مولانا ناصر مدنی کا اغوا: متشدد رویوں کا ایک اور مظہر

409

مولانا ناصر مدنی پنجابی زبان کےغیر روایتی مگر معروف  واعظ ہیں جنہیں عمومی سطح پر خوب عوامی مقبولیت حاصل ہے۔ ان کے خطبات و بیانات سوشل میڈیا پہ وائرل ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے مخصوص دیہی انداز میں سماجی برائیوں اور حکمرانوں کی نااہلی پر طنز و چوٹ کرتے ہیں تاہم انہوں نے اپنی خطبات میں کبھی کسی کی  ذاتیات کو نشانہ نہیں بنایا اور کسی فرد یا گروپ کو گالم گلوچ نہیں کیا ۔

پنجاب میں وعظ ونصیحت کی یہ روایت بہت پرانی ہے اور ہر عہد میں مختلف مسالک کے ہاں ایسے خطباء موجود رہے ہیں جنہوں نے ہنسی مذاق اور طنز یہ انداز میں عوام کو سماجی اخلاقیات کی تلقین کی اور برائیوں سے باز رکھنا چاہا۔ ایسے خطباء کو جہاں ایک جانب عوامی پذیرائی ملتی ہے وہیں ان کے مخالفین اور نکتہ چیں بھی بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔

مولانا مدنی  کی شہرت کا گراف گزشتہ چند سالوں کے دوران خاص طور سوشل میڈیا ایپ “ٹک ٹاک” کے بعد بہت بلندیوں پر گیا ہے۔ ان کے خطبوں کے موضوعات اور ان کی گفتگو حیران کن حد تک سماجی حقائق اور نوجوانوں میں رائج نئے نت نئے رویوں سے متعلق ہوتی ہے جس میں وہ اصلاح کی کوشش کے لئے اپنے مخصوص دلچسپ پیرائے کو بروئے کار لاتے ہیں۔

گزشتہ روز مولانا ناصر مدنی کو لاہور کے مضافات میں اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی برہنہ ویڈیوز بنائی گئیں۔ اس کا انکشاف خود مدنی صاحب نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ چونکہ انہوں نے گزشتہ ہفتے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر پیروں فقیروں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ عوام کو گمراہ نہ کریں تو کسی بااثر پیر کی جانب سے انہیں اغوا کرو ایا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا ۔ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ اغواء کار انہیں یہ دھمکیاں دے رہے تھے کہ اگر انہوں نے پولیس کو یا میڈیا کو اس کی رپورٹ کی تو وہ ان کی برہنہ ویڈیوزپبلک کردیں گے۔

یہ فعل جہاں ایک جانب بہیمانہ جرم ہے وہیں دوسری جانب سماج میں روز بروز بڑھتے ہوئی عدم برداشت اور نفرت کا عملی نمونہ ہے۔ مولانا ناصر مدنی جس روایت کے پیروکار ہیں وہ نہ تو نئی ہے اور نہ ہی اسے سماجی سطح پر انتشار کا نام دیا جاسکتا ہے لیکن ان کے مخالفین کا یہ اقدام بہر صورت قابل مذمت ہے۔ مولانا مدنی کے  یہ  الفاظ کہ “میں سچ بولتا ہوں اس لئے مجھ پر ظلم ہوا اور مجھے یہ سمجھ آگئی ہے کہ اس ملک میں جو سچ بولتا ہے وہ محفوظ نہیں ہے” ہمارے لئے بحیثیت قوم لمحہ فکریہ ہیں ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...