کیا پارلیمنٹ واقعی سپریم ہے؟

244

برطانوی پارلیمنٹ کو دنیا بھر کی پارلیمانوں کی ماں کہا جاتا ہے۔ جمہوری اداروں کا جنم اور ارتقاء اپنے دامن میں کئی نشیب و فراز کا امین ہے۔ اقتدار ِ اعلیٰ کے مغربی تصورات بادشاہت سے نکل کر ان اداروں کی امانت بنے۔ اس سفر میں کبھی بادشاہوں کے سر قلم ہوئے تو کبھی پارلیمانی اداروں کو نذرِ آتش کیا گیا ۔

برصغیر پاک و ہند میں پارلیمانی ادارے نو آبادیاتی دور میں پہنچے، اگرچہ لوگوں سے مشاورت کامقامی نطام پنچایئت یا مقامی مجلسوں کی صورت موجود تھا۔ برصغیر کی تقسیم میں دیگر عوامل کے علاوہ ایک بڑا محرک کانگرس اور مسلم لیگ کا مستقبل کے دستوری خاکہ اور صوبوں کے اختیارات کے حوالے متضاد نکتہ نظر بھی تھا۔اس طرح آزادی کے لمحوں میں پارلیمانی ادارے  کا بھی بٹوارہ ہوا۔ 1946 کے انتخابات نے تقسیم کی راہ ہموار کی تو دو علیحدہ مملکتوں کے قیام کا فیصلہ برطانوی پارلیمنٹ کے “آزادی ایکٹ 1947” کے ذریعے ہوا۔ نیز تاجِ برطانیہ نے اقتدار بھی 14 اگست 1947 کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے کراچی میں منعقدہ اجلاس میں پاکستان اور 15 اگست 1947 کو انڈیا کی دستور ساز اسمبلی کے دلی میں منعقدہ اجلاس میں انڈیا کے حوالے کیا۔

پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا صدر بلا مقابلہ منتخب ہونے پر قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کو اپنے تاریخی خطاب میں اسمبلی کو “مقتدر ادارہ” قرار دیا۔ جوکہ بعدازاں مولوی تمیز الدین کیس میں اعلیٰ عدلیہ کی نظر میں “غلطی” قرار پایا۔ 12 مارچ 1949 کو منظور ہونے والی قرارداد مقاصد میں اقتدار اعلیٰ کو کوڈیفائی کرکے کہا گیا کہ ” چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلاشرکت ِ غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا۔ وہ ایک مقدس امانت ہے۔”

اسی قراردار میں درج ہے کہ “چونکہ پاکستان کے جمہور کی منشاء ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے، جس میں مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب کردہ نمائندوں کو ذریعے استعمال کرے گی”۔ گویا کہ پارلیمنٹ مقتدر سے سپریم ہوگئی تاہم سبھی کچھ عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ہونا تھا اور انہی کی رائے اور فیصلوں کو حتمی ہونا تھا لیکن آج آزادی کے بعد 73 سالوں میں سفر کی رائیگانی کا شمار کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہماری قومی زندگی میں 20 سال ایسے ہیں جب پارلیمنٹ کا وجود بھی نہ تھا۔ جبکہ 17 سال ایسے تھے جب فوجی حکمرانوں کے نیچے مجبور اور کمزور پارلیمنٹ تھی ۔ یعنی ہائبرڈ نظام تھا۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ پھر بھی ساری قومی بھول بھلیوں اور کوتاہیوں کا الزام اہل سیاست اور جمہوری اداروں کے سر تھوپا جاتا ہے۔

30 جون کو دنیا بھر میں پارلیمنٹرن ازم کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ آج یہ دن مناتے ہوئے خوش آئند پہلو یہ ہیں کہ 2002  کے بعد ہمیں ایک پارلیمانی تسلسل نظرآتا ہے جبکہ اس عرصے میں کسی وزیراعظم نے اپنی ٹرم مکمل نہیں کی ۔ 1985 میں صدر مملکت بھی دستوری اعتبار سے پارلیمنٹ کا حصہ ہیں لیکن انہوں نے 4 مرتبہ عوام کی منتخب اسمبلیوں کو قبل ازوقت گھر بھیجا۔ جب اس دستوری شق کا خاتمہ کردیا گیا جو صدر کو اسمبلیاں توڑنے اختیار دیتی تھی، تو عدالتی فعالیت دو وزرائے اعظم کو کھاگئی ۔ پارلیمانی تاریخ سے دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ “اراکین کا وہ رجسٹر ” جس پر بانی ء پاکستان نے بطور رکن دستخط کئے تھے اس کا سراغ نہیں ملتا ۔ پارلیمانی آرکائیوز کا کلچر بھی ابھی نوزائیدہ ہے۔ اگرچہ سینٹ میوزیم ، دستور گلی اور گمنام شہداء کی یادگار بنی لیکن کوئی باقاعدہ پارلیمانی میوزیم نہیں بن سکا۔

الیکشن 2018کے بعد پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے پارلیمانی خدمات کے سربراہ کے طور پر میں نے نئی پارلیمنٹری کیمونٹی کے بارے میں ریسرچ کروائی تھی تو خوشگوار حیرت ہوئی تھی کہ 103اراکین ینگ پارلیمنٹرین کی صف میں تھے جو کہ کل تعداد کا 30 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ47 فیصد پچاس سال سے کم عمر تھے۔ اس پارلیمنٹ کا تعلیمی کیپیٹل بھی منفرد تھا۔ 5اراکین پی ایچ ڈی،4 ایم فل، 4 ایل ایل ایم، 44 ایل ایل بی،19 میڈیکل ڈگری،10 انجینئر، 84 ایم اے، ایم ایس سی، جبکہ130 بی اے بی ایس سی تھے۔ فقط20 میٹرک پاس اور2پرائمری پاس تھے۔اگرچہ تعلیم یا ڈگری رکن پارلیمنٹ بننے کے لئے شرط نہیں لیکن اس قومی اسمبلی میں بے شمار ٹیلنٹ نظرآیا۔ بدقسمتی سے اسے بھرپور استعمال نہیں کیا گیا اور باہر سے ٹیکنوکریٹک  صلاحییتوں کو آزمایا گیا۔ اسی سے ملتی جلتی صورتحال سینٹ آف پاکستان میں تھی۔

دستور پاکستان کے مطابق پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے۔ وہ نہ صرف دستور کے ذریعہ انہیں جنم دیتی ہے بلکہ انہیں وسائل بھی اسی کی منظوری سے ملتے ہیں۔ پارلیمانی اسکروٹنی بھی اسی ادارے کی کمیٹیوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ سچ پوچھیں تو آئین میں اور کاغذ پر پارلیمانی اداروں کے اختیارات بے شمار ہیں لیکن سرزمین پر یہ سب کچھ سکڑا سکڑا نظر آتا ہے۔ اگرپارلیمنٹ ہی سیاست کا مرکزی اسٹیج بنے گی اور ہر اہم معاملہ یہاں طے ہوگا تو ملک عوامی امنگوں کے مطابق ترقی اور خوشحالی کی سفر بہتر انداز میں طے کرے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...