پارلیمنٹ کا ایک تصوراتی اجلاس

369

عوام کی منتخب پارلیمان کو ویسے تو ہر روز قوم کی امنگوں کی ترجمان ، خوابوں اور  اور امیدوں کا مرکز و محور ہونا چاہیئے۔ لیکن آج آپ کے ساتھ ایک تصوراتی اجلاس کی کاروائی کے بارے میں شیئر کرتے ہیں۔ خوابیدہ لمحوں میں ہوا کچھ یوں کہ ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کا ماحول اس وقت یک بیک بدل گیا جب تمام پارلیمانی پارٹیوں کے نمائندوں نے اسپیکر صاحب کے سامنے یہ مطالبہ رکھا کہ قومی اسمبلی کی معمول کی کاروائی روک کر ملک کے ترقیاتی ماڈل پر سیر حاصل بحث کی جائے۔ مشورہ اتنا اچھا، وزنی اور تمام پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی آواز تھا کہ یہ بات مان لی گئی۔ جب ایوان کی کاروائی شروع ہوئی تو 342 اراکین نے پریس اور مہمانوں کی گیلریوں میں بیٹھے تمام افراد کو ورطہء حیرت  میں ڈال دیا کہ سبھی نے خوب ہوم ورک کیا ہوا تھا۔  قومی اسمبلی کی ٹاسک فورس برائے پائیدار ترقی نے پائیدار ترقی کے عالمی اہداف اور پاکستانی ترجیحات پر عملدرآمد کے لئے جامع روڈ میپ پیش کیا ۔ اس حوالےسے موجودہ قوانین میں بہتری کے لئے مجوزہ مسودہ قانون بھی سامنے رکھ دیا ۔ وومن پارلمنٹری کاکس نے ملک کی نصف کے لگ بھگ آبادی کا نقطہء نظر اور روڈ میپ سامنے رکھ دیا۔  عرصے سے خاموش ینگ پارلیمینٹرین فورم کہاں پیچھے رہنے والا تھا ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایوان کی اچھی خاصی تعداد نوجوان  اراکین پر مشتمل ہے اور پاکستان کی آبادی کا غالب حصہ بھی نوجوانوں پر مشتمل ہے لہذا وہ یوتھ کا تناظر بھی سامنے لے آئے۔ گویا تجاویز کا ایک ڈھیر سامنے تھا ۔ چونکہ سبھی کو بات کرنے کا موقع مل رہا تھا اس لئے ایوان میں حاضری بھی بے مثال تھی۔ کورم کی کمی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ طویل تر ہوتی ہوئی کاروائی کے باوجود کہیں تھکن کے آثار نہیں تھے۔ پریس گیلری میں بیٹھے ہوئےصحافی پریشان تھے کہ اس انہونی صورتحال کو کیسے رپورٹ کریں کیونکہ اس کا کسی کوکوئی تجربہ نہیں تھا۔ پی ٹی وی پر پارلیمان کی لائیو کاروائی دیکھ کر عوام بھی نہال تھے کہ آج یہ کیا ہوا کہ صرف اور صرف ہماری بہتری اور اچھے مستقبل کے حوالے سے باتیں اور منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ اس ظالم نیند کا کیا جائے کہ آنکھ کھل گئی اور سپنا ٹوٹ  گیا۔ نجانے گزشتہ 73 برسوں میں ایسے کتنے خواب ٹوٹ چکے ہیں۔ کیا یہ واقعی حقیقت میں بھی ہوسکتا ہے۔ جی ہاں! ۔ ہوسکتا ہے۔ اگر ہم اہم قومی امور خارجہ پالیسی اور کشمیر ایسے موضوعات پر منسوب سیشن کرسکتے ہیں تو ملک کے ڈویلپمنٹ ماڈل پر کیوں نہیں۔ اگرچہ ہمارے دستور میں پاکستان کے عوام دوست  ترقی کے ماڈل کے خدوخال موجود ہیں لیکن عملی طور پر ہم ویلج ایڈ کوآپریٹو، پیپلز پروگرام، تعمیر پاکستان، خوشحال پاکستان، پائیدار پاکستان  ایسے کتنے ہی منصوبے آزما چکے ہیں لیکن ترقی آج بھی ملک میں غیر متوازن انداز میں ہورہی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں ترقی کے ماڈل کے خدوخال پر پارلیمنٹ میں قومی اتفاق رائے قائم کیا جائے۔ اس ضمن میں پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو چارٹر آف ڈویلپمنٹ بنا کر آگے چلنا چاہیئے۔ اگر ہم آئندہ دس بیس سالوں کے لئے مشترکہ طور پر روڈمیپ بنالیں تو کروڑوں پاکستانیوں کی زندگیاں اچھی ہوسکتی ہیں۔آج تو صورتحال یہ ہےکہ ہر حکومت ترقی کا سفر ۔ صفر سے شروع کرتی ہے۔  اقتدار سے رخصت ہونےکے بعد ان کے ادھورے منصوبے جابجا بکھرے ہوتے ہیں۔ نئی حکومت ان پر توجہ نہیں دیتی ۔ غالباََ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے ہر منصوبے کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہےاور وہ وقت پر پایہ تکمیل تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔ ہم وسائل کا ضیاع روک سکتے ہیں اگر منصوبے ملک اور عوام کے ہوں نا کہ فقط کسی حکمران جماعت کے ، پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں درجنوں قابل قدر اتفاق رائے ہوچکے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ کڑوا گھونٹ بھر کے ایک قومی اتفاق رائے عوام کے لئے بھی کرلیا جائے۔ وگرنہ ہم تو ابھی تک یہ فیصلہ بھی نہیں کرپائے کہ ہمارے ترقیاتی ماڈل  میں منصوبہ بندی – دستور میں درج پالیسی کے رہنما اصولوں کے مطابق ہوگی یاحکمرانی کی خواہشات کے طابع۔ ہم یہ بھی طے نہیں کرپائے کہ اشرافیہ کو سپورٹ کرکے ترقی حاصل کی جائے گی اور توقع رکھی جائے گی کہ پھل اوپرسے نیچے گریں گے  یاپھر عوام کی صحت ، تعلیم اور ہنر پر خرچ کرکے جابجا خوشحالی کے کھیت اگائے جائیں گے۔

(میں چونکہ اسلام آباد میں رہتا ہوں تو میں نے وفاق کی سطح کا خواب دیکھا ، ایسے ہی اجلاس تمام صوبائی اسمبلیوں میں ہونے چاہیئں اور یہ سلسلہ لوکل گورنمنٹ تک جانا چاہیئے۔ وگرنہ اسٹینڈرڈ پولیٹیکل گروتھ کے زمانے میں ہم پسماندگی اور معاشی بدحالی کے نوحے پڑھتے رہیں گے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اگر ہمارے رہنما عوام کی خاطر اپنی اپنی اناؤں کے خول سے باہر آجائیں)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...