جاہل عوام اور پڑھی لکھی حکومتیں

297
لیجئے حضور، غربت، عسرت، بے روزگاری، بھوک، سیاسی ابتری، سماجی و طبقاتی تفریق، معاشی عدم مساوات، تعلیمی و طبی پس ماندگی اور معاشرتی بدحالی اعزازنے کے بعد عوامِ پاکستان کے سینے پر حکومتِ وقت نے جہالت کا تمغا بھی سجا دیا ہے۔ ویسے تو روزانہ کی بنیاد پر فرمانروائے حال، اپنی آمد و رفت پر لگائے گئے شاہی روٹوں، سرکاری دفاتر، ہسپتالوں، تھانوں، کچہریوں میں متعین مشاق، اعلی تربیت یافتہ اور عمدہ اخلاق و کردار کے مالک اہلکاروں کے زریعے قوم کی عزتِ نفس میں خاطر خواہ اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن آج تو کمال ہو گیا ہے، وزیرِ صحت پنجاب محترمہ، مکرمہ، عالمہ، فاضلہ، شیریں سخن، طلیق اللسان، متبحر و اعلم جناب یاسمین راشد صاحبہ نے قوم کی جہالت کا برسرِ عام سرکاری سطح پر اعتراف کر کے، اسے اقوامِ عالم میں زبردستی ایک منفرد مقام دلا کر عوامِ پاکستان کی عزت اور غیرتِ قومی میں ناقابلِ تلافی اضافہ کر دیا ہے۔
یہ الہامی سچائی بروقت طشت از بام کرنا اتنا ضروری تھا کہ وزیرِ صحت نے کرونا کے خلاف جنگ میں اپنی انتہائی شدید ترین قسم کی مصروفیات کے باوجود وبا اور معاشی قضا کے شکار لاوارث عوام کی دلجوئی، دلداری اور تالیفِ قلب کے لئے وقت نکالا اور جاہل کا لقب عطا کر کے ان کے دل جیت لئے۔ وبا کے دنوں میں ذہنی تناؤ کی شکار قوم پر یقیناً اس گراں بہا اعزاز کے نہایت خوش گوار اثرات مرتب ہوں گے اور وہ یقیناً خود کو ہلکا محسوس کرے گی۔
وزیر با تدبیر نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ ایسے ہوتے ہیں وزیرِ صحت اور یہ ہوتے ہیں اس کے اصل و اصیل فرائض۔ فقط ایک جملے سے پوری قوم کی طبیت درست کردی اور حقِ وزارت ادا کر دیا۔ جس اعتقاد اور تیقن سے اس دخترِ پاک اختر نے عوام کو جاہل کہا ہے امید ہے بوقتِ انتخابات ان سے ووٹ مانگتے ہوئے بھی اسی بے باکی اور ایمان داری سے مذکورہ حقانیت کا اعلان کریں گی۔
اس فرمانِ عالی شان کی وجہ خاصی معقول ہے۔ دورانِ وبا قوم نے حکومت کی جاری کردہ احتیاطی تدابیر کو یکسر نظر انداز کیا جس سے کرونا کے مریضوں کی تعداد اتنی بڑھی کہ سرکار کے لئے اتنے مریض سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ صورتِ حال تو واقعی ایسی ہے جس پر کوئی بھی باشعور انسان برافروختہ ہوگا۔ بالخصوص حکومتِ وقت کا غصہ تو بالکل بجا ہے۔ ایک عالم گواہ ہے کہ کس تن دہی، لگن، جاں فشانی اور زمہ داری سے سرکار نے پرجا کو کرونا کی وبا سے بچانے کے لئے بروقت اور بےنظیر اقدامات کئے لیکن یہ اجڈ قوم حکومت کے اعلی ترین حفاظتی انتظامات کے باوجود کرونا ملک میں گھسیٹ لائی۔ پبلک کی اس بھیانک خطا کو انسان دوست گورنمنٹ نے نا صرف صدقِ دل سے معاف کر دیا بلکہ ملک میں وبا کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لئے انقلابی قدم اٹھایا اور نالائق عوام کے لئے تفصیلی احتیاطی تدابیر بھی جاری کردیں۔ مگر نتیجہ پھر وہی ڈھاک کے تین پات۔
کرونا کی پاکستان میں آمد کے ساتھ ہی وزیرِاعظم مع کل کابینہ بغیر وقت ضائع کئے ماسک پوش ہو گئے، آخر کیوں، بھئی فقط عوام کی تربیت کے لئے۔ ٹیلی ویژن سکرینیں شاہد ہیں کہ وزیراعظم، وزراء اور سرکاری عمال ہمیشہ ماسک پہنے مقررہ سماجی فاصلہ رکھے نظر ائے۔ قوم پھر بھی نصیحت نہ پکڑے تو کیا کرے بیچاری حکومت۔ اور یہی نہیں روزانہ کی بنیاد پر وزیراعظم قوم کو بتاتے رہے کہ یہ وبا انتہائی خطرناک ہے جس نے بڑے بڑے پہلوان ملکوں کو چت کر دیا ہے۔ ہمارے پیارے پرائم منسٹر نے اپنی احمق عوام کو یہ بھی سمجھایا کہ اس وبا سے ان ملکوں میں بھی بے تحاشا اموات ہوئی ہیں جہاں خالص اور متوازن خوراک اور صحت مند طرزِ زندگی کی وجہ سے لوگوں میں قوتِ مدافعت بہت زیادہ ہے۔ لہذا ہم جیسے غریب ملکوں کی مریڑی عوام کرونا سے زیادہ متاثر ہوگی۔ لوگوں کو سرکاری سطح پر مسلسل باور کرایا گیا کہ آلودہ آب و ہوا میں رہ کر، الم غلم خوراکیں، مٹی کٹا کھا کر اور غیر مصفا پانی پی کر اس غلط فہمی میں مت رہنا کہ کرونا تمہیں کچھ نہیں کہے گا بلکہ ان حالات میں قوتِ مدافعت کم ہوگی لہذا جانی نقصان بھی زیادہ ہوگا۔
عوام دوست اور ایثار کیش حکومت جاہل قوم کی طبی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے مسلسل سرکاری ٹی وی پر اشتہارات چلاتی رہی کہ خدارا ہوش کریں کرونا محض معمولی زکام نہیں ہے، یہ صرف بوڑھوں اور بیماروں ہی پر حملہ آور نہیں ہوتا بلکہ جوانوں اور بچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ سرکار لوگوں سے التجائیں کرتی رہی کہ اس خوش فہمی سے نکل آئیں کہ موسم زیادہ گرم ہوگا تو کرونا اس سے ختم ہو جائے گا۔ اور یہ بھی غلط ہے مسلمانوں کہ ملکِ خداداد کا کرونا مغرب پر حملہ آور کرونے سے بہت ماڑا ہے اور قدرت نے ہمارے عمدہ اعمال کی وجہ سے پاکستان میں اس وائرس کی کمزور نسل بھیجی ہے تا کہ امت مسلمہ کا کفار کے مقابلے میں کم نقصان ہو۔ ہمارے عزیز از جان وزیراعظم بھی کوڑ مغز عوام کی مندرجہ بالا خوش فہمیاں مثالیں دے دے کر ختم کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے لیکن جاہل قوم باز نہ آئی۔
کرونا کے خلاف حکومتِ وقت کا سب سے قابلِ تعریف عمل پوری قومی یگانگت کے ساتھ ایک یونیفارم پالیسی ترتیب دینا ہے۔ وفاق کی صوبوں کے ساتھ بالخصوص صوبہ سندھ کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون بلاشبہ مثالی ہے۔ وفاق اور صوبوں میں اتفاقِ رائے کی سب سے روشن مثال لاک ڈاؤن کا فیصلہ تھا۔ وزیراعظم نے لاک ڈاؤن سے ایک روز قبل صوبوں اور وفاق میں ہم آہنگی کی پرکشا لینے کا فیصلہ کیا اور اعلان کر دیا کہ ان کا لاک ڈاؤن کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ صوبے لیکن موصوف کے بیان میں مخفی معانی جان گئے اور لاک ڈاؤن کر کے وزیراعظم کا دل جیت لئے۔ اب قوم اپنی نااہلی کی بدولت تذبذب کا شکار ہوتی ہے، تو رہے ہوتی، اس میں حکومت کا بھلا کیا قصور ہے۔
کرونا کے خلاف وفاق اور صوبائی حکومتوں کی شبانہ روز کاوشیں اپنی جگہ لیکن اس تناظر میں صدرِ پاکستان کا تذکرہ نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ حضور پر نور نے رمضان کے آخری عشرے میں اپنی دبنگ انٹری دی اور عوام کو بتایا کہ آپ لاوارث نہیں ہیں، میں ہوں نا۔ صدر مملکت نے ملک اور عوام کے وسیع تر مفاد میں، ڈاکٹروں کے ترلوں، منتوں کو پاؤں تلے روند کر وبائی حالات کے تقاضوں کے عین مطابق علماءِ ملتِ بیضا سے ایک تاب ناک معاہدے کے زریعے تراویح کی اجازت دے کر اپنی دین و دنیا سنواری اور تاریخ میں ہمیشہ کے لئے اپنا نام روشن کر لیا۔ اس مرحلے پر عادلوں نے بھی قوم کو تنہا نہیں چھوڑا اور عید پر عوام کو شاپنگ کی سہولت فراہم کر کے اس کا اجتماعی شعور بلند کرنے کی اپنی سی کوشش کی۔ اعلی عدلیہ کے فیصلے کے منفعت بخش اثرات جون کے پہلے ہفتے ہی میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے جن کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ افسوس کہ جس قوم کا شعور اجاگر کرنے میں تمام ریاستی اداروں نے بمطابق جثہ اپنا حصہ ڈالا، وہ پھر جاہل کی جاہل ہی رہی۔ صد حیف۔
اس بحرانی صورتِ حال میں حکومت کے واضح، حتمی، قطعی اور دو ٹوک فیصلوں کے باوجود عوام میں تذبذب اور غلط فہمی کی فقط ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے: جہالت۔ جو قوم اپنے وزیراعظم، اس کی کابینہ، صوبائی عمال اور سرکاری افسران کو وبا کے ابتدائی دنوں سے آج تک ہمہ وقت WHO اور حکومتِ پاکستان کی جاری کردہ احتیاطی تدابیر کی تفسیر بنا دیکھ کر بھی ان ہدایات پر عمل نہیں کرتی، وہ جاہل نہیں تو اور کیا ہے۔ اور حکومتِ وقت ہی کیوں وطنِ عزیز کے قیام سے لے کر اب تک جو بھی حکومت آئی، چاہے اسے اس احمق عوام نے منتخب کیا ہو یا وہ ان جاہلوں سے رائے لئے بغیر حاضرِ خدمت ہوئی، اس نے سب سے مقدم اس اجڈ قوم کی تعلیم ہی کو رکھا۔ ان حکومتوں کے پیش کئے گئے بجٹ میں تعلیم کے لئے مختص بے پناہ رقم بطور ثبوت پیش کی جاسکتی ہے۔
مذکورہ بالا حکومت ہائے نے عوامِ پاکستان کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے فقط صرفِ کثیر کے چراغ ہی روشن نہیں کئے بلکہ ہر لحظہ قوم کے سیاسی، تعلیمی، سماجی، معاشی اور معاشرتی شعور کو بلند کرنے میں مستغرق رہیں۔ لیکن یہ لوگ سدھرنے والے کہاں ہیں۔
حکومتِ وقت جانِ عزیز وزیراعظم کی سربراہی میں گزشتہ حکمرانوں والی غلطی پھر دہرا رہی ہے اور قوم کی جہالت کے درپے ہے۔ حالیہ میزانیے میں تعلیم کے بجٹ میں ہوش ربا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ اس حکومت نے بھی عوام کی جہالت کو نیست و نابود کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کی نیت، عمل اور دیگر اقدامات سے ہمیں یقین ہے کہ اس کوشش میں یہ ناکام ہرگز نہیں ہوگی۔ خدا خیر کرے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...