نیوزی لینڈ اور جسنڈا آرڈین نے کوویڈ -19 وباءپر کیسے قابو پایا؟

570

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے آج اعلان کیا کہ 28 فروری کے بعد پہلی بار ملک میں کووڈ 19 کا کوئی بھی فعال کیس موجود نہیں ہے۔ یہ اعلان کووڈ کے آخری مریض کے صحت یاب ہوکر آئیسولیش سے باہر آنے کی اجازت ملنے کے بعد کیا گیا۔

آج، آٹھ جون، آدھی رات سے نیوزی لینڈ انتباہ کی سطح ١ اور زیادہ تر معمول کی زندگی میں واپسی کی طرف بڑھ جائے گا۔ کابینہ کے فیصلے کے بارے میں بتاتے ہوئے وزیر اعظم آڈرن نے کہا کہ نیوزی لینڈرز جہاں چاہیں جاسکتے ہیں، لیکن وہ اپنی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لئے ایک ڈائری رکھیں۔ کاروباری اداروں کو بھی اپنے دروازوں پر کیو آر کوڈزچسپاں  کرنے کی ترغیب دی تاکہ صارفین “ڈیجیٹل ڈائری” جاری رکھیں، کیونکہ دستی طور پر دستخط کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اسی کے ساتھ ہی عوامی شعبے کے ہر کارکن سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے کام کی جگہ پر واپس آئیں۔ جیسنڈا آرڈرن کے مطابق “جبکہ کام ابھی تک پورا نہیں ہوا ہے، مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سنگ میل ہے” اور ساتھ ہی خبردار بھی کیا ہے کہ طویل عرصے کے لیے ملک کی سرحدیں بند رہیں گی۔

نیوزی لینڈ نے اقوام عالم کے ایک خصوصی کلب میں شمولیت اختیار کر لی ہے جس نے کوویڈ ۔19 کا کامیابی کے ساتھ خاتمہ کیا۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق، صرف آٹھ دیگر ریاستیں جنہوں نے انفیکشن کا اندراج کیا اور یہ سنگ میل حاصل لیا. ان میں مونٹینگرو، اریٹریہ، پاپوا نیو گنی، سیشلس، سینٹ کٹس اینڈ نیویس، فجی، مشرقی تیمور اور ہولی سی شامل ہیں.  یہ سب دور دراز چھوٹے جزیرے یا بہت کم آبادی والی ریاستیں ہیں.

کوویڈ -19کے جواب میں دنیا کے حکمرانوں نے الگ الگ طریقہ اپنایا۔ جہاں جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے سائنس کو اپنایا وہیں برازیل کے صدر جیر بولسنارو نے اسے مسترد کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روزانہ کی بریفنگ میں صحافیوں سے الجھتے رہے وہیں ایک ارب سے زیادہ لوگوں کو لاک ڈاؤن میں ڈالنے والے نریندر مودی نے ایک بار بھی پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کا سامنا نہیں کیا۔ ہنگری میں وزیر اعظم وکٹر اوربان نے حکمنامے کے ذریعہ غیر معینہ مدت کے لئے حکمرانی کا اختیار حاصل کیا۔ فلپائن میں صدر روڈریگو نے ہنگامی اختیارات حاصل کر کے عوامی خدمات پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کیا۔ چند دیگر عالمی رہنما نکاراگوان کے صدر ڈینیئل اورٹیگا اور بیلاروس، ترکمانستان، اور شمالی کوریا کے آمر “شترمرغ الائنس”  کا حصہ بنے اور ابھی تک اس بات سے انکاری ہیں کہ کورونا وائرس کوئی خطرہ ہے۔

دوسری طرف نیوزی لینڈ کی 39 سالہ وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اپنی ہی راہ بنائی۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق کرونا وبا کے دوران دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کی ناکامی اور نیوزی لینڈ کی کامیابی میں فرق صرف جسنڈا آرڈین کا ہے۔

آخر نیوزی لینڈ کی خاتون وزیر اعظم کیسے بحرانوں سے نپٹ لیتی ہے؟۔ 

اس مضمون کا مقصد نیوزی لینڈ اور وزیر اعظم جسنڈا آرڈین کی کامیابی کے پیچھے اصل متحرکات کا جائزہ لینا ہے۔

نیوزی لینڈ حکومت کے ماڈلنگ کے ابتدائی تخمینوں میں اگر وائرس کو روکا نہیں گیا تو چودہ ہزار ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ مگر صرف 1,154 افراد وائرس کا شکار ہوئے اور صرف 22اموات ہوئیں، جو زیادہ تر اولڈ ہومز میں ہوئیں۔ اس وبائی بحران سے لڑنے کے لیے جسنڈا نے پوری قوم کو اپنے ٹیم میں شامل کیا، اسے ‘ٹیم اوف فائیو ملین’ کا نام دیا اور یہ کامیابی بھی اسی ٹیم کے نام کی۔

ان کا قائدانہ انداز بحران میں ہمدردانہ رہا جو لوگوں کو ان کا ساتھ دینے پر آمادہ کرتا ہے۔ ان کے پیغامات واضح، براہ راست، مستقل مزاج اور خوشگوار ہوتے ہیں۔  نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم اورجیسنڈا کی استاد ہیلن کلارک کے مطابق، لوگوں کو لگتا ہے کہ جیسنڈا “ان پر تبلیغ نہیں کررہیں؛ بلکہ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہیں،”۔ عوام کا یہ خیال بھی ہوسکتا ہے کہ، ٹھیک ہے، مجھے یہ اچھی طرح سمجھ نہیں ہے کہ [حکومت] نے ایسا کیوں کیا، لیکن مجھے معلوم ہے کہ وہ ہماری خیرخواہ ہیں، اس ہمدردی کی وجہ ان پر اعلی سطح پر اعتماد ہے۔” ان کا یہ انداز قابل ذکر کام بھی کررہا ہے۔

 نیوزی لینڈ میں کووڈ -19 کی ٹائم لائن

24جنوری کو نیوزی لینڈ کی وزارت صحت نے کوویڈ 19 صورتحال کی نگرانی کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی۔ 27جنوری کو وائرس کے علامات پر نظر رکھنے کے لئے چین سے آنے والے مسافروں کو مانیٹر کرنا شروع کیا۔03فروری کو سب مسافر جو چین سے سفر یا ٹرانزٹ ہوئے پر پابندی عائد کر دی۔ ملک میں داخل ہونے والے سب لوگوں  کو 14دنوں کے لئے قرنطینہ میں وقت گزارنا تھا۔

28 فروری کو نیوزی لینڈ میں کوویڈ 19 کا پہلا مریض رپورٹ ہوا، جس نے ایران سے آکلینڈ کا سفر کیا تھا۔ دوسرے ہی دن نیوزی لینڈ حکومت نے ایران، ہانگ کانگ، جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور اور تھائی لینڈ سے آنے والے مسافروں پر پابندیاں عائد کر دی. تاریخ میں پہلی مرتبہ 19مارچ کو نیوزی لینڈ نے اپنے شہریوں اور مستقل رہائشیوں کے علاوہ ملک کی سرحدوں کو سب کے لئے بند کردیا۔ 21 مارچ کو حکومت کوویڈ 19 سے لڑنے میں مدد کے لئے چار سطح کا الرٹ سسٹم ایس او پیز پیش کر کے عوامی آگاہی مہم مزید تیز کر دی گئی۔

23 مارچ کو وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ملک انتباہ سطح تین پر آگیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وائرس کی کمیونٹی ٹرانسمیشن ہو رہی ہے۔ لوگوں کو گھر پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔24 مارچ سے سکول، تعلیمی سہولیات اور تمام غیر ضروری کاروبار بند کر دیے گئے۔ اس میں سوپر مارکیٹ، فارمیسی اور کلینک جیسے ضروری کاروبار کھلے رہے۔

25 مارچ کی شام وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن انتباہ درجہ چار کے بارے میں قوم کو آگاہ کیا. ان کا کہنا تھا “ہمارے پاس گھر میں رہنے، ٹرانسمیشن کا سلسلہ توڑنے اور جانیں بچانے کا ایک مواقع ہے۔ “یہ بہت آسان ہے۔” اور پوری قوم لاک ڈاؤن کے دوران اسولیشن میں چلی گئی۔ 29 مارچ کو، نیوزی لینڈ میں 70 سالہ عورت کی کووڈ-19 کے مرض کی سبب موت واقع ہوئی۔ یہ نیوزی لینڈ میں اس مرض سے مرنے کا پہلا کیس تھا۔ کیس کم ہوتے گئے، 28 اپریل  کو نیوزی لینڈ انتباہ لیول تین اور 14 مئی کو لیول دو پر چلا گیا۔

نیوزی لینڈ نے کل 75 دن  لاک ڈاؤن کی مختلف سطح پر رہا جس میں آخری سترہ دن بغیر کسی کوویڈ کیس کے تھے. اور آٹھ جون کو نیوزی لینڈ انتباہ لیول ایک نارمل حالت زندگی پر لوٹ آیا۔ نیوزی لینڈرز نے ایسٹر سنڈے، اینزک ڈے، کرائسٹ چرچ مسجد شہدا کی برسی اور عید جیسے قومی اور مذہبی تہوار لاک ڈاؤن میں رہ کر منائے۔ tajz

اس مضمون کی اگلی قسط میں ان چار اہم اقدامات پر بات کریں گے جس سے  نیوزی لینڈ نے یہ کامیابی حاصل کی۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...