تین بنیادی اقدامات جس نے نیوزی لینڈ میں کرونا وبا کو شکست دی۔

486

 

پچھلی قسط میں نیوزی لینڈ میں کرونا وبا خاتمہ کا جائزہ لیا، اس قسط میں تین بنیادی اقدامات کو تفصیل سے دیکھتے ہیں جس نے نیوزی لینڈ میں کرونا وبا کا خاتمہ کیا۔

1- مکمل منصوبہ کے ساتھ سرحدوں اور لاک ڈاؤن پر بروقت فیصلے:

28 فروری سے پہلے وبا سے نپٹنے کے مختصر وقت میں نیوزی لینڈ کو وبا کی تخفیف یا خاتمے میں سے ایک انتخاب کرنا تھا۔ وبا کے خاتمے کی حکمت عملی کے زیادہ فوائد ہیں؛ اگر جلد شروعات کی جاۓ تو اس کے نتیجے میں بیماری اور موت کو کم کر کے جلد  محتاط طور پر معاشی سرگرمیوں کی واپسی ہو سکتی ہے.

نیوزی لینڈ نے سرحدوں پر نگرانی کا آغاز پہلا مریض رپورٹ ہونے سے پہلے اور 100 کے قریب مریضوں پر اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ 19 مارچ کو سرحدوں کو بند کیا۔ لاک ڈاؤن سے پہلے ہی حکومت نے ابتدائی طور پر 12.1 بلین ڈالر کا کووڈ -19معاشی رسپانس پیکیج کا اعلان کیا۔ یہ پیکیج نیوزی لینڈ میں صحت کی سہولیات، کمزور طبقہ اور روزگار کی حفاظت، اجرت سبسڈی دی گئی۔ حکومت کی طرف سے براہ راست موصولہ امداد سے ملازمتوں اور متاثرہ کاروبار کو برقرار رکھنے میں مدد ملی۔

کووڈ سے پہلی موت واقع ہونے سے پہلے ہی نیوزی لینڈ نے وائرس کے خاتمے کی حکمت عملی کے طور پر چار درجہ انتباہ کا نظام متعارف کرایا۔ 25 مارچ کی شام سے درجہ چار کا نفاد ہوتے ہی قومی ایمرجنسی کا بھی اعلان ہو گیا۔ دنیا کے سخت ترین لاک ڈاؤن کے موثر نفاد کے لئے پولیس کو اضافی اختیارات بھی مل گئے۔

شہریوں کو گھر میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔ صرف ضروری کام جیسا کہ چہل قدمی، ڈاکٹر اور ضروری سامان کے لئے ہی گھر سے نکلا جا سکتا ہے۔ تقریبا تمام کاروبار بند رہے، صرف زندگی کی ضروریات کو یقینی بنانے کے لئے انتہائی ضروری کاروبار، سپر مارکیٹوں اور فارماسیوں کو کھلا رکھا گیا۔  لاک ڈاؤن کے نفاذ کو کامیاب بنانے کے لیے عوام میں آگاہی کے ساتھ سخت سزائیں بھی دی۔ وزیر صحت ڈیوڈ کلارک کو لاک ڈاؤن کے دوران ساحل سمندر کی سیر اور بائیک چلانے کے بعد حکومت نے کابینہ کی درجہ بندی میں انھیں سب سے نیچے کر دیا اور ان کا ایسوسی ایٹ فنانس کا پورٹ فولیو بھی واپس لے لیا۔

لاک ڈاؤن میں جانے سے پہلے جب وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن پوچھا گیا ‘کیا آپ خوفزدہ ہیں’ ان کا جواب تھا “ہمارے پاس ایک مکمل منصوبہ ہے، جس پر عمل کرتے ہوئے ہم اس وبا سے کامیابی سے نپٹیں گے”۔  آج جیسنڈا آرڈرن کہ سکتی ہیں کہ ان کے منصوبے اور جلد فیصلوں نے سینکڑوں قیمتی جانیں بچائیں۔

2- درست معلومات کا مسلسل پھیلاؤ اور عوامی شمولیت:

صحت اور وبا کے بارے میں اہم پیغامات کو ایک مربوط حکمت عملی کے ذریعے لوگوں تک پہچایا گیا۔

وزیر اعظم روزانہ کی پریس بریفنگ میں پیش ہو کر براہ راست سوالوں کا جواب دیتی رہیں۔ انتباہ لیول اور ایس او پیز کے نفاذ سے کم سے کم ایک ہفتہ پہلے نقطہ بہ نقطہ بریفنگ دی جاتی رہی۔ پورا ہفتہ اس پر بات ہونے سے عوام کی آگہی میں اضافہ ہوتارہا۔ وزیراعظم خود کئی بار اپنے فیس بک پرعوام سے براہ راست سوال بھی لیتی رہیں۔ لگی لپٹی کے بغیر عوام کے سامنے سچ رکھا، ان کے واضح پیغامات پر اعتماد اور تسلی بخش انداز میں عوام تک حقائق پہچائے۔ ان کے پیغامات میں مستقل مزاجی رہی، ایک ہی پیغام ‘صحت اور زندگیاں بچانا’ بار بار دہرایا گیا۔ وبا کے خطرے اور معاشی نقصانات  کے بارے میں کچھ نہیں چھپایا۔  وزیراعظم جسینڈا آرڈرن کی واضح حکمت عملی سے عوام میں کسی کنفیوژن کی گنجائش نہیں بچی۔

معلومات کا پھیلاؤ نہ صرف سرکاری محکموں کی جانب سے تھا بلکہ آجروں، اسپتالوں، اسکول اور یونیورسٹیوں نے بھی اپنے اپنے صارفین کو اطلاعاتی مواد، وبا کے دوران کیے گئے اقدامات اور ہنگامی صورت حال میں لوگ ان کی خدمات کیسے حاصل کر سکتے ہیں ، بروقت پہچائی گئیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ، سڑکوں، عوامی مقامات اور ہر عمارت کے دروازےپر آگہی میٹریل چسپاں کیا گیا۔ بس لائنز کو ختم کر کے فوٹ پاتھ کو سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لئے کشادہ کیا گیا۔

انگلش بولنے والے پچاس لاکھ  کے ملک میں کرونا وبا کا معلوماتی اور آگہی مواد اٹھائیس بین الاقوامی زبانوں میں ترجمعہ کے ساتھ عوام تک پہنچایا گیا۔ عوام تک پہچنے میں کوئی ایسا کمیونیکیشن کا ذریعہ نہیں ہوگا جسے استعمال نہ کیا گیا ہو۔ جسینڈا آرڈن کی “ٹیم اوف ملین” نے “کروناکے خلاف متحد” کے نعرے کو اب “بحالی کے لئے متحد” کے نعرے میں تبدیل کردیا ہے۔

3ٹیسٹیگ، ٹریکنگ، قرنطینہ اور سائنس پر اعتبار: 

نیوزی لینڈ حکومت نے ان تین چیزوں پر بہت زور دیا گیا۔ ایک بار وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد اس شخص کے قریبی رابطوں کا پتہ لگایا جاتا۔ ایک ایک کیس کو ٹریک کر کے سورس تک پہنچ کر پھیلاؤ کو روکا گیا۔ صرف ایک چوتھائی کیس مقامی طور پر منتقل ہوئے، یہ لاک ڈاؤن کی کامیابی کی ہے۔ 22 جنوری سے 11 جون تک تین لاکھ چار ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کو ایک سے زیادہ بار ٹیسٹ کیا گیا جس سے کل ٹیسٹوں کی تعداد زیادہ بنتی ہے۔

نیوزی لینڈ میں داخل ہونے والے ہر فرد کو 14 دن منظم تنہائی یا ائیرپورٹ کے پاس ہوٹلوں میں قرنطینہ کیا گیا۔ قرنطینہ سائٹ پر وزارت صحت کا دفتر، ایک ڈاکٹر، سارا دن اون کال نرسیں اور پولیس موجود رہتی۔ ہر شخص حفاظتی لباس پہنتا اور ہوٹل کی راہداریوں کو جراثیم کُش سپرے سے روزانہ کیا جاتا۔

نیوزی لینڈ میں کرونا وائرس کا خاتمہ ہونے کے باوجود بھی ٹیسٹ جاری ہیں اور آٹھ جون سے اب تک آٹھ ہزار نو سو ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ وائرس کی دوسری لہر کا خطرہ یقینی طور پر موجود ہے، یہ اقدامات دوسری لہر کو روکنے کے لیے جا رہے ہیں۔

وزیر اعظم جسنڈا آرڈین کے لئے سخت اقدامات کرنا آسان نہیں تھا۔ مگر انہوں نے مخالفت کے باجود بھی ماہرین کی رائے کو سرمایہ داروں اور عوام کی خواہشوں پر فوقیت دی گئی۔ اگر حکومت ماہریں کی بنائی گئی حکمت عملی کو اہمیت نہیں دیتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔ جسنڈا آرڈین کے اقدامات سے لوگوں کا اپنی حکومت پر اعتماد میں اضافہ ہوا۔ ایک سروے کے مطابق، 88 فیصد کیویز حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں ۔

نیو زی لینڈ کی کامیابی سے پاکستان کیا سیکھ سکتا ہے؟  

بحران نظام اور قیادت کی اصلیت کا پتا دیتے ہیں۔  وہ عوامل جو عام حالات میں ظاہر نہیں ہوتے، قومی آفات میں کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔

اس وبا میں پاکستان کا موازنہ یقینی طور نیوزی لینڈ سے نہیں ہے۔حکومت پاکستان کے وسائل اور پہلے سے تیاری میں کمی کے باوجود بھی ایسے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں جن سے عوام کو کرونا وبا سے محفوظ رکھا جا سکتا تھا۔ کم وسائل میں سری لنکا، ویتنام اور ایتھوپیا نے وبا سے نمٹنے کے لئے جلد فیصلہ کن اقدامات اور مؤثر منصوبہ بندی سے کامیابی حاصل کی۔

وطن واپس آنے والوں کے ٹیسٹ، کونٹکٹ ٹریسنگ اور قرنطینہ کا موثر انتظام موجود ہوتا تو وائرس بلاروک ٹوک نہیں پھیلتا۔ جلد وائرس کی روک تھام پر وسائل صرف کیے جانے سے بعد میں زیادہ مہنگے اقدامات سے بچا جا سکتا تھا۔ پاکستانی قیادت کے وبا پر غیر واضح موقف، قرنطینہ میں لاپرواہی، وائرس کے پھیلاؤ میں لاعلمی کی بھیانک قیمت اب عوام ادا کررہے ہیں۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...