ رکھتا ہے۔ دستور کے ذریعے ہی ممالک کے مزاج، سمت، جغرافیہ، شہریوں کو دستیاب حقوق، امور مملکت چلانے کے اداروں اور وسائل کی تقسیم کے طریق کار طے ہوتے ہیں۔پھر دستور کی روح کے مطابق قوانین بنائے جاتے ہیں۔ بعد ازاں ان قوانین کو مؤثر بہ عمل کرنے کے لیے ایگزیکٹو کو قواعد (Rules) بنانے کا اختیار بھی قوانین ہی دیتے ہیں۔اس سکیم کی روح یہ بنتی ہے کہ جو حق آئین دیتا ہے وہ کوئی قانون نہیں چھین سکتا اور بعینہہ اس طرح جو معاملات طے شدہ طریق کار کے مطابق بننے والے قانون میں ہوں انھیں رولز کے ذریعے توڑا مروڑا نہیں جا سکتا۔
اگرایسا ہو گا تو آئین ہی یہ حق عدلیہ کو عطا کرتا ہے کہ وہ پرکھ سکے کہ کوئی قانون ماورائے اختیا ر تو نہیں۔ اسی منطق کا اطلاق قوانین کے حوالے سے بننے والے قواعد پر بھی ہوتا ہے۔
بر صغیر پاک و ہند میں جدید قوانین کی تشکیل کا کلچر نو آبادیاتی کے دور میں پروان چڑھا۔ اگرچہ اس وقت آئین کی چھتری بنیا دی حقوق سے محروم تھی تاہم متعدد ایسے قوانین بھی بنائے جن میں حقوق کا تصور موجود تھا۔ اس زمانے کے کئی قوانین آج بھی نافذ العمل ہیں۔ برصغیر کی تقسیم بھی برطانوی پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعہ عمل میں آئی۔ نو آبادیاتی دور میں بسنے والے قوانین میں یہ بات نمایاں تھی کہ ان کی روح خاص پروسیجرل تھی اور دوسرا پہلو یہ تھا کہ مقامی آبادی کو مہذب بنایا جاسکے جسے محاورتا” سفید فام بوجھ” (White man Burden) کہا جاتا ہے۔ اس طرح کنٹرول کا تصوراس دور کے قوانین میں جا بجا ملتا ہے۔ ویسے بھی یہ سچ ہے کہ نو آبادیات میں ہم شہری نہیں رعایا (Subject) تھے۔
لہذا اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آزادی موہوم کے 73 سالوں بعد ہمارے تمام قوانین ایک آزاد ریاست کے شہریوں کی سوچ کے آئینہ دار اور ان کی آزادی کے ضامن ہیں؟
ٓاگر پاکستان میں موثر بہ عمل قوانین کی کتاب (Code of Pakistan)کا سروے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس وقت رائج 740 وفاقی قوانین میں سے 240 یعنی 28 فیصد نو آبادیاتی عہد کی یاد ہیں۔ ان قوانین میں پینل کوڈ، پولیس ایکٹ جیسے اہم ترین قوانین بھی شامل ہیں۔ آزادی کے بعد کہانی بھی دلچسپ ہے۔ ان میں سے 230 قوانین یعنی 43 فیصد آرڈیننس کی صورت میں ہیں اور یہ جنرل ایوب خان (45 آرڈیننس)، جنرل یحیی خان اور
ذوالفقار علی بھٹو کے بطور سویلین مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر (33 آرڈیننس)، جنرل ضیاء الحق (59 آرڈیننس) اور جنرل پرویز مشرف (86آرڈیننس) کے ادوار میں رائج ہوئے اور جب مختلف دستاتیر نے مارشل لاؤں کو آئینی تحفظ دیا تو یہ تلخیوں کے جہیز کی صورت میں ہمارا قانونی ورثہ بن گئے۔

(1)

یہاں یہ رائے قائم کرنا غلط نہ ہوگا کہ رائج قوانین میں سے 433 یعنی 59 فیصد پر پاکستانی پارلیمنٹ میں کبھی بحث نہیں ہوئی بجز ان مواقع کے جب ان قوانین میں کوئی ترمیم کی گئی۔ ان قوانین کا مطالعہ کیا جائے تو مارشل لاء ادوار کے قوانین میں کئی غیر جمہوری شقیں آج بھی وجود ہیں۔

(2)

دستور پاکستان 1973ء واشگاف انداز میں کہتا ہے ملک میں کوئی قانون اسلام کی روح کے منافی نہیں بنایا جا سکتا اور قوانین اور مسودہ ہائے قوانین کو اسلام کے حوالے سے پرکھنے کا اختیار دستور میں اسلامی نظریاتی کونسل کو سونپتا ہے۔ کونسل نے اس حوالے سے اچھا خاصا کام بھی کیا ہے۔ دستور قانون سازی کے حوالے دوسرا فلٹر یہ لگاتا ہے کہ کوئی قانون بنیادی حقوق کے باب سے متصادم نہیں ہو سکتا۔ دستور کے آرٹیکل (4)8 میں پہلے سے موجود قوانین کو بنیادی حقوق کے باب سے ہم آہنگ کرنے کے لیے باقاعدہ ڈیڈ لائن بھی دی جس کی 1976 ء میں تکمیل ہوئی۔ تاہم نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2012 ء سے پہلے ایسا کوئی واضح فلٹر موجود نہ تھا کہ قوانین اور مسودہ ہائے قوانین کو بنیادی حقوق کے باب کی میزان پر پرکھا جاسکے۔ 19 – 2015 تک کام کرنے والے پہلے کمیشن نے اپنے اس قانونی حق کوشاذو نادر ہی استعمال کیا۔
پاکستانی پارلیمنٹ کے ذریعے منظور ہونے والے 307 ایکٹ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پارلیمانی بحث و مباحثہ کے بعد بننے والے قوانین شہریوں کے حقوق میں اضافہ کرتے ہیں اور ایسے قوانین کے ذریعے ہی حقوق کے نگہبان کئی ادارے قائم ہوئے۔ 21 ویں صدی میں یہ رجحان نمایاں نظر آتا ہے جب آزادی اطلاعات، تعلیم کے حق، خواتین اور بچوں کے حوالے سے قوانین بنے اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، قومی کمیشن برائے خواتین اور کمیشن برائے حقوق اطفال بنے۔ پاکستان کی دستوری اسکیم کے مطابق قانون کی تجویز حکومت سے آتی ہے، کابینہ منظوری دیتی ہے اور پھر اسے پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جاتا ہے۔فنانس بل کے علاوہ (یہ حق قومی اسمبلی تک محدود ہے) تمام قوانین قومی اسمبلی اور سینٹ میں موجود اراکین کی اکثریت سے منظور کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے پارلیمنٹری قواعد پرائیویٹ ممبر بل کی بھی اجازت دیتے ہیں اور کئی اچھے قوانین اس راہ سے منظور ہوئے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال سوک ایجوکیشن ایکٹ 2018 ء ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ آئین فقط تین باتوں پر پارٹی لائن کے مطابق ووٹ کی بات کرتا ہے یعنی وزیر اعظم / وزیراعلی کا انتخاب اور عدم اعتماد، بجٹ اور آئینی ترامیم۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ باقی تمام قوانین کے لیے کراس پارٹی لابنگ کر کے قومی اتفاق رائے قائم کیا جاسکتا ہے۔ ماضی قریب میں خواتین کے حوالے سے قوانین اس کی مثال ہیں۔ اسمبلی کے قواعد مسودہ قانون کی پبلک تشہیر کرکے عوام کی آراء حاصل کرنے کی گنجائش بھی دیتے ہیں۔ نیز اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں عوامی یا ماہرین کی سماعت کی بھی گنجائش ہے۔ بدقسمتی سے جمہوریت میں تسلسل میں آنے والے نشیب و فراز کی وجہ سے روایات دم توڑ چکی ہیں حالانکہ ڈیجیٹل زمانے میں جونہی کوئی مسودہ قانون اسمبلی یا سینٹ کی فلور پر متعارف کرایا جاتا ہے اسکی ویب سائٹ پر آجاتا ہے اور یہ کام بآسانی کیے جاسکتے ہیں۔ عوام کی براہ راست رائے اور شمولیت شاید ہماری ترجیح نہیں۔ عوام کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر اپنے نمائندے چننے کا اختیار ہی 1970 ء میں ملا اور یہ حق سابقہ قبائلی علاقہ جات میں 1997ء میں پہنچا۔
اگر عادات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ہماری ایگزیکٹو صدارتی آرڈیننسوں کو قانون سازی کا آسان راستہ سمجھتی ہے جو کہ جدید دور میں پارلیمنٹ کے اختیارات میں تجاویز کے زمرے میں آتا ہے۔ آرڈیننس کا اجراء بھی نو آبادیاتی روایت ہے تاہم اس دور میں آرڈیننس کے اجراء کی مثالیں فقط جنگ عظیم اول او ر دوئم کے زمانے میں ملتی ہیں۔ پاکستان میں مارشل لاؤں کے ادوار میں آرڈیننسوں کی کچھڑی خوب پھلی پھولی۔ 2010 ء میں اٹھارویں آئینی ترمیم نے اس کلچر کے سامنے مضبوط بند باندھا۔ آئین کے آرٹیکل 89 کے مطابق آرڈیننس صرف اس وقت جاری ہو سکتا ہے جب کسی بھی ہاؤس کا اجلاس نہ ہو رہا ہو اور جونہی کوئی اجلاس ہوگا آرڈیننس ایوان کے سامنے رکھا جائے گا اور ایوان کی موجود اکثریت کو قرارداد کے ذریعے آرڈیننس کو فوری طور پر مسترد کرنے کا حق حاصل ہے۔ وفاقی سطح پر آرڈیننس 120 دن اور صوبائی سطح پر 90 دن تک مؤثر رہتا ہے۔ حکومت کسی بھی آرڈیننس کو دوسری اور آخری بار ایوان کی منظوری سے ہی جاری کرسکتی ہے۔ اس پارلیمانی میکنزم سے آرڈیننس کلچر کچھ تھما ہے اور اس پر تنقید بڑھی ہے۔
ُٓپارلیمنٹ نے جب قانون منظور کرلیا تو اس نے اپنا کام 100 فیصد کرلیا۔اس کے بعد ایگزیکٹو کو قواعد بنانا تھا۔ دکھ کی بات ہے کہ اس معاملے پر برسوں تک کی تاخیر دیکھی گئی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ سیکشن 144 اور سیکشن 144A (غداری) ٰٓایسے قوانین عہد غلامی کی یادگار ہیں جو کہ آزادی ملک کی روح سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس حوالے سے یہ مثال سمجھانے کے لئے اہم ہو سکتی ہے کی قوانین کی کتاب میں عہد غلامی کی یادگار کے طور پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ موجود ہے جبکہ آزادی کے بعد ہم نے آزادی اطلاعات کا قانون بنایا۔ اب یہ دونو ں قوانین ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اسی طرح قومی احتساب بیورو کا قانون، انکم ٹیکس کا قانون مارشل لاء ادوار کی یادگار ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ میڈیا اور سیاست کے حوالے سے زیادہ تر قوانین بھی مارشل لاؤں کے زمانے میں بنے جن میں بے جا کنٹرول کی باتیں زیادہ ہیں۔ ایسے میں قانون کی حکمرانی خواب نہیں رہے گی تو کیا رہے گی؟
ْٓقانون کی راہ میں ایک اور بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے قوانین انگریزی زبان میں لکھے جاتے ہیں جو کہ بہرحال عوام کی غالب اکثریت کی فہم و فراست سے باہر ہے۔
قانون کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ قانون کے حوالے سے لاعلمی, قانون سے انحراف کا جواز نہیں ہوتی۔ کیا پاکستانیوں کو تمام رائج قوانین کا !علم ہے — غالبا نہیں!
کیا دلچسپی رکھنے والوں کو تمام قوانین دستیاب ہیں؟ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔ یہ سوال اس وقت سامنے آیا جب سپریم کورٹ آف پاکستان کچھ اپیلوں کی سماعت کر رہا تھا تو یہ بات سامنے آئی کہ کچھ اضلاع میں کچھ فنکاروں نے قوانین کے غلط متن چھاپ رکھے تھے۔

(3)

2016ء کو سپریم کورٹ کو تفصیلی فیصلہ دینا پڑا کہ قوانین کی اغلاط سے پاک اشاعت اور ان کا اردو ترجمہ کرنا وزارت قانون کی ذمہ داری ہے۔ بعد ازاں پارلیمنٹ نے اس حوالے سے قانون بھی بنایا جس کے تحت وزارت قانون کو سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ کے سامنے رکھنا تھی ابھی تک پہلی رپورٹ بھی سامنے نہیں آئی۔

(4)
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے 2016ء میں سینٹ آف پاکستان نے تفویض کی گئی قانون سازی (Delegated Legislation) کی خصوصی کمیٹی بنائی۔ اس کمیٹی کی رپورٹیں پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ قانون ہمیں مشرق کی طرف لے جانا چاہتا ہے جبکہ ایگزیکٹو کے رولز ہمیں مغرب کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ ایگزیکٹو نے کئی قوانین کے رولز بنائے تک نہیں اور کچھ وزارتیں تو بنائے گئے رولز کی کاپی پارلیمنٹ کو فراہم کرنے سے گریزاں ہے۔
کیا کیا جائے؟
مندرجہ بالا صورتحال پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی راہ میں چند رکاوٹوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس دلدل سے نکلا کیسے جائے؟اس حوالے سے سٹیزن گروپ برائے پارلیمنٹری اسٹدیز نے کچھ تجاویز اور سفارشات مرتب کی ہیں جو کہ متعلقہ اداروں کو مستقبل میں عمل کے لئے راہنمائی فراہم کرسکتی ہیں۔

(5)
پاکستان میں رائج نو آبادیاتی دور کے قوانین کا جمہوری پیمانوں اور آزاد ملک کی روح کے مطابق جائزہ لیا جائے اور انھیں 21 ویں صدی کے سماج کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ یہ تمام کام یک لخت کرنا مشکل ہوگا۔ دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ہر سال 5 سے 10 قوانین کا انتخاب کرکے یہ کام مرحلہ وار مکمل کر لیاجائے۔
٭مارشل لاء کے ادوار قوانین کا ڈیمو کریٹک پارلیمانی ریویو بھی ضروری ہے۔ ایسے قوانین سے ایک بدنام قانون سازی(Ominous Legislation) کے ذریعے آمرانہ شقوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ نیزان قوانین (جو کہ آرڈیننسوں کی صورت میں آئے تھے) کو بھی مرحلہ وار جمہوریت کی میزان پر پرکھا جانا چاہیئے۔
٭پاکستان میں ایک ایک موضوع پر کئی قوانین ہیں جو کہ بعض اوقات ایک دوسرے کی ضد ثابت ہوتے ہیں۔ نیز ایک ہی موضوع پر ایک سے زیادہ جگہوں پر بات کی گئی ہے۔ لہذا ہمیں پاکستانی قوانین میں دانشمدانہ فیملی پلاننگ کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے الیکشن ایکٹ 2017 ء ایک مثال ہے کہ جب جابجا بکھرے 8 انتخابی قوانین کو یکجا کرکے ایک قانون بنایا گیا۔ اس اپروچ سے قانون پر عملدرآمد کرانے والوں کو بھی آسانی ہو گی۔مستقبل میں یہ کام ، خواتین، بچیوں، اقلیتوں، تعلیم،صحت اور ماحول کے جا بجا بکھرے قوانین کو ایک ایک جامع اور مؤثر قانون میں ڈھالنے کی صورت میں جاری رکھا جا سکتا ہے.
٭سینٹ آف پاکستان میں قائم تفویض کردہ قانون سازی (Delegated Legislation)کی کمیٹی کو دونوں ایوانوں کی مشترکہ پارلیمنٹری کمیٹی کا درجہ دے کر ایگز یکٹو کی رولز کے حوالے سے مؤثرپوچھ گوچھ ہو سکتی ہے۔ جس طرح آزادی اطلاعات کے قانون میں رولز بنانے کے لئے باقائدہ ڈیڈ لائن دی گئی تھی،(اگرچہ اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا) اس کلچر کو ہر قانون کا حصہ بنایا جائے اور اس حوالے سے تاخیر کو کسی بھی صورت آئین کے آرٹیکل 254 کے تحت تحفظ نہ دیا جائے بلکہ کوتاہی کو جزا و سزا اور ذمہ داروں کو جوابدہی کی روایت سے جوڑا جائے۔
٭عجلت میں قانون سازی کے کلچر سے گریز کیا جائے۔ پارلیمنٹ میں کسی بھی مسودہ قانون پر ہونے والی بحث قانون سازوں کی منشا(Intent of Legislated)کی وضاحت کرتی ہے جو کہ اس حوالے سے عدالتی فیصلو ں میں راہنمائی فراہم کرتی ہے۔ماضی قریب میں دیکھا گیا ہے کہ اکثر قوانین بغیر کسی بحث و مباحثہ کے منظور ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک کمزور پارلیمانی روایت ہے اور اس کا اثر مستقبل کے عدالتی فیصلوں پر بھی ہوگا۔
٭قوانین کے نفاز کے حوالے سے درپیش آنے والی مشکلات پر ایگزیکٹو اور عدلیہ کو پارلیمنٹ کو آگاہ کرنے کی روایت بھی ہونی چاہیئے تاکہ قوانین میں بہتری کے لئے ترامیم ہو سکیں۔
٭قانون سازی کے عمل میں شہریوں کی شمولیت کو مسودہ قانون کی تشہیر اور کھلی سماعتوں کی صورت میں ممکن بنایا جانا چاہیئے۔
٭قانون فہمی کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے ” لیگل لٹریسی ” اور ” لیگل سوشلائزیشن ” پر کام ہونا چاہیئے۔ ڈیجیٹل عہد کے میڈیم سے استفادہ کم پڑھے لکھے لوگوں کو بھی قانون کے بارے میں معلومات کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
٭سردست پارلیمانی اداروں کا مختلف بین الاقوامی معاہدوں پر پاکستان کے دستخطوں اور منظوری میں کوئی کردار نہیں ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ معاہدے پارلیمنٹ کے سامنے رکھے بھی نہیں جاتے جبکہ اکثر معاہدوں کا ایک نقطہ یہ بھی ہوتا ہے کہ قوانین کو ان کی روح کے مطابق بدلا جائے یا نئے قوانین بنائے جائیں گے۔ اس حوالے سے طریق کارمیں تبدیلی بہت ضرری ہے وگرنہ ہم اپنی عالمی کمٹ منٹس پر ادھر ادھر ہی ڈگمگاتے رہیں گے۔

حوالہ جات /تشریح / وضاحت
(1) مصنف کی نگرانی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے پارلیمانی خدمات کی تحقیق، 2019۔
(2)مارشل لاء ادوار میں درجنوں لیگل فریم ورک آرڈر،عبوری آئینی حکم نامے اور آرڈر ریگولیشنز کی صورت میں نافذ ہوئے انکی حیثیت اور درجہ قانون کا ہے اور انکا شمار اس سروے میں شامل نہیں۔
(3) یہ فیصلہ اس وقت آیا تھا جب جسٹس جواد ایس خواجہ چیف جسٹس آف پاکستان تھے اور انہوں نے قوانین کے حوالے سے خفیہ پن اور کوتاہی کے کلچر پر تنقید کی۔ بعدازاں پارلیمنٹ نے پاکستان میں قوانین کی اشاعت کا ایکٹ 2016ء منظور کیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ صوبوں نے آئین کے آرٹیکل 144 کے تحت قرارداد منظور کرکے صوبائی قوانین کی درست اشاعت کا کام بھی وفاقی وزارت قانون کے ذمہ لگا دیا۔
(4)کچھ قوانین کا تصدیق شدہ متن اور اردو ترجمہ (www.pakistancode.gov.pk) پر میسر ہے۔
(5) سٹیزن گروپ برائے پارلیمنٹری اسٹڈیز ماہرین تعلیم،سول سوسائٹی اور صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد کا رضاکارانہ پلیٹ فارم ہے جو پارلیمانی روایت،کلچر اور تاریخ کے حوالے سے تحقیق کرتا ہے اور اصلاحات کے لئے تجاویز مرتب کرتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...