کروناوائرس پر بلوچستان اسمبلی کا اجلاس کب ہوگا؟

169

کورونا وائرس پھیلنے کے بعد صوبہ بلوچستان میں رونما ہویے واقعات و پالیسی احکامات کے نتائج نیز بلوچستانی عوام پر مرتب ہونے والے کثیر الجہت اثرات پر بحث مباحثہ اور ایک متفقہ حکمت عملی مرتب کرنے کیلئے 20مارچ2020ء کو بلوچستان صوبائی اسمبلی میں موجود حزب اختلاف کے ارکان نے اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست جمع کرائی تھی اس درخواست پر اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی بجائے اسمبلی کے سپیکر جناب عبدالقدوس بزنجو نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے کارونا وباء کی مخدوش صورتحال کے باعث  حزب اختلاف سے اپنی ریکوزیشن واپس لینے کی اپیل کی تھی لیکن یہ بتاناضروری نہیں کہ نہ تو اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے نہ ہی حزب اختلاف نے اپنی جمع شدہ ریکوریشن واپس  لی ہے تاہم یکم اپریل کو بلوچستان  صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے سیکرٹری نے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر آئینی اعتراض لگا کر ارکان اسمبلی (حزب اختلاف) کو آگاہ کیا ہے کہ کن خامیوں اور آئینی و قانونی سقم کی بنیاد پر مطلوبہ اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔

غالباً 19فروری2020ء کو ایران میں میں کورونا کی وبا کے پھوٹ پڑنے کی پہلی اطلاع آئی تھی جس کے ساتھ ہی ایران گئے ہوئے پاکستانی زائرین و دیگر تجارتی طبقہ کے ہزارہا افراد کے تفتان بارڈر پر (ایران کی حدود میں) پہنچ جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں چنانچہ 20فروری کو ہی صوبائی حکومت کے ترجمان اور میرے  محترم دوست لیاقت شاہوانی  پورے شدومد سے ذرائع ابلاغ پر جلوہ افروز ہو کر مطلع کر رہے تھے کہ ایران سے آنے والے متذکرہ صدر پاکستانیوں کو ملک میں داخل ہونے سے قبل مکمل طور پرطبی معائنہ کرنے کے بعد اور پھر مشتبہ مریضوں کو 14دن کیلئے قرنطینہ میں رکھنے نیز مکمل تسلی ہو جانے کے بعد ہی انہیں ان کے آبائی شہروں / علاقوں کی طرف روانہ کیا جائے گا ۔انہوں نے تفتان میں فوری طور پر قرنطینہ قائم ہوجانے  اور مطلوبہ طبی عملہ مع تمام ضروری طبی سازوسامان تفتان روانہ کر دیئے جانے کی بھی مصدقہ اطلاع ارزاں کی تھی۔

مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ درد ناک غفلت آمیز اور مجرمانہ کہانی کے سوا کچھ نہیں جس کے ذکر سے فساد خلق کے خدشے کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا ماسوا یہ کہ اس وقت ملک بھر میں کورونا وباء کی جو بھیانک صورتحال ہے اسے یہ کہہ کر تسلیم کر لیا جائے کہ  یہ وباء محض بہت بڑی تعداد میں ایران سے براراستہ  تفتان غفلت شعاری اور ناقص حکمت عملی کے ذریعے ملک میں پھیلی ہے۔

20فروری سے 20مارچ یعنی جس روز حزب اختلاف نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کرائی ہے ایک ماہ کی تاخیر ہو چکی تھی پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا لہذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ حکومت کی غفلت شعاری لاپرواہی کے ساتھ ساتھ اپوزیشن نے بھی بھرپور کوتاہی اور کاہلی کا ارتکاب کیاہے۔ اگر بروقت یعنی ایک ماہ قبل اجلاس بلا کر بحث و مباحثہ کے بعد اتفاق رائے سے اقدامات کا فیصلہ ہوتا تو مارچ کے آخری ہفتے میں عوام کو یہ گھمبیر سچائی سننے کو نہ ملتی جس کا اظہار محترم وزیراعظم  نے حالیہ دنوں میں  اسی عتراف کے ساتھ کیا ہے کہ “تفتان میں تو وباء سے نبرد آزما ہونے کیلئے صوبائی حکومت کے پاس صلاحیت اور استعداد کار تھی ہی نہیں”۔

اس اعتراف کے بین السطور  انہوں  نے البتہ یہ بھی تسلیم کیا  ہے کہ جیسے سرحدوں کی نگرانی کرنا انہیں بند رکھنا یا کھولنے کا فیصلہ کرنا بھی صوبائی حکومتوں کا دائرہ اختیار ہوتا ہے   ۔ ظاہر ہےیہ غلط فہمی پر مبنی بات ہےمگر قیاس یہی کیا جارہا ہے کہ جو کچھ تفتان بارڈر پر ہوا اس کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم یہ بھی مان رہے ہیں کہ ملکی حدود میں داخل ہونے کی اجازت ملنے کے بعد ان افراد کو جس طرح کے طبی معائنے علاج اور نگرانی کے عمل نیز قرنطینہ سے گزارا جانا چاہئے تھا اس کی اہلیت و وسائل  بلوچستان کے پاس تو تھی ہی نہیں ۔جبکہ وفاقی حکومت نے بھی اس ہنگامی اور پیچیدہ صورتحال میں بروقت سریع الحرکت انداز میں صوبائی حکومت کی مدد نہیں کی تھی۔یہ بہت ہی ناگوار صورتحال ہے جو ریاستی مشینری میں در آنے والی انارکی کے اجزاء کی نشاندہی کر رہی ہے مناسب ہو گا کہ اس موقع پر جناب وزیراعظم  سے احتراماً سوال کروں کہ حضور آپ ہی نے آج سے ایک ماہ پہلے ہی ارشاد فرمایا تھا کہ  ” ایران سے آنے والے پاکستانیوں (جو کورونا کے ساتھ ملک لوٹے تھے) کی دیکھ بھال اورکورونا وباء سے نمٹنے کیلئے جام کمال حکومت نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔

جناب وزیراعظم آپ کو اپنے یہ الفاظ تو یاد ہی ہوں گے؟

جان کی امان پاؤں تو یہ بھی پوچھنے کی جسارت کروں کہ متذکرہ توصیفی کلمات ادا فرماتے وقت آپ نازک حالات کی تمام جزیات سے کما حقہ آگاہ تھے؟

یا تب  جب آپ  نے بلوچستان حکومت کی صلاحیت اور استعداد کار پر حرف زن فرمائی ہے؟

یہ بھی ریکارڈ پر رہنا چاہئے کہ صوبائی حکومت  واشگاف طور پر کہہ چکی ہے کہ عجلت اور جلد بازی کے ساتھ تفتان میں روکے گئے افراد کو اندرون ملک جانے کی اجازت دینے کیلئے وفاق  کے چند” شہزادوں “نے دباؤ ڈالا تھاجو وزیراعظم کے بہت قریبی حلقہ ٍ اثر ورسوخ کے مالک ہیں۔برادرم  لیاقت شاہوانی کے الفاظ میں” جناب ڈاکٹر ظفر مرزا نے زائرین و دیگر افراد کو تفتان سے جلد از جلد روانہ کرنے کیلئے صوبائی حکومت کو مجبور کیا تھا”۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے ایسا کیوں کیایہ کہانی طشت ازبام ہو چکی ہے۔یقینا  وزیراعظم بھی اس سے بے خبر نہیں ہوں گے۔

سطور بالا میں جن تضادات اور ناقص اقدمات و ابہام کی نشاندکی کی گئی ہے اس کا مقصد صرف یہ تھا  کہ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بلانے سے صوبائی حکومت کے انکار و گریز کے اسباب کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔

صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے سیکرٹری نے  یکم اپریل کو حزب مخالف کو لکھے اپنے مراسلے میں اجلاس نہ بلانے کی وجوہات اور آئینی سقم تحریر کئے ہیں جس ضابطہ کار پر انحصار کیا گیا وہ یہ ہے کہ متذکرہ ریکوزیشن غیر آئینی طور پر اسپیکر اسمبلی کے نام تحریر کی گئی ہے جبکہ بقول سیکرٹری صاحب اسے اسمبلی سیکرٹریٹ کے سیکرٹری کے نام لکھا جانا چاہئے تھا حالانکہ مراسلہ میں اپنے فیصلے اور موقف کی تائید میں دیے گےآئینی دفعات کے حوالے  بھی مبہم المعنی ہیں ۔ جناب سیکرٹری صاحب کو مراسلہ قلمبند کرتے ہوئے آئین پاکستان کی دفعہ 54 کی ذیلی شق3 کے ساتھ درج وضاحتی نوٹ کو بھی مد نظر رکھنا چاہیئے تھا۔

مذکورہ سقم کے علاوہ کورونا کے پھیلاؤ کے بعد کی صورتحال دفعہ 144 کے نفاذ  جیسی تراکیب کے تڑکے لگانے کے بعد نتیجہ  اخذ کیا گیا ہے کہ  دریں حالات  ارکان حزب اختلاف کے مطلوبہ اجلاس کا انعقاد ممکن نہیں۔

اب حال یہ ہے کہ اگر حذب اختلاف کے اراکین سیکرٹری صاحب کے فرمان کے مطابق ایک نئی ریکوزیشن جو ان کے نام لکھی گئی ہو، جمع کرادیں تو کیا پھر اجلاس بلانا ممکن ہو گا ؟ اور کیا نئی درخواست کے بعد وہ تمام جواز مثلاً صوبے میں کورونا کی وباء کی بحرانی صورتحال و کوئٹہ میں مکمل لاک ڈاؤن سرکاری و نیم سرکاری اداروں بشمول اسمبلی سیکرٹریٹ کے بیشتر ملازمین کو گھروں میں رہنے کی ہدایت اور دفعہ 144 کے نفاذ جیسی معروضی حقیقی صورتحال یکسر بدل جائےگی؟ جن سماجی حالات کا حوالہ سیکرٹری صاحب نے دیا ہے ان کے مطابق تو صوبائی حکومت کے سیکرٹریٹ کے تمام دفاتر بشمول چیف منسٹر آفس کو بھی غیر فعال ہو جانا چاہئے تھا جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ صوبائی حکومت وباء کے خلاف فعال و متحرک کردار ادا کرنے کیلئے ہر روز اپنے اجلاس منعقد کر رہی ہے۔

لگتا ہے کہ سیکرٹری اسمبلی کے مراسلے کا مقصد شاید اجلاس منعقد کرنے میں مزید تاخیر کے علاوہ اور کچھ نہیں کیونکہ یہ طے ہے کہ اس مراسلے کے بعد وہ پابند ہوں گے کہ فوری طور پر اجلاس منعقد  کرائیں گے۔اگر ریکوزیشن اسمبلی سیکرٹریٹ کے معتمد کے نام لکھ کر جمع کرائی جائے تو  پھر آئینی سقم دور ہو جائے گا اور یوں وہ تمام وجوہات بھی زائل تصور ہوں گی جن کا سطور بالا میں سیکرٹری صاحب کے مراسلے میں حوالہ دیا گیا ہے۔

حکومت اسمبلی اجلاس سے گریز کیوں چاہتی ہے یہ اہم سوال ہے؟

اگر ریکوزیشن پر اجلاس طلب کیا جائے تو یہ لازمی و یقینی تو نہیں کہ تمام اراکین اسمبلی اجلاس میں حاضر ہوں اماسوا اس کے  کہ حزب اختلاف کوئی ایسی قرارداد پیش  کر دے جسے حکومت پسند نہ کرتی ہو اور  یوں اجلاس میں حزب اقتدار کے ارکان کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے حزب اختلاف اسمبلی میں حزب اقتدار کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے! اگر یہ خدشہ ہے  تو حکومت اپنے ارکان کی موجودگی یقینی بنا کر اس سنگینی کو ٹال سکتی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ اجلاس سے گریز کے پس پردہ کچھ اور عوامل ہیں اور حکمران نہیں چاہتے کہ اسمبلی میں وہ سب راز فاش ہوں اور غفلت شعاری لاپرواہی جھوٹ اور بعض گروہی مفادات سے وابستہ اغراض منظر عام پر آئیں۔  کیونکہ اجلاس طلب ہوا اور بات سے بات نکلی تو پھر بات دور تک جا سکتی ہے۔

لہذا اگر حکومت اجلاس بلانے اور جمہوری  فیصلہ سازی سے گریزاں ہے تو اپوزیشن کو فی الفور سیکرٹری صاحب کے مراسلے کے مطابق نئی ریکوزیشن داخل کرنی چاہئے تاکہ اجلاس کا انعقاد ممکن ہو سکے حالانکہ سیکرٹری  کے مراسلہ میں درج آئینی استدلال بھی مشکوک ہے، یہ پہلو بھی تشویشناک ہے کہ ملک بھر میں منتخب جمہوری اداروں اسمبلیوں کو غیر فعال کر دیا گیا ہے حالانکہ ہنگامی صورتحال میں ان اداروں کی افادیت فعالیت اور پالیسی سازی میں کردار بڑھ جاتا ہے۔

خدشہ ہے کہ جمہوری سیاسی اداروں کی ساکھ اور وقار و افادیت کو مجروح کرنے کی باضابطہ منظم کوشش نہ ہو رہی ہو۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...