عورت مارچ 2020

1,261

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا بھر میں ہرسال مارچ کے مہینے کی 8 تاریخ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی گزشتہ چند سالوں سے مختلف خواتین تنظیموں اور سول سوسائٹی اداروں کے زیر اہتمام خواتین کو درپیش مسائل اور مشکلات کو اجاگر کرنے کے لئے اور خواتین کی  رائے اورآواز کو عوام تک پہنچانے کے لئےاس دن کو باقاعدگی سے منایا جارہا ہے۔ اس دوران ملک کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں خواتین کی ریلیاں اور مظاہرے کئے جاتے ہیں۔ مقامی خواتین تنظیمیں اور مزدور یونینز عموماََ ان مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد کرتی ہیں۔ تاہم گزشتہ سال خواتین کی ریلیوں میں جنہیں عورت مارچ کا نام دیا جاتا ہے  کو اس لئے متنازعہ قرار دیا گیا کہ بعض شرکاء کی جانب سے ایسے نعرے لکھ کر بلند کئے گئے تھے جنہیں مذہب پسند حلقوں نے غیر اسلامی و غیر اخلاقی قرار دیا۔

رواں سال مارچ کے مہینے کے آتے ہی ملک بھر کے سماجی اور روایتی میڈیا میں یہ بحث چھڑ گئی کہ اس سال عورت مارچ منعقد ہوسکے گا یا نہیں ؟ کیونکہ ملک کے مختلف شہروں میں عدالتوں میں مختلف عناصر کی جانب سے درخواستیں یہ کہہ کر دائر کی گئی تھیں   کہ  ایسے مارچ غیر اسلامی ہیں اور سماجی اقدار کے منافی ہیں۔ تاہم ایسی درخواستیں  عدالتوں کی جانب سے یہ کہہ کر خارج کردی گئیں کہ درخواست گزار اپنے اعتراضات ثابت نہیں کرسکے۔ یوں  ملکی عدالتوں نے عورت مارچ کی ناصرف اجازت دی بلکہ ریاستی اداروں کو پابند کیا کہ وہ ایسی ریلیوں کو تحفظ فراہم کریں۔

بالاآخر  آج یہ خواتین مارچ ملک کے مختلف شہروں میں منعقد کئے گئے۔ اگرچہ ملک کے دیگر شہروں میں یہ عورت آزادی مارچ پرامن طریقے منعقد ہوکر اختتا م پذیر ہوئے تاہم  اسلام آباد میں ہونے والے عورت آزادی مارچ میں اس وقت تنازع پیدا ہوا جب مذہبی جماعتوں نے بھی عورت آزادی مارچ کےمتوازی ایک “حیاءمارچ” نکالنے کا اعلان کردیا اور اس “حیاءمارچ” کا وقت اور مقام بھی وہی تھا جو کہ سول سوسائٹی اور عورتوں کی تنظیموں کے “عورت آزادی مارچ” کا وقت اور مقام تھا۔

اگرچہ  اسلام آباد کے عورت آزادی مارچ کو حکومتی کی جانب سے “این او سی” جاری کیا گیا تھا تاہم “حیاء مارچ” کے لئے اس کے منتظمین نے حکومت سے اجازت طلب نہیں کی تھی پھر بھی ا سلام آباد انتظامیہ کی جانب سے مذہبی جماعتوں کے  اس مارچ کو روکا نہیں گیا۔ اسلام پریس کلب کے سامنے سڑک کے ایک جانب مذہبی جماعتوں کا “حیاء مارچ” جاری تھا اور پولیس کی حد فاصل قطار  کے دوسری جانب ” عورت آزادی مارچ” جاری تھا۔ اس دوران “حیاء مارچ” میں شریک چند لوگوں نے “عورت آزادی مارچ” کے شرکاء پر پتھراؤ کیا اورلاٹھیاں پھینکیں  جس کےسبب چند افراد زخمی ہوئے۔ تاہم اسلام آباد پولیس نے اس معاملے کو تنازع میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی اس طرح روک دیا کہ “عورت آزادی مارچ” کا پہلے سے طے شدہ راستہ تبدیل کردیاگیا۔  یوں یہ معاملہ زیادہ سنگین ہونے سے پہلے ہی رفع دفع کردیا گیا۔

اب سے کچھ منٹ پہلے ملک میں نکلنے والی تما م خواتین  ریلیاں ماسوائے اسلام آباد کے ناخواشگوار واقعے سے پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوچکی ہیں۔

رواں سال کا عورت مارچ “میرا جسم میری مرضی ” کے نعرے اور معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر اور حقوق انسانی کی کارکن ماروی سرمد کے مابین ایک لائیو ٹاک شو میں لفظی جنگ کے سبب یاد رکھا جائے گا۔ چونکہ ان دو معاملوں کے سبب عورت مارچ ملکی میڈیا کے لئے ایک دلچسپ موضوع بن چکا تھا لہذا رواں سال اس مارچ میں شریک ہونے والے خواتین و حضرات کی تعداد گزشتہ سالوں کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔

خواتین مارچ میں شامل شرکاء نے  جو نعرے  درج کرکے بلند کررکھے تھے ان میں معاشی مساوات، صنفی تعصب و تفریق کاخاتمہ، سماجی برابری اور پبلک مقامات پر خواتین کے احترام و تحفظ  جیسے معاملات پر بات کی گئی تھی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...