کورونا وائرس کی تصدیق: ایک بڑا چیلنج سامنے ہے

492

وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے گزشتہ رات پاکستان میں کورونا وائرس کے دو مریضوں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے جن میں میں سے ایک کا تعلق کراچی سے جبکہ دوسرے کیس کی تشخیص اسلام آباد سے ہوئی ہے۔ ان کے مطابق وائرس ایران سے پاکستان پہنچا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم نے ایک ماہ سے اس مرض سے نمٹنے کے لیے تیاری کر رکھی ہے اس لیے امید ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ کا زیادہ نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ ایران میں وائرس سے متأثرہ افراد کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے جس کے بعد پاکستان سے تفتان بارڈر کو عارضی طور پہ بند کیا گیا تھا اور حکومت کے مطابق زائرین کی آمدورفت اور سکریننگ کو مانیٹر کیا جارہا ہے۔ وہاں طبی خیموں کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہاں موجود بعض لوگوں نے یہ شکایت کی ہے کہ ابھی تک ٹیسٹ اور دیکھ بھال کی مناسب سہولیات کی فراہمی نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ چند دن پہلے سے ایران و افغانستان میں اس بیماری کی موجودگی کا اعلان کیا جا چکا ہے لیکن بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت اب تک موجود نہیں ہے۔ مشیر برائے صحت نے کہا کہ شہر میں چند روز کے اندر چیک اپ کی سہولت کے لیے انتظامات کرلیے جائیں گے۔

اسلام آباد میں جس مریض کے اندر وائرس کی تشخیص ہوئی ہے وہ ایک ماہ پہلے ایران سے واپس آیا تھا، ایسے میں یہ خدشہ موجود ہے کہ ملک میں اس بیماری سے متأثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بڑے پیمانے پر اس کے ٹیسٹ کے لیے انتظامات کرے اور بہتر یہ ہے کہ اس کے لیے عام ہسپتالوں سے الگ عارضی طبی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ وبا کے پھیلنے کا خطرہ کم سے کم ہو۔ حکومت نے دعویٰ تو کیا ہے کہ وائرس سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں لیکن اگر اس سے مراد ملک کے چند بڑے ہسپتالوں میں اس کے چیک اپ کی سہولت ہے تو یہ کافی نہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں قرنطینہ کی سہولت کے انتظامات ہر جگہ تسلی بخش نہیں ہیں، قرنطینہ کا مطلب صرف الگ تھلگ کمرہ نہیں ہے بلکہ یہ پورا پیکج ہے جس میں خاص تربیت یافتہ ڈاکٹرز و نرسز کی موجودگی سمیت کئی اہم احتیاطی تقاضوں کو پوا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس سے قبل رواں سال ڈینگی بخار کو ہی ٹھیک طرح سے کنٹرول نہیں کیا جاسکا تھا جس کے باعث اموات میں اضافہ ہوا تھا۔ موجود چیلنج اس سے کہیں بڑا ہے جس کے لیے حقیقی سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے میڈیا پر بھی احتیاط و اقدامات کے حوالے سے پروگرام ہونے چاہیں اور شہریوں کو معلومات دینے کے ساتھ اعتماد میں لیا جائے۔ تاکہ اگر یہ خطرے کا تناسب ملک میں بڑا نہیں ہے تو زیادہ بے چینی نہ پھیلے اور لوگ ضروری احتیاط برتیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...