کرونا وبا کےبعد کا پاکستان اور مستقبل کی تیاری

517

آفات ایک لمحے میں رونما نہیں ہوتیں۔  آفات سے بچاؤ و بحالی کے ماہرین کے مطابق اب ”فطرت تباہی یا آفات کا سبب بنتی ہے” والا تصور متروک ہوتا جارہا ہے۔ ماہرین کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ یہ مسلسل ہونےوالےقدرتی عمل نہیں ہوتا بلکہ انسانی متحرکات، افعال اور سرگرمیاں جو قدرتی عمل میں دخل اندازی کرتے ہیں کرہ ارض پر تباہی کا باعث بنتی ہیں۔

یاد رہےکہ زلزلے سے جانی نقصان نہیں ہوتا  بلکہ عمارتوں کے گرنے سے اموات واقع ہوتی ہیں۔

2011 جاپان میں 9 ریکٹر اسکیل میں 14 ہزار اموات  ہوئی تھیں جن میں سے  زیادہ تراموات  سونامی کے سبب ریکارڈ ہوئیں۔  جبکہ سال 2010 میں ہیٹی میں آنے والا 8 ریکٹر اسکیل کےزلزلے سے 2لاکھ 30ہزار اموات اور 90 فیصد عمارتیں تباہ ہونے سے10 لاکھ لوگ بےگھر بھی ہوئے۔  جاپان نے عمارتوں اور انفراسٹرکچر کے ڈیزائن اور معیار میں بہتری لا کر زلزلوں سے جانی اور مالی نقصانات کو تقریباََ ختم کر دیا ہے۔وہیں ہیٹی میں ایک کم درجہ کا زلزلہ بھی لاکھوں اموات کا سبب بنتا ہے۔

اسی طرح، وبائی امراض کے مائکروجرمز ہمیں مسلسل پرانی اور نئی شکلوں کے ساتھ متاثر کررہے ہوتے ہیں۔ چند ایسے ہیں جو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مہلک ہوتے ہیں۔ یہاں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہم ممکنہ خطرات کی نگرانی، تشخیص، اور وبا کے جواب دینے میں کتنی تیاری کئے ہوئے ہیں۔

سمندری طوفان، زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ، وبائیں، قحط، سیلاب اور آتش فشاں جیسی ماحولیاتی اور قدرتی سرگرمیاں ہمہ وقعت جاری رہتی ہیں ۔ یہ تمام قدرتی اعمال تو ہیں مگر آج کل کے جدید دور میں ان میں سے کسی کو بھی قدرتی آفت  نہیں کہا جاسکتا۔ آفات قدرتی نہیں بلکہ انسانی انتخاب کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ معاشی، سماجی متحرکات کے ساتھ ساتھ خطرات کی نشاندہی اور آفات کی روک تھام وتخفیف جیسی پیشگی حکمت عملی کی کمی وہ اصل وجوہات ہیں جو ایسے سانحات کا سبب بنتی ہیں۔

بحران ہمارے سماج کی کمزوریوں، موجودہ خطرات، غیر موثر حکمت عملی اور فیصلہ سازی میں  تذبذب کو بے نقاب کرتے ہیں جوکہ عام حالات میں ظاہر نہیں ہوتے۔ پاکستان جیسے سماج میں کمزور طبقے مستقل ایسے بحرانوں سے گزر رہے ہوتے ہیں، صحت، روزگار، صفائی، معلومات، آگاہی اور ملک کے کمزور طبقوں تک فوری رسائی جیسی مشکلات ہم پاکستان میں مستقل طور پر دیکھتے آئے ہیں۔

ہماری تاریخ انسانی المیوں سے بھری پڑی ہے۔  کرونا وائرس کی وباء  نہ تو پہلا المیہ ہے اور نہ ہی یہ آخری ہوگا۔

کرونا  کے بحران کے بعد نارمل کیا ہے؟ انہی حالات میں واپسی جو پہلے تھے؟

کیا ہم نے وہی نظام بحال کرنا ہے جو آج ہمیں یہاں تک لایا ہے یا کوئی بہتری بھی لانی ہے؟

آفات ہماری سوچ، رہن سہن اور مستقبل کی پیشگی تیاری کو مزید پختہ کرنے کا سبب بنتی ہیں، انفرادی سطح پر تو ہر عقلمند انسان یہی کرتا ہے۔

مگر کیا حکومتیں اور کمیونٹی کی سطح پر بھی ہم مستقبل کی آفات کی تیاری کرتے ہیں؟

کیا ہم ہر آنے والی آفت کا مقابلہ ایسے ہی کریں گے؟

آفات اور ہنگامی حالات سے نپٹنے کو چار بڑے مرحلوں میں بانٹ سکتے ہیں. ہر ایک مرحلہ کی اپنی اہمیت ہے.

1،  آفات کی روک تھام اور تخفیف،

2، تیاری، جس میں آپریشنل تیاری اور ہم آہنگی شامل ہے،

3، رسپانس، جس میں تباہی کے مطابق مربوط ریسکیو اور ریلیف کا آغاز۔

4 ، طویل مدتی بحالی، تعمیر نو اور دیر پا منصوبہ،

پاکستان نے ہمیشہ آفات سے نمٹنے کے لئے رد عمل کی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ مطلب سانحہ وقوع پذیر ہونے کے بعد ہمیں ہوش آتا ہے۔ ہماری آفات سے نپٹنے کی صلاحیت اس لیے بھی کم ہے کہ ہمارا سارا نظام امدادی کاروائیاں تک ہی محدود ہے۔ اگر طویل مدتی اقدامات میں ان وجوہات کا خاتمہ نہی کیا جاتا جس کی وجہ سے کمیونٹی آفت کا شکار ہوئی تھی، تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ  یہ متاثرہ کمیونٹی پھر سے کسی آفت  کا شکار نا ہو اورپہلے سے زیادہ  زیادہ نقصان بھی اٹھائے۔

ہمارا عمومی رویہ ایک آگ بجھانے والے عملے کی طرح ہے جو ہر لگنے والی آگ کو جلد یا بدیر بجھا تو دیتے ہیں مگر آگ لگنے کی وجوہات ختم نہیں کر پاتے۔ نتیجہ میں ہر بار صرف آگ بجھانے والی امدادی کاروائیوں کو ہی ہم کامیابی تصور کرتے ہیں۔

ہمارا آفات سے نپٹنے کا نظام آفات کی روک تھام، تخفیف، تیاری اور طویل مدتی مراحل تک پہنچ ہی نہی پاتا۔ یہی وہ مراحل ہیں جس میں دیرپا تبدیلیاں کر کے ہی آفات کے اثرات کو کم اور جلد بحالی ممکن ہے. ان سب مراحل کے وقت ادارے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وقت کے ساتھ متاثرہ کمیونٹیز میں نسبتاً چھوٹے سانحات سے نپٹنے کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہیں.

اگرچہ یہ کرونا وبا غیر معمولی ضرور ہے، مگر کیا 2005 کا کشمیر زلزلہ اور 2010 کا سیلاب غیر معمولی نہیں تھے؟ ساری آفات اور وبائیں غیر معمولی ہی ہوتی ہیں۔ غیر معمولی کی تکرار ہمارے آفات سے نپٹنے کے نظام کی کمیوں اور قیادت کی کوتاہیوں کی حقیقت پر پڑدہ نہیں ڈال سکتی۔ اگر آج خدا نخواستہ پاکستان کے کسی خطے میں زلزلہ یا سیلاب آ جائےتو ہماری کیا تیاری ہے؟ کیا ابھی جو مسائل ہیں وہی پھر سے نظر نہیں آئیں گے؟

کروناوباء  پاکستان میں اس وقت ایک عبوری مرحلہ میں ہے تاہم، اگر وائرس کی ایک نئی بڑی  لہر دوبارہ آتی ہے تو ہمیں ،پھر سے رد عمل کے مرحلے میں واپس جانا پڑ سکتا ہے۔ رسپانس اور عبوری مرحلے دیرپا بحالی، طویل مدتی تعمیرِ نو، ساختیاتی  پالیسی کی تبدیلیوں کی بنیاد رکھتے ہیں ۔ان مراحل میں لیے گئے اقدامات متاثرہ افراد کی بحالی کو ،یا تو یقینی بناتے ہیں یااس کام  میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ تاہم یہ دونوں صورتوں میں دور رَس اثرات چھوڑتے ہیں۔ ان اہم مراحل کے دوران لیے گئے اقدامات پر منحصر ہے کہ متاثرہ شخص یا کمیونٹی کی  بحالی کا سفر ِکس تیزی سے اداہوتاہے۔

جنوبی کوریا، تائیوان، نیوزی لینڈ اور سنگاپور جیسے ممالک  کی موجودہ وبا میں کامیابی،  آفات کی روک تھام اور تخفیف، مستقبل کی تیاری، مربوط ریسکیو ریلیف اور طویل مدتی بحالی کے مراحل پر پہلے سے منصوبہ سازی اور وسائل کی فراہمی کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی ہے۔

مستقبل کی تیاری کے لئے پاکستان کو درج ذیل اقدامات فوری طور پر کرنے ہوں گے:

وسائل کے شعبے میں طبی اور سائنسی آلات اور افرادی قوت کی کمی کو دور کرنا۔

آفت کے اسباب کو سمجھنا اور دور رس اقدامات کر کے مستقل بنیادوں پر حل کرنا۔

طویل مدتی اقدامات میں مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز کے کردار اور اشتراک کو بڑھانا۔

مرکزی طور پر پالیسی اور منصوبہ سازی کے بجائے متاثرہ کمیونٹییز کو ساتھ ملانا اور قیادت دینا۔

رضاکاروں اور رفاہی اداروں کو ایک چھتری کے نیچے منظم کرنا۔

موجودہ اور مستقبل کے خطرات کی مسلسل نشاندہی، اندراج اور آگاہی۔

کمزور کمیونٹیز اور پر خطر جگہوں کی نشاندہی، تحقیق میں جامعات کے کردار کو بڑھانا ہوگا۔

پاکستان میں آفات سے نپٹنے کے پورے نظام کو ار سرِنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے نظام کو فرسودہ اور مرکزیت پسند طریقے کے بجائے شہری سطح پر لے کر جانا ہوگا۔

آفات کی سارے مراحل کو کمیونٹی کی سطح پر مربوط کرنا ہوگا۔

جامعات کو آفات پر تحقیق کو تیز کرنا اور حکومت کو وسائل کی فراہمی یقینی بنانی ہوگی۔

مگر ان سب سے پہلے موجودہ وبا میں جامع حکمت عملی کے فقدان، فیصلہ سازی میں تذبذب اور بلاجواز تاخیر، صوبوں اور وفاق میں رابطوں کے فقدان جیسے پرانے مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔

امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈنگ سائنسز کی ایک رپورٹ کے مطابق طویل مدتی بحالی اور تعمیر نو کے دوران کمیونٹیز کی تیاری پر خرچ ہونے والے ہر ڈالر کے مقابلے میں معاشرے کو مستقبل کے نقصانات میں چھ ڈالر کی بچت ہوتی ہے۔ اگرچہ پاکستان کے سیاسی اور معروزی حالات کا موازنہ کسی دوسرے ملک سے ممکن نہیں تاہم دوسرے ممالک کی پیشگی تیاروں سے سیکھا جا سکتا ہے۔ غیر معمولی حالات سے اگر سیکھنا اور تیاری نہیں ہے تو مستقبل کی آفات اس سے بھی شدید ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو مالی اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے باوجود بھی مستقبل کے لئے پیشگی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...