ریاض نایئکو اور کشمیری عسکریت پسندی میں بڑھتی ہوئی تقسیم

1,635

‘تیری جان میری جان!! پاکستان پاکستان’  کا نعرہ لگانے والے حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو کو بھارتی فوج سے لڑنے کے علاوہ ایک اور محاذ کا سامنا بھی تھا۔ یہ محاذ بیرونی نہیں اندرونی تھا کیونکہ برسوں سے ایک صفحے پر رہنے والے کشمیری  عسکریت پسندوں میں اختلافات شدید تر ہو نا شروع  ہوگئے تھے۔ ان فکری اور نظریاتی اختلافات کے پیچھے بنیادی سوچ یہ تھی کہ ماضی میں کشمیری عسکریت  پسندوں سے کئی مرتبہ بے وفائی کی گئی اور اب اس تحریک کو کسی بیرونی سہارے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

دیگرافراد کی مانند حزب المجاہدین میں کمانڈر ذاکر موسیٰ کے خیالات بھی یہی تھے۔ 2017میں ایک متنازعہ بیان کے بعد حزب المجاہدین نے ذاکر موسیٰ کو تنظیم سے نکال دیا۔ اس وقت ریاض نائیکو نے اپنی تنظیمی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے اس فیصلے کے نفاذ کو یقینی بنایا۔اس کے بعد ذاکر موسیٰ نے انصار غزوۃ الہند کے نام سے نئی تنظیم بنا لی۔ذاکر موسیٰ نے اپنے بیانات میں افضل گورو کے اُن مخصوص خیالات اور تحفظات کا حوالہ دیا جن میں پاکستان سے شکایات کا تذکرہ تھا۔ انصار غزوۃ الہند کے قیام پر پاکستان میں موجود متحدہ جہاد کونسل نے واضح موقف اپنایا کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں القاعدہ یا داعش کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کشمیر میں  کسی کی حمایت حاصل ہے۔ مزیدیہ کہ سادہ لوح نوجوانوں کو خلافت کے نام پر دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ چونکہ کمانڈر ریا ض نائیکو کا شمار سینئر ترین عسکریت پسندوں میں تھا اس لئے انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی  تھی کہ القاعدہ اور داعش کے نام پر پیدا ہونے والی اس نئی سوچ کے آگے بند باندھ کر رکاوٹ کھڑی کی  جائے۔ ریاض نائیکو نے انصار غزوۃ الہند کے کشمیر سے باہر حملوں اور کشمیری پنڈتوں پر سختی کے موقف کو یکسر مسترد کیا۔ ان اقدامات سے انصار غزوۃ الہندعوامی پذیرائی لینے میں ناکام رہی جبکہ اس کے عسکریت پسندوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ رک گیا۔

دنیا میں جاری دیگر پر تشدد تحریکوں کے برعکس ابھی تک کشمیر میں ان اختلافات کی نوبت مسلح تصادم تک نہیں آئی، اگرچہ ان اختلافات کے آغاز پر یہ اطلاعات بھی تھیں کہ حزب المجاہدین کے کمانڈرز، ریاض نائیکو اور سبزار بھٹ کو وادی کشمیر کے باہر سے پیغام بھجوایا گیا تھا کہ منحرف ہونے والوں سے سختی سے پیش آیا جائے لیکن ریاض نائیکو اور سبزار بھٹ نے اپنے سابقہ دوستوں  سے سختی روا نہیں رکھی۔ اسی طرح دوسری طرف القاعدہ کی جانب جھکاؤ رکھنے والے گروہ نے بھی اپنی توجہ  تاحال بھارتی فوج پر حملوں ہی مرکوز رکھی ہوئی ہے۔

کشمیرمیں عسکریت پسندی کے ‘پوسڑ بوائے ‘ برہان مظفر وانی کی زندگی کے آخری سالوں میں عسکریت پسندوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی  تھی کہ کشمیر میں جاری عسکری کاروائیوں کو کسی دوسرے ملک یا اس کے اداروں کے زیر اثر ہونا چاہیے یا نہیں؟

اس وقت برہان وانی کے نائب ذاکر موسٰی کا موقف تھا کہ ہمیں اپنی آزادی کی جنگ خود لڑنا ہو گی، کسی ملک کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی اسٹریٹجک پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہماری تحریک کی مدد میں اضافہ یا کمی کرے۔ نیز نائن الیون کے بعد کشمیریوں کو جس طرح تنہا چھوڑدیا گیا اس کے بعد ہمیں کسی سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسی بناتا ہے۔

اسی بحث کے پیشِ نظر ان دنوں کمانڈربرہان وانی اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حا فظ محمد سعید کی گفتگو کی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آئی جس میں برہان وانی نے شکوہ کیا کہ آج کل ‘لشکر والوں’  کا سامان اور پیسے نہیں آتےاگر آپ کو نیٹ ورک کا مسئلہ ہے تو میں تعاون کرسکتا ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ تحریک کو اس وقت جو نیا رجحان ملا ہے، ہمیں اب اسے جاری رکھنا ہے اس مقصد کے لئے وسائل  مہیا ہونے  چاہییں۔ جس کے جواب میں حافظ سعید نے کہا کہ ہم پورا تعاون کریں گے۔

کشمیر میں جاری لڑائی اور آزادی کی تحریک میں پاکستان پر کتنا انحصار کر نا چاہئے، اس سوال پر عسکریت پسندوں کے اندورنی حلقوں میں بحث کوئی نئی نہیں ہے۔ آج سے تیس سال پہلے بھی کشمیر کی خود مختاری پر یقین رکھنے والی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے ایسے کچھ سوالات اٹھائے تھے لیکن اس وقت پاکستانی عوام اور ریاست دونوں، کشمیریوں کی مدد کیلئے ہر ممکن مدد کر رہے تھے، اس لئے اس بحث کو زیادہ توجہ اور اہمیت نہیں ملی۔ اسی عرصے میں کشمیری عسکریت پسند تنظیموں کے کچھ کمانڈرز میں بھی یہی متبادل سوچ موجود تھی۔ مثال کے طور پر حزب المجاہدین کے سابق چیف آپریشنل کمانڈر عبدالمجید ڈار کو پاکستانی اداروں کے کردار پر تحفظات رہے۔ بعد ازاں حزب المجاہدین نے مختلف وجوہات کی بناء پر انہیں تنظیم سے فارغ کر دیا۔ اسی سلسلے میں دوسرا بڑا نام کالعدم جیش محمد کے چیف آپریشنل کمانڈر غازی بابا کا تھا۔ غازی بابا کا خیال بھی یہی تھا کہ کشمیر میں مقامی سطح پر  جنگ آزادی کو فروغ دینا چاہیے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ رانا طاہر ندیم عرف غازی بابا کا تعلق پاکستان میں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے تھا۔

انڈین پارلیمنٹ پر حملہ آوروں کی مدد کرنے کے الزام میں پھانسی پانے والے افضل گورو نے اپنی کتاب ‘آئینہ ‘ میں خود کو کمانڈر غازی بابا کا شاگرد قرار دیتے ہوئے لکھا کہ غازی باباتنظیمی رسہ کشی، سیاسی و نظریاتی اختلاف، خفیہ ایجنسیوں کے خود غرضانہ و منافقانہ رویوں سے باخبر تھا۔ وہ ہمیشہ کوشش کرتا کہ نوجوان مظفر آباد جانے کی بجائے یہاں کشمیر میں ہی تربیت حاصل کریں۔ افضل گورو کی کتاب کو اس لیے بھی مستند شمار کیا جا سکتا ہے کہ اس کی تقریب رونمائی 2014 میں مظفر آباد میں ہوئی جس میں چیئرمین متحدہ جہاد کونسل سید صلاح الدین نے خطاب کیا جبکہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر نے ٹیلی فونک تقریر کی۔

موجودہ دور میں ‘انصار غزوۃ الہند’ نامی تنظیم، افضل گورو اور غازی بابا کی انہی شکایات کو بنیاد بنا کر کشمیرمیں اپنے نظریات کاپرچار جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ پاکستان میں عمومی رائے یہی ہے کہ کشمیر میں القاعدہ یا داعش کا وجود اور کردار بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی سازش ہے جس کا مقصد کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو بدنام کر کے نقصان پہنچانا ہے۔

ایسے وقت میں جب کشمیر میں عسکریت پسندوں کو بھارتی فوج کی جانب سے مسلسل اور سخت مزاحمت کا سامنا ہے اوردوسری طرف القاعدہ نے افغانستان سے توجہ ہٹا کر کشمیراور ہندوستان کو اپنا نیا ہدف قرار دیا ہے،حزب المجاہدین کیلئے نئے چیف آپریشنل کمانڈر کا انتخاب ایک امتحان سے کم نہیں، جو مقامی عسکریت پسندوں کو کسی عالمی ایجنڈےسے بچاتے ہوئے بھارتی فوج کا سامنا کرے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...