خوف و دہشت کی علامت چھوٹو گروپ کی کہانی

301

رحیم یار خان اور راجن پور میں پولیس کو 48 مقدمات میں مطلوب خوف ودہشت کی علامت ڈکیت غلام رسول  عرف چھوٹو کون ہے ؟اس کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر ہے ۔ جس نے کچے کے علاقے میں اپنی بادشاہت قائم کر رکھی ہے ۔پنجاب اور سندھ میں ڈکیت گروہوں کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔ایک وقت میں یہ متوازی حکومت بھی چلاتے رہے ہیں ۔ان کی سرپرستی علاقے کے با اثر زمیندار ،منشیات اور اسلحہ کے سمگلر کرتے ہیں ۔ضلع راجن پور صوبہ پنجاب کا دور افتادہ اور آخری ضلع ہے جو صوبہ سندھ کے آخری ضلع کشمور سے محلقہ ہے ۔دریائے سندھ کے مشرقی جانب کے  وسیع و عریض علاقے کو کچے کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے مغرب کی جانب کوہ سلیمان کا طویل پہاڑی سلسلہ ہے جس کے  ساتھ صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقے شامل ہیں ۔یہاں

 چھوٹو گروپ جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں کے لئے صولت مرزا یا عذیر بلوچ ثابت ہو سکتا ہے ۔اس لئے پنجاب حکومت نے عجلت میں اس گروپ کے خلاف آپریشن ترتیب دیا جو اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا اور بالآ خر فوج کی مدد لے لی گئی ہے ۔

جرائم پیشہ عناصر کی محفوظ پناہ گاہیں عرصے سے موجود ہیں جو پنجاب کے میدانی علاقوں میں آ کر  لوٹ مار  کر کے بحفاظت واپس چلے جاتے ہیں۔مگر اب یہ علاقہ پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کی گزرگاہ بننے والا ہے ۔اس لئے اس کی سیکورٹی ترجیح بن چکی ہے ۔اور اس علاقے کو گینگسٹرز سے واگزار کرانے کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے ۔جن میں سب سے اہم گروپ کا نام چھوٹو گروپ ہے ۔ بلوچستان میں جاری حالیہ یورش کی وجہ سے بلوچستان لبریشن آرمی کا نام بھی چھوٹو گینگ کے ساتھ لیا جا رہا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ کچے کا علاقہ بی ایل اے کے لئے بھی جائے پناہ ہے ۔جہاں بھارتی ایجنسی را کے لوگ بھی موجود ہیں ۔ اس طرح چھوٹو گینگ جو پہلے اغوا برائے تاوان ، ڈکیتی اور دیگر جرائم میں ملوث تھا اب وہ ملکی سلامتی کے لئے بھی ایک چیلنج کے طور پر موجود ہے ۔ پنجاب حکومت نے  چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کا فیصلہ گلشن اقبال لاہور کی دہشت گردی کے بعد کیا ۔اگرچہ یہ بتایا نہیں گیا کہ اس واقعہ میں بھی چھوٹو گینگ ملوث ہے یا نہیں تاہم اچانک کچے کے علاقے کو ڈکیت گروہوں سے پاک کرنے کا مقصد پورے علاقے میں پولیس کی عملداری قائم کرنا اور دہشت گردوں کی کمین گاہوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔ اس سے قبل پولیس پانچ بار چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کر چکی ہے اور ہر بار اہداف کے حصول میں ناکام رہی ہے ۔یہ چھٹا آپریشن ہے جس میں درجن بھر پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں اور دو درجن کے قریب یر غمال ہیں ۔جو گینگ اینٹی ائیر کرافٹ گنوں اور مارٹر گولوں سے لیس ہو اس کے مقابلے کے لئے  اگر فی اہلکار کو  ڈیڑھ سو گولیاں دے کر میدان میں اتارا جائے گا تو  یہ بذات خود ایک مجرمانہ فعل ہے ۔ بہرحال اس آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پاک فوج کے کمانڈوز میدان میں اتر چکے ہیں جن کی مدد کے لئے گن شپ ہیلی کاپٹر بھی موجود ہیں ۔

اس سے قبل پولیس پانچ بار چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کر چکی ہے اور ہر بار اہداف کے حصول میں ناکام رہی ہے ۔یہ چھٹا آپریشن ہے جس میں درجن بھر پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں اور دو درجن کے قریب یر غمال ہیں

ڈکیت غلام رسول عرف چھوٹو کا تعاقب ، چار اضلاع کی پولیس برسوں سے کر رہی ہے ۔اس پر کئی پولیس اہلکاروں کے قتل کا الزام ہے ۔بیسیوں زمینداروں اور مالدار شخصیات کو اغوا  کر کے کروڑوں روپے تاوان وصول کر چکا ہے ۔گلگت سے گوادر تک کے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ رابطے ہیں ۔ کئی بار پولیس کے گھیرے میں آیا مگر  فرار ہو نے میں کامیاب ہو گیا جس پر کہا گیا کہ اس کو پولیس کے اندر سے معلومات مل جاتی ہیں ۔ چھوٹو گینگ کی ابتدا 2001ء میں رحیم یار خان میں  میں ہوئی ۔ شروع میں اس نے اغوا برائے تاوان  کی وارداتیں کیں تب اسے بوسن گینگ کہا جاتا تھا ۔کیونکہ اس کے سرغنہ طارقی بوسن تھا ۔ یہ گینگ شروع میں چوری اور ڈکیتی کی معمولی وارداتوں میں ملوث تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ اس گینگ میں اور بھی جرائم پیشہ لوگ شامل ہوتے رہے۔چھوٹی موٹی وارداتوں سے اس گینگ کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی آخر کار یہ ایک مضبوط گروپ کی شکل اختیار کر گیا۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بدنام زمانہ ڈاکو مریدا نتکانی نے جب اس گروپ میں شمولیت اختیار کی  تو جدید اسلحہ کی فراہمی کو یقینی بنایا یہیں سے اس گروپ میں بی ایل اے کا عمل دخل بھی بڑھ گیا ۔بلوچستان میں سرگرم بی ایل اے کے لئے کچے کا علاقہ عارضی پناہ گاہ بن گیا ۔ اغوا برائے تاوان  اور ڈکیتی کی وارداتیں جنوبی پنجاب کے چار اضلاع راجن پور، مظفر گڑھ ،ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان میں بہت بڑھ گئیں ۔  پھر ایک وقت ایسابھی آیا جب یہ گروپ دو دھڑوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو گیا ۔ ایک دھڑا طارقی بوسن کا تھا اور دوسرا عقیلا بوسن کا۔ 7نومبر2003 ءکو بیٹ بوسن میں مبینہ پولیس مقابلہ میں عقیلا بوسن مارا گیا۔ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں رقم کے اختلاف پر غلام رسول چھوٹو اور طارقی بوسن  بھی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے ۔ 9نومبر2005کو چھوٹو نے طارقی بوسن کو تاوان کی رقم لینے کیلئے صادق آباد کے نزدیک کچہ کے علاقے میں بلوایا اور فائرنگ کر کے طارقی بوسن اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کر دیا ۔یہ بات بھی عام تھی کہ چھوٹو نے نشہ آور چیز کھلا کر پولیس کو اطلاع کر دی پولیس نے نشہ کی حالت میں طارقی بوسن اور اس کے ساتھیوں پر گولیاں چلادیں جس سے وہ سب کے سب مارے گئے۔طارقی بوسن کے مارے جانے کے بعد کچہ کے تمام ڈاکو مختلف علاقوں میں پھیل گئے۔ چھوٹو نے ان ڈاکوں سے رابطے کیے اور چھوٹو گینگ کے نام سے ایک مضبوط گینگ بنا لیا۔یہیں سے اس گروپ کی بالا دستی کا آغاز ہوا ۔علی پور کے کچہ سے تعلق رکھنے والے خدا بخش المعروف کھدلی بھنڈ کو چھوٹو نے بھنڈ گینگ کا سرغنہ بنایا اور یہ گینگ بھی جنوبی پنجاب میں خطرناک شکل اختیار کر گیا۔15

مارچ2010کو کھدلی بھنڈ بھی چھوٹو کی مخالفت کی نذرہو گیا۔ چھوٹو نے کچہ کے علاقہ میں کھدلی بھنڈ اور اس کے ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر پولیس کو اطلاع دے دی ۔ پولیس نے کھدلی بھنڈ کی موت کو بھی پولیس مقابلے کا نام دیا۔ چھوٹو نے کھدلی بھنڈ گینگ کے بچے کچھے ڈاکوں کو اپنے گینگ میں شامل کرلیا۔2010میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں اتنی بڑھ کہ شہریوں نے گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیا  جس پر پنجاب حکومت نے کچہ میں آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کیلئے راجن پور  میں سہیل  ظفر چٹھہ اور رحیم یار خان میں سہیل حبیب تاجک ڈی پی اوز تعینات کر دیے گئے۔آپریشن کی قیادت اس وقت کے آر پی او بہاولپور سید عابد قادری نے کی ۔30مارچ2011کو راجن پور کی پولیس کچہ کے نوگو ایریاکچہ کراچی ، کچہ عمرانی اور کچی جمال میں داخل ہو گئی ۔ غلام رسول چھوٹو کے گھر پر بھی پولیس نے چوکی بنا دی کچہ میں پولیس کی22 چوکیاں بنیں ۔25مئی2011کو رانا پٹ نے اپنے ساتھی ڈاکو کے ہمراہ عمرانی چوکی پر ہلہ بول دیا۔ اس حملے کے دوران پولیس مقابلہ ہوا ۔جس میں رانا پٹ مارا گیا اور ایک اے ایس آئی راجن پور پولیس ندیم بالا چانی شہید ہوا۔

پنجاب اور سندھ میں ڈکیت گروہوں کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔ایک وقت میں یہ متوازی حکومت بھی چلاتے رہے ہیں ۔ان کی سرپرستی علاقے کے با اثر زمیندار ،منشیات اور اسلحہ کے سمگلر کرتے ہیں ۔ضلع 

ڈاکو جاتے ہوئے سات پولیس اہلکار بھی اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔بعد میں روجھان کی بااثر سیاسی شخصیات کے ذریعے ان ڈاکوں کے ساتھ پولیس کے مذاکرات ہوئے اور ڈاکوں نے پولیس اہلکار بااثر سیاسی شخصیات کے حوالے کر دیے۔ڈاکوکچہ کے علاقہ سے صحیح سلامت بچ نکلے کے بعد منظم ہونا شروع ہو گئے اور بلوچستان سے ان کو جدید اسلحہ ملتا رہا ۔ ایک بار  چھوٹو اپنے ساتھیوں کے ساتھ نیشنل ہائی وے پر سفر کر رہا تھا ،جب احمد پور شرقیہ کے ٹول پلازے پہ پہنچا تو پولیس نے ایک مرتبہ پھر چھوٹو کو بھاگنے کا موقع دیا ۔ چھوٹو پولیس کی بھاری نفری کے باوجود فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اس کے تین ساتھی بہاولپور پولیس نے گرفتار کر لیے۔11اپریل 2013کو بنیادی مرکز صحت کے ڈاکٹر خان وزیر لاہور سے واپس آ رہے تھے کہ راستے میں ملتان کے نزدیک بستی ملوک سے ڈسپنسر نذیر اور ڈاکٹر کے بیٹے جہانزیب کو اغوا کر لیا گیا چھوٹو نے ڈاکٹر خان وزیر کی بازیابی اپنے ساتھیوں کی رہائی کے ساتھ مشروط کر دی لیکن جب چھوٹو اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوا تواُس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ6جولائی 2013کی شب کچی جمال کی پولیس چوکی پر حملہ کر دیا اور 9پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ اس دوران ڈاکوﺅں نے پنجاب پولیس کو للکارا اور 45 گنیں جن میں ایس ایم جی اور جی تھری شامل ہیں سات ہزار گولیوں کے ساتھ چھین لیں ۔چھوٹو گینگ کی اس غیر معمولی کارروائی کا مقصد پولیس چوکیوں کا خاتمہ اوران کے ساتھیوں عبدالرزاق‘ بشیراحمد اوراسحاق سمیت خواتین بچوں جو پولیس کے زیر حراست تھے  کو چھڑوانا مطلوب تھا ۔ کچی جمال پر حملے کی اطلاع پر چار اضلاع کشمور، گھوٹکی ، راجن پور اور رحیم یار خان کی پولیس نے کچے کے تمام علاقے کو گھیر لیا ۔ پولیس نے مذاکرات کے ذریعے پولیس اہلکاروں کو چھڑوانے کی کوشش کی لیکن مذاکرات ناکام رہے۔ چھوٹو نے اپنے تین ساتھیوں کی رہائی کے ساتھ کچے سے پولیس چوکیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔پولیس نے جب چھوٹو کے مطالبات نہ مانے تو چھوٹو نے ایک ایک پولیس اہلکار کو گولی مار کر شہید کر دیا پھر اچانک چھوٹو چالیس ڈاکوں اور پولیس مغویان کے ساتھ پولیس کی بھاری نفری کی موجود گی میں کچہ کے علاقے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔ چھوٹو گینگ کے پاس جدید اسلحہ ہے جبکہ پولیس کے پاس روایتی ہتھیار ہیں اس لئے پولیس اہلکار کچے کے علاقے میں چیک پوسٹوں پر ڈیوٹی سر انجام دینے سے ہچکچاتے ہیں ۔ ان حالات میں جب وزیر داخلہ چوہدری نثار نے جنوبی پنجاب کے سرداروں جن میں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار شیر علی گورچانی ،انکے والد سردار پرویز اقبال خان گورچانی مزاری قبیلے کے سرداروں کو بلا کرکہا کہ آپ لوگ ڈاکوؤں کی سرپرستی ختم کر دیں کیونکہ فوج ان کے خلاف آپریشن کرنے والی ہے یہ نہ ہو کہ ان کی حمایت پر آپ لوگ بھی زیر عتاب آ جائیں  جس پر سردار پرویزاقبال خان گورچانی نے  ملٹری پولیس کو مخبری کی اور  غلام رسول مزاری عرف آصف چھوٹوکے گینگ کے اہم ملزم علی گلبازگیرگورچانی اور اسکے بھائی پندی کو پنا ہ دینے کے بہانے بلا کر  ان کے سر تن سے جد اکر دیئے اور پھر پولیس کو بلا کرنعشیں ان کے حوالے کردیں ۔جس پر چھوٹو گروپ کے سرغنہ نے خود کو فوج کے حوالے کرنے کی آفر بھی کی تھی ۔ لیکن خیال کیا جا رہا ہے اگر ایسا ہو گیا تو چھوٹو گروپ جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں کے لئے صولت مرزا یا عذیر بلوچ ثابت ہو سکتا ہے ۔اس لئے پنجاب حکومت نے عجلت میں اس گروپ کے خلاف آپریشن ترتیب دیا جو اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا اور بالآ خر فوج کی مدد لے لی گئی ہے ۔اگر غلام رسول المعروف چھوٹو زندہ پکڑا گیا تو  ایوانوں میں بیٹھے کئی سیاستدانوں پر لرزہ طاری ہو جائے گا ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...