سیاسی جماعتوں کی ضم شدہ اضلاع کی صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے بیٹھک

134

پاکستان کے قبائلی علاقے انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی ستر سال تک بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہے، گزشتہ  سال مذکورہ قبائلی اضلاع  کی صوبہ  خیبرپختونخوا میں  انضمام کے حوالے سے قانون سازی مکمل ہونے کے بعد یہاں کے عوام  میں بہتر زندگی گزارنے کی امید پیدا ہوگئی تھی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی اضلاع کے عوام نے جہاں ایک جانب اپنی جانوں کی قربانیاں دیں  تو دوسری جانب اس جنگ میں ان علاقوں کے انفراسٹرکچر کو بری طرح نقصان پہنچا، یہاں پر قائم تعلیمی ادارے تقریبا تباہ ہوچکے تھے۔ سڑکیں کھنڈارات کا منظر پیش کرنے لگیں تھیں اور کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر باقی رہ گئی تھیں۔ ایسے حالات میں انضمام کا اعلان ہونے کے بعد عوام نے موجودہ حکومت سے بے پناہ امیدیں باندھ لی تھیں ،  تاہم انضمام کے وقت کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد میں سست روی کو دیکھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر شکوک و شبہات پیدا ہو چکے ہیں۔ایک سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود چند بنیادی مسائل آج بھی جوں کے توں موجودہیں جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگی، بارودی سرنگیں اور دیگر ایسے مسائل ہیں جن بھی ہونے والی پیش رفت سے سیاسی و سماجی حلقےمطمئن دکھائی نہیں دے رہے۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات نےسیاسی جماعتوں کےتحفظات کو مزید تقویت بخشی ہے۔

قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرتے وقت  حکومت نے وہاں کے رہائشیوں سے وعدہ کیا تھا کہ ان علاقوں میں  اگلے دس سال میں ایک ہزار ارب روپے لگائے جائیں گے ۔ ہر سال 100 ارب روپے ان علاقوں میں انفراسٹرکچر،  تعلیمی اداروں  اور صحت کے سہولیات وغیر ہ کی مد میں خرچ کئے  جائیں گے۔

الیکشن کے نتیجے میں بر سراقتدار آنے والی پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے رواں مالی سال میں  قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کاموں کے لئے 83 ارب روپے مختص کئے ہیں ۔ ان میں سے 72ارب روپے وفاق اور 11ارب روپے خیبر پختونخوا حکومت نے فراہم کرنے ہیں۔

وفاقی حکومت وزارت ترقی و منصوبہ بندی کے ذریعے اب تک 72ارب روپے میں سے 33ارب 68کروڑ روپے جاری کرچکی ہےلیکن سرکاری محکموں کی نااہلی اور استعداد نہ ہونے کے باعث مختص ترقیاتی فنڈ میں سے صرف  6.46فیصد یعنی 5ارب 37کروڑ روپے ہی خرچ کرسکی ہے سب سے زیادہ ترقیاتی فنڈ قبائلی اضلاع کیلئے 10سالہ پروگرام کے تحت خرچ کیا گیا ہے۔

دستیاب دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت کے چودہ  ایسے  محکمے ہیں جنھوں نے  رواں مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں سالانہ ترقیاتی فنڈز سے اب تک ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا ہے ۔ ان محکموں میں  محکمہ اوقاف و مذہبی امور، بورڈ آف ریونیو، ماحولیات، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، خوراک، صنعت و حرفت، اطلاعات، محنت، قانون و انصاف، معدنیات، بہبود آبادی، تحقیق، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ٹرانسپورٹ کے محکمے شامل ہیں۔

اگرچہ حکومت کے مطابق پہلے چند مہینے  قبائلی اضلاع میں اداروں کی توسیع اور ان کی فعالیت اور صوبائی الیکشن کے انعقاد میں لگے ، لیکن   عوام اور سیاسی جماعتیں ان کی کارکردگی کا موازنہ حکمران جماعت کی جانب سے کئے گئے وعدوں اور اعلانات سے کرتے ہیں  جن کے مقابلے میں کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔

سابقہ قبائلی اضلاع کی موجودہ صورتحال، ترقیاتی کاموں کی سست روی اور عوام سے کئے گئے وعدوں پرمن و عن عمل درآمد نہ ہونے کے باعث سیاسی جماعتوں سرجوڑنے پر مجبور  ہوگئی ہیں۔ اسی سلسلے میں چند روز قبل  عوامی نیشنل پارٹی کی زیر صدارت ضم  شدہ اضلاع کے مسائل ، انضمام کے بعد ہونے والی پیش رفت  و دیگر کے حوالے سے باچاخان مرکز میں جرگے کا انعقاد کیا گیا جس میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی اور قبائلی عوام کو  درپیش سیاسی،  سیکورٹی ،  معاشی ، انتظامی اور  بنیاد حقوق کے خلاف وزریوں اور دیگر مسائل پرغور کیا گیا۔

اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر   ایمل ولی خان نے کہاکہ حکمرانوں نے   انضمام سے پہلے نئے ضم شدہ اضلاع کے عوام سے جو وعدے کیے گئے تھے وہ تاحال پورے نہیں کیے جاسکے، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں سے قبائلیوں کے حقوق لینا ہوں گے  جس کےلئے ہمیں  ایک پلیٹ فار م پر اکھٹا ہونا  ہوگا اور قبائلیوں  کے مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگا۔تمام سیاسی پارٹیوں نے جرگے کے انعقاد کا نہ صرف خیر مقدم کیا بلکہ  یہ اعلان بھی کیا کہ ضم شدہ اضلاع میں درپیش سیاسی، انتظامی، معاشی اور سیکیورٹی مسائل کے حل کیلئے  تمام سیاسی  جماعتوں کو  مشترکہ جدوجہد کرناہوگی ۔ ضرورت یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں نئے ضم شدہ اضلاع کے دورے کرکے وہاں پر زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے فیصلے کریں کہ وہاں آباد شہریوں کے مسائل کس طرح حل کئے جاسکتے ہیں۔

جرگہ کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیہ میں سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے پیش کئے جن میں بے گھرافراد کو فوری اور باعزت بحالی یقینی بنانے اور اعلان کردہ سو ارب روپے فوری طور پر جاری کرنے، صوبہ بھر اور بالخصوص ضم اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد، ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی کاموں اور انتظامی معاملات کو سول انتظامیہ اور منتخب اراکین کے سپرد کرنے، ان علاقوں کو دس سال تک ٹیکسوں سے مستثنیٰ رکھنے ، معاہدے کے مطابق 22 ہزار خاصہ داروں کی بھرتی، ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی ، خواتین کے لئے تعلیمی اداروں کا قیام، پاک افغان تجارتی راستے کھولنے ، لاپتہ افراد کی تفصیل عدالت میں جمع کرانے، دوبارہ مردم شماری، لینڈ مائز کی صفائی، گڈ بیڈ طالبان کی تفریق ختم کرنے، موبائل سروس اور تھری جی فور جی سروس کی بحالی ، چیک پوسٹس ختم کرنے اور  سیاسی نوجوانوں کے خلاف کریک ڈاون فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جرگے میں مذکورہ مطالبات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، کمیٹی میں ہر سیاسی جماعت سے دو رہنماؤں کو شامل کیا جائے گا۔

مختلف نظریات کی حامل سیاسی جماعتوں کا ضم شدہ اضلاع کے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ  جدوجہد کرنےکا عزم نیک شگون ہے، اگر انضمام کے بعد بھی ان علاقوں کے مسائل کو حل نہیں کیا جاتا تو اس سے یہاں کے عوام بالخصوص نوجوانوں میں مایوسی بڑھے گی جس کا نقصان پورے ملک کو ہوگا۔لیکن تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کی سیاسی جماعتیں کسی بھی مسئلے پر زیادہ عرصے تک   مل کر نہیں چلیں اور ہر سیاسی جماعت اس قسم کے اقدام کو اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کے نتیجے میں عوام ایسے جرگوں کے ثمرات سے محروم رہ جاتی ہے۔

سیاسی جماعتوں کو اس قسم کے جرگوں کو صرف سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کی بجائےعملی طور پر ان علاقوں کے مسائل کو حل کرنے کےلئے استعمال کرنا ہوگااور صوبائی وقومی اسمبلی میں ضم شدہ اضلاع کے مسائل اور ان کے حل کے لئے آواز بلند کرنا ہوگی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...