روحانیت اور طاقت

418

کرونا کی وباء نے ماہ مبارک رمضان میں لوگوں کی نمازروزے جیسی سرگرمیوں کو زیادہ متاثر نہیں کیا ۔ پہلے پہل صوبائی حکومتیں لاک ڈاؤن میں نرمی کے حق میں نہیں تھیں لیکن جب ملک گیر سطح پہ عوامی رائے عامہ اس امر پہ مجتمع ہوگئی کہ لاک ڈاؤن نرم کیا جائے تو بالآخر حکومتی سطح پہ یہ فیصلہ لیا گیا اور یوں ملک بھر میں ماہ رمضان پورے مذہبی جوش و خروش سے منایا گیا۔

جیسا کہ اس مہینے میں روایت ہے کہ مذہبی علماء ٹیلی ویژن اسکرینوں پہ براجمان رہتے ہیں ، مولانا طارق جمیل ، جوکہ ملک کے معروف مذہبی رہنما ہیں وہ اس مہینے میں ہر اسکرین پہ موجود تھے۔ اگرچہ رمضان کے آغاز میں انہوں نے خواتین اور میڈیاکے بارے میں چند متنازع کلمات ادا کئے جس سے ملک بھر میں تنازع پیدا ہوا۔ انہوں نے یہ کلمات وباء سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے سرکاری سطح پہ چندہ جمع کرنے کی ٹیلی تھون سروس” احساس پروگرام” کے وقت اجتماعی دعا کے دوران بولے تھے۔ بعد ازاں ایک ٹاک شو میں انہوں نے غیر مشروط معافی مانگ لی ۔ لیکن ان کے چاہنے والوں نے ان کی معافی کو اعلیٰ اخلاقی عمل قرار دیا اور ان کے ان متنازع جملوں کا دفاع کرتے ہوئے دکھائی دئیے۔ مولانا نے اپنے چاہنے والوں کو اس عمل سے کبھی نہیں روکا۔

طارق جمیل صاحب کے چاہنے والوں نے جو زبان استعمال کی وہ دیگر مذہبی کارکنوں کی زبان سے مختلف نہیں تھی خاص طور پر خادم حسین رضوی کے چاہنے والوں کی ، وہ بھی ان لوگوں کے خلاف ویسی ہی زبان استعمال کرتے ہیں جو ان کے مذہبی تصورات سے اختلاف کرتے ہیں۔ یہ اگرچہ اس کے باوجود تھا کہ دونوں حضرات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں (ایک نرم رو مبلغ ہیں اور دوسرے شعلہ بیاں مقرر)ان کے حاضرین مختلف ہیں اور خاص طور پر ان کے مقاصد مختلف ہیں۔اسی لئے ان کے چاہنے والوں کا موازنہ فطری ہے تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ ایسے کون سے عوامل ہیں جو ان دونوں میں مشترک ہیں۔

خدا سے جوڑنے کا فریضہ ادا کرتے ہوئے روحانیت انسانوں کے لئے زندگی میں مقصد کے تعین کے لئے مددگار ثابت ہوتی ہے۔مذہب اس میدان کی ملکیت کا سب سے بڑا دعویدار ہے اگرچہ اس کے کچھ دیگر دائرہ کار  بشمول فرد اور سماج کے اخلاقی کردار کی تعمیر اور سماج میں اصلاحات کا عمل جاری کرنا بھی ہے۔ مذہب کے کچھ نمونے طاقت کی تطہیر کرنے سے متعلق ہیں اس لئے وہ سیاسی اختیار کی مانگ کرتے ہیں۔ یہ لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنی روحانی ، اخلاقی ، سماجی اور سیاسی ضروریات کے پیش نظر مذہب کے کس نمونے کو اپناتے ہیں ۔ تاہم مذہب بہرحال ابھرتی ہوئی اشرافیہ اور متوسط طبقے کے لئے تبدیلی کا محرک بھی ہوتا ہے۔ نچلے طبقوں کے لئے مذہب ناصرف زندگی میں ایک مقصد کا باعث ہوتا ہے بلکہ وہ طبقاتی سماج میں ایک قسم کی بااختیاری کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ ہمارے یہ دونوں علماء حضرات اپنے اپنے مسلکی میدان میں نئی روایات کے نمائندے ہیں ۔

اس تناظر میں یہ دونوں یعنی طارق جمیل اور خادم رضوی دو  مختلف طبقات کی روحانی اور مذہبی ضروریات کو پورا کررہے ہیں جوکہ مسلکی بنیادوں پر تقسیم ہیں ۔ اس لئے یہ دونوں اپنے اپنے مسلکی مقاصد کی بھی تکمیل کا باعث ہیں۔دونوں ہی اپنے اپنے مسلکی میدان میں نئی روایات کے نمائندگان ہیں ۔ چاہے ان کے اپنے مسلک کے بزرگان یا روایت پسند انہیں پسند کریں یا نہیں یہ دونوں بہرحال اپنے اپنے مسالک سے منسلک نوجوان نسل کو متاثر کررہے ہیں۔

تبلیغی جماعت کرشماتی رہنماؤں کی تحریک نہیں ہے تاہم طارق جمیل ایک استثناء ہیں۔ تبلیغی جماعت کے اکابرین کو اس امر پہ اعتراض ہے کہ مولانا موصوف کس طرح نامور شخصیات اور اشرافیہ کے طبقے تک اپنی پہنچ بناتے ہیں۔ تاہم ان کی یہ خفگی مولانا طارق جمیل کو ان کے طریق ہائے تبلیغ سے باز رکھ نہیں پائی کیونکہ وہ خود بھی اب ایک سیلیبرٹی  بن چکے ہیں۔ کرکٹرز اور سول ملٹری بیوروکریسی کے علاوہ شوبز سے وابستہ شخصیات بھی ان سے روحانی رہنمائی لیتی ہیں۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا مولانا اکرم اعوان بھی اسی طرح شوبز ستاروں میں مقبول تھے جنہوں نے ان کے روحانی کرشموں اور خاندانی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت پر یقین کر رکھا تھا۔ تاہم مولانا طارق جمیل کے چاہنے والے سرحد کے اس پار بھی موجود ہیں۔ مولانا موصوف کی مانند اکرم اعوان بھی سول اور ملٹری بیوروکریسی میں نامور تھے مگر ان کے اپنے سیاسی مقاصد تھے۔ سال 2000 میں اکرم اعوان نے اسلام آباد پر ہلہ بولا تھا جس کا مقصد اس وقت کے فوجی آمر مشرف کو مجبور کرنا تھا کہ وہ اسلام نافذ کرے۔ طارق جمیل نے ابھی تک ماسوائے سیاسی اشرافیہ سے دوستانہ تعلقات کے کوئی سیاسی خواہش ظاہر نہیں کی ۔ان کے نواز شریف سے بھی اتنے ہی اچھے تعلقات ہیں جس قدر وزیر اعظم عمران خان سے ۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ جب اکرم اعوان کی شہرت کا غلغلہ تھا انہی دنوں  سید صفدر علی بخاری  لمشہور پیر کاکی تاڑ بھی شوبز ستاروں میں خوب مقبول تھے اگرچہ ان کا انداز  مختلف تھا وہ گانے اور ڈانس کے ذریعے لوگوں کی روحانی بالیدگی کا سامان کرنے پر یقین رکھتے تھے۔  ان کے چاہنے والے پنڈ دادنخان کے قصبے للہ میں ان کے مزار پر ڈھول کی تھاپ پہ نماز ادا کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں دیوبند اکابرین نے کبھی اکرم اعوان کی سرپرستی نہیں کی اور نہ ہی پیر کاکی تاڑ کو بریلوی مسلک سے کوئی تائید میسر آئی ۔اب جبکہ طارق جمیل دیوبندی اور خادم رضوی بریلوی مسلک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ خادم رضوی نے اپنی ایک سیاسی جماعت بنارکھی ہے جس نے گزشتہ انتخابات میں 20 لاکھ سے زائد ووٹ لئے تھے۔ جس کے سبب بریلوی سیاست کو ایک نئی جان ملی تھی۔

مولانا طارق جمیل اور علامہ رضوی کے پیروکار اکثر اوقات سوشل میڈیا پہ ایک دوسرے سے باہم دست و گریباں رہتے ہیں۔ ا ن کے درمیان تنازع کا عروج اس وقت آیا جب سابق پاپ اسٹار اور تبلیغی جماعت کے مبلغ جنید جمشید مرحوم پہ یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ گستاخی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ دونوں ہی مولانا حضرات نے اپنے ا پنے مسلک کی تشہیر کا عمل بھی خوب انجام دیا ہے۔

علامہ رضوی کی تحریک لبیک کے عروج سے پہلے بریلوی مسلک کے علماء اپنے آپ کو پرامن تصوف کا پیروکار کہا کرتے تھے۔ انیس سو اسی کی دہائی میں ہونے والی سوویت افغان جنگ میں انہوں نے خود کو ایک کونے میں محسوس کیا اور وہ اس کے لیے اسکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور سعودی عرب کو قصوروار سمجھتے تھے جنہوں نے افغان جہاد میں ان کی شرکت کی حوصلہ شکنی کی۔  بہت سے بریلوی اکابرین کا ماننا تھا کہ بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں جہاد کا ان فریضہ تھا جس میں  شرکت کے لئے انہیں نظرانداز کیاگیا۔ اگرچہ علامہ رضوی کے شعلہ صفت انداز سے بریلوی مکتب کا مظلوم کردار متاثر ہوا ہے اور اسی اثناء میں اس کے سبب اس مسلک میں موجود متشدد رجحانات بھی واضح ہوگئے ہیں۔تاہم علامہ رضوی کے پیروکار یہ کہتے ہیں کہ چاہے مظلومی کا تاثر زائل ہوگیا لیکن انہیں وہ طاقت میسر آگئی جس سے وہ ایک عرصے سےمحروم تھے ۔ اب ان کی مسجدوں  پر کوئی  زبردستی قبضہ نہیں کرسکتا اور ان کے مزار ان سے خالی نہیں کروا سکتا۔

دوسری جانب دیوبندی مکتبہ فکر 9/11 کے بعد سے دباؤ کی زد میں ہے کیونکہ بہت سی متشدد تنظیمیں اس مسلک کی پیروکار ہیں۔ ان تنظیموں نے پاکستان کی سیکورٹی اور عالمی امیج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ دیوبند اکابرین اور علماء نےتشدد پسندی اور مسلکی نفرت کے اس  کلنک کو مٹانے کی بہت کوشش کی ہےمگر وہ اس عمومی تاثر کو بدلنے میں ناکام رہے ہیں۔طارق جمیل تاہم تن تنہاء اس بار گراں کا فریضہ کامیابی سے نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے شیعہ علماء اور اداروں سے مکالمے کی روایت شروع کی ہے۔

رضوی اور جمیل اپنے اپنے مسلک کے خوب مبلغ ہیں اور انہوں نے اپنے مسالک کو وہ سب کچھ دیا جس کا تقاضا کیا گیا۔ اپنے اپنے پیروکاروں کی اخلاقی تربیت شائد وہ مشکل کام ہے جس کی توقع تاحال  ان سے نہیں کی جاسکتی۔

بشکریہ ڈان

مترجم : محمد شوذب عسکری

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...