دروازوں میں زنجیر

495

طالب حسین طالب کو میں اس قدر جانتا ہوں کہ ابھی جب انہوں نے مجھے اپنا مسودہ بھیجا اور کہا اس پرضرورلکھنا ہے تو یقین مانیں کہ یہ ” ابھی” کا عرصہ مہینے سے اوپر چلا گیا ہے۔طالب جب اسلام آباد سے لمبی تعطیلات پر اپنے شہر کوئٹہ تشریف لائے تو مارے شرمندگی کے ملاقات ہی پانچ سے زیادہ نہ کی کہ کچھ لکھ ہی نہیں پارہا تھا۔ ” دروازوں میں زنجیر”کے اشعار کو حرف بہ حرف پڑھنے کے باوجود حیران تھا کہ میرا قلم طالب حسین طالب کی شاعری پر لکھتے ہوئے پہلا حرف ہی کون سا لکھے گا؟ طالب حسین طالب کے شعری سفر کا ابتدائی دنوں سے شاہد اور معترف ہوں اور اس بار تودوست عزیز طالب حسین طالب تو کمال ہی کردیا ہے۔ کلام میں گہرائی اور گیرائی کا ایک ایسا التزام لے کر آیا ہے کہ کلام کی صورت و سیرت کی بنا پرباعث حیرت رہی کہ شعر خوانی سے فرصت ہی نہیں مل رہی تھی انتخاب کیا کرتا اور لکھتا تو کیا لکھتا؟  استاد بے مثل نظیری کا شعر کیا خوب بر محل یاد آیا ہے کہ:

ز فرق تا قدمش ھر کجا کہ می نگرم

کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجاست

میرے لیے یہی مشکل رہی کہ شعر کے انتخاب میں کس شعر کو چھوڑوں، کس شعر کو کس شعر کے مقابلے میں رکھوں اور جو کچھ لکھوں تو موضوع کو کیسے نبھاؤں؟ کہ  بقول حضرت حافظ” شھریست پر کرشمہ و خوبان ز شش جھت”۔ ایک مشکل تھی جو میں جانتا ہوں۔ بتاتا چلوں کہ زندگی میں تحریر و تقریر کا اکتساب کرنے میں اساتذہ نے یہ سکھایا ضرورتھا کہ معذرت خواہانہ آغاز کلام نہ رکھوکہ پیش آمدہ گفتگو کا اثر زائل ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ لیکن یہاں میرا معاملہ الٹ با ایں سبب ہے کہ طالب حسین طالب شاعری غیر معمولی انداز میں مجھے پوری طرح سے اپنے سحر میں جکڑ چکی تھی ان کی غزلیں دیکھنے کے بعد ان سے کچھ کشید کرنا کار مشکل تھا کہ یہ ساری کشید وہ خود کرچکے تھے اب آپ کی خدمت  جرعہ ای از خم خمستان طالب پیش ہی کرنے کی سعی کرتا ہوں کہ جب وہ خود ہی کہتے ہیں کہ:

ہنر کو پیشہ کیا، زخم دل کو تیشہ کیا

ہوس ہے پھر بھی، ہمیں کاروبار کب آئے

بچوں کی ہنسی ہوں میں بزرگوں کی دعا ہوں

میں شعر نہیں ہوں مری تفہیم نہ کرنا

۔

میں نے احساس کو کاغذ پہ اتارا اور پھر

رو دیا لفظ کو دیمک کے حوالے کرکے

۔

پتوں نے کتنی داد دی، جنگل کو یاد ہے

بارش نے شاعری کی تو پھولوں نے کیا کہا

۔

ہر دکھ کو غزل بنا لیا اور کھل کے داد لی

دنیا پہ ہر ادھار کہاں چھوڑتا ہوں میں

۔

اکھڑ گئی مری سانسیں اکھڑ گئے بازو

گیا تھا جنگ میں لفظوں کی ڈھال اٹھاتے ہوئے

۔

میں نے کاغذ پہ ترے ہونٹ بنا رکھے تھے

آکے بیٹھی ہے بڑی دیر سے تتلی اس پر

طالب کے ہاں شعر کی شعوری اور وجدانی تفہیم کا مکمل ادراک موجودہے۔ وہ ادبیات کے استاد ہونے کے ساتھ فن شعر کی استادی پر بھی متمکن ہیں لہذا وہ جب بھی اپنی شاعری میں شعری تکامل اور ارتقا کی بات کریں گے تو وہاں ہمیں ان کے اشعار پورے معنوی اور صوری رچاؤ کے ساتھ ہی ملیں گے۔

کچھ دن رہے غالب کے طرفدار مگر پھر

جو لطف سخن میر کی اردو سے اٹھایا

۔

صبح دم ایک ہی سورج سر بام آتا ہے

میر کے سامنے کس کس کو کلام آتا ہے

۔

پھر مجھے مدرسہ ء عشق سے چھٹی نہ ملی

میں بھی میر کا دیوان پڑھا کرتا تھا

۔

فراق یار، شغل شاعری، شعور غم

خراب ہوتے ہوتے اک زمانہ ہوگیا

اب یہاں خراب ہوتے ہوتے کا جو لطف زبان کی چاشنی کے ساتھ آرہا ہے اس کا جواب نہیں، لیکن ایسا نہیں کہ یہ محض ایک شعر ہے بلکہ طالب کے دیگر اشعار میں جھانکنے پر جو نکتہ میسر آتا ہے وہ بے حد دلچسپ ہونے کے علاوہ پوری روایت کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے چند اور شعر ملاحظہ فرمائیں:

کاغذسے آگ جھانک رہی ہے کہ شام عمر

لفظوں کے برگ و بار کہاں جوڑتا ہوں میں

۔

قطرہ قطرہ مرے اشکوں کو بہم کرکے تو دیکھ

کیسے دیوار کی بنیاد میں نم پڑتا ہے

۔

کتاب زیست کے سارے سوال بے معنی

جواب الجھنے لگے اور پہیلیاں نہ کھلیں

۔

اپنی اپنی تنہائی کا بوجھ اٹھاتے پھرتے ہیں

شام ڈھلے آوارہ پنچھی شور مچاتے پھرتے ہیں

۔

جو عقل و دل پہ گزرتی ہے کون جانتا ہے

قلم کی نوک سے وزن سوال اٹھاتے ہوئے

۔

جو تجھ کو دیکھ کے چپ لگ گئی تھی پہلے پہل

ہم آج تک اسی حیرت  سے بات کرتے ہیں

۔

میں مدرسہ ء عشق سے پہنچا ہوں یہاں تک

بہتر ہے مجھے قتل کی تعلیم نہ کرنا

درج بالا اشعار میں کسب شعر سے حاصل کی گئی روانی نہیں بلکہ ان میں جو کرامات نظر آرہی ہیں وہ زبانی بھی نہیں بلکہ بقول عطا شاد:

ہم ایسے فقیروں کو یوں حیرت سے نہ تکیو

ہم کرب سے گزرے ہیں کرامات سے پہلے

یعنی ارسطو کی بوطیقا کے مصداق محض نقل کی نقل والی باتیں نہیں مگر یہ کہ جن المناک ادوار سے انسانیت گزر رہی ہے وہ انسانی تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر قوت متخیلہ کو مزید استحکام دے رہے ہیں اور حوادث و اتفاقات کی شکل میں زمانہ جو دے رہا ہوتا ہے وہی شاعر لوٹا رہا ہوتا ہے۔ شاعر اپنے دور کا شعر آشوب لکھے یا مزاحمت کا نشان بنے وہ تاریخ کو لافانی بنا رہا ہوتا ہے۔طالب ایسے جینوئین شاعر کے دکھ کے کینویس کو واضح کرنے اور ان کے شعرکی صراحت کے لیے ان کے آبائی شہر ”کوئٹہ”  کا حوالہ دینا ہی تو اب تاریخ انسانی کی مظلومیت کا ایک تسلیم شدہ باب ہے۔ آپ فقط ان کے شہر کا نام لکھیں وہیں ظلم و ناانصافی اور ایک غیر متعلق معاشرہ کا سکوت کی پوری تاریخ مجسم ہوکر سامنے آجائے گی۔

عذاب یہ کہ خبر ہے ملال کوئی نہیں

یہ دکھ نہیں کہ پرآشوب ہے سماج مرا

۔

فصل نے ہے سخت جوبن پر، نظر کے سامنے

پھر صلیب اگنے لگی دیوار و در کے سامنے

۔

فاتحہ پڑھتا ہوں جب شہر سے آتے ہوئے میں

چند ٹوٹی ہوئی قبروں سے سلام آتا ہے

۔

خوب پھلتے رہے خود رو پودے

خوب کاٹے گئے بوئے ہوئے لوگ

۔

شہر آسیب کی زد میں ہے خدا خیر کرے

کچھ دنوں میں نے پرندوں کو نہیں دیکھا ہے

۔

کیوں بے نام ہوا فصل بدن کیوں کاٹے

لہلہاتے نہیں ہر خطہ ء شاداب میں ہم

۔

پھر باد حوادث مری گلیوں سے نہ گزرے

اللہ نہ کرے پھر صف احباب بکھر جائے

۔

یاران روز و شب سے ذرا دور ہوکے دیکھ

غم کیا ہے، اپنے شہر میں محصور ہوکے دیکھ

۔

کس طرح شل ہوئے بازو تجھے معلوم کہاں

دیکھ کس قبر میں کیا چاند اتارا ہم نے

۔

نہال عمر سے بے وقت جھڑنے والوں کو

صبا! وداع نہ کرنا بچھڑنے والوں کو

 

طالب حسین طالب کی اب تک سامنے آئی شاعری میں ”دروازوں میں زنجیر ” کی اب کی شاعری دراصل ان کے شعری ارتقاء میں ایک زبردست اور خوشگوار احساس فراہم کرتی ہے وہیں ان کے فن شعر کے ساتھ ایک سچے ادیب کی محنت اور اس شعبہ کے ساتھ اخلاص بھی جھلکتا ہے۔ ہمارے عہد کے بہت سے دوست شعرو ادب کے میدان میں نت نئے تجربات کرنے کے بعداب تخلیقی عمر پوری کرکے فقط اپنی عمریں گزار رہے ہیں جبکہ طالب حسین طالب کی طلب اور تڑپ روز بہ روز بڑھتی جارہی ہے۔یہ اس وقت ممکن ہوتا ہے کہ جب تک تخلیق کارمطالعہ اور ریاضت جاری رکھتا ہے تب تک ہنر کی دولت کی فراوانی بھی باقی رہتی ہے۔ طالب حسین طالب کے چند متفرق اشعار پڑھیئے اور لطف ا ٹھائیے:

مری شہرت کے علاوہ بھی بڑے کام کی ہیں

نامکمل وہی غزلیں جو ترے نا م کی ہیں

۔

وقت مرہم ہے مگر مرہم کا بھی اک وقت ہے

رو پڑا ہوں اک پرانے ہم سفر کے سامنے

۔

عشق اس دور کرامات میں پہنچا ہے جہاں

اس کی تصویر نہ دیکھوں تو پرانی ہوجائے

۔

وہ جا چکا ہے مگر اس کی یاد باقی ہے

یہی مرض ہے مرا اور علاج مرا

۔

گھر سے خوشبو کے تعاقب میں نکل کر طالب

روز آتے ہیں اک حلقہ ء احباب میں ہم

۔

ڈر ہے وہ شخص اچانک ہی نہ مر جائے کہیں

جب بھی دیکھا ہے اسے، اور حسیں دیکھا ہے

۔

جس کو دیکھا ہی نہ ہو اس سے محبت کیسی

میں نے شاید تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھا ہے

۔

اونچی شاخوں پر پھلوں کا ایک ہی نقصان ہے

پتھروں کے ڈھیر لگتے ہیں شجر کے سامنے

۔

یارو! مرا حصار کرو آیتوں کے بیچ

بچوں کی یاد آتی ہے میدان جنگ میں

۔

بچا سکوں تو یہ آواز بھی غنیمت ہے

کہ یار لے گئے چہرہ اتار کر میرا

۔

میں زندگی میں معانی تلاش کرتا ہوں

یہی ہے عیب مرا اور یہی ہنر میرا

۔

نامکمل فقر سے بہتر ہے دنیا کی ہوس

اک قلندر کل مرے کشکول پر تف کرگیا

۔

شام تک ایک بھی چہرہ نہ رکا میرے لیے

بند ہونے لگا بازار نظر آخر کار

۔

جس قدر احباب ہیں سینے میں اتنے زخم ہیں

پھر جدا ہوتے ہوئے دونوں نے تڑپایا بہت

۔

اب پاؤں سے سو بار لپٹ جائے تو کیا ہے

پانی تو مرے نقش قدم کھا گیا صاحب

۔

اس سے بڑ ھ کر مرا نقصان بھلا کیا ہوگا

خرچ ہوتا ہوں کسی لمحہ فانی کے لیے

۔

وہ مشت خاک کی مجبوریاں سمجھتا ہے

جبیں کے داغ گنے پھر خدا نے کچھ نہ کہا

یہاں طالب حسین طالب کے قطعات میں سے ایک قطعہ پیش خدمت ہے کہ کس خوبصورت اور نادر انداز میں ماں کی معصوم اور بے لوث محبت کو شعر کے قالب میں ڈال گئے ہیں۔

رخ آندھیوں کا دعاؤں سے موڑ دیتی ہے

طلسم اشارۂ ابرو سے توڑ دیتی ہے

عجیب ہستی ہے ماں بھی کہ ہر مصیبت میں

مجھے خدا کے سہارے پہ چھوڑ دیتی ہے

طالب کی شعرفہمی اور شعر گوئی کے ایک قاری ہونے کے ناتے یہ کہنا ضروری ہے کہ بہترین لکھاری وہی ہوتا ہے جو اپنے قاری کو مایوس نہیں کرتا اور اپنے خلوص اور لگن کے ساتھ اپنی قلم اور فکر کے ساتھ امانت داری کو آگے بڑھاتا رہتا ہے۔ طالب حسین طالب ہمارے عہد کا ایک ایسا ہے اہم شاعر ہیں جومحبت، محنت اور دیانت کو ساتھ لے کر شعر وادب کے میدان آگے بڑھ رہے ہیں اور ہمیں اپنے فکری اور فنی پیش رفت میں شریک بنا رہے ہیں۔ طالب کی شاعری میں زبان و بیان کے توازن سے پورا لطف اسی وقت اٹھایا جا سکتا ہے جب آپ ”  دروازوں میں زنجیر ” کا مطالعہ کریں گے اور جب شعری روایت اور جدید حسیت کے حسین سنگم پر اپنے آپ کوایستادہ پائیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...