آمنہ مفتی کا ناول “پانی مر رہا ہے” : اردو ناول مر رہا ہے

1,030

موسمی نقادوں اور مبصروں نے عظیم، اہم، رجحان ساز، شاندار اور عمدہ ناول جیسی اصطلاحات کو ان کے بے موقع و بے محل کثرتِ استعمال سے بے وقعت اور حقیر کر دیا ہے۔  قارئین ان صاحبان کے جھوٹے تبصروں اور گمراہ کن آراء کی بدولت ناقص ادب پڑھ پڑھ کر اپنا ہاضمہ خراب کر چکے ہیں۔ ایسے پرکھیا اور مفتیانِ نقد صرف قارئین کا ذوقِ ادب ہی ذبح نہیں کر رہے بلکہ کمزور اور خراب لکھنے والوں کی ناحق مدح سرائی کر کے انہیں اپنی سقیم تحریروں کو بنچ مارک سمجھ لینے پر راغب بھی کر رہے ہیں۔ ایسے شاندار ادب کو ان مہربان بزرگوں کی وجہ سے آئندہ کے لئے بھی معیار بنا لینے سے، ظاہر ہے کہ یہ پروموٹڈ لکھاری مستقبل میں بھی ایسا ہی مہتم بالشان لکھیں گے اور محنت و ریاضت جیسی آلائشوں سے خود کو پاک رکھ کر اردو ادب کی مزید خدمت کرتے رہیں گے۔ کاش یہ فصلی ماہرینِ فن اور پارکھ جان پاتے کہ درست تنقید سے کسی کتاب کی اہمیت ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کا صحیح مقام متعین ہوتا ہے۔ نقاد کا کام خزف ریزوں کو لعل و گہر سے الگ کرنا ہوتا ہے، انہیں لعل و گہر ثابت کرنا نہیں۔

اردو ادب کو گھن کی طرح کھاتے انہی مہربانانِ سخن کی کرم فرمائیوں کا نتیجہ ہے کہ آج خراب لکھنے والے سرِ عام دندناتے پھر رہے ہیں اور اچھے ادیب گمنام گوشوں میں پناہ گزین ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ مبصرین اصل میں، وہ گورکن ہیں جو اردو ادب کو زندہ دفنا رہے ہیں۔

آمنہ مفتی کے ناول ” پانی مر رہا ہے” کو بھی ان ہنگامی تبصرہ نگاروں نے سر پر اٹھا لیا ہے جو کہانی، کردار نگاری، زبان اور تکنیک کے اعتبار سے ایک کمزور ناول ہے۔ چار دانگ عالم اس پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں اور پر فریب اصطلاحات اور خطابات سے مزین مضامین کے زریعے اردو ادب کے قارئین کو ورغلایا جا رہا ہے۔ کسی نے کیا عمدہ الفاظ میں اس صورتِ حال کی تشریح کی ہے: ” یہ ہمارے دور کا المیہ نہیں تو کیا ہے کہ میلان سازی نقاد کر رہا ہے فنکار نہیں”۔ فرض تو ان بزرگانِ فنِ کا یہ ہے کہ ناول کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مصنفہ کی رہنمائی کریں تا کہ وہ آئندہ بہتر ادب تخلیق کرے۔ لیکن افسوس کہ میرانِ کارواں نے رہنمائی کے بجائے ادبی رہزنی کا انتخاب کیا ہے۔

مزید بات کرنے سے پیشتر ناول کی کہانی کی طرف چلتے ہیں جو میاں اللہ یار کے “بیٹے” اسرار کے گاؤں آنے سے شروع ہوتی ہے۔ اسے شہر میں وکیل بننے کے لئے بھیجا گیا تھا لیکن وہ عجیب و غریب حلیہ بنائے واپس آیا ہے۔ اس کے چھ سوتیلے بھائی بھی ہیں جن میں مینا بقول مصنفہ “کانا لیکن بہت سیانا” بھی شامل ہے لیکن پورے ناول میں، اللہ کے فضل و کرم اور مصنفہ کی سہوِ قلم سے وہ ایک بھی ایسا فعل یا بات نہیں کرتا جس سے سیانے پن کا دھوکا بھی ہوتا ہو۔ خیر مینے کی بیوی شاماں یسیر اسرار کو پالتی ہے۔ گھر آتے ہی اسرار کو سانپ ڈس لیتا ہے۔ بغرض علاج اسے ڈسٹرکٹ ہسپتال لیجایا جاتا ہے لیکن ڈاکٹر اس کی زندگی سے مایوس ہوتا ہے لہذا اب اسے بھوریوں والے کلے میں جوگی کی کٹیا لے جایا جا ریا ہے، یہ ناول کے باب نمبر 4 کے دوسرے صفحے، جو ناول کا بارہواں صفحہ ہے، کا واقعہ ہے۔ یہاں یہ واقعہ ادھورا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ وہ بیچارہ، زندہ، جوگی کی کٹیا تک پہنچے گا بھی یا نہیں اور پہنچے گا تو وہاں کیا ہوگا، قاری کو تو ان سوالوں کے فوری جوابات سے دلچسپی ہو سکتی ہے لیکن مصنفہ کو قطعاً کوئی جلدی نہیں۔ لہذا صفحہ نمبر 12 سے بھوریوں کے کلے میں جوگی کی کٹیا کی طرف لےجایا جانے والا اسرار باب نمبر 23, صفحہ نمبر 84 میں وہاں پہنچتا ہے اور اس وقت تک قاری کو یہ واقعہ فراموش کراتے ہوئے اسے کہانی کے کسی اور موڑ پر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔

بہرحال اس واقعے کو بیچ منجدھار چھوڑ کر، مصنفہ کہانی کو ماضی میں لے جاتی ہے اور بھوریوں والے کلے کی داستان سنانا شروع کر دیتی ہے جو دو اڑھائی ایکڑ چوڑا اور تقریباً اٹھارہ سے انیس ایکڑ لمبا ریتیلا ٹکڑا ہے اور دریائے بیاس کی پرانی گذرگاہ ہے۔ میاں اللہ یار اس سرکاری رقبے کو قابلِ کاشت بنانا چاہتا ہے۔ وہ اپنے بیٹے مینے کے ساتھ بھوریوں والے کلے جاتا ہے جہاں ایک جنگل سؤر اسے زخمی کر دیتا ہے۔ ایک جوگی اس کی جان بچا کر اسے اپنی کٹیا میں لے جاتا ہے۔ جوگی میاں اللہ یار کا علاج کرتا ہے لیکن اس کی شناخت کو جھٹلا دیتا ہے جس پر وہ غصے میں اپنے ڈیرے واپس لوٹ آتا ہے۔ اس سے آگے اسرار کی پیدائش اور اس کی ماں فضل بی بی کی موت کا بیان ہے۔

اسرار کو دودھ پلانے کے لئے ایک بیتل بکری لائی جاتی ہے جس کے ساتھ دو میمنے الیل من اور بلیل من بھی ہوتے ہیں۔ لیکن شاماں اس کی دیکھ بھال اپنے ذمے لے کر مینے کے ذریعے بکری مع میمنے بھوریوں والے کلے کے ذخیرے میں بھیج دیتی ہے۔

یہاں سے محیرالعقول واقعات کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو آخر تک ناول کی جان نہیں چھوڑتا۔ آما موچی اور غفور آرے والا ذخیرے میں بکری کا دودھ چوری دوہنے آتے ہے وہاں دونوں میمنے الیل من اور بلیل من ان پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اور غفورے کو بقول مصنفہ “بھنبھوڑ بھنبھوڑ” کھاتے ہیں۔ آما یہ منظر دیکھ کر انتہائی دہشت زدہ ہو جاتا ہے اور بمشکل اپنی جان بچا کر گاؤں پہنچتا ہے۔ گاؤں پہنچ کر وہ دلدوز انداز میں چیختا ہے اور اس صدمے سے گونگا ہو جاتا ہے۔ جہاں چیخنا چاہئیے تھا وہاں خاموش رہتا ہے، اردو ادب آمے موچی کو ایسا بےنظیرضبطِ چیخ عطا کرنے پر مصنفہ کا ہمیشہ شکر گزار رہے گا۔ گاؤں کے لوگ دو ٹولیوں میں غفورے کی تلاش میں جاتے ہیں، جہاں مینا میمنوں کو اس کی لاش بھنبھوڑتے دیکھ کر خوفزدہ ہو کر اپنی ٹولی کو گاؤں واپس لے آتا ہے جبکہ تین افراد کی دوسری جماعت جسے مصنفہ بعد کے صفحات میں مینے کی ٹکڑی سے بچھڑے افراد بتاتی ہے، کبھی واپس نہیں آتی۔

گاؤں واپسی پر مینا یہ واقعہ اللہ یار کو بتاتا ہے جو اسے اور دیگر گاؤں والوں کو بزدلی کا طعنہ دے کر اپنی بارہ بور بندوق لے کر جائے وقوعہ جانے لگتا ہے کہ جوگی اس کا راستہ روک لیتا ہے اور ایک مرتبہ پھر اس کی شناخت کو جھٹلاتا ہے۔ اسی دوران جوگی جوش میں آ کر للکارتا ہے۔ اس للکار سے شدید زلزلہ آتا ہے۔ جس سے آس پاس کے دیہاتوں کے کیکر، مینارے اور پکی عمارتوں کے لینٹر گر جاتے ہیں اور اللہ یار بقول مصنفہ ” پھڑکتی ہوئی زمین پر ایسے پھدکتا ہے جیسے بھٹی میں مکئی کے دانے”۔ یہاں زلزلے سے زمین کے پھڑکنے کا جواب نہیں۔ بہرحال اس بھونچال سے سطحِ ارض شق ہو جاتی ہے۔ بیتل بکری، الیل من اور بلیل من مع غفورے اور دیگر تین افراد کی لاشیں اس دراڑ میں گر جاتی ہیں اور پھر اگلے جھٹکے سے زمین برابر ہو جاتی ہے۔

یہاں سے مصنفہ ہمیں شہر لے آتی ہے جہاں حسین و جمیل، علیگ انجینئر، عرفان جو واپڈا میں اعلی عہدے پر فائز ہے کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ اس کی شادی شاہدہ نامی انتہائی خوش رو اور امیر لیکن بانجھ عورت سے ہوتی ہے۔ عرفان پانی کی تقسیم کے معاہدے کے نتیجے میں بیاس کے سوکھنے پر انتہائی فکرمند ہے اتنی ہی فکر اسے دریاؤں کی گذرگاہوں کی بھی ہے۔

ان کے ہمسائے میں بترا خاندان اپنے گھر داماد سمیت مقیم ہے۔ یہ گھرانا سوائے ایک دادی کے پاکستان بنتے وقت سارے کا سارا مسلمان ہو چکا ہے۔ بترا صاحب کی بیٹی مدھو عرف زینب، شاہدہ کی سہیلی ہے اور اس کے شوہر عرفان کو پسند کرتی ہے۔ شاہدہ اسے بتاتی ہے کہ اس کا خاوند عجیب و غریب حرکتیں کرتا ہے اور آج کل ایک کالا ناگ پال رہا ہے۔

ایک دن مدھو شاہدہ سے ملنے اس کی کوٹھی میں آتی ہے لیکن اس کی ملاقات لان میں بیٹھے عرفان سے ہو جاتی ہے جو اسے بتاتا ہے کہ اس نے نوکری سے استعفی دے دیا ہے۔ اسی دوران بادل گرجتا ہے جس سے خوفزدہ ہو کر وہ عرفان سے لپٹ جاتی ہے اور اپنے دانت اس کے کندھے میں گاڑ دیتی ہے۔ شاہدہ یہ منظر دیکھ لیتی ہے، اسی وقت بارش شروع ہو جاتی ہے اور آسمان سے مچھلیاں برسنے لگتی ہیں جن کی دموں اور چانوں کی رگڑ سے اس کے کپڑے تار تار ہو جاتے ہیں اور وہ زخمی ہو جاتی ہے۔ لیکن لان کے عین درمیان بیٹھے عرفان اور مدھو پر مصنفہ کو رحم آ جاتا ہے اور انہیں خراش تک نہیں آتی۔ خیر شاہدہ خوف زدہ ہو کر بلیرڈ روم سے ملحقہ کمرے میں خود کو بند کرلیتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہ خوف زدہ ہو کر اس جگہ جاتی ہے جہاں کالا ناگ موجود ہے یعنی مچھلیوں سے ڈر کر سانپ کے پاس پناہ ڈھونڈتی ہے۔ یہاں قاری کا بے اختیار نعرہِ تکبیر بلند کر کے اللہ کی شان اور مصنفہ کے تخیل کی اٹھان بیان کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کمرے سے اس کی برہنہ لاش بر آمد ہوتی ہے۔ بارش سے گرنے والی چار عدد مچھلیاں منظور نامی ڈرائیور گھر لا کر اپنی حاملہ بیوی کو کھلاتا ہے۔ اس کے گھر میں جو بچی پیدا ہوتی ہے اسکا آدھا بدن لڑکی کا اور آدھا مچھلی کا ہوتا ہے۔

باب نمبر 20 اور 21 قیامت خیز ہیں۔ مدھو کے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے۔ دادی، بترا صاحب کو بتاتی ہے کہ یہ بچہ عرفان کا ہے اور بقول مصنفہ “داماد جی تو بس ہنہ! ہنہ! ہی ہیں”۔ خیر داماد جی اسے اپنا بچہ سمجھتے ہوئے خوشی میں ہوائی فائرنگ کرتے ہیں لیکن بربنائے لاپرواہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اسی دوران بچہ اور دادی بھی غائب ہو جاتے ہیں۔ بترا صاحب خودکشی کر لیتے ہیں اور مسز بترا پاگل ہو جاتی ہیں۔ عرفان کے گھر کو پراسرار آگ جلا کر راکھ بنا دیتی ہے۔ مدھو بھی بالآخر غائب ہو جاتی ہے اور دونوں گھروں میں جنگل اگ آتا ہے اور وہاں آسیب کا بسیرا ہو جاتا ہے۔ گھر کے خریداروں کی گاڑی پر درخت کا موٹا ٹہنا گرنا اور ان کی گردنوں کے منکے ٹوٹنے سے موت واقع ہونا اس کے علاوہ ہے۔ کچھ عرصے بعد، پاگل، مسز بترا بھی غائب ہو جاتی ہیں۔

صفحہ نمبر 12 کا چلا آسرا بالآخر باب نمبر 23، صفحہ نمبر 84 میں جوگی کی کٹیا پہنچتا ہے۔ جہاں دادی کے علاج سے وہ صحت مند ہوتا ہے۔ اصل میں عرفان،مدھو، دادی، مسز بترا اور منظور کی بیوی مع مچھلی کے دھڑ والی بچی کے بھوریوں کے کلے میں آ گئے تھے اور عرفان جوگی بن چکا ہے۔

اگلے باب میں مصنفہ ہمیں پھر ماضی قریب میں لے جاتی ہے جہاں اسرار یونیورسٹی لاء کالج میں پڑھ رہا ہے اور یونیورسٹی کی سب سے حسین لڑکی، نازنین اس پہ عاشق ہو گئی ہے۔ وہ خود بھی اس پر اتنا ہی عاشق ہے۔ نازنین کا گھر عرفان اور بترا خاندان کے ہمسائے میں ہے جہاں ایک رات وہ اسرار کے ساتھ آسیب زدہ گھر میں جاتی ہے،جہاں جنگل اگ آیا ہے۔ وہاں نیولوں، چوہوں، سانپوں، گوہوں اور مگر مچھ سمیت دیگر خوفناک مخلوقوں کا بسیرا ہے۔ جو مصنفہ کی انسان دوستی کی وجہ سے اوس پڑوس کے گھروں اور رہائشیوں کو کوئی گزند نہیں پہنچاتے اور نہ ہی وہاں کے رہائشی کسی حکومتی ادارے کی مدد سے ان کے تدارک کا سوچتے ہیں۔ دونوں اندھیرے میں واپسی کا راستہ بھول جاتے ہیں۔ نازنین وہاں خوف زدہ ہو کر اسرار کے کندھے میں ویسے ہی اپنے دانت گاڑتی ہے جیسے مدھو نے عرفان کے کندھے پر گاڑے تھے۔ جیسے تیسے دونوں واپس آتے ہیں لیکن وہ بیمار ہو جاتی ہے اور اسرار سے ملنا چھوڑ دیتی ہے اور ایک مالدار بزنس مین سے شادی کرکے لندن چلی جاتی ہے۔

باب نمبر 28 میں میاں اللہ یار کے ڈیرے پر اسرار کے زندہ بچ جانے کی خوشی میں جشن کا سماں ہے اور کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو پر سو پھیلی ہوئی ہے۔ یہیں اسرار بھوریوں کے کلے کو جوگی اور اس کی ساتھ رہنے والے دیگر افراد کو برا بھلا کہتا ہے اور ان سے کلے خالی کروا کر اسے کاشت کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ یہ یقینا پہلے والا پڑھا لکھا اور باشعور اسرار نہیں ہے، مصنفہ کی مہربانی سے یہ قاری کی پہچان ہی میں نہیں آتا۔ خیر اسی دوران میاں اللہ یار بے ہوش ہو جاتا ہے اور حیران کن طور پر ابھی کچھ ہی دیر پہلے جوگی کو برا بھلا کہنے والا اسرار اسے گود میں اٹھائے جوگی ہی کی کٹیا کی طرف لے کر بھاگتا ہے لیکن میاں اللہ یار جانبر نہیں ہو پاتا۔ اور تو اور چند روز بعد اپنے سوتیلے بھائی محسن کے طعنوں سے تنگ آ کر عرفان جوگی ہی کے پاس رہائش پذیر ہو جاتا ہے۔ اس کی تلاش میں مینا بھوریوں والے کلے جاتا ہے جہاں وہ پراسرار طور پر مارا جاتا ہے۔ ازاں بعد قاری کو پتہ چلتا ہے کہ اسرار اصل میں مدھو کے بطن سے عرفان کا بیٹا ہے اور میاں اللہ یار کا بقول نباں دائی ” ٹھنڈا پھوڑا” فضل الٰہی کمو نائن پالتی ہے جس کا آدھا جسم مچھلی کا اور آدھا لڑکے کا ہوتا ہے۔ یہاں ایک آدم خور کچھوے کا بھی ذکر ہے جو گاؤں کے تین گمشدہ افراد کو کھا چکا ہے، کمو نائن بھی غالباً اسی کی خوراک بنتی ہے۔

باب نمبر 31 میں نازنین لندن میں ایک جل پری کو جنم دیتی ہے۔ اس کا خاوند اس واقعے سے بے حد رنجیدہ ہوتا اور بچی کی جان لینے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اس سے طلاق لے کر اپنی بیٹی کو ساتھ لئے پاکستان واپس آجاتی ہے جہاں ایک بابا جی اسے جنرل مظفر سے شادی پر آمادہ کرتے ہیں تا کہ وہ دونوں ملکوں ( غالباً انڈیا اور پاکستان) میں جنگ کروائے تاکہ انسان ختم ہوں اور دریا دوبارہ اپنی اصل گذرگاہوں سے گذریں۔ بابا جی اس کی بیٹی کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ نازنین شادی کے بعد جنرل صاحب کو اپنی بیٹی کے جل پری ہونے اور ان سے شادی کے ذریعے دونوں ممالک میں جنگ کرانے کے منصوبے کی بابت بتاتی ہے۔

ازاں بعد وہ بھی عرفان جوگی وغیرہ کے پاس جاتی ہے۔ بابا جی اور اس کی بیٹی بھی وہیں جوگی کی کٹیا میں ہوتے ہیں۔ وہاں ایک شدید زلزلہ آتا ہے، اسرار اور نازنین کے سوا سب زمین میں پڑنے والی دراڑ میں گر کر مر جاتے ہیں۔ زلزلے کی شدت سے نہر کا بند ٹوٹ جاتا ہے اور اس کا پانی پورے گاؤں کو بہا کر لے جاتا ہے۔

اسرار، نازنین کے ہمراہ شہر میں اس کی ماں، مسز منصور، کے گھر آ جاتا ہے جو  اپنے گھر کے غسل خانے کی جنوبی دیوار میں آئی سیلن کو دیکھ کر کہتی ہے: “پانی مر رہا ہے”۔ آخر میں انہیں مالدیپ سے ایک شادی کا دعوت نامہ آتا ہے۔ اسرار اور نازنین اس عجیب و غریب شادی میں شرکت کرتے ہیں جس کے بعد رات کے دوسرے پہر دونوں، وہاں سمندر میں اتر جاتے ہیں۔ اسرار اپنے پیروں سے لپٹتی سفید مونگے کی کرچیوں اور کیکڑوں وغیرہ سے گھبرا کر ساحل کی طرف آتا ہے۔ نازنین اس کے پیچھے آتی ہے۔ وہ ساحل پر گرتا ہے اور شائد مر رہا ہوتا ہے۔ اس کے لبوں پر یہ جملے ہوتے ہیں:

“بڑبڑایا، نازنین! سچ، جسے عرفان صاحب نہ پا سکے اور خود کو ہم سب کو دھوکا دیتے رہے، انسان کے اندر اس امید کو پالتے رہے کہ وہ سب بگاڑ دے گا اور خدا ایک عذاب لا کر اسے ختم کر دے گا اور کسی طرح اس کی نسل کو بچا لے گا۔ دھوکا تھا، طفل تسلی تھی۔ جو انہوں نے خود کو بھی دی اور ہم کو بھی۔ سچ یہ ہے نازنین کہ پانی مر رہا ہے، مسز منصور سچ کہتی ہیں، پانی مر رہا ہے۔”

 

اسرار مرتا نہیں بلکہ بقول مصنفہ ” اس ویران جزیرے پہ اس کی نسل گرگٹ کے بچوں کی طرح پلی بڑھی اور آباد ہوئی۔” ناول کا اختتام ان لائنوں پر ہوتا ہے: ” اسرار اور نازنین نے اپنے منہ سی لئے اور کسی کو نہیں بتایا کہ پانی مر رہا ہے اور صدیاں گزر گئیں۔ پانی مر رہا ہے”۔

“پانی مر رہا ہے” کی کہانی اول تا آخر غیر حقیقی، ناقابلِ یقین اور اوٹ پٹانگ واقعات پر مشتمل ہے۔ مصنفہ وہ ماحول ہی تشکیل نہیں دے سکی جس میں یہ واقعات قابلِ اعتبار ہوتے۔ میری رائے میں یہ ناول کسی غیر دریافت شدہ پریشانی بلکہ نسیانی کیفیت میں لکھا گیا ہے۔ مصنفہ میں میجیکل رئیلزم لکھنے کی خواہش ضرور ہوگی لیکن اس کتاب کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس فارم کی ٹریٹمنٹ کے لئے جو مہارت اور اہلیت درکار ہے، وہ اس سے تہی ہے۔

ای ایم فارسٹر نے کہا تھا کہ “واقعات اسباب و علل سے بندھ کر پلاٹ کا روپ اختیار کرتے ہیں۔” لیکن اس ناول کے واقعات اسباب و علل سے آزاد اور بے نیاز ہیں۔ مصنفہ نے کہانی اور پلاٹ کا ڈسپلن قبول ہی نہیں کیا۔ بے تکی کہانی، پرچھائیوں جیسے کردار اور بے سلیقہ اظہاریہ قاری کو مسرت کے بجائے اذیت دیتا ہے۔

ناول، واقعات کے ڈرامائی تناؤ اور کرداروں کی تہہ داری سے یکسر محروم ہے۔ مصنفہ ان تجربات کی قاری تک ترسیل نہیں کر پائی جن سے اس کے کردار گزرے ہیں کیونکہ یہ پیش کردہ نفسیاتی خیالیے، کیفیت اور موضوع کو مجسم کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔ غالباً اسی لئے  مصنفہ اپنا تخلیقی تجربہ ( اگر کوئی ہے تو) ناولا نہیں سکی بلکہ میری رائے میں تخلیقی تجربہ اور اس کے اظہار کے پیرائے دونوں اس کی گرفت میں نہیں آئے۔

کسی بھی مرحلے پر کوئی بھی کردار قاری سے سندِ اعتبار نہیں لے سکا۔ میاں اللہ یار کو دلیر اور دبنگ بتایا گیا ہے، لیکن کوئی ایک وقوعہ یا موقع ایسا نہیں جہاں اسے دلیر دکھایا بھی گیا ہو یا وہ اپنے طور اطوار سے دلیر نظر آتا ہو۔ اسی طرح مینے کا کردار ہے، پورے ناول میں جس کے بارے میں سیانے کی گردان جاری رہتی ہے لیکن اس کے کسی بھی عمل، ردِعمل یا کیفیت کے بیان میں سیانے پن کا شائبہ تک نہیں بلکہ صورتِ حال اس کے صریحاً متناقض ہے۔ عرفان کا کردار بھی دیگر کرداروں کی طرح سرتاپا ناقابلِ یقین ہے، اس کا کوئی فعل، عادت، حرکت یا جذباتی کیفیت اس کی بیان کردہ شخصیت سے میل نہیں کھاتی۔

شہر میں رہ کر پڑھنے والا اسرار اور گاؤں آکر بھوری والے کلے ڈکارنے کا اعلان کرنے والا اسرار اور ازاں بعد جوگی کے ساتھ رہنے والا اور پھر نازنین کے ساتھ مالدیپ پہنچنے والا اسرار پراسرار طور پر مختلف ہیں۔ اس کے کردار، عادات، سوچ، افکار اور نظریات میں کوئی وحدت نہیں ہے اور نہ ہی اس کی فکر، سوچ یا عادات و اطوار میں تبدیلی کی کوئی وجہ ( معقول یا نامعقول ) بتانے کی مصنفہ نے تکلیف کی ہے۔ اسی طرح مدھو عرف زینب، شاہدہ، جنت بی بی، فضل بی بی، کمو نائن، نازنین، جنرل صاحب، بابا جی، مسز منصور، مسٹر اینڈ مسز بترا اور دادی وغیرہ کے کردار بھی گوشت پوست سے محروم ہیں۔

کسی بھی ناول یا افسانے کے بیانیے میں تخلیقی زہن کی رنگا رنگ کارفرمائیاں ہی وہ ادبی اسمِ اعظم ہے جو معانی و تفہیم کے قفل کھول کر واقعات اور مشاہدات کے بیان کو دلچسپ بناتا ہے۔ آمنہ مفتی اس ناول میں اس اسمِ اعظم سے مطلقاً محروم نظر آتی ہے۔ ناول نگار کے وسیع ذخیرہ الفاظ نے بھی نہ تو بیانیے میں جان ڈالی ہے اور نہ ہی زبان کو طاقت دے سکا ہے۔

آمنہ مفتی نے اس ناول کے کئی مناظر کو ٹیلی ڈرامہ کے مناظر کی طرح ٹریٹ کیا ہے اور انہیں کاغذ پر ابھارنے کی بجائے سکرین پر دکھانے کی تکنیک استعمال کی ہے۔ اس طریقہ کار سے قارئین کا اپنے ذاتی تجربات، گمان اور ذہانت پر انحصار بہت بڑھ گیا ہے، مثلاََ”صراحی سے گلاس بھرا”۔ صراحی میں کیا ہے اور گلاس کس سے بھرا گیا ہے کی خالی جگہوں کو قاری اپنے گمان اور ذاتی تجربات سے پر کرتا ہے، کیونکہ ناول نگار نے انھیں یہاں ٹی وی کے ناظرین سمجھ کر بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ زبانِ نقد میں اسے ابلاغ کا ادھورا پن اور بحران کہیں گے۔

“پانی مر رہا ہے” کی ایک اور خامی اس میں دی گئی بے ڈھنگی اور اوٹ پٹانگ مثالیں اور تشبیہات ہیں جنہیں پڑھ کر مجھے وارث علوی بہت یاد آئے جو شمس الرحمن فاروقی کی مثالوں سے تنگ آ کر کہا کرتے تھے:

” اکثر یہ خیال آتا ہے کہ کاش وہ “بے مثال” نقاد ہوتے تو ہماری جان پر اتنے “مثالی” عذاب نہ ٹوٹتے۔”

ناول میں دی گئیں چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے:

“اس خیال کے آتے ہی اس کے چہرے کے رونگٹے، گھبرائی ہوئی بلی کی دم کی طرح کھڑے ہو گئے۔” (صفحہ نمبر 17 تیسرے پیراگراف کی چوتھی سطر)

“اس وقت بھی وہ ایک جناتی سائز کے خرگوش کی طرح اپنے نتھنے پھلا کر ہوا کو سونگھ رہے تھے۔” ( صفحہ نمبر 156، دوسرے پیراگراف کی چوتھی سطر)

“وقت نہائت بے حیائی اور ڈھٹائی سے ایک فحش گو انسان کی طرح دنیا کے سب کونوں میں بڑے دھڑلے سے گزرتا گیا۔” ( صفحہ نمبر 169, پہلی سطر)

“بابا جی نے بولنا شروع کر دیا ۔ جیسے سرد راتوں میں کوئی گیدڑ ناقابلِ فہم آواز میں چلاتا ہے۔” ( صفحہ نمبر 174، چوتھے پیراگراف کی پہلی سطر)

ناول کے کچھ معائب اور نقائص کی وجہ، میرے خیال میں، ترتیبِ اظہار اور پیشکش میں تعجیل ہے۔ تعقید، تنافر، اہمال، منطقی اسقام اور واقعاتی تناقض کے بیشتر مسائل مطلوبہ دہرائی اور ذمےدارانہ ادارت سے دور ہو سکتے تھے۔

صفحہ نمبر 83، دوسرے پیراگراف کی چوتھی سطر ملاحظہ کیجئے:

” تیسری عورت، جو اتنی حسین تھی کہ مینا ایک آنکھ سے اس کو دیکھ بھی نہ پایا تھا۔”

اگلے ہی پیراگراف میں بیان ہوتا ہے:

“سالہا سال گزر گئے اور مینے کے ذہن پہ فراموشی کی ٹوپی چڑھی رہی۔ شاید اگر اس کی دونوں آنکھیں ٹھیک ہوتیں تو اسے یہ تفصیل کبھی نہ بھولتی۔ آج زندگی میں پہلی مرتبہ مینے کو اپنے کانے ہونے کا دکھ ہوا۔”

اسی صفحہ نمبر 15 کی یہ سطر دیکھئے جہاں شاماں مینے سے مخاطب ہے:

“اگر تجھے اس آنکھ کے نہ ہونے پر بھی مجھ میں وہ بات نظر آ گئی جو تیرے ابے کو آدھے سفید سر کے ساتھ نظر نہ آئی تو پھر نظر کیا ہوئی؟”

مصنفہ کی ندرتِ خیال کو سلام کہ اس نے کانے پن کا کور چشمی اور یادداشت کے ساتھ کیا نادر تعلق دریافت کیا ہے۔ اسی طرح یک چشمی کی آدھے سفید سر کے مقابلے میں حسن کی پہچان اور قدر کرنے کی نایاب صلاحیت ایجاد کر کے قارئینِ ادب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایسی پنادر چیزوں سے یہ ناول اٹا ہوا ہے۔

ایک اور مسئلہ، ناول نگار کی کمزور یاداشت کا بھی ہے، صفحہ نمبر 34 میں بیان ہوا ہے:

“میاں اللہ یار فضل بی بی کی موت کا غم بھول گئے۔ کسی سیانے سے کہا، پھر بہت سے سیانوں نے دہرایا کہ بیوی کی موت کہنی کی چوٹ ہوتی ہے، میاں اللہ یار تو شیر تھے کہ پہلو میں لگے کاری وار کو سہہ گئے تھے تو کہنی کی چوٹ کو بھلانا کون سی مشکل بات تھی۔”

اس بیان کے ٹھیک چار صفحوں بعد مصنفہ غالباً بھول گئی کہ وہ پچھلے صفحات میں میاں اللہ یار کو فضل بی بی کی موت کے غم سے آزاد کروا چکی ہے۔ صفحہ نمبر 39 ملاحظہ کیجئے:

” پھر اس نے اتنی بلند اور دلدوز چیخ ماری کہ فضل بی بی کے غم میں نڈھال میاں اللہ یار اپنی چارپائی سے ہڑ بڑا تے گرتے گرتے بچا۔”

صفحہ 44 بھی دیکھئے:

“میاں اللہ یار لاکھ دلیر سہی۔ لیکن تھا تو ایک دیہاتی ہی۔ ابھی وہ فضل بی بی کی موت کے صدمے ہی سے نہ نکلا تھا کہ یہ دوسرا محیر العقول واقعہ بلکہ یکے بعد دیگرے، دو واقعے پیش آ گئے۔”

اسی طرح میاں اللہ یار کو بیانیے میں کبھی صیغہِ واحد اور کبھی صیغہِ جمع میں پکارا جاتا ہے۔ کم و بیش یہی سلوک عرفان صاحب سے بھی روا رکھا گیا ہے۔

اور کیا کیا لکھوں ‘ مشتے نمونہ از خروارے’

ناول کے صفحہ نمبر 49 پر مصنفہ شاہدہ نامی کردار کی مصوری کے بارے میں کہتی ہے:

“خدا نے شاہدہ کو سب کچھ دے رکھا تھا، لیکن مصوری کا فن نہیں۔ پہاڑ، سورج، پرندے اور دھوپ کا رنگ، سب غیر متناسب، غیر حقیقی اور بےڈھب تھے۔ پرندے کسی دیو مالائی پرندے سے ملتے جلتے تھے اور پہاڑ شائد مریخ یا کسی اور سیارے پہ دیکھے گئے ہوں۔”

میری رائے میں اگر مندرجہ بالا عبارت میں مصوری کی جگہ ناول اور پہاڑ، سورج، پرندے اور دھوپ کی جگہ کہانی، کردار، نثر، ماحول اور مکالمے لکھ دیا جائے تو ناول ہذا پر اس سے معتبر، سچا، کھرا اور عمدہ تبصرہ ممکن نہیں۔ نہ زبان، نہ کہانی نہ کردار ، نہ نقطہِ نظر ناول کو سہارا دے تو کون دے۔

میں نے اسے بڑی اذیت میں پڑھا ہے۔ اگر ادبی جغادریوں کے جھوٹے تبصروں کے مقابل ایک متوازی بیانیہ تشکیل دے کر اردو قارئین کیلئے تقابلی مطالعے کا اہتمام نہ کرنا ہوتا تو شائد میری ہمت ابتدائی چند صفحات کے بعد ہی جواب دے جاتی۔ ناول پڑھنے کے دوران ان درشنی مبصروں کے تبصرے بھی میرے ذہن میں آتے رہے۔ کئی موقعوں پر تو مجھے باقاعدہ محسوس ہوا کہ یہ تبصرے ناول کو پڑھے بغیر فقط نیوندرہ ڈالنے کی نیت سے اندازاً کئے گئے ہیں۔

اگر یہی صورتِ حال رہی تو اسی طرح کے تخلیقی قوت سے محروم، کمزور اور مضمحل ناول دھڑا دھڑ لکھے جاتے رہے گے جنہیں یہ ادبی شاستری ذاتی تعلقات، گروہ بندی، لحاظ، دوستی، ستائشِ باہمی اور مصلحت کی معجونوں کے مرتبان کے مرتبان چٹوا کر طاقتور بنا کر پیش کرتے رہیں گے۔ لیکن یاد رہے، اگر ادیب کی ریڑھ کی ہڈی میں تخلیق کی طاقت ہی نہ ہو تو نقاد جو مرضی دوا دارو کر لیں، یہ مرض ناول کی جان لے کر ہی رہے گا۔

اس چلن کی بدولت، ایسے فقیہانِ نقد ادب پروری کے بجائے اقربا پروری کی وجہ سے یاد رکھے جائیں گے۔ افسوس کہ ہمارے سماجی رویوں کی دستبرد سے علم و فن کو بھی استثناء نہیں۔ باقر مہدی تو برملا کہا کرتے تھے کہ ” مشرق کا ذہن تنقید کے لئے سازگار ہی نہیں۔”

اسی طرح وارث علوی کا قول بھی حسبِ حال ہے:

“اردو کا نقاد خود اندر سے کھوکھلا، ناکارہ اور عیار ہے اور فنکاروں کا استعمال خود اپنے مقصد کو آگے بڑھانے کے لئے کرتا ہے۔”

میرا ایسے موسمی تبصرہ نگاروں سے دردمندانہ سوال ہے: اردو ناول کے قارئین پر آپ کو اتنا غصہ کیوں ہے، کون سے بدلے اتار رہے ہیں بیچارے سے۔ بد ترین تنقید یا تبصرہ وہ ہوتا ہے جو خراب ادب کو قاری کے سر پر تھوپ دے اور بغیر معذرت کے عرض ہے کہ آپ ایسا ہی کر رہے ہیں۔ یاد رہے، ایسی تنقید اور آراء سے کسی تحریر کا قد کاٹھ بڑھے نہ بڑھے، آپ کا ضرور کم ہوگا۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...