“مائنس ون” فارمولے کا پہلا نشانہ: سید منور حسن

1,938

منور حسن ہزاروں شہدا کی توہین پر معافی مانگیں، شہدا کے خاندانوں اور انکی قربانیوں کو سیدمنور حسن سے توثیق کی ضرورت نہیں۔“ (آئی ایس پی آر) ”فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں، فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرنے والے پالیسی بیان فوج کی نظروں سے کیسے اوجھل رہ گئے۔“(جماعت اسلامی)نومبر 2013 میں ایک ٹی و ی پروگرام کے دوران اس وقت کے امیر جماعت اسلامی سید منو ر حسن کے مشہور متنازعہ بیان کہ “اگر کوئی امریکی فوجی شہید نہیں کہلایا جا سکتا تو پھر اس کا ساتھ دینے والا پاکستانی کیسے شہید ہو سکتا ہے، اہلِ علم کو اس پر سوچ بچار کرنی چاہیے”، کے بعد ملک بھر میں بھونچال آگیا۔ مذمتوں اورتنقید کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ جماعت اسلامی کی قیادت کو ایک قدم پیچھے آنا پڑا۔

کچھ ہفتوں بعد ان بیانات سے پیدا ہونے والی حدّت میں کمی آئی تو دونوں جانب سے اعتماد کی بحالی کیلئے کوششوں کا آغاز ہوا۔ مشترکہ دوستوں نے اختلافات کو بھلا کر آگے چلنے کی تدابیر شروع کر دیں۔ انہی دنوں میں منصورہ میں ایک اعلیٰ سطحی ملاقات طے پائی تاکہ اختلافات کی برف کو پگھلا کر معاملے کو رفع دفع کیا جائے۔ ایک رات نماز عشاء کے بعد منصورہ میں ستاروں سے مزین دو صاحبان شجاعت کی آمد ہوئی۔ مہمانان خصوصی کا استقبال منصورہ کے گیسٹ ہاؤس ’دارالضیافہ‘ میں کیا گیا۔صاحبانِ شجاعت اپنے ہمراہ پھولوں کا گلدستہ، پھلوں کے ٹوکرے اور مٹھائی بطور تحفہ لائے تھے جو گرم جوشی کے ساتھ پیش کر دئیے گئے۔ چند ایک افراد کی موجودگی میں سید منور حسن سے ملاقات کا آغاز ہوا اور حال احوال کے بعد صاحبانِ شجاعت نے ماحول کو خوشگوار بنانے کیلئے کہا کہ جو ہونا تھا ہو گیا۔ اب تلخیاں اور غلط فہمیاں ختم کرتے ہوئے نئے آغاز کیلئے گیند آپ کے کورٹ میں ہے۔

یہاں سے ملاقات کے ماحول میں تبدیلی کا آغاز ہوا۔ سید منور حسن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں بھی یہی سمجھتا     ہو ں کہ گیند تو آپ کے کورٹ میں ہے اور یہ رویہ مناسب نہیں کہ معاملات کو حل کئے بغیر آگے چلا جائے، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسے حساس موضوعات پر جنہوں نے غلطیاں اور بے وفائی کی، انکو بھول کر آگے کیسے بڑھا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی سید منور حسن نے سوال کیا کہ ”صاحبانِ شجاعت‘‘ کیا آپ کو نیند آ جاتی ہے؟ اس سادہ سے سوال کا سادہ جواب آیا کہ جی ہاں اللہ کا شکر ہے مناسب نیند آتی ہے۔ منور حسن کے مزاج کو جاننے والے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ اتنا سادہ سوال نہیں تھا۔ سوال میں ایک کاٹ دار طنز چھپا تھا جسے سید منور حسن نے ایسے بیان کیا کہ مجھے تو نیند بڑی مشکل سے آتی ہے، عبدالقادر مُلّا (بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے رہنما جنہیں اُن دنوں کچھ روز پہلے پھانسی دے دی گئی تھی) کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ وہ مجھ سے سوال کرتا ہے کہ کیا ریاستِ پاکستان کا ساتھ دینے والوں کو پاکستان اس طرح بے بس اور لاچار چھوڑ دیتا ہے۔ جو ریاست کے کندھے سے کندھا ملا کر چلے اور پاکستان کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دے، کیاآپ انکے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔

اس پر جواب آیا کہ آپ کے جذبات اور رائے کی قدر ہے۔ ایسی بات نہیں ہے، بین الاقوامی معاملات میں کئی پیچیدگیاں ہوتی ہیں لیکن ہم ان کیلئے بہت کچھ کر رہے ہیں۔ منور حسن نے اپنے روایتی طنزیہ لہجے میں کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ لوگ کچھ کر رہے ہوں اور وہ نظر ہی نہ آئے۔آج تک دنیا میں جو بھی آپ کر رہے ہیں وہ تو سب کو نظر آتا ہے، آپ فرمائیں تو میں کئی مثالیں پیش کر سکتا ہوں۔ ملاقات کے آغاز میں ہی ہونے والی اس بدمزگی کو کم کرنے کیلئے جماعت اسلامی کے ایک رہنما نے فریقین کو ٹھنڈا کرنے کیلئے موضوع کو بدلنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش بھی ناکام رہی۔

اس کے بعد کشمیر پالیسی میں تبدیلی، لاپتہ افراد اور فوجی آپریشن پر بھی سید منور حسن نے کچھ ایسے ہی تلخ اور طنزیہ خیالات کو اظہار کیا کہ افغانستان اور کشمیر میں ہم نے آپ کا مکمل ساتھ دیا لیکن بعد میں جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ جس پر انہیں مختلف دلائل اور حقائق پر مبنی مناسب جوابات دئیے گئے، جس میں پاکستان کو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر درپیش مشکلات کی وجہ سے پالیسی میں تبدیلی کا تذکرہ بھی کیاگیا لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ خوشگوار مستقبل کی شروعات کیلئے ہونے والی ملاقات کا موڈ بالکل بدل چکا تھا۔ ماحول میں کشیدگی بڑھنے پر ملاقات کیلئے آنے والوں نے اجازت چاہی جو انہیں فورا مل گئی۔ میزبان نے رسمِ دنیا نبھانے کیلئے یہ بھی نہ کہا کہ کچھ دیر اور تشریف رکھیں۔شائد اس دن سید منور حسن ساری کشتیاں جلا چکے تھے۔ ’آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں، ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی‘کے مصداق جاتے جاتے کچھ اور نوک دار چبھتی ہوئی باتیں بھی ہوئیں۔ ملاقات کا طے شدہ دورانیہ ایک گھنٹہ تھا لیکن دس سے پندرہ منٹ میں ملاقات اس انداز میں اختتام کو پہنچی کہ سامنے پڑی چائے کی پیالیاں آدھی سے زیادہ بھری ہوئی تھی۔تازہ پھولوں کا گلدستہ، مٹھائی اور پھلوں کے ٹوکرے وہیں دھرے کے دھرے رہ گئے۔

اس ملاقات سے اطراف میں پیدا ہونے والے کشیدگی میں اور اضافہ ہو گیا۔ سید منور حسن کے لائیو ٹی وی انٹرویوز پر غیر اعلانیہ پابندی لگ گئی۔ بعد ازاں غیر محسوس انداز میں ایسی اور بھی اندرونی و بیرونی پابندیاں لگائی گئیں اور واضح پیغام دیا گیا کہ سید منور حسن کا نام اب نا قابل قبول فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ ملاقات میں ہونے والی گفتگو اوراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کی ایک سے زائد ذرائع نے تصدیق کی۔ امیر جماعت اسلامی کے عہدے سے فارغ ہونے کے بعد سید منور حسن نے بھی اپنے قریبی دوستوں سے اس ملاقات کا تذکرہ کیا۔ سید منور حسن سے قربت رکھنے والے جماعت اسلامی کے ایک رہنما نے بھی اس کی تصدیق کی اور انکے مطابق اس ملاقات میں کسی رسمی شیریں کلامی کی نوبت ہی نہیں آئی اور توقع سے کہیں زیادہ سخت باتیں ہوئیں۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے سو دن بعد سید منور حسن کو امیر جماعت اسلامی کے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جماعت اسلامی کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ نامزد امیدواروں کی فہرست میں ہونے کے باوجود، موجودہ امیر کی جگہ کسی اور کو اس عہدے کے لیے منتخب کر لیا گیا۔

2014میں سید منور حسن پر”مائنس ون فارمولا“ کے کامیاب تجربے کے بعد ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین، پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے روح رواں آصف علی زرداری پر اس فارمولے کو آزمایا گیا جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...