عورت مارچ اور ہماری فکری فالٹ لائنز

242

2020کا عالمی یوم خواتین تو گزر گیا لیکن امسال یہ تحقیق اور تجزیہ کے لئے کئی سوالات چھوڑ گیا ۔ جب بھی پاکستانی خواتین کی صنفی برابری  کی جدوجہد کی تاریخ لکھی جائے گی تو 2020 کا حوالہ ایک منفرد ٹرننگ پوائنٹ کا ہوگا۔ کیونکہ اس موقع پر پاکستانی سماج میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے پائی جانے والی کئی فکری فالٹ لائنز کھل کر سامنے آئیں۔ دینی و دنیاوی تناظر سے حقوق کی تقسیم پرکھنے والے طبقات کھل کر ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں تو بات محدود تصادم تک جا پہنچی۔ ویسے تو پاکستان میں منسٹر اور مولانا کی فکری تقسیم کوئی نئی بات نہیں پھر بھی امید ہے کہ یہ تلخیاں مستقل تہذیبی ٹکراؤ کا بہانہ نہیں بنیں گی اور طرفین “عورت کے جسم ” پر اپنی اپنی سیاست کو دائمی نفرت کی سرحد تک نہیں لے جائیں گے۔ نہ تو پاکستان میں خواتین کا عالمی دن پہلی بار منایا گیا ہے اور نہ ہی اس پر تنقید کوئی نئی بات ہے  تاہم اس بار نیا یہ ہوا کہ مذہبی بیانیہ کی وکیل عورتیں بھی چار دیواری سے باہر آئیں اور انہوں نے بھی اپنے اپنے پلے کارڈز اٹھا کررکھے تھے۔ سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے مذہبی رہنماء بھی ان کے ساتھ ساتھ تھے۔ گویا آواز بلند کرنے کے طریقہ کار پر اتفاق رائے نظر آیا ۔ یہ اس طریقہ کار کے حامیوں کی یقیناََ کامیابی ہے جو کہ 1950ء میں قائم ہونے والی انجمن جمہوریت پسندخواتین کی روایت تھی۔ انجمن جمہوریت پسند خواتین کے بعد 1980 کی دہائی میں وومن ایکشن فورم (خواتین محاذ عمل) اور بعد ازاں سینکڑوں دیگر تنظیموں نے بھی یہی طریقہ کار اپنایا ۔ ناقدین نے اسے مغربی ایجنڈا اور این جی اوز کا چلن بھی کہا  لیکن آج اس طریقہ کار کو سبھی اپنا رہے  ہیں۔ اگر خالصتاََ سیاسی زاویئے سے دیکھا جائے تو عورت مارچ میں عوامی ورکرز پارٹی کے جھنڈے نمایاں تھے تو تکریم ِ نسواں مارچ میں جماعت اسلامی کے پرچم اور حیاء مارچ میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے جھنڈے تھے۔ قیادت کی سطح پر بلاول بھٹو زرداری عورت مارچ کے حامی تھے تو مولانا فضل الرحمن کا نقطہ نظر ناقدانہ رہا۔ حکمران تحریک انصاف اور اپوزیشن کی جماعت پاکستان مسلم لیگ-نواز کو مارچ پر نہیں چند نعروں پر اعتراض تھا ۔ اہل سیاست کی تقسیم اپنی جگہ لیکن مزے کی بات یہ تھی کہ تکریم نسواں مارچ کے پلے کارڈز پر وراثت میں حق کے علاوہ گھریلو کےتشدد کے خاتمہ کے لئے بھی پلے کارڈز موجود تھے۔ جماعت اسلامی کے جلسوں میں تو ان کی سوشل میڈیا ٹیم جوکہ خواتین پر مشتمل تھی خاصی متحرک نظر آئی۔

یہ سب دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ اب خواتین کے حقوق کی بات فقط ڈارائنگ رومز تک محدود نہیں رہی ۔ نیز فکری تقسیم کے دونوں اطراف یہ احساس موجود ہے کہ پاکستانی خواتین کو ہر اعتبار سے ایک بہتر ڈیل کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے کہ عورت کا جسم نظریاتی جنگ کا میدان بن کر رہ جائے ، ضرورت اس بات کی ہےکہ عورتوں کے حقوق پر بامعنی مکالمہ ہو، قانون سازی ہو ، پالیسیاں بنیں اور ان پر عمل بھی ہو۔ عورت مارچ کا سوال کورٹ روم میں بھی پہنچا اور اس کی اجازت بھی ملی۔ تاہم عورتوں کو کئی معاملات میں انصاف کی فراہمی کا سوال ابھی بھی تشنہ ء جواب ہے۔ اسی طرح پارلیمانی اداروں میں خواتین کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ قومی اسمبلی میں 60 مخصوص نشستوں کے علاوہ 8 خواتین براہ راست انتخابات جیت کر بھی آئیں۔ ایک مذہبی اقلیتوں کی نشست پر بھی رکن اسمبلی ہیں۔ سینٹ آف پاکستان میں بھی 17 مخصوص نشستوں کے علاوہ 3 خواتین جنرل یا ٹیکنو کریٹ سیٹوں پر موجود ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی اسمبلی پنجاب میں خواتین کی 66 مخصوص نشستیں ہیں اور 7 براہ راست انتخابات جیت کر اسمبلی میں موجود ہیں ۔ جبکہ ایک خاتون اقلیتی مخصوص سیٹ پر ممبر ہیں۔ سندھ اسمبلی میں بھی 29 مخصوص نشستوں کے علاوہ 2 خواتین براہ راست جیت کر اسمبلی میں پہنچی ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں بھی 26 مخصوص نشستوں کے علاوہ ایک خاتون براہ راست جیت کر پہنچی ہیں۔ بلوچستان میں 11 خواتین مخصوص نشستوں پر رکن اسمبلی ہیں۔ تاہم پارلیمانی اداروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے راقم نے مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین کو یہ کہتے سُنا کہ ہمیں پورا ممبر نہیں سمجھا جاتا  اور ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے امتیاز برتا جاتا ہے۔ اگر اس سطح پر صنفی امتیاز پایا جاتا ہے تو باقی صورتحال کو سمجھنا مشکل نہیں اگر ہم آج عزم کریں کہ ہمیں پاکستان میں صنفی مساوات قائم کرنا ہے اور عورتوں کوان کے حقوق دینا ہیں تو یہ سفر صدیوں نہیں تو دہائیوں کا ضرور ہوگا۔

آخری بات!

پاکستان میں عورتوں کےحقوق کے حوالے سے اچھی خاصی قانون سازی ہوئی ہے ۔ اس پر عملدرآمد بھی ہونا چاہیئے۔ جہاں  تک نئے قوانین بنانے کی ضرورت ہے تو وہ بھی بنائے جانے چاہیئں ۔ پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے خواتین قائم کیا تھا۔ برسوں بعد بھی اس ادارے کے  رولز نہیں بن سکے۔ گزشتہ چند ماہ سے یہ نئی سربراہ اور ممبران کی تقرری کا منتظر ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اسے فعال بنا کر خواتین کے حقوق کے سوال کا ادارہ جاتی جواب تلاش کیا جائے اور اگلے سال کا عورت مارچ خوشیوں کا اظہار ہولیکن یہ مکمل عزم اور مائنڈ سیٹ کا سوال ہے جس کی راہ میں جابجا اسپیڈ بریکرز ہیں

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...