پاکستانی طالبان کا مستقبل

267

گزشتہ ہفتے دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدے پر دستخط کے بعد افغانستان میں امن کا غیریقین اور اندوہناک عہد شروع ہوا ہے۔ اسی  اثنا ء میں ماہرین کی توقعات کے عین مطابق افغان اسٹیک ہولڈر ز کے داخلی تنازعات اپنے عروج پر پہنچ گئے ہیں ۔ کوئی ایک  گروپ بھی اپنی پوزیشن پہ سمجھوتہ کرنے کو آمادہ نظر نہیں آرہا تاکہ افغانستان میں داخلی مصالحت کا آغاز ہوسکے۔ یہ صورتحال امن دشمن قوتوں چاہے وہ کوئی ریاست ہویا غیر ریاستی عناصر ،ان سب کے لئے ایک شاندار موقع ہے  کیونکہ اس طرح انہیں اپنے لئے جگہ بنانا ممکن ہوسکتا تھا۔

امریکی انتظامیہ کی دلچسپی اس ایک نکتے پہ مرکوز رہی ہے کہ افغان طالبان یہ عہد کریں کہ ان کی سرزمین سے غیر ملکی عناصر امریکہ  یا امریکی مفادات پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔ افغان طالبا ن کے سامنے دو چیلنجز ہیں۔ اول۔ کہ کس طرح تشدد کی صورتحال میں اس حد تک کمی لائی جائے کہ داخلی طور پر افغان مذاکرات شروع ہوسکیں۔ دوم۔اپنے اس عہد کی تکمیل کہ وہ القاعدہ یا دیگر غیر ملکی عسکریت پسندوں کو افغان سرزمین پر پناہ نہیں لینے دیں گے۔

پہلے چیلنج کی اپنی پیچیدگیاں ہیں اور اس کا زیادہ تر انحصار افغانستان کی داخلی سیکورٹی اور سیاسی استحکام پر ہے۔ دوسرا چیلنج کہیں زیادہ اہم ہے کیونکہ اس کے اثرات ناصرف خطے کی بلکہ عالمی سطح کی سیکورٹی پر رونما ہوں گے۔ خاص طور پر افغان طالبان کی حکمت عملی سے بہت سے مسلح گروہوں کے مستقبل کا تعین ہوگا ، خاص طور پر پاکستانی طالبان جن کی اکثریت یا تو افغان طالبان سے وابستہ ہے یا وہ سیاسی اور نظریاتی طور پر افغان طالبان سے متاثر ہیں۔

بعض میڈیا رپورٹس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کو یہ پیغام بھجوادیا گیا ہے وہ پاکستان میں اور افغانستان میں غیر ملکی افواج کے خلاف اپنی اپنی کاروائیاں بند کردیں۔ ایسی خبروں میں سب سے دلچسپ پہلو یہ بیان کیا جارہا ہے کہ طالبان رہنماؤں کی جانب سے نام نہاد دولت اسلامیہ  کی قیادت کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ چند مہینوں کے لئے اپنی کاروائیاں روک دیں۔ اگر ان خبروں میں کوئی سچائی ہے تو اس کی تشریحات میں بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔

افغان  طالبان کے لئے تحریک طالبان پاکستان سے فاصلہ اختیار کرنا بہت بڑا چیلنج ہوگا۔

اولاََ، باوجود اس کے کہ  افغان طالبان میں آپس کی سطح پہ مسلکی اور تزویزاتی اختلافات ہیں ،تاہم  وہی افغانستان میں موجود عسکریت پسندوں میں سب سے بڑا مضبوط گروہ ہیں اور وہ اپنی اس مضبوط پوزیشن کو  افغانستان میں داخلی مصالحت اور عالمی سطح پر مذاکرات کے لئے سہارے کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔

ثانیاََ، جہاں تک القاعدہ اور نام نہاد دولت اسلامیہ کی بات  ہے تو ان کے لئے امریکی افواج کا انخلاء ایک قسم کی  غیبی امداد ہے کیونکہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادی افواج کے فضائی  اور ڈرون  حملوں کا اکثر نشانہ بنتے ہیں۔ غیر ملکی افواج کا انخلاء ان دونوں گروپوں کے لئے ایک ایسے وقفے کا باعث ہوگا جس میں وہ اپنے جنگی حربوں اور تنظیمی استطاعت کا ازسرنو جائزہ لے سکیں گے۔ نام نہاد دولت اسلامیہ خاص طور پر یہ کوشش کرے گی کہ وہ اپنے تنظیمی ڈھانچے کو ازبکستان اور تاجکستان کے ساتھ واقع سرحدی علاقوں میں منتقل کردے۔ یہ سرحدی علاقہ جات نام نہاد دولت اسلامیہ کے لئے اس لئے آسان پناہ گاہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ یہاں کی شہری آبادی سلفی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے جس کے سبب نام نہاد دولت اسلامیہ کو یہاں کی مقامی آبادی سے مسلکی اشتراک کے سبب معاونت ملنے کا واضح امکان ہے۔ اس تنظیم میں پاکستانی اور افغانی جنگجوؤں کے علاوہ ایک بڑی تعداد وسط ایشیائی ریاستوں اور چین کے سنکیانگ خطے کے مسلمانوں کی بھی ہے۔ اگر یہ تنظیم اپنے منصوبوں کے مطابق نقل مکانی میں کامیاب ہوگئی تو یہ ایک بار پھر مختلف جگہوں پہ حملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے گی۔

امریکہ سے کامیاب معاہدے کے بعد یہ واضح نہیں ہے کہ افغان طالبان کے پاس القاعدہ سے معاملہ کرنے کا کیا منصوبہ ہے۔اگرچہ انہوں نے اس امر کا عہد کیا ہے  کہ وہ القاعدہ کو افغان سرزمین بھرتی کے لئے،  مالی امداد کے لئے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن اس کا مطلب کیا ہے؟ کیا القاعدہ کے عرب رہنماء افغانستان میں اس عہد کے ساتھ رہ سکیں گے کہ وہ تشدد کا رستہ ترک کر چکے ہیں؟ یا کیا طالبان رہنماء القاعدہ کی قیادت کو دیگر سرزمینوں کی جانب محفوظ رستہ مہیا کریں گے جبکہ وہ یہ عہد کرچکے ہیں کہ وہ عسکریت پسندوں پر سفری پابندیاں عائد کریں گے ؟

جہاں تک تحریک طالبان پاکستان اور اس جیسے دیگر چھوٹے عسکریت پسند گروہوں کا تعلق ہے تو وہ سب بھی امریکہ طالبان معاہدے پر خوشیاں مناتے نظر آرہے ہیں۔ ان کی خوشیوں کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کیونکہ ان سب گروہوں نے طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ کے ہاتھ پر اپنی بیعت کررکھی تھی ۔ یہ انہیں یہ توقع ہے کہ اب ان کے لئے کوئی امن کا موقع نصیب ہوگا کیونکہ طالبان کے پاس اب ایک آئینی مقام اور آئینی طاقت ہے۔ اب تک تحریک طالبان پاکستان نے حالیہ دنوں میں افغانستان میں بہت نقصان اٹھایا ہے کیونکہ پچھلے کچھ عرصے میں افغانستان کے اندر اس کے بہت سے کمانڈرز پراسرار انداز میں قتل کئے گئے ہیں۔ ایک افواہ یہ بھی ہے کہ یہ صورتحال امریکہ طالبان ڈیل کی پیشگی شرائط میں سے ایک تھی  کہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں مہیا نہیں کی جائیں گی۔

تاہم افغان  طالبان کے لئے تحریک طالبان پاکستان سے فاصلہ اختیار کرنا بہت بڑا چیلنج ہوگا۔اگرچہ افغان طالبان نے کبھی کھلے عام میڈیا میں تحریک طالبان پاکستان کے متعلق بات نہیں کی تاہم یہ کوئی راز نہیں ہے کہ انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کئی مراحل میں تعلقات قائم کئے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ افغان طالبان نے تحریک طالبان پاکستان کے داخلی تنازعات نمٹانے میں کئی بار اپنا ایک کردار نبھا یا ہے خاص طور پر جب بھی ان کے درمیان قیادت کے معاملےپر داخلی تضادات نظر آئے۔ تحریک طالبان پاکستان کے بہت سے کمانڈرز نے زمینی سطح پر افغان طالبان کے کمانڈرز سے تعلقات بنا کررکھے ہوئے ہیں جنہیں اس امر کی اجازت ہے کہ وہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر اپنے طور پر فیصلہ کرسکتے ہیں۔

پاکستان کی فوجی اشرافیہ میں ایسے بہت سے عناصر ہیں جن کا خیال ہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے امن معاہدے کے بعد طالبان پاکستانی طالبان کو افغانستان میں پرامن پناہ گاہوں کی فراہمی بند کردیں گے ۔ اس کامطلب کہ ٹی ٹی پی پاکستان آجائے گی۔گزشتہ سال میران شاہ (شمالی وزیرستان) میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ ریاستی سطح پر تحریک طالبان اور اس کے حمایتی گروہوں سے نمٹنے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔ اس عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ وہ عسکریت پسند جو ہتھیار پھینک کر واپس آنا چاہے اور یہاں اپنے گھروں میں پرامن زندگی گزارنے کا خواہش مند ہواسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ پیشکش اب بھی باقی ہےکیونکہ گزشتہ سال کی نسبت  رواں سال ٹی ٹی پی کی طاقت مزید کمزور ہوگئی ہے۔ تاہم اگر افغان داخلی تنازعات بڑھتے ہیں تو یہ افغان طالبان کے لئے ایک کارآمد صورتحال ہوگی ۔

ایک اور پریشان کن عنصر فرقہ پرست تنظیموں کا ہے جو کہ افغان طالبان کی جانب جھکاؤ رکھتی ہیں اورمسلکی جہت کے ساتھ ساتھ  انہی جیسے عالمی تصورات پر یقین رکھتی ہیں۔پاکستان میں بلوچستان اور سندھ کے علاقو ں میں یہ تنظیمیں اپنا وجود رکھتی ہیں اور ان کے مستقبل کے عزائم افغان طالبان کی منشاء پر قائم ہوں گے ۔ حال ہی میں افغان طالبان نے ایران کے ساتھ بھی معاملہ فہمی کے روابط قائم کئے ہیں۔ صاف ظاہر ہےکہ تہران انتظامیہ یہ نہیں چاہے گی کہ طالبان کے شیعہ مخاف تنظیموں سے شراکتی تعلقات ہوں۔ اگر طالبان نے فرقہ پرست تنظیموں کی حوصلہ شکنی کی تو وہ نام نہاد دولت اسلامیہ کی جانب پلٹ جائیں گے۔

بہت سے تناظرات میں پاکستان مخالف عسکریت پسند گروہوں کے مستقبل کا انحصاراس امر پہ ہے کہ افغان طالبان ان کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں ؟ کیا وہ انہیں اپنانا چاہیں گے یا دھتکار دیں گے ؟کسی بھی صورت میں یہ عسکریت پسند پاکستان کی داخلی سلامتی کے لئے بدستور ایک خطرہ رہیں گے۔ اسی لئے پاکستانی ریاست کو اس خطرے کی جانب ہمیشہ  سنجیدگی سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

 

مترجم : شوذب عسکری

بشکریہ : روزنامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...