کرونا عہد میں ڈگمگاتی وفاقیت (آخری قسط)

460

اس بارے میں دو آرا ء نہیں کہ وفاقیت کا پھول جمہوری ماحول ہی میں کھِلتا ہے۔ایمرجنسی ، بحران اور قدرتی آفات اسے خدشوں ، تنقید اور الزامات کے تھپیڑوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ دنیا بھر کے 193 ممالک میں فقط 28 وفاقی انداز میں منظم ہیں۔ تاہم یہ دنیا کی کل آبادی کا 40 فیصد اور اکثر بڑے بڑے کثیر القومی ممالک ہیں ۔ کرونا بحران کے نتیجے میں صحت اور معیشت کی ایمرجنسی نے مرکزی، صوبائی یا اسٹیٹ سطح کی حکومتوں کے مابین دنیا بھر میں کھینچا تانی ہوئی۔ ہرایک نے مسئلے سے نمٹنے کے لئے دوسرے کی سوچ اور اپروچ پر سوال اٹھائے ۔ وسائل کے حوالے سے بھی سوالات ابھرے۔

پاکستان کا شمار بھی دنیا کے وفاقی انداز میں منظم ممالک میں ہوتا ہے ۔ تاہم ہمارا زیادہ تر وفاقی سفر مرکزیت پسندی کی چھاؤں میں طے ہوا۔ تاریخی اٹھارہویں ترمیم سے پہلے تو کم و بیش ہر چیز ہی اسلام آباد کے وسائل اور کنٹرول کے ڈنڈے سے ہوا کرتی تھی۔ انہی خراب عادات کے سبب اس بار بھی کہا گیا کہ اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں دی جانے والی صوبائی خودمختاری  کی وجہ سے اسلام آباد کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کو ریورس کرنے اور مالیاتی وسائل کی صوبوں کے حق میں بڑھتی ہوئی تقسیم پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ۔

اس منظر نامے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کرونا وائرس وفاقیت کے تصورات کو بھی کھا جائے گا  ؟ کیا ریاستیں ازسر نو وحدانی انداز میں منظم ہوں گی؟ یا پھر مرکز اور صوبوں کے درمیان بحرانی دنوں میں لچکدار مراسم کے لئے نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔

الیکشن 2018 کے بعد پاکستان تحریک انصاف نئی وفاقی پارٹی بن کر ابھری ۔ اور اسے تمام وفاقی اکائیوں اور علاقوں کے عوام نے اپنا حق نمائندگی سونپا ۔ تاہم اقتدار میں آنے کے بعد اس کا رجحان وفاقی پارلیمانی ری پبلک کی بجائے ٹیکنوکریٹک ایگزیکٹو  ریاست کا ہے۔  یہ بھی سچ ہے کہ تحریک انصاف اگرچہ 2006 میں آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (اےپی ڈی ایم)نامی سیاسی اتحاد کا حصہ تھی لیکن یہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں فریق نہیں تھی ۔ بلکہ 2008 کے انتخابات کے بائیکاٹ کی وجہ سے 18 ویں ترمیم کی کمیٹی میں بھی شامل نہیں تھی ۔ 2011 میں مینار پاکستان پر تاریخی جلسہ کے بعد تحریک انصاف چارٹر آف ڈیموکریسی کو مک مکا کا چارٹر کہتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ 2013 کے الیکشن کے بعد اس کی خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت نے اٹھارہویں ترمیم میں صوبوں کو ملنے والے حقوق سےبھرپور فائدہ اٹھا یا ہے ۔ اور اس کے وزیر اعلیٰ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اور سینٹ کی کمیٹی میں صوبوں کے حقوق کی جنگ لڑتے نظر آئے تھے۔ نئے پاکستان میں خصوصاََ باجوہ ڈاکٹرائن کے بعد اٹھارہویں آئینی ترمیم اور 7ویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے باعث مشکلات کا ترانہ مضبوط ہوگیا ہے اور اسکیورٹی، غیر ملکی قرضوں اور فاٹا کے انضمام کے بعد اس میں ردوبدل کی آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔

کرونا کے زمانے میں آئینی فورم ، مشترکہ مفادات کونسل اور نیشنل اکنامک کونسل کی بجائے نئے ایگزیکٹو پلیٹ فارم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سنٹر اور نیشنل کوآرڈی نیشن کونسل بن گئے ہیں جس میں سول اور ملٹری ایگزیکٹو قیادت نے مل بیٹھ کر فیصلے کئے ہیں ۔ ماضی میں بحرانی دنوں میں آل پارٹیز کانفرنسوں اور ایپکس کمیٹیوں کا رواج ہوتا تھا۔ اس بار سیاسی ڈائیلاگ کا مطالبہ یہ کہہ کررد کردیا گیا  کہ کرپٹ لوگوں سے بات نہیں ہوسکتی۔ پاکستان سنگل پارٹی ملک نہیں ہے ، سندھ میں اپوزیشن کی جماعت حکمران ہے۔ پارلیمانی اکثریت کے حوالے سے وفاق اور پنجاب میں سیاسی گنتی بھی آس پا س ہے ۔ایسے میں کرونا عہد میں پاکستانی وفاقیت کی کشتی ڈگمگاتی ہوئی نظر آئی۔

دستور میں بین الحکومتی  رابطوں ، کوآرڈینینشن اور کمیونیکیشن کے کئی آرٹیکل ہیں لیکن یہ سب کچھ بہت پروسیجرل محسوس کیا گیا۔ دستوری راہیں ، وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم طلاق کے انداز میں نہیں بلکہ جوائنٹ فیملی کے طرز پر کرتی ہیں۔ لیکن ہمارے فیڈرل ازم کی کہانی یہ ہے کہ ہم فیڈرل کلچر کے بغیر نام کا وفاق بن کررہ گئے ہیں۔اس چیلنج کا مقابلہ موثر صوبائی رابطوں کے ذریعے کیا جا سکتا تھا لیکن اسلام آبادمیں صوبوں کے وسائل سے قائم پنجاب ہاؤس، سندھ ہاؤس ، بلوچستان ہاؤس ، خیبرپختونخواہ ہاؤس ، کشمیر ہاؤس اور گلگت بلتستان ہاؤس صوبوں کے وفاق میں منی سیکرٹریٹ کی بجائے فقط اعلیٰ سطح کے گیسٹ ہاؤسسز ہیں ۔

رہی بات مالیاتی وسائل کی تو اسلام آباد میں ایسا کوئی درخت نہیں جس پر پیسے اگتے ہوں اور یہ یہ بطور خیرات صوبوں میں تقسیم ہوتے ہیں ۔ پیسے شہریوں کی محنت اور ٹیکسوں سے پیدا ہوتے ہیں اور دستور نے ٹیکس اکٹھے کرنے اور پھر دستوری ذمہ داریوں کے حساب سے ان کی تقسیم کا نظام نیشنل فنانس کمیشن کے ذریعے بنا کررکھا ہے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ صوبے اسلام آباد کے ماتحت نہیں بلکہ معاون کار ہیں ۔

اور یہ صوبے کسی دوسرے ملک کے نہیں بلکہ باہم مل کر پاکستان کا خوبصورت گلدستہ بناتے ہیں ۔ اس لئے نہ تو کمزور وفاق اور نہ ہی کمزور صوبے ہمارے خواب کو تعبیر آشنا کرسکتے ہیں ۔ سر بڑا اور دھڑ چھوٹا رہ جائے تو اسے بیماری کہتے ہیں اور اگر دھڑ بڑا اور سر چھوٹا ہوتو بھی یہ بیماری ہی کی ایک قسم ہے ۔ہمیں توازن کی راہ اپنا نی ہے۔

میرے خیال میں ایک ریاست اگر بدن ہے تو آئین اس کی روح ،پارلیمنٹ اس کا دماغ ہے تو جمہوریت اس کالہو ، وفاقی اور صوبائی ایگزیکٹو اس کے ہاتھ اور پاؤں  اور عدالتیں اس کا مدافعتی نظام، سبھی ٹھیک چلیں تو کارخانہ ء ہستی چلتاہے۔ اگر ایک جگہ خرابی ہوجائے تو وہ بالآخر پورے بدن کو کھا جاتی ہے ۔

امید ہے کرونا عہد  کے تجربات نے جو کچھ ہمیں سکھا یا ہے اس کی روشنی میں ہم اپنے عمرانی معاہدے ،وسائل کی تقسیم  کے فارمولے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی وفاقیت کو بہتر کریں گے نا کہ برباد۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...