وبائیں اور توہم پرستی

390

وبائیں نا صرف انسان کی قوت مدافعت اور مضبوطی کا امتحان لیتی ہیں بلکہ وہ ان کی انسانوں کی قوت تخیل کی بھی جانچ کرتی ہیں۔  سازشی نظریات اور پیشگوئیاں بھی اسی طرح پھیلتی ہیں جس طرح کوئی وباء پھیلتی ہے اور موت کے خوف کو اجاگر کرنے سے لے کر انسانی روح کی بالیدگی تک ہر دائرہ کار ِ حیات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔

تاہم قوت متخیلہ اور خواب دیکھنے کی صلاحیت کا دارومدار افراد کے ذاتی عقائد اور سماج کے مجموعی شعور پر منحصر ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز گردش کررہی ہیں جس میں پیر اور مولوی صاحبان کووڈ -19 یا کرونا وائرس کے خلاف اپنی ایجاد کردہ حفاظتی تدابیر بیان کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر ان سینکڑوں ویڈیوز میں سے ایک میں ایک صاحب کبوتر کے پیٹ میں خوراک کے پوٹے کی جھلی کو پانی میں گھول کر پانی پینے کا مشورہ دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں اس میں ناصرف کرونا بلکہ دیگر بہت سی بیماریوں کا علاج ہے اور کسی ایک اور ویڈیو میں ایک صاحب کسی ولی اللہ کے مزار کی مٹی اٹھا کر کھالینے کو ہی دوا بیان کررہے تھے۔

تاہم ایک توہم پرست اور ایمان والے کے احساسات ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں اگر چہ ان کے افعال کے متعلق دیکھنے والے کو یہ لگے گا کہ دونوں ایک ہی جیسے کام کررہے ہیں۔ کچھ نامور علمائے کرام نےکرونا کی وباء سے نمٹنے کے لئے کثرت سے نماز پڑھنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ اللہ تعالی ٰ کی جانب سے غیبی مدد مہیا ہوجائے۔یہ سچ ہے کہ ہمارے ملک کی اکثریت آبادی کے لئے مذہب ایک اہم سہارا ہے۔ جس کے ذریعے وہ اپنے خوف پر قابو پاتے ہیں ۔ بعض مذہبی اکابرین لوگوں کو بنیادی حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ نماز پڑھنے اور دعاکرنے کا بھی کہہ رہے ہیں جوکہ ان کے ایمان کی مضبوطی اور روحانی علاج کا باعث بنے گا۔ بعض ایسے بھی ہیں جو ان وباؤں کا اللہ کا عذاب سمجھتے ہیں جو کہ گناہوں کی پاداش میں نازل ہوا ہے۔ ( ان کا یہ بھی یقین ہے کہ ان کے پاس تمام وباؤں سے بچاؤ کے لئے الہامی تحفظ موجود ہے)۔ایسی ویڈیوز بھی گردش کررہی ہیں جن میں مذہبی اجتماعات کے دوران کافروں پہ بشمول چین اور مغرب کے  لعنتیں بھیجی جارہی ہیں اور ایمان والوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ماہرین کی دی گئی ہدایات  پر عمل نہ کریں۔ دلچسپی کا امر یہ ہے کہ صوبہ سندھ کے ایک سابق وزیر اعلیٰ نے بھی ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں وہ چین اور مغرب کو اس وباء کےپھیلاؤ کا ذمہدار ٹھہراتے ہوئے لعنت ملامت کررہے ہیں۔

سماجی علوم کے ماہرین نے تاریخی حقائق کی روشنی میں بیان کیا ہے کہ قدرتی آفات کے مواقع پر انسانو ں میں ہمدردی کے جذبات بڑھ جاتے ہیں۔ مگر وبائی امراض عام انسانی تعلقات پر اثرانداز ہوتی ہیں جس کے سبب سماجی فاصلہ جنم لیتا ہے۔ وباء کے سبب لوگوں کو اپنی اور دوسروں کی جان بچانے کے لئے مشکل فیصلے کرنا ہوتے ہیں مگر شرمندگی اور خجالت کا ایک احساس انسانی شعور میں سراٹھا تا رہتا ہےکیونکہ انسان اس صورتحال کو مختلف طریقوں سے نمٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ مذہب اس ساری صورتحال کے ساتھ  ایک جہت سےمعاملہ کرتا ہے اور لوگوں کو میل جول اور سماجی ہمدردی کا مختلف نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔

چین کے شہر ووہان مین جہاں سے کرونا وائرس پھوٹا تھا اور ابھی وہاں اس وباء کا خاتمہ کردیا گیا ہے ، اب خبریں آرہی ہیں کہ کس طرح لوگ اس وباء کے سبب خوف و ہراس کا شکار ہوگئے تھے۔ان کے اجتماعی سطح پر ذمہ دارانہ رویئے کے سبب وہ لوگ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اس قاتل وائرس سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی ویڈیوز میں مریض اور قرنطینہ میں موجود افراد پرامید تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ لوگ زندگی اور اپنے مستقبل کے بارے میں بات کررہے ہیں۔

چند ایسی ویب سائٹس جو نفسیات اور روحانیت پر تحقیق کررہی ہیں وہ ایسی کہانیاں جمع کررہے ہیں۔ ایسی ہی ایک ویب سائٹ پر ایک خاتون کی کہانی موجود ہے جس نے اپنے خاندان کے ساتھ 50 دن قرنطینہ میں گزارے ۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ کس طرح ان 50 دنوں نے زندگی، ہمدردی، ہمسائیوں کے حقوق، ماحولیات اور دیگر جانوروں کے بارے میں ان کے تصورات کو یکسر بدل کررکھ دیا۔

تاہم انسانوں میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ مختلف سطحوں پر توہمانہ تصورات اور احساسات کو قبول کرسکتے ہیں جس کے سبب سازشی نظریات وجود پاتے ہیں۔کرونا وائرس کے متعلق  ہرروز درجنوں سازشی نظریات سوشل میڈیا کی زینت بن رہے ہیں۔ اگرچہ ایک جانب صدر ٹرمپ بضد ہیں کہ وہ اس کو چینی وائرس ہی کہیں گے تو چین کے حکام بھی یہ شک کرتے ہیں کہ یہ وائرس امریکی فوجیوں کی پھیلائی ہوئی سازش ہے۔ ایک تصور یہ بھی ہے کہ کہیں کوئی خلائی مخلوق ہے جس نے انسانوں میں نفاق پیدا کرنے اور کرہ ارض کو تباہ کرنے کے لئے یہ وائرس پھیلایا ہے۔

سائنسدان بہرحال یہ کہہ رہے ہیں کہ جراثیم اور وائرس پر کسی کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور یہ اندھا دھند پھیل جاتے ہیں۔ معروف برطانوی جریدے دی گارڈین نے حال ہی میں ایک تحقیقی مضمون میں بیان کیا ہے کہ کرونا وائرس قدرتی ارتقاء کے سبب پھوٹا ہے اور ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ اسے کسی لیبارٹری میں ایجاد کیا گیا ہو۔

لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو سائنسی نظریات پر یقین رکھتے ہیں ؟ خاص طور پر اس پرخطر دور میں جب ہمارے ذہنوں پر وحشت سوار ہے اور ہم کہیں سے بھی کوئی تسلی آمیز خبر سننے کوبے تاب ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس گزشتہ سالوں میں لکھے گئے فکشن کی مثالیں موجود ہیں جو ایسے ہی کسی وائرس کے متعلق کہانیوں میں بیان کئے گئے ہیں۔ اور لوگ مان رہے ہیں کہ چونکہ یہ پہلے سے تحریر و تخلیق شدہ فکشن میں بیان کیا جاچکا ہے لہذا یہ وائرس ایک منصوبہ بند پروگرام کے تحت ایجاد کیا گیا ہے۔

اس نظریئے کے ماننے والوں میں بہت زیادہ شہرت ایک امریکی ناول نگار ڈین کونز کے ناول “دی آئز آف دی ڈارک نیس” کو حاصل ہے ۔ اپنے اس ناول کے متعلق اس کے مصنف کا کہنا ہے کہ اس نے 1981 میں ہی اس وائرس کے متعلق پیشگوئی کردی تھی اور اس قاتل وائرس کا نام ووہان 400 رکھا تھا۔ ہمارے تخیل کی وسعت ممکن ہے کہ ہمارے لئے کسی تسکین کا باعث بھی ہولیکن بسا اوقات یہ ہمیں حقیقت سے دور بھی لے جا سکتی ہے۔

اسی طرح  کی صورتحال نے ایک معروف امریکی لکھاری اور ناول نگار لارنس رائٹ کو مجبور کردیا کہ انہوں نے اپنے ناول ” دی اینڈ آف اکتوبر” کی اشاعت کے وقت یہ وضاحتی بیان دینا ضروری خیال کیا کہ “یہ ناول ایک فرضی کہانی ہے”۔ یہ ناول جس کا پلاٹ ایک وباء کے اردگردبُنا گیا ہے اس میں موجود حالات اور موجودہ عالمی وباء کے دنوں میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔

اس کے مضمون نے مجھے ایک فیس بک پوسٹ پر لکھی ہمارے خطے کے عظیم لکھاری راجندر سنگھ بیدی کی ایک کہانی کی یاد دلادی۔ یہ ایک کہانی ایک ڈاکٹر اور ایک خاکروب کے متعلق ہے۔ ڈاکٹر قرنطینہ میں موجود مریضوں کا علاج کررہا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر بیان کرتا ہے کہ کس قرنطینہ کا خوف بھی اتنے ہی مریضوں کی ہلاکت کا باعث بن رہا ہے جس قدر لوگ خود بیماری سے مررہے ہیں۔ خاکروب جس کا نام بھگو ہوتا ہے۔ وہ لاشیں وصول کرتا ہے اور گلیوں میں چاک چھڑکتا ہے کہ کہیں جراثیم نہ پھیل جائیں۔

ڈاکٹر اگرچہ ایک مریض کو بچانےمیں کامیاب ہوجاتا ہے لیکن وہ خوف کے مارے بے ہوش ہوتا ہے۔ چنانچہ اسے بھی مردہ سمجھ کر لاشوں کے ڈھیر میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ ان سب کو جلایا جا سکے۔ بھگو کو علم ہوتا ہے تو اس مریض کو بچانے کی کوشش میں اپنا ہاتھ تک جلا لیتا ہے مگر اس کو اذیت ناک موت سے بچا نہیں پاتا۔

کچھ دن بعد بھگو کی بیوی بھی طاعون کی وباء سے مرجاتی ہے۔ کیونکہ ڈاکٹر اس کا بروقت علاج کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ اس کہانی میں دونوں کرداروں کی اندرونی کشمکش دکھائی گئی ہے۔ ڈاکٹر اپنے مریضوں کا علاج نیم دلی سے کرتا ہے کیونکہ وہ خود طاعون لگنے سے خوفزدہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بھگو ، جس کی اپنی بیوی طاعون سے مرچکی ہے وہ اپنا کام پوری دیانت داری سے کررہاہوتا ہے۔ جب طاعون کی وباء ختم ہوتی ہے تو میونسپلٹی اور قصبے کے لوگ ڈاکٹر کو اس کی خدمات کے عوض خوب انعام سے نوازتے ہیں۔ جب ڈاکٹر اپنے گھر جاتا ہے تو اسے وہاں بھگو ملتا ہے جو اسے مبارکباد دینے آتا ہے۔ ڈاکٹر کو اس وقت اپنے پچھلے رویئے پر بہت ندامت ہوتی ہے۔

سچ ہے کہ وباء کے دن ہماری ذات اور ہمارے مجموعی کردار کا امتحان ہوتے ہیں ۔

بشکریہ : ڈان

مترجم: شوذب عسکری

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...