یو ٹیوب چینل ، کرونا وائرس اور سازشی تھیوریاں

378

مجھ سے بہت سے دوستوں نے کرونا وائرس کے حوالے سے سازشی تھیوری کے بارے میں پوچھا ہے۔ بعض دوستوں نے باقاعدہ ویڈیوز بھی بھیجی ہیں جن میں اردو زبان میں بتایا گیا ہے کہ یہ کیسے ایک عالمی سازش ہے۔ جس میں خاص طور پر بل گیٹس کا بھی کردار ہے۔ دور ِحاضر میں بہت سی حقیقتوں سے سائنس نے پردے بھی اٹھائے ہیں لیکن ہمیں اس مشکل میں بھی ڈالا ہے کہ جو آپ کو ان سازشوں کے بارے میں بتا کر سنسنی خیزی کر رہا ہے یا آپ میں تجسس کو بڑھا رہا ہے۔ کہیں اس میں اس کے ذاتی مقاصد تو نہیں ہیں۔ میرے سامنے یوٹیوب پر ویڈیوز آنے والی اکثر ویڈیوز کورونا وائرس کے پیچھے پوشیدہ محرکات و اسباب پر ہوتی ہیں۔ ان کے ٹائٹل اتنے دلچسپ اور متوجہ کرنے والے ہوتے ہیں کہ اس کے “تھمب نیل” کو دیکھ کر کوئی بھی اس کو دیکھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسی ویڈیوز کے کم از ک ناظرین کی تعداد 40 ہزار سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگرچہ میں ایسی ویڈیوز کے لئے “ناٹ انٹرسٹڈ” کا آپشن استعمال کرتا ہوں۔

ان ویڈیوز کے خالق ایسی ویڈیوز کیوں بناتے ہیں۔ واضح بات یہ ہے ان کا بزنس ہے۔ میں اپنی ہمسائیگی میں ایسے شخص کو جانتا ہوں وہ تین یوٹیوب چینلز چلا رہے ہیں۔ بلامبالغہ کروڑوں روپے وہ کما رہے ہیں۔ اگر ان ویڈیوز کے موضوعات آپ دیکھیں تو آپ سمجھ جائیں گے وہ پیسہ اتنا کیوں کما رہے ہیں۔ اسی طرح زندگی کے ہر شعبے اور مسئلے پر ویڈیوز کی تیاری ایک بہت بڑا بزنس بن چکا ہے۔ سادہ لوح عوام اس بزنس سے واقف نہیں ہے کہ جو اسے سازش کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے ایک عدد دلچسپ ویڈیو تیار کر رہا ہے آخر کار اس کے بھی بیوی بچے ہیں۔ وہ یہ بزنس کر رہا ہے۔ ہمارے ہاں دو قسم کی ویڈیوز بہت زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔ ایک جنسی مسائل پر اور دوسری ایسی ویڈیوز جن میں امریکہ، یورپ کی سازش کو بے نقاب کیا جائے۔ جنسی موضوعات پر بنائی جانے والی ویڈیوز میں ہوتا کچھ نہیں ہے لیکن انہیں اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ ناظرین خود بخود کھنچے چلے آتے ہیں۔اس لئے صرف کرونا ہی نہیں اس کے علاوہ بھی بہت سی “سازشوں”پر سے یوٹیوب ماہرین پردہ اٹھا چکے ہیں۔ معلوم نہیں ان سازشوں کی حقیقت کیا ہولیکن انہیں پیش کرنے والے  ایک ویڈیو سے اتنا پیسہ کما لیتے ہیں کہ اس سے آگے ویڈیو ہی نہیں چینل بن جاتے ہیں۔

کرونا وائرس پر سازشی تھیوری کے حوالے سے ایک اور پہلو سے، اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ جب کوئی شخص یا گروہ اسے سازش قرار دیتا ہے، سننے والا سب سے پہلے بات کہنے والے کے ماضی و حال کو دیکھتا ہے۔ جب وہ جانتا ہے کہ ان کا مشن ہی یہی ہے کہ یہ آئے روز نت نئی سازش سے پردہ اٹھاتے ہیں اور  سازش ہوا بھی ہو جاتی ہے۔اس کے بعد، وہ مزید سازشوں کی تلاش میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ۔

سازش کرنے والوں میں ہمیشہ یورپ اور امریکہ کا نام لیا جاتا ہے۔ سننے والا جب امریکہ و یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کی معاشی حالت، سیاسی اور مذہبی حقوق  دیکھتا ہے وہ ضرور سوچتا ہے کہ کیا نفرت ودشمنی کرنے والے یا سازش کرنے والے اپنے ملکوں میں آنے والوں کو اس قدر امن،سکون اور خوشحالی سے رہنے دیتے ہیں؟ اگر ایک شخص دس سال پہلے یورپ و امریکا گیا آج وہ وہاں کا شہری بن کر اُن کےشہریوں کے برابر حقوق حاصل کررہا ہے۔ ووٹ سے لے کر ہسپتال تک، تعلیم سے لے کر ملازمت تک اسے برابر حقوق دیے جاتے ہیں۔ سازش قرار دینے والوں کو سن کر ایک عام شخص یہ بات سوچتا ضرور ہے کہ ایک مسلمان کو اس کے اپنے ملک میں حقوق حاصل نہیں یا کسی اسلامی ملک میں اس کی حیثیت ہمیشہ دوسرے درجے کے شہری کی رہتی ہے۔ تمام زندگی صرف کر دینے کے باوجود، اسے نیشنلٹی یا پاسپورٹ نہیں ملتا۔ حکومت جب چاہے اسے اپنے ملک سے باہر نکال سکتی ہے۔ وہ کسی عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹا سکتا۔ کرونا وائرس کی وجہ سے کتنے پاکستانیوں کو عرب ممالک سے نکالا گیا اور امریکہ و یورپ سے کتنے پاکستانیوں کو نکالا گیا؟ اس کا حساب کتاب لگا لیں تو آپ کو خود اندازہ ہوجائے گا۔

کیا سازشی ذہن ایسا ہوتا ہے۔؟ جب ایسی باتیں سامنے آتی ہیں تو سازشی تھیوری پر شک گزرنے لگتا ہے بلکہ یقین ہونے لگتا ہے کہ یہ چند شکست خوردہ ذہنوں کی پیداوار ہے۔ یہ ایسے ذہنوں کی پیداوار ہے جو احساسِ کمتری میں رہتے اور ردّ عمل کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ انہیں معلوم نہیں۔ سازش کرنے والے اپنے ملک کی اقلیت کے ساتھ کیا سلوک کرتےہیں۔؟ ان کا جینا کیسے دوبھر کر دیتے ہیں۔؟ لوگ کیسے قتل ہوتے اور کیسے ان کے گھروں کو جلا دیا جاتا ہے۔ صرف گھر نہیں بستیوں کی بستیاں جلا کر راکھ کر دی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں ایک دکھ یہ بھی ہے مؤرّخ  سائنس میں دخل اندازی کرتا ہے۔ سائنسدان مذہب پر رائے زنی کو اپنا حق خیال کرتا ہے۔اُن کے لئے اپنے شعبے کے علاوہ،ہر شعبے پہ رائے دینا آسان ہوتا ہے۔ ۔ اسی طرح وہ لوگ جو کرونا وائرس یا اس جیسی وباء کی حقیقت سے بالکل واقف نہیں ہیں وہ بھی اسے عالمی جھوٹ اور سازش قرار دینے سے باز نہیں آتے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...