مسلم دنیا کا فیمینزم

352

فیمینزم کی اصطلاح پہلی مرتبہ اُنیسیوں صدی میں 80کی دہائی کے دوران سامنے آئی۔ اس کا سب سے پہلے استعمال فرنچ مصنفہ Hubertine Auclert نے اپنی کتاب ’شہریت‘ میں کیا، ان کا کہنا تھا کہ مرد و عورت کے مابین امتیازی فرق کا خاتمہ انقلابِ فرانس کا ایک اہم تقاضا تھا جسے اب نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد اس اصطلاح کا استعمال یکے بعد دیگرے برطانیہ، امریکا اور پھر ساری دنیا میں ہونے لگا۔

مسلم دنیا میں بھی عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کی کئی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین انسانی حقوق کی جدید تعریف کے تناظر میں اپنے مقام کی بحالی کے لیے بہت پہلے سے کوشاں رہی ہیں اور آزادی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ یہ جدوجہد کئی طرح کی رہی ہے جس کے مظاہر سے اتفاق یا اختلاف کیا جاتا رہا ہے، جیساکہ اب بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پہ ایران کی قرۃ العین قزوینیہ (1817-1852) کا تعارف ایک خاتون ایکٹیوسٹ کا ہے، یہ مسلک بابیت سے تعق رکھتی تھیں اور خواتین پر مردوں کی اجارہ داری کے خلاف تھیں، یہ ایک دفعہ بھرے مجمع میں حجاب اُتار کر آگئی تھیں جس پہ کافی شور مچا تھا۔ اسی طرح ایران ہی کی محترم اسکندری (1895-1924) خواتین کے حقوق کی تحریک کی سربراہ تھیں جس کا نام ’جمعیت نسوان وطنخواہ‘ تھا۔ یہ خاتون ایرانی دستوری انقلاب (1905-1911) میں فعال رکن کے طور پر شامل رہی تھیں۔ مشہور ہے کہ انقلاب کے دوران انہوں نے دستور ساز مجلس کے ارکان سے پوچھا تھا کہ انقلاب کی کامیابی کے بعد عورتوں کے حقوق کے لیے آپ کیا اقدامات کریں گے؟ مفکر مرزا طاہر وہاں موجود تھے، انہوں نے یہ سن کر جوابدیا ’تمہاری عمر بلوغت کو پہنچ گئی ہے، تمہیں اب حجاب لینے کے بارے میں سوچنا چاہیے’۔ محترم اسکندری نے کہا اگر آپ کی سوچ شاہی حکومت والی ہے تو یہ انقلاب ضائع جائے گا، جس پر مرزا طاہر نے کہا کہ ایران کی نصف آبادی انقلاب کے ثمرات کا حصہ نہیں ہوگی اور انہیں یہ علم ہی نہیں کہ ان کے حقوق کیا ہیں۔

پاکستان میں موجودہ فیمینزم تحریک کا دائرہ پہلے سے وسیع ہوا ہے۔ پچھلے دوسالوں سے عورت مارچ کے ذریعے اس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماضی کے برعکس اس تحریک میں بغیر کسی صوبائی، نسلی، ثقافتی اور مذہبی تفریق کے تمام لوگ شامل ہیں۔ اس کی کوئی مخصوص قیادت نہیں ہے، زیادہ تر نوجوان ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کی طالبات اس کا فعال حصہ ہیں جو اس تحریک کو ایک سماجی تبدیلی کے خواب کی تعبیر میں بدلنا چاہتی ہیں۔ ملک میں خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کی منظم ابتدا ساٹھ کی دہائی میں ’آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن‘ کے قیام کے ساتھ ہوئی تھی۔ اس کے بعد 80 کی دہائی میں ’ویمنز ایکشن فورم‘ جماعت کی تشکیل کے ساتھ خواتین کے سیاسی و قانونی حقوق کی جدوجہد تیز ہوئی۔

’خواتین نے اب تک جو کچھ حاصل کیا ہے اس کی انہوں نے قیمت چکائی ہے‘

سعودی عرب جیسے سخت گیر معاشرے میں بھی سزاؤں کے باوجود خواتین نے اپنی طاقتور موجودگی کا احساس دلایا جس کے بعد وہاں کی فضا ان کے لیے سیاسی وقانونی لحاظ سے قدرے سازگار ہوئی ہے۔ دیگر عرب ممالک میں بھی خواتین کے حقوق کی مختلف تحریکیں چل رہی ہیں۔ ایرانی خواتین نے اپنے حقوق کے لیے سب سے زیادہ مشقت جھیلی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ ملائیشیا میں ’سسٹرز اِن اسلام‘ (1988) خواتین کے حقوق کے لیے ایک منفرد جماعت ہے جو مذہب اور جدید انسانی حقوق کی ہم آہنگی کے ذریعے عورتوں کی بہتری کے لیے کام کرتی ہے۔

مسلم ممالک میں عورتوں کے حقوق کے لیے چلنے والی تحریکوں کو بعض حلقے ’اسلامک فیمنزم‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ مسلم دنیا کی یہ تحریکیں ایک جیسی نہیں ہیں۔ یہ مجموعی طور پہ تین طرح کے حہرے رکھتی ہیں۔ ایک تحریک تو ملائیشیا کی سسٹرز اِن اسلام جیسی ہے جو ہر ملک میں کسی نہ کسی سطح پر اپنا وجود رکھتی ہے۔ یہ پدرسری رجحان کو توڑنا چاہتی ہے، لیکن اس کا منہج یہ ہے کہ وہ اپنے حق میں مذہبی تعبیرات سے دلیل لیتی ہے۔ جیساکہ پاکستانی نژاد مصنفہ شاہین سردار علی اپنی کتب میں اسی طرح کا منہج استعمال کرتی ہیں۔ اس طبقے کے خیال میں مذہب عورتوں کے حقوق دیتا ہے لیکن قرآن و حدیث کی تعبیر وشرح میں صنفی اونچ نیچ کو مدنظر رکھا گیا جس کی وجہ سے یہ تأثر پیدا ہوا کہ مذہب میں عورت و مرد کے مابین حقوق کا فرقِ مراتب رکھا گیا ہے، حالانکہ یہ درست نہیں۔ یہ طبقہ ایک خاص دائرے میں رہ کر خواتین حقوق کے لیے کام کرتا ہے۔

دوسری نوع کی تحریکیں وہ ہیں جدید ریاست میں واضح کیے گئے انسانی حقوق کے مطابق بالعموم خواتین کی بہتری کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔ یہ طبقہ خود کو اس مخصوص دائرے کا پابند نہیں سمجھتا جیساکہ پہلا طبقہ کرتا ہے۔ یہ حلقہ زیادہ تر مذہبی تعبیر کا سہارا نہیں لیتا اور اپنی جدوجہد کو ’اسلامک فیمینزم‘ کہنے کا روادار بھی نہیں ہے۔ اس کے خیال میں یہ محض ایک فیمینسٹ تحریک ہے جسے اسلامی کہنا ضروری نہیں، یا کہنا ہی نہیں چاہیے۔ جبکہ اس حلقے کا ایک چہرہ مذہبی بھی ہے، یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مذہب بلاتفریق وہ تمام حقوق دیتا ہے جو جدید سیاسی نظم عطا کرتا ہے، مذہب میں صنفی تفریق کا کوئی تصور موجود ہی نہیں ہے، جیساکہ امینہ ودود نے چند سال قبل برطانیہ میں نماز کی امامت کرائی تھی۔

مسلم دنیا میں خواتین کے حقوق کی ترجمانی کرنے والا ایک گروہ وہ ہے جو اپنی اولین سطح پہ کسی خاص جدید نظم یا تعبیر کی اساسات پر قائم نہیں ہے کہ انہوں نے اس سے متأثر ہوکر شعوری مطالبہ کیا ہو، بلکہ یہ اپنے علاقوں کے پدرسری سماج، تہذیبی ساخت، سیاسی وقانونی درجہ بندی اور خاندانی جبر سے تنگ آکر روایتی طور طریقوں کے خلاف کھڑا ہوا ہے اور انہیں مسترد کرتا ہے۔ یہ گویا ایک قسم کی بغاوت ہے جس کی اساس زندگی کے تلخ تجربے ہیں۔ فہمی جدعان نے اپنی کتاب میں اس طبقے کی تفصیلی تحلیل کی ہے اور اس پر مسلم دنیا سے تعلق رکھنے والی چار مشہور خواتین کی مثالیں دی ہیں۔ ایک بنگلہ دیش کی تسلیمہ نسرین، دوسری صومالیہ کی ایان حرسی، تیسری یوگنڈا کی کندا ارشاد، جبکہ چوتھی مثال ترکی سے نجلا کلکیک کی پیش کی ہے۔ مصنف نے ان چاروں کی پچھلی تلخ زندگی اور سخت تجربات کا فلسفیانہ جائزہ لیا ہے۔ یہ گروہ خود کو اپنی دینی، تہذیبی و ثقافتی شناخت سے منحرف کہتا ہے۔

مسلم دنیا کے فیمینزم کی تحریکیں مغرب میں پائی جانے والی تحریکوں کی طرح ایک جیسی نہیں ہیں بلکہ مختلف ہیں اور ان کے پس منظر میں اسباب بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔ بہرحال ان کے نقطہ نظر کا اختلاف جیسا بھی ہو اس سے معاشرے میں خواتین کے لیے جگہ وسیع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ انہیں اب قانونی و سیاسی حقوق ملنے لگے ہیں تاہم جیساکہ کشور ناہید کہتی ہیں کہ ’خواتین نے جو کچھ حاصل کیا ہے اس کی انہوں نے قیمت چکائی ہے‘۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...