کرونا عہد کی چند سچی کہانیاں

516

ہم جس طرح رہتے ہیں ،سوچتے ہیں ، کام کرتے ہیں ، سماجی اور معاشی تعلق نبھاتے ہیں ، لکھتے ہیں ، کھیلتے ہیں،حتیٰ کہ جیسے یہ عارضی دنیا چھوڑتے ہیں المختصر دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ بدل گیا ہے ۔ نظر نہ آنےوالے کرونا نے سب کچھ ایسا کردیا ہے کہ اس کے اثرات ہرجانب نظر آرہے ہیں۔ گلوبلائزیشن کی لہر دم توڑ چکی ہے۔ کیا نیا ورلڈ آرڈر آچکا جس میں تمام ریاستوں کو یہ تجربہ ہوا کہ سبھی کچھ کس قدر آسانی سے لاک ڈاؤن کیا جاسکتا ہے ۔ آزادیاں ختم ہوسکتی ہیں ۔ بازار، تعلیمی ادارے ، کھیل کود کے میدان ، میل جول ، سفری امکانات سبھی کچھ بند ہوسکتا ہے۔ آمرانہ ذہنیت رکھنے والوں کے لئے یہ کس قدر آسان کنجی ہے ۔ مستقبل میں اس کے انسانی حقوق پر اثرات ہوں گے ۔

خوف کے اس عالم میں کچھ عرصے کے لئے کاغذ اور قلم کا رشتہ بھی ٹوٹ گیا کیونکہ ہم سب کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ اور موبائل فونز کی سائبر دنیا میں ہجرت کرگئے تھے۔ تاہم ہم نے اس عہد کی درجن بھر کہانیاں لکھ ڈالیں جن میں سے تین یہاں قارئین کے لئے پیش خدمت ہیں۔

۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہر کا چڑیا گھر بند کرکے تمام جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کو کہا ہے ۔ یہاں موجود تنہا ہاتھی ” کیون” اور دیگر جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک اس فیصلے کی بنیاد بنا۔ کیونکہ “سہیلی” نامی مادہ ہتھنی سال 2012 میں چل بسی تھی  ۔ اسلام آباد ایڈمنسٹریشن، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، اسلام آباد میٹروپولیٹین کارپوریشن  اور وزارت موسمیاتی تبدیلی نے اس چڑیا گھر کو  چلانے کی کوشش کی مگر فقط 878 جانوروں اور پرندوں کا خیال نہ رکھ سکے ۔  بے زبان جانوروں کے نگران اور ” کیون” کا مہاوت اس کا کھانا تک بیچ کھاتے تھے ۔ یہ کوئی علامتی کہانی نہیں بلکہ سچی کہانی ہے ہاں اگر اسلام آباد کے چڑیا گھر کے اس استعارے کا دائرہ بڑھا دیا جائے تو کئی ادارے ، کئی سفید ہاتھی اور ہم مجبور جانور !نہ جانے ہمیں آزادی کب نصیب ہوگی کیونکہ ہمارا کھانا بھی عرصے سے ہم تک نہیں پہنچ رہا۔

۔ تعلیمی ادارے بند ہوئے تو ہربار صفر سے خوابوں کے محل تعمیر کرنے والوں کا اجلاس جاری تھا۔ خوب مشورے آرہے تھے ہر ایک مشورے کے ساتھ اخراجات کا نیا تخمینہ تھا، ٹھیکے تھے ، نجانے کیوں ایک بوڑھا شخص اس محفل میں  ایک بوسیدہ سی فائل اٹھا لایا  کہ ہم تو 1960 سے یونیسکو اور جاپان کی مدد سے ایجوکیشن ٹیلی ویژن کی بات کررہے ہیں ، امداد بھی آئی ، اخراجات بھی ہوئےلیکن سینکڑوں اسکرینوں کے دور میں ایک بھی ٹیلی تعلیم کا چینل ہمیں کسی بھی چینل پر نظر نہیں آتا۔ اس پر ایک صاحب بولے ” پہیہ دوبارہ سے ایجاد کرنے کی بجائے 1974 سے قائم علامہ اقبال اوہن یونیورسٹی ( جس کا پرانا نام پیپلز اوپن یونیورسٹی تھا) کے فاصلاتی نظام تعلیم سے فائدہ اٹھا لیجئے۔ اسی محفل میں ایک اور صاحبہ نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان میں تو 2002 سے ایک ورچوئل یونیورسٹی بھی قائم ہے ۔ ٹھیکے دارانہ طبیعتوں پہ جب پے درپے وار ہوئے تو اجلاس میں نئے سرے سے سفر شروع کرنےاور اس حوالے سے ممکنہ عالمی امداد پر گفتگو کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس اجلاس میں اٹھارہویں صدی کا نصاب ، انیسویں صدی کی کتا ب، نوٹس اور بیسویں صدی کے طریقوں سے پڑھانےوالے اساتذہ جوکہ اکیسویں صدی کے تقاضے پورے کرنا چاہتے ہیں خاموش تھے کیونکہ ان کی اکثریت بی بی سی ( بورن بی فو ر کمپیوٹرز”عہد ِ کمپیوٹرسےقبل پید ہونےوالے”) تھے۔ آخر کار فیصلہ ہوا کہ بچوں کو تو مفت میں پاس کروکیونکہ کیمبرج بھی ایسا ہی کررہی ہے۔ اچھی بات ! لیکن زمانہ قیامت کی چال چل چکا ہے۔ مستقبل کا کلاس روم مختلف ہوگا ہم جتنی جلدی خود کو بدل لیں اچھا ہوگا۔ اس سلسلے میں اساتذہ کی تربیت سب سے اہم ہے تبھی بات آگے بڑھ سکتی ہے۔

۔ کرونا عہد سے پہلے احساس تفاخر کے سبھی حوالے مختلف تھے ۔ وباء کےزمانے میں علم ہوا کہ سب سے اہم تو ڈاکٹرز، نرسیں اور پیرا میڈیکل اسٹاف ہیں ۔ یہ بات کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہے بلکہ اس صف میں امیر ملک محمود اور غریب ملک غلام ایاز ایک ساتھ کھڑے نظر آئے ۔ تعلیم کی طرح صحت کی سہولتوں کی پرائیویٹائزیشن کی وجہ سے پاکستان میں صحت پر خرچ ہونے والے ایک روپے میں سے 62 پیسے آؤٹ آف پاکٹ اخراجات ہوتے ہیں جو لوگ اپنے بالی ، کنگن یا پھر قرض لے کر پورے کرتے ہیں۔ ویسے تو سبھی کچھ وینٹی لیٹر پر ہے لیکن پتہ چلا کہ بوقت ضرورت اتنے وینٹی لیٹر بھی میسر نہیں ہیں ۔ایسے میں سماجی دوری ،فاصلے، نقاب(ماسک) اور سینیٹائزر کا الکوحل سبھی کے لئے  حلال ہوگئے۔

جاری ہے۔

(مزید تین کہانیاں آئندہ قسط میں )

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...