قطر محاصرہ: ثابت قدمی کے تین سال

510

“قطر تو انتہائی چھوٹا سا ملک ہے اور اس کا سارا معاشی انحصار  ہم پر ہے،  اگر ہم صرف المراعی دودھ  ہی بند کر دیں تو قطر چند دنوں میں   گھہٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا” یہ تھی وہ نفسیات جس کے تحت قطر کے پڑوسیوں نے   13 نکاتی مطالبات منوانے کے لیے قطر  سےبائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

سیاسی اور سفارتی  مقاطعہ کے بعد دوسرے مرحلے میں سعودی  عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے 5  جون 2017ء کو رمضان  کے مہینے میں شروع ہونے والے اس اقتصادی بائیکاٹ  کے اگلے ہی روز قطر شدید معاشی بحران کا شکار ہو چکا تھا   اور  تقریبا تمام سپر مارکیٹس اشیائے خورد ونوش سے خالی ہو چکی تھیں۔  یہ وقت قطر کے لیے کڑے امتحان کا تھا،  لیکن مضبوط اعصاب کی مالک قطر حکومت نے   نامساعدحالات کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا  اور فی الفور ایسے اقدامات اٹھائے جن  سے قطر نے معاشی خودانحصاری کا آغاز کر دیا۔

وقتی بحران پر قابو پانے میں دوست ملک ترکی کی طرف سے بروقت امداد نے اہم کردار ادا کیا۔  تاہم مستقل بنیادوں پر کام کرنے اور اقتصادی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے دوحہ نے  اپنی معاشی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا اور درآمدات پر انحصار کم سے کم کر دیا۔ خلیجی ساحل پر طے شدہ منصوبے سے قبل ہی سات ارب ڈالر کی لاگت سے نئی بندرگاہ کھول دی، جس کا مقصد اپنی معیشت کو پڑوسیوں کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنا تھا۔ اس بندرگاہ کا استعمال اب 2022 فٹبال ورلڈ کپ کے سٹیڈیم کی تعمیر کے لیے عمارتی مواد درآمد کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، تاکہ تعمیراتی کام جاری  رکھا جا سکے۔

ڈیری کے نظام  میں قطر کا انحصار سعودی عرب پر تھا لیکن غیرملکی انحصار کے خاتمے کے لیے  ایک ماہ کے اندر اعلیٰ نسل کی دس ہزار آسٹریلوی و امریکی گائیں قطر ایئرویز کے ذریعے لائی گئیں اور جلد ہی  “بلدنا ” کے نام سے ڈیری فارم بنایا گیا جس سے قطر ، دودھ اور اس سے بنی مصنوعات میں بھی خود کفیل ہو گیا۔  بائیکاٹ کا سب سے زیادہ منفی اثر قطر ایئرلائن پر پڑا اور روزانہ دبئی جانے والی اٹھارہ پروازوں سمیت بیسیوں اور پروازیں بند ہوئیں جس کے نقصان کا تخمینہ اربوں میں ہے لیکن پھر بھی آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ دو ہفتے قبل جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق  قطر ایئر لائن مشرق وسطی میں آج بھی نمبر ون ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر مسافروں کا اعتماد حاصل کرنے میں  یہ ایئرلائن دوسرے نمبر پر آ گئی ہے۔

قطر پر ایک بڑا الزام دہشت گردی کی حمایت کرنا تھا، لیکن اس الزام کو عالمی سطح پر کیا اہمیت دی گئی؟ اس کا اندازہ اسی امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ نے دہشتگردی کی روک تھام کے لیے اپنا دفتر دوحہ میں کھولا اور طالبان امریکہ مذاکرات کا عمل بھی دوحہ میں ہی ہوا۔

اس طرح   نہ اقتصادی پابندیاں   دوحہ  کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکیں اور نہ دہشتگردی کے فروغ کے الزامات ہی اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے میں کارگر ثابت ہوئے، بلکہ معاشی کمزوری اور عالمی تنہائی کی یہ تمام تدبیریں الٹی ہو گئیں اور یہ معاشی بائیکاٹ قطر کے لیے مزید داخلی استحکام اور خودانحصاری کا سبب بنا،نیزعالمی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دوحہ کو صدر مقام کا درجہ حاصل ہوا۔

سوال یہ ہے کہ پھر محاصرہ کرنے والے ممالک کو سوائے بدنامی اور خفت کے کیا حاصل ہوا؟ اگر ہم ان پڑوسی ممالک کے 13 مطالبات پر نظر ڈالیں تو وہ آج بھی جوں کے توں اپنی جگہ پر ہیں ،  قطر نے الجزیرہ چینل بند کیا نہ ایران  کے ساتھ تعلقات کو محدود کیا۔  دوحہ آج بھی اپنی خودمختاری کے اس موقف پر ثابت قدم ہے کہ وہ اپنے داخلی و خارجی امور میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتا۔ اس طرح پڑوسیوں کو کچھ بھی حاصل نہ ہو سکا، بلکہ اس محاصرے نے انہیں ان  تاریخی اقدار سے بھی محروم کر دیا جو زمانہ جاہلیت میں بھی عربوں کی پہچان ہوا کرتی تھیں،  انہیں اقدار میں پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور بالخصوص مشکل حالات میں ان کی مدد کرنا  بھی شامل ہے جیسا کہ ایک جاہلی شاعر افوہ اودی نےعربوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہا تھا:

یقون  في الحَجرة  جيرانهم                   با لمال والأنفس من كل بؤس

وہ  قحط سالی میں پڑوسیوں کو تنگدستی سے بچانے   کے لیے مال تو مال ، جان نچھاور کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

بائیکاٹ کرنے والے ممالک  اس وقت  نہ صرف یمن، لیبیا اور قطر کو نیچا  دکھانے  کے درپے ہیں  بلکہ   خود اپنی روایات و اقدار سے بھی مزاحم ہیں۔ کیا ابھی تک ان کے لیے وقت نہیں آیا کہ  یہ ممالک  انا  کی  اس جنگ سے باہر نکلیں جو کسی اور کی نہیں  بلکہ خود انہیں کی جڑوں کو ہی کمزور کر رہی ہے؟

 

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...